25/11/2025
جماعتِ اسلامی کی نئی سمت: حافظ نعیم الرحمٰن کی قیادت میں جین زی اور خواتین کا ابھرتا ہوا کردار
پاکستان کی سیاست میں ایک دلچسپ اور اہم تبدیلی رونما ہو رہی ہے۔ جماعتِ اسلامی — جو ماضی میں سخت نظریاتی شناخت، روایتی طرزِ سیاست اور محدود اپروچ کے حوالے سے پہچانی جاتی تھی — اب ایک واضح فکری و سیاسی شفٹ سے گزر رہی ہے۔ اس تبدیلی کے مرکز میں موجود ہیں حافظ نعیم الرحمٰن۔
🔹 ترکیہ ماڈل کی جھلک — جماعت کا نیا سیاسی بیانیہ
لاہور کے مینارِ پاکستان پر ہونے والا تاریخی کنونشن جماعتِ اسلامی کے نئے سیاسی رخ کا اعلان تھا۔
حافظ نعیم الرحمٰن کی قیادت میں جماعت اب:
عوامی
ریفارمسٹ
اور جدید سیاسی تقاضوں سے ہم آہنگ
پارٹی کے طور پر سامنے آنا چاہتی ہے۔ یہ تبدیلی جماعت پر طاری دہائیوں کے جمود کو توڑنے کی طرف اشارہ ہے — اور شاید جماعت کی مستقبل کی بقا بھی اسی سے مشروط ہے۔
🔹 جین زی: جماعت کی اگلی بڑی ترجیح
بنگلادیش جیسے تجربات سے سیکھتے ہوئے جماعت اب یہ سمجھ چکی ہے کہ نوجوان صرف جلسوں کا ایندھن نہیں — فیصلہ سازی کی مرکزی قوت ہیں۔
نوجوانوں کو تنظیمی طاقت میں حصہ
پالیسی سازی میں شمولیت
اور عملی مواقع
دینے کا عندیہ واضح ہو چکا ہے۔
اگر یہ سلسلہ مستقل رہا تو جماعت پہلی بار واقعی نوجوانوں کی نمائندہ سیاسی قوت بن سکتی ہے۔
🔹 خواتین: روایتی دائرے سے آگے بڑھ کر مرکزی کردار
ماضی میں جماعتِ اسلامی پر “خواتین مخالف” یا “محدود سوچ” کے الزامات لگتے رہے، لیکن اب منظرنامہ بدل رہا ہے۔ نئی قیادت نے:
خواتین کی تعلیم
تحفظ
وراثتی حقوق
اور سیاسی شمولیت
کو پارٹی ایجنڈے کا بنیادی حصہ بنایا ہے۔
یہ پالیسی شفٹ حمایت اور حیرت — دونوں کا باعث بنا ہے۔
یہ واضح اشارہ ہے کہ جماعت اب متوازن، وسیع اور جدید سماجی سوچ کو اپنا رہی ہے۔
🔹 نیا سیاسی بیانیہ: مذہبی اخلاقیات + جدید سیاسی مطالبات
حافظ نعیم الرحمٰن کی تقاریر میں مذہبی اقدار کے ساتھ ساتھ:
شفافیت
احتساب
پولیس و عدالتی اصلاحات
سستا انصاف
مقامی حکومتوں کا نظام
جیسے موضوعات نمایاں ہیں۔
وہ عدلیہ، اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی خاندانوں کے غلبے پر کھل کر تنقید کر رہے ہیں — جو نوجوانوں کی موجودہ فرسٹریشن کے مطابق ایک اہم بیانیہ ہے۔
جماعت کی نئی پالیسی: چیلنجز اور امکانات
🔸 چیلنجز
1. پرانی شناخت اور نئی سوچ کے درمیان خلیج کو بھرنے میں وقت لگے گا۔
2. جین زی صرف نعروں سے قائل نہیں ہوتی — عملی مواقع دینا ہوں گے۔
3. خواتین کی مرکزی شمولیت پر اندرونی مزاحمت ممکن ہے۔
4. کنونشن کے بعد مومنٹم کو برقرار رکھنا سب سے بڑا امتحان ہوگا۔
🔸 ممکنہ فائدے
جدید اصلاحات اور عوامی ایجنڈا جماعت کو نوجوان اور شہری طبقے کے لیے پہلی بار قابلِ قبول آپشن بنا سکتا ہے۔
خواتین کی شرکت جماعت کو ایک زیادہ نمائندہ سیاسی جماعت میں تبدیل کر سکتی ہے۔
حرفِ آخر
حافظ نعیم الرحمٰن کی قیادت میں جماعتِ اسلامی پاکستان آج ایک نئے تشخص کے ساتھ سامنے آ رہی ہے:
✔ زیادہ عوامی
✔ نوجوانوں کے لیے زیادہ کشادہ
✔ خواتین کے لیے زیادہ بااختیار
✔ اور سیاسی طور پر زیادہ عصری
اگر یہ تبدیلی صرف وقتی نہ ہوئی اور جماعت نے مستقل مزاجی کے ساتھ اس راستے پر چلنا جاری رکھا تو چند سالوں میں جماعتِ اسلامی محض ایک روایتی مذہبی جماعت نہیں رہے گی — بلکہ ایک جدید، فعال، عوام دوست،
اور متحرک سیاسی تحریک بن سکتی ہے۔