JARAS News

JARAS News Habib Rahat Malik

ہمارے شہداء ہماری شان — ہم نہیں بھولے( جرس نیوز ) ڈی پی او گجرات اختر فاروق کی شہید سب انسپکٹر محمد ارشد کی بیٹی کی تقری...
12/06/2026

ہمارے شہداء ہماری شان — ہم نہیں بھولے

( جرس نیوز ) ڈی پی او گجرات اختر فاروق کی شہید سب انسپکٹر محمد ارشد کی بیٹی کی تقریبِ رخصتی میں خصوصی شرکت
گجرات: شہید سب انسپکٹر محمد ارشد کی بیٹی کی تقریبِ رخصتی میں ڈی پی او گجرات اختر فاروق، ایس ایچ او تھانہ صدر گجرات انسپکٹر فرقان شہزاد اور دیگر پولیس افسران نے خصوصی شرکت کی۔
پولیس افسران نے بارات کا پرتپاک استقبال کیا، دلہا اور دلہن کو مبارکباد پیش کی، نیک تمناؤں کے ساتھ تحائف دیے اور دعاؤں کے سائے میں دلہن کو رخصت کیا۔
اس موقع پر ڈی پی او گجرات اختر فاروق نے کہا کہ پولیس شہداء کی قربانیاں قوم کا عظیم سرمایہ ہیں جنہیں کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ شہداء کے اہلِ خانہ محکمہ پولیس کا فخر ہیں، ان کی خوشیاں اور غم ہمارے اپنے ہیں۔ شہداء کے بچوں کو اپنی اولاد سمجھتے ہیں اور ہر مرحلے پر ان کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔
گجرات پولیس اپنے شہداء اور ان کے خاندانوں کی فلاح و بہبود کے لیے ہمیشہ پرعزم رہے گی۔

جھنگ ( جرس نیوز سے ) سے تعلق رکھنے والی 16 سالہ ایشال فاطمہ کے لواحقین کا کہنا ہے کہ ان کی بیٹی کے ساتھ جو ظلم ہوا ہے، و...
12/06/2026

جھنگ ( جرس نیوز سے ) سے تعلق رکھنے والی 16 سالہ ایشال فاطمہ کے لواحقین کا کہنا ہے کہ ان کی بیٹی کے ساتھ جو ظلم ہوا ہے، وہ ناقابلِ بیان ہے۔ ایشال کے والدین اور ماموں نے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے میڈیکل رپورٹ کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ "یہ پاکستان ہے، جہاں بااثر افراد حقائق کو مسخ کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ پولیس اور بااثر لوگوں کے سامنے اس رپورٹ کی کوئی حیثیت نہیں، ہماری بچی کے ساتھ جو ظلم ہوا وہ ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔"
​والد کا بیان: پولیس کا رویہ شرمناک تھا
ایشال کے والد نے پولیس کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ابتدائی دنوں میں جب وہ تھانے گئے تو ایس ایچ او کا رویہ انتہائی غیر ذمہ دارانہ تھا۔ "ہماری درخواست کے باوجود بچی کو تلاش کرنے کے بجائے انہوں نے کہا کہ وہ خود کہیں گئی ہوگی، آ جائے گی۔ جب ہماری بچی فوت ہو گئی، تو ایس ایچ او نے ہمدردی کے بجائے مجھ سے کہا کہ 'اصل کہانی بتاؤ اور بات نہ چھپاؤ'۔ وہ مجھے گاڑی میں بٹھا کر اندر کی باتیں کروانے پر بضد تھے۔ جس باپ کی بیٹی لاش بن چکی ہو، اس کے ساتھ پولیس کا یہ رویہ انتہائی شرمناک ہے۔"
​والدہ کی درد بھری اپیل
نم آنکھوں کے ساتھ ایشال کی والدہ نے بتایا کہ ان کی بیٹی لاڈلی ضرور تھی، مگر بگڑی ہوئی نہیں تھی۔ "وہ نمبر سلپ لینے گئی تھی اور پھر کبھی واپس نہ آئی۔ اگر میری بیٹی کسی بااثر شخصیت کی 'ریڈ لائن' ہوتی تو سی سی ڈی (CCD) والے منٹوں میں لوکیشن ٹریس کر لیتے اور اسے ظالموں کے شکنجے سے نکال لیا جاتا۔ لیکن وہ ایک عام آدمی کی بیٹی تھی، اسی لیے تین دن تک اس کا سراغ نہ مل سکا اور چوتھے دن وہ ہسپتال میں لاوارثوں کی طرح دم توڑ گئی۔"
​والدہ نے مزید بتایا کہ ایشال چھٹی کلاس سے انسولین پر تھی۔ "ظالموں نے نہ صرف اس پر درندگی کی انتہا کی بلکہ اسے نشہ آور ادویات دے کر موت کے منہ میں دھکیل دیا۔ تین دن تک انسولین نہ ملنے کے باعث میری بیٹی کا جسم جواب دے گیا تھا۔ وہ آخری رات میرے پاس رہی، چیخنا چاہتی تھی مگر اس میں ہمت نہیں تھی۔"
​حکومت سے مطالبہ
خاندان نے مریم نواز شریف سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے کا نوٹس لیں۔ "میری بیٹی تو چلی گئی، اللہ مجھے صبر دے، لیکن خدارا دوسری بیٹیوں کو بچا لیں۔ اگر یہ مجرم آزاد گھومتے رہے تو کئی اور ایشال فاطمہ ان کا نشانہ بنیں گی۔"
​ایشال کے ماموں نے بھی اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ اپنی بیٹی کے جسم پر کیے گئے تشدد کے نشانات کو کبھی نہیں بھولیں گے اور انصاف کے حصول کے لیے ہر حد تک جائیں گے۔

جھنگ(جرس نیوز )18سال کی لڑکی کو بیہوشی کی حالت میں نجی ہسپتال میں چھوڑ کر فرار ہونے والے تینوں ملزمان کو گرفتار کرلیا گی...
10/06/2026

جھنگ(جرس نیوز )18سال کی لڑکی کو بیہوشی کی حالت میں نجی ہسپتال میں چھوڑ کر فرار ہونے والے تینوں ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا۔ پولیس کے مطابق تینوں ملزمان کو سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر شواہد کی مددسے گرفتارکیاگیا، ملزمان کے زیر استعمال گاڑی بھی قبضے میں لے لی گئی ہے۔پولیس کے مطابق واقعے کے اصل محرکات اور حقائق جاننے کے لیے مزید تفتیش کی جا رہی ہے۔ڈی پی او جھنگ ساجد حسین نے کہا کہ کیس کے ہر پہلو کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے، تمام شواہد، فارنزک رپورٹس اور پوسٹ مارٹم کے نتائج کو مدنظر رکھا جائیگا۔واضح رہے کہ 18سال کی لڑکی ڈی ایچ کیو ہسپتال میں زیر علاج رہنے کے بعد دم توڑگئی تھی، متاثرہ لڑکی کے والد کی جانب سے مقدمہ درج کروایا گیا تھا۔سات جون کی صبح لگ بھگ دس بجے صوبہ پنجاب کے شہر جھنگ سے تعلق رکھنے والی 17 سالہ ایشال فاطمہ کی والدہ کے موبائل پر موصول ہونے والی وہ کال غیرمعمولی تھی جس میں انھیں فون کرنے والے نے آگاہ کیا گیا تھا کہ اُن کی بیٹی کی طبعیت انتہائی خراب ہے، والدہ کو شہر میں واقع اُس نجی ہسپتال کا نام بھی بتایا گیا جہاں اُن کی بیٹی، کال کرنے والے مطابق، زیر علاج تھیں۔
ایشال فاطمہ مقامی کالج میں فرسٹ ایئر کی طالبہ تھیں اور چار جون کو اپنے گھر سے نکلی تھیں تاہم پولیس کے دعوے کے مطابق اُن کے والد نے پولیس کو اِس بارے میں آگاہ نہیں کیا تھا اور اہلخانہ خود ہی بیٹی کی تلاش میں مصروف رہے۔
ایشال کی والدہ کو موصول ہونے والی کال میں چونکہ ہسپتال کا پتہ بھی بتایا گیا تھا، اسی لیے والدین قریبی رشتہ داروں کے ہمراہ بتائے گئے نجی ہسپتال پہنچے، جہاں موجود انتظامیہ نے آگاہ کیا کہ اُن کی بیٹی کو قریب واقع ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال (ڈی ایچ کیو) منتقل کر دیا گیا ہے۔
اہلخانہ کے مطابق جب وہ ڈی ایچ کیو پہنچے تو اُن کی بیٹی کی حالت انتہائی خراب تھی اور وہ ’موت و حیات کی کشمکش'‘ میں تھی

گجرات:( جرس نیوز )  تھانہ لاری اڈہ پولیس کی کامیاب کارروائی، 12 سالہ بچہ بحفاظت بازیاب، ملزم گرفتارگجرات پولیس نے بچوں ک...
10/06/2026

گجرات:( جرس نیوز ) تھانہ لاری اڈہ پولیس کی کامیاب کارروائی، 12 سالہ بچہ بحفاظت بازیاب، ملزم گرفتار
گجرات پولیس نے بچوں کے تحفظ کے حوالے سے ایک اہم کامیابی حاصل کرتے ہوئے 12 سالہ لاپتہ بچے کو بحفاظت بازیاب کروا لیا جبکہ بچے کو غیر قانونی طور پر اپنے پاس رکھنے والے ملزم کو گرفتار کر لیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق ایس ایچ او تھانہ لاری اڈہ انسپکٹر احمد فراز نے اپنی پولیس ٹیم کے ہمراہ جدید تفتیشی طریقہ کار اور سائنسی بنیادوں پر استوار جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے کارروائی کرتے ہوئے بچے کو ملزم مشتاق کی تحویل سے بازیاب کرایا۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق ملزم مشتاق نے بچے کو نامعلوم جگہ پر رکھا ہوا تھا اور اس کے ساتھ نازیبا حرکات کا ارتکاب کرتا رہا۔ اطلاع ملنے پر پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کر لیا۔
متاثرہ بچے کو بحفاظت بازیاب کروا کر ضروری قانونی کارروائی کے بعد اس کے ورثاء کے حوالے کر دیا گیا ہے، جبکہ واقعہ کے مختلف پہلوؤں پر مزید تفتیش جاری ہے۔
گجرات پولیس بچوں کے تحفظ کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل رکھتی ہے اور ایسے گھناؤنے جرائم میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز، سخت اور مؤثر قانونی کارروائی جاری رکھے گی۔

(  جرس نیوز   )  ٹوبہ ٹیک سنگھ کالج میں جنازے کے دوران موبائل فون چوری کرنے والا ملزم گرفتار کر لیا ملزم کی عمران قریشی ...
09/06/2026

( جرس نیوز ) ٹوبہ ٹیک سنگھ کالج میں جنازے کے دوران موبائل فون چوری کرنے والا ملزم گرفتار کر لیا ملزم کی عمران قریشی کے نام سے شناخت ہوئی ہے پولیس نے ملزم کے قبضے سے سات موبائل فون برامد کیے ہیں ٹوبہ ٹیک سنگھ کے مختلف مقامات پر نماز جنازہ کے دوران شہریوں کے موبائل فون چوری کرنے والے ایک شخص کو گرفتار کیا گیا ہے ہرجانہ پولیس کو ایک بڑی کامیابی حاصل ہوئی کافی محنت کے بعد اس حوالے سے ہرجانہ پولیس نے ایک شخص کو گرفتار کیا ہے جس کا تعلق ننکانہ صاحب سے ہے اور اس کی قبضے سے سات موبائل فون برامد کیے گئے ہیں جس کی مانند تقریبا 11 لاکھ 80 ہزار روپے ہے۔ یہ شہروں کی جیب سے نکالتا تھا ۔ پولیس کی پوری ٹیم نے منت کی اس کے بعد اس ملزم کو گرفتار کیا گیا اور اس سے دو لاکھ روپے برآمد کر لے گئے ہیں ۔ ٹیم ٹوبہ ٹیک سنگھ کے ڈی پی او اخلاق نے ایس ایچ او صابر رحمان کی اس کاوش کو سراہا ہے اور شاباش بھی دی ہے تا ہم ان کا یہ کہنا ہے کہ اس ملزم سے مزید تفتیش جا رہی ہے اور اس سے مزید انکشافات کی بھی توقع ہے

گجرات: تھانہ صدر جلالپور جٹاں کے علاقہ میں پولیس مقابلہ۔گجرات:( جرس نیوز )  دو موٹر سائیکلوں پر سوار چار مسلح ملزمان نے ...
09/06/2026

گجرات: تھانہ صدر جلالپور جٹاں کے علاقہ میں پولیس مقابلہ۔

گجرات:( جرس نیوز ) دو موٹر سائیکلوں پر سوار چار مسلح ملزمان نے فائرنگ کرکے زیر حراست ملزم کو چھڑوا لیا۔
ملزمان اپنے ساتھی کو چھڑوا کر موقع سے فرار ہوگئے، پولیس نے فوری تعاقب شروع کر دیا۔
ٹھمکہ قبرستان کے قریب سے اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے مضروب حالت میں ملزم عدنان شہباز سکنہ چک گوجرہ ضلع منڈی بہاؤالدین کو حراست میں لے لیا گیا۔
زخمی ملزم کو حراست میں لے کر طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔
فرار ملزمان کی گرفتاری کے لیے ضلع بھر میں ناکہ بندی اور سرچ آپریشن جاری۔
ملزم مذکورہ مویشی چوری سمیت 11مقدمات میں ملوث تھا۔

صحافت: انا کے بت یا سیکھنے کا سفر؟کبھی آپ نے سوچا ہے کہ جو صحافی گجرات کے  اس دنیا سے جاچکے ہیں ۔ خدا تعالیٰ ان سب کو جن...
08/06/2026

صحافت: انا کے بت یا سیکھنے کا سفر؟

کبھی آپ نے سوچا ہے کہ جو صحافی گجرات کے اس دنیا سے جاچکے ہیں ۔ خدا تعالیٰ ان سب کو جنت الفردوس میں جگہ دیں آمین ۔ ایسے بھی صحافی تھے جنکے پاس بڑے بڑے نشنل نیوز پیپر تھے اور انہوں نے خبریں لکھنے کے لئے بندے رکھے ہوئے تھے۔ ایک بات میری یاد رکھیں کبھی کوئی بڑا صحافی نہیں ہوتا ۔ ہمیشہ کام زنده رکھتا ہے۔کام بڑا بناتا ہے ۔ وه بڑے بڑے اخباروں والے آج اُن کا کوئی نام نہیں ہے کیوں کہ اُن کا کوئی کام نہیں تھا .آج کے دور میں بھی ضرور ہوں گے جنکے مرنے کے بعد وہ بڑا اخبار اور بڑا چینل اپنے ساتھ ہی لے جائیں گے ۔ جو آج بولتے ہیں ہم نا ہوں گے تو یہ سارے کا سارا صحافی نظام ٹھپ ہوکر ره جائے گا ۔اور ایسے بھی صحافی گزرے ہیں جن کے پاس بڑے بڑے اخبار یا نیوز چینل نہیں تھے لیکن انکا کام تھا آج گجرات کی تاریخ پر جو کتاب یا مضمون لکھا جاتا ہے تو رائٹر اور مصنف کی مجبوری ہوتی ہے اُن کو تاریخ کا حصہ بنایا جائے۔ صحافی کو نیک نیتی کے ساتھ اپنے کام پر توجه مرکوز کرنا ہوگی
​صحافت کے شعبے میں آج جو "جنگِ انا" برپا ہے، وہ اس مقدس پیشے کے وقار کو بری طرح مجروح کر رہی ہے۔ ایک دوسرے پر فقرے بازی، ایک دوسرے کو نیچا دکھا کر خود کو "سب سے بڑا" ثابت کرنے کی کوشش، اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم بحیثیت شعبہ، اپنی بنیادوں سے دور ہو چکے ہیں۔
​حقیقت تو یہ ہے کہ صحافت کا کوئی "مستقل بڑا" نہیں ہوتا۔ یہ علم اور مشاہدے کا ایک ایسا لامتناہی سمندر ہے جس میں ہر دن ایک نیا سبق لے کر آتا ہے۔ جو صحافی یہ سمجھ لے کہ اس نے سب سیکھ لیا ہے، وہیں سے اس کی تنزلی کا آغاز ہو جاتا ہے۔ صحافت میں قد کاٹھ کا معیار "انا" نہیں، بلکہ "عاجزی" ہونا چاہیے۔ احساسِ کمتری اور محرومی میں مبتلا لوگ جب اپنی مصنوعی تعریف سنتے ہیں یا خود کو "بڑا صحافی" کہلوا کر خوش ہوتے ہیں، تو وہ دراصل صحافت کی نہیں، اپنی ذات کی تشہیر کر رہے ہوتے ہیں۔ ایک سچا صحافی تو ساری زندگی طالبِ علم رہتا ہے۔
آج کل بہت سے ایسے لوگ بھی بڑے میڈیا ہاؤسز اور اخبارات کے مالک یا سربراہ بنے بیٹھے ہیں جن کی تعلیمی قابلیت یا بول چال کا معیار اس منصب کے شایانِ شان نہیں۔ یہاں دو اہم سوالات جنم لیتے ہیں:
اگر صحافت کا مقصد صرف ایک پلیٹ فارم کا مالک ہونا ہے، تو شاید وہ کامیاب کاروباری ہو سکتے ہیں۔ لیکن اگر صحافت کا مقصد "حقائق کی ترسیل" اور "معاشرتی اصلاح" ہے، تو صرف وسائل کا مالک ہونا کسی کو "صحافی" نہیں بناتا۔ صحافی وہ ہے جس کے الفاظ میں وزن ہو، جس کی تحقیق میں اخلاص ہو اور جس کا کردار اس کے قلم کی طرح شفاف ہو۔
یہ المیہ ہے کہ ہمارے ہاں "میڈیا انڈسٹری" ایک "کاروباری انڈسٹری" بن چکی ہے۔ جہاں سرمایہ ہے، وہاں چینل بھی ہے اور اخبار بھی۔ ایسے میں اصل صحافی، جو شاید بہتر تعلیم اور صلاحیت رکھتا ہے، ان وسائل کے فقدان میں پیچھے رہ جاتا ہے یا اسے "بڑا" بننے کے لیے انھی غیر صحافتی ہتھکنڈوں کا سہارا لینا پڑتا ہے جن سے وہ خود متنفر ہوتا ہے۔
​صحافت میں "بڑائی" کا معیار یہ نہیں کہ کس کے پاس کتنا بڑا چینل ہے، بلکہ یہ ہے کہ:
​کس کی بات میں کتنی سچائی ہے۔
​کس کا قلم کمزوروں کی آواز بنتا ہے۔
​کون اپنی انا کو معاشرتی مفاد پر قربان کرنے کا حوصلہ رکھتا ہے۔​جن لوگوں کے پاس تعلیم یا بول چال کا سلیقہ نہیں، وہ شاید "پاور" تو دکھا سکتے ہیں، مگر "وقار" نہیں کما سکتے۔ صحافت میں عزت خریدنے کی چیز نہیں، یہ کمانے کی چیز ہے جو صرف دیانتداری سے آتی ہے۔
​صحافت ایک مسلسل سیکھنے کا عمل ہے۔ اس شعبے میں جو جتنا زیادہ سیکھتا ہے، وہ اتنا ہی زیادہ عاجز ہوتا چلا جاتا ہے۔ ہمیں ضرورت ہے کہ ہم اس "انا پرستی" کو چھوڑ کر دوبارہ اس مکتب میں داخل ہوں جہاں سوال کرنا سکھایا جاتا ہے، نہ کہ خود کو خدا ثابت کرنا۔ جب تک صحافی خود کو "بڑا" سمجھنے کے خمار سے نہیں نکلے گا، تب تک اس شعبے کا معیار نچلی سطح پر ہی رہے گا۔

​صحافت کا معیار ڈگری یا چینل کا سائز نہیں، بلکہ اس شخص کا ضمیر ہے جو مائیک تھام کر عوام سے مخاطب ہوتا ہے۔

( جرس نیوز )منڈی بہاؤالدین شادی کی تقریب میں اسلحہ کی نمائش: معروف ٹک ٹاکر بلال مارتھ ساتھیوں سمیت گرفتار میں سی ٹی ڈی ن...
07/06/2026

( جرس نیوز )منڈی بہاؤالدین شادی کی تقریب میں اسلحہ کی نمائش: معروف ٹک ٹاکر بلال مارتھ ساتھیوں سمیت گرفتار میں سی ٹی ڈی نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے ایک نجی میرج ہال میں چھاپہ مار کر معروف ٹک ٹاکر بلال مارتھ کو ان کے سات ساتھیوں سمیت حراست میں لے لیا۔ ملزمان پر شادی کی تقریب کے دوران جدید اسلحہ کی سرعام نمائش کرنے کا الزام
شادی بیاہ کی تقریبات میں ہوائی فائرنگ اور اسلحہ کی نمائش پر پابندی کے باوجود قانون کی دھجیاں اڑانے والوں کے خلاف گھیرا تنگ کر دیا گیا۔ سی ٹی ڈی نے ایک کارروائی کے دوران ٹک ٹاکر بلال مارتھ اور ان کے ساتھیوں کو گرفتار کر کے اسلحہ برآمد کر لیا، جبکہ میرج ہال انتظامیہ کے خلاف بھی مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
​گرفتاری کا سبب: ملزمان کلاشنکوف نما رائیفلز اور پستولوں سے مسلح ہو کر شادی کی تقریب میں شریک ہوئے اور اسلحہ کی نمائش کر رہے تھے۔
​پولیس ایکشن: سی ٹی ڈی کو اطلاع ملتے ہی ٹیم نے فوری کارروائی کر کے موقع سے تمام افراد کو گرفتار کیا۔
​قانونی حیثیت: ملزمان کے پاس اسلحہ کے لائسنس یا قانونی دستاویزات موجود نہیں تھیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ برآمد شدہ اسلحہ لوڈڈ تھا، جو کسی بھی وقت بڑے حادثے کا سبب بن سکتا تھا۔​انتظامیہ کے خلاف کارروائی: پولیس نے میرج ہال کے مالک کے خلاف بھی مقدمہ درج کر لیا ہے، کیونکہ انہوں نے تقریب کے دوران اسلحہ کی موجودگی اور اس کے استعمال کو روکنے کے لیے موثر اقدامات نہیں کیے۔

​مزید پیشرفت: ابتدائی تحقیقات کے بعد 8 افراد کے خلاف مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کو اسلحہ فراہم کرنے والوں کی بھی نشاندہی کی جا رہی ہے اور ان کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

اطالوی عدالت کا بڑا فیصلہ: بیٹی پر تشدد اور زبردستی شادی کی کوشش کرنے والے والدین کو قید​اٹلی( جرس نیوز )  برسوں کے بے ج...
07/06/2026

اطالوی عدالت کا بڑا فیصلہ: بیٹی پر تشدد اور زبردستی شادی کی کوشش کرنے والے والدین کو قید
​اٹلی( جرس نیوز ) برسوں کے بے جا دباؤ اور خاندانی تشدد سے تنگ آکر ایک لڑکی نے اپنے والدین کے خلاف بغاوت کر دی اور اطالوی پولیس کو رپورٹ درج کروا دی۔ عدالتی کارروائی کے دوران سامنے آنے والے حقائق نے معاشرے کو ہلا کر رکھ دیا۔
عدالت میں پیش کردہ تفصیلات کے مطابق، والدین اپنی بیٹی کو رات کے وقت گھر کے تاریک تہہ خانے میں قید رکھتے تھے اور اس کا موبائل فون بھی چھین لیا گیا تھا تاکہ وہ بیرونی دنیا سے رابطہ نہ کر سکے۔ لڑکی پر مسلسل تشدد کیا جاتا، اسے گھٹنوں کے بل بیٹھنے پر مجبور کیا جاتا اور بدترین جسمانی تشدد کے دوران اس کا چہرہ فرش پر پٹخ دیا جاتا تھا۔
تحقیقات سے معلوم ہوا کہ اس تشدد کا بنیادی مقصد لڑکی کو اپنی مرضی پر چلانا تھا۔ والدین اسے زبردستی پاکستان لے جانے پر بضد تھے اور اسے سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جا رہی تھیں کہ اگر اس نے پاکستان میں موجود کزن سے منگنی اور شادی کے لیے ہامی نہ بھری تو اس کا انجام بہت برا ہوگا۔
کیس میں سنگین موڑ اس وقت آیا جب والدین کو معلوم ہوا کہ ان کی بیٹی اپنے بوائے فرینڈ کے بچے کی ماں بننے والی ہے۔ خاندان چونکہ اس رشتے کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں تھا، اس لیے انہوں نے بیٹی کے پیٹ اور کمر پر شدید ضربیں لگائیں تاکہ اسے اسقاطِ حمل (ابارشن) پر مجبور کیا جا سکے۔
اطالوی عدالت نے تمام شواہد اور لڑکی کے بیان کی روشنی میں والدین پر گھریلو تشدد، بدسلوکی اور زبردستی شادی کی کوشش کے الزامات ثابت ہونے پر انہیں سخت قید کی سزا سنا دی ہے۔

Address

Gujrat
50700

Telephone

+923018401590

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when JARAS News posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to JARAS News:

Share