Shani Awan

Shani Awan *خَیِلاَلِ حِفْظُ اللِّسَانِ*
( زبان کی حفاظت بہترین خَصْلت و عادت ہے )

کہا جاتا ہے کہ سندھ کے حکمران راجہ داہر کو جب اُموی سالار محمد بن قاسم کے ہاتھوں شکست ہو گئی تو اُن کی دو بیٹیوں سوریا ا...
25/12/2025

کہا جاتا ہے کہ سندھ کے حکمران راجہ داہر کو جب اُموی سالار محمد بن قاسم کے ہاتھوں شکست ہو گئی تو اُن کی دو بیٹیوں سوریا اور پریمل کو محمد بن قاسم نے راجہ کی ہلاکت کے بعد خلیفہ ولید بن عبدالملک کے پاس دارالخلافہ بغداد روانہ کر دیا۔

خلیفہ ولید بن عبدالملک نے جب بڑی بیٹی سوریا سے خلوت کا ارادہ کیا تو سوریا نے چال چلی اور خلیفہ سے کہا کہ محمد بن قاسم پہلے ہی اُن کے ساتھ خلوت اختیار کر چکا ہے چنانچہ وہ اب خلیفہ کے شایانِ شان نہیں رہیں۔
غصے میں خلیفہ کو تحقیق کا ہوش نہیں رہا اور اُنھوں نے اسی وقت محمد بن قاسم کے نام پروانہ جاری کیا کہ وہ جہاں کہیں بھی ہیں خود کو کچی کھال میں سلوا کر دارالخلافہ کو واپس ہوں۔
محمد بن قاسم نے ایسا ہی کیا اور دارالخلافہ کے راستے میں ہی دو دن بعد اُن کی موت ہو گئی۔

یہ کہانی کتاب فتح نامہ سندھ عرف چچ نامہ میں بیان کی گئی ہے۔

روایت کے مطابق اس کے بعد راجہ داہر کی بیٹی کا ایک طویل خطاب ہے جس میں وہ محمد بن قاسم کی عادل حکمرانی کی گواہی دیتی ہیں مگر اُن کی ہلاکت کی سازش رچنے کو اپنے والد کا بدلہ قرار دیتی ہیں۔

اسی خطاب میں وہ محمد بن قاسم کے بارے میں بھی کہتی ہیں کہ اُنھیں فرمانبرداری میں بھی عقل سے کام لینا چاہیے تھا اور خلیفہ کو بھی کہتی ہیں کہ اُسے بھی سنی سنائی بات پر اتنا سخت حکم جاری کرنے سے قبل تحقیق کر لینی چاہیے تھی۔

چچ نامہ کے مطابق راجہ داہر کی بیٹی نے کہا: دانا بادشاہِ وقت پر واجب ہے کہ جو کچھ بھی دوست یا دشمن سے سنے، اسے عقل کی کسوٹی پر پرکھے اور دل کے فیصلوں سے اس کا موازنہ کرے۔
وہ مزید کہتی ہیں کہ پاک دامنی کے اعتبار سے محمد بن قاسم ہمارے لیے باپ اور بھائی جیسا تھا اور ہم کنیزوں پر اس نے کوئی دست درازی نہیں کی۔
لیکن چونکہ اُس نے ہند اور سندھ کے بادشاہ (راجہ داہر) کو برباد کیا تھا اس لیے ہم نے انتقاماً خلیفہ کے سامنے جھوٹ بولا تھا۔

اس پر خلیفہ نے غضبناک ہو کر دونوں بہنوں کو دیوار میں چُن دینے کا حکم دیا۔
‏بنو اُمیہ کے دور میں سندھ فتح کرنے والے نوجوان سالار محمد بن قاسم اور مغل بادشاہ جلال الدین محمد اکبر کے دور کی ’مبینہ‘ کنیز انار کلی کی موت کی کہانیوں میں خواتین کے دیوار میں چُنوائے جانے کی قدر مشترک ہے۔

انار کلی کے بارے میں کہانی یہ منسوب ہے کہ اکبر بادشاہ نے اُنھیں شہزادہ نور الدین محمد سلیم (بعد میں جہانگیر) سے معاشقے کی وجہ سے دیوار میں چُنوا کر ہلاک کروا دیا تھا۔

مگر انارکلی کے وجود کے بارے میں ہی مؤرخین کو شبہ ہے اور اُن کے بارے میں تاریخی ثبوت دستیاب نہیں ہیں۔ چنانچہ اُن کی موت کی کہانی تو دور کی بات ہے۔

اور محمد بن قاسم اور راجہ داہر کی بیٹیوں کی ہلاکت سے متعلق اس پوری کہانی پر بھی۔۔!!
تو پھر محمد بن قاسم کی موت واقعتاً کیسے ہوئی اور مندرجہ بالا واقعے کی تاریخی حقیقت کیا ہے، اس پر بات کریں گے لیکن اس سے پہلے کچھ محمد بن قاسم کی سندھ میں آمد اور فتوحات کا تذکرہ کرتے ہیں اور پھر یہ دیکھیں گے کہ محمد بن قاسم سندھ فتح کرنے کے بعد گئے تو گئے کہاں؟
محمد بن قاسم کے سپاہیوں کی ’مبینہ‘ قبریں بلوچستان میں
اگر آپ کراچی سے گوادر جانا چاہتے ہیں تو آپ پہلے تو آر سی ڈی ہائی وے پر کوئی دو گھنٹے کی ڈرائیو کریں گے جس کے بعد بائیں جانب مکران کوسٹل ہائی وے کا آغاز ہوتا ہے جو اپنے آپ میں حیرتوں سے بھرپور سڑک ہے۔

یہیں پر تھوڑا آگے جا کر بائیں جانب ایک پتھر کی تختی پر لکھا ہے کہ یہاں فاتحِ سندھ محمد بن قاسم کے سپاہیوں کی قبریں موجود ہیں۔

نامور مصنف و محقق سلمان رشید کے مطابق یہ قبریں محمد بن قاسم کے ساتھیوں کی نہیں ہیں کیونکہ آٹھویں صدی میں عرب سندھ کے چوکنڈی قبرستان جیسی نقش و نگار سے مزیّن قبریں نہیں بنایا کرتے تھے، اور ویسے بھی قبروں کا یہ طرزِ تعمیر تقریباً سولہویں صدی کا قرار دیا جاتا ہے۔

مگر پاکستان میں محمد بن قاسم سے متعلق متنازع باتوں میں سے یہ صرف ایک بات ہے۔

مطالعہ پاکستان کی درسی کتب میں اکثر و بیشتر یہ پڑھایا جاتا ہے کہ پاکستان کی بنیاد اُسی دن پڑ گئی تھی جس دن محمد بن قاسم نے سندھ کی سرزمین پر قدم رکھا تھا۔
محمد بن قاسم اُموی دورِ حکومت کے وہ سالار تھے جنھوں نے 712 سنِ عیسوی میں سندھ پر حملہ کیا اور یہاں کے راجہ داہر کو شکست دی۔
بعض مؤرخین کے نزدیک محمد بن قاسم کے آنے سے جنوبی ایشیا میں اسلامی دور کا آغاز ہوا، سندھ فتح ہوا اور یوں واقعات کا ایک لمبا سلسلہ شروع ہوا جو بالآخر پاکستان کے قیام پر منتج ہوا۔

مگر مختلف تاریخی حوالوں کے مطابق پیغمبرِ اسلام کی آمد سے قبل بھی عرب تاجر برِصغیر میں رہائش پذیر تھے اور کچھ کے نزدیک یہاں کی مقامی خواتین سے شادیاں تک کر رہے تھے۔

کتاب ’دی گریٹ مغلز اینڈ دیئر انڈیا‘ میں مصنف ڈرک کولیئر نے خطہ برِصغیر میں اسلام کے پھیلنے کے حوالے سے متعدد نظریات کا ذکر کیا ہے جس میں ہجرت، تلوار، خوف، صوفیا کے عمل اور تبلیغ، سماجی رتبے کے حصول اور پرامن روابط مثلاً تجارت اور باہمی شادیاں شامل ہیں۔
وہ لکھتے ہیں کہ جبری طور پر مذہب کی تبدیلی کے (چند) واقعات کا انکار تو نہیں کیا جا سکتا، تاہم کئی دیگر علاقوں مثلاً مالابار کے ساحلوں میں اسلام کی کامیابی کا تعلق جبر یا مسلمانوں کی عسکری اور سیاسی برتری سے نہیں تھا۔

اس کے علاوہ اُن کے نزدیک نئے مذہب کے مضبوط اور مساوات پر مبنی پیغام کا اثر بالخصوص نچلی ذات کے افراد پر ضرور ہوا ہو گا۔
چنانچہ وہ اس علاقے میں پہلے سے عربوں کی موجودگی کا حوالہ دیتے ہوئے 712 عیسوی میں محمد بن قاسم کی آمد سے کہیں قبل برِصغیر میں اسلام کی آمد کا عرصہ متعین کرتے ہیں۔
لہٰذا پاکستان کی درسی کُتب میں عام طور پر پڑھائے جانے والے بیانیے کے برعکس تاریخی بیانیے بھی موجود ہیں۔
کتاب فُتوح البلدان نوویں صدی عیسوی میں عباسی دورِ حکومت میں تحریر کی گئی اور اسے اسلامی فتوحات کی تاریخ کی اہم ترین اور مستند کتابوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

اس کتاب میں مصنف احمد بن یحییٰ البلاذری نے محمد بن قاسم کی ہلاکت کے بعد کے واقعات خصوصی تفصیل سے بیان کیے ہیں اور یہ بھی بتایا ہے کہ کیسے بہت سے مفتوحہ علاقے مسلمانوں کے ہاتھ سے نکلے، واپس فتح ہوئے، کسی نے واپس اپنا پچھلا مذہب اختیار کر لیا تو کسی نے مسلمانوں سے اپنا معاہدہ توڑ لیا۔

پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا محمد بن قاسم سے پہلے کوئی مسلمان مہم سندھ میں آئی تھی یا نہیں۔

بلاذری کے مطابق خلیفہ دوم عمر بن الخطاب کے دور میں 15 ہجری میں اُنھوں نے عثمان بن ابوالعاص الثقفی کو بحرین اور عمان پر گورنر مقرر کیا، تو عثمان نے ایک فوج تھانہ (یا تانہ) کی جانب بھیجی۔ اس کے علاوہ اسی کتاب میں مصنف نے لکھا ہے کہ عثمان کے بھائی الحکم نے اپنے بھائی المغیرہ ابن ابوالعاصی کو خلیجِ دیبل کی جانب بھیجا جہاں اُنھوں نے دشمن پر فتح پائی۔

فتوح البلدان کا اردو ترجمہ سید ابوالخیر مودودی نے کیا ہے جس میں اُنھوں نے دیبل کو تو دریائے سندھ کے قریب واقع ایک بڑا تجارتی شہر قرار دیا ہے مگر تھانہ کا تذکرہ نہیں کیا کہ یہ کون سا شہر ہے۔
اس کا تذکرہ ہمیں ابنِ بطوطہ کے سفرنامے میں ملتا ہے جب اُنھوں نے یمن کی بندرگاہِ عدن کے بارے میں بتایا ہے کہ یہاں انڈیا کے کئی شہروں بشمول ’تھانہ‘ سے بھی جہاز آتے ہیں۔

چنانچہ یہ شہر ’تانہ‘ انڈین ریاست مہاراشٹر کا شہر تھانے یا تھانہ ہے جو ممبئی کا پڑوسی شہر ہے اور یہاں تک وسائی کھاڑی (ندی) کے ذریعے پہنچا جا سکتا ہے جو اس شہر کو ساحل سے کافی دور ہونے کے باوجود بحیرہ عرب سے ملا دیتی ہے۔

اگر محمد بن قاسم کی سندھ پر لشکر کشی پہلی فوجی مہم نہیں تھی اور اس سے قبل بھی اس علاقے پر حملے کیے جاتے رہے تھے تو پھر اس واقعے کے بارے میں کیا کہا جا سکتا ہے جس کے مطابق عراق کے گورنر حجاج بن یوسف نے ایک مظلوم عورت کی پکار پر محمد بن قاسم کو سندھ کی جانب بھیجا؟

یہ کہانی بھی چچ نامہ میں کافی تفصیل سے موجود ہے۔
چچ نامہ یا فتح نامہ سندھ، خطہ سندھ کی فتح پر لکھی گئی پہلی کتاب تصور کی جاتی ہے کیونکہ اس سے قبل مؤرخین نے سندھ اور ہند کی فتح پر باب تو باندھے ہیں لیکن مکمل کتابی صورت میں صرف چچ نامہ ہی ملتی ہے۔
‏چچ نامہ تیرہویں صدی میں علی کوفی کی فارسی میں ترجمہ کردہ کتاب ہے جو اُن کے مطابق اُنھوں نے ایک عربی کتاب سے فارسی میں منتقل کی، تاہم وہ عربی کتاب اب تک باقاعدہ دریافت نہیں ہو سکی ہے نہ ہی اس حوالے سے معلومات ہیں کہ وہ کس کی تصنیف تھی۔

مایہ ناز مؤرخ ڈاکٹر مبارک علی اور محقق و مصنف منان احمد آصف کی تحقیق کے مطابق یہ واقعہ درست نہیں ہے۔

اس کے علاوہ تاریخ ابنِ خلدون میں بھی دیبل کی فتح کے باب میں اس واقعے کا تذکرہ نہیں ہے۔

مذکورہ واقعے کے بارے میں لکھا گیا ہے کہ یہ حجاج کے گورنر محمد بن ہارون بن ذراع النمری کے دور میں پیش آیا تاہم بلاذری اور چچ نامہ، دونوں ہی نے وہ سال نہیں لکھا جب یہ واقعہ پیش آیا۔

محمد بن ہارون النمری کا تقرر چچ نامہ کے مطابق سنہ 86 ہجری میں ہوا اور محمد بن قاسم کا سندھ پر حملہ 93 ہجری یا 712 عیسوی میں ہوا۔
اس حوالے سے تاریخ خاموش ہے کہ اگر یہ واقعہ پیش آیا تو کس سال میں ہوا اور یہ کہ اس واقعے کے کتنے عرصے بعد محمد بن قاسم نے سندھ پر لشکر کشی کی۔
‏اس کے علاوہ اگر حضرت عمر کے دور سے لے کر ولید بن عبدالملک کے دور تک کا جائزہ لیں تو کہہ سکتے ہیں کہ سندھ پر محمد بن قاسم کی لشکر کشی کئی دہائیوں طویل سلسلے میں تازہ ترین کوشش تھی جس میں اُنھیں کامیابی بھی حاصل ہوئی۔

پھر تاریخ کی کتب میں یہ بھی تذکرہ ہے کہ اس وقت علافی یا علوی گروہ کے کئی لوگ مکران میں آ بسے تھے۔ اُن میں سے ایک کو حجاج کے عملدار سعید بن اسلم کلابی نے قتل کیا تھا، چنانچہ بدلے میں علافیوں نے بھی سعید بن اسلم کو قتل کر دیا، جس پر حجاج بن یوسف نے علافیوں کی سرکوبی کا فیصلہ کیا تھا۔

جب خلافتِ اُموی کی طرف سے مکران میں بسے ان علافیوں کے خلاف بار بار مہمات کی گئیں تو یہ لوگ سندھ میں راجہ داہر کے پاس چلے گئے چنانچہ یہ بھی ایک وجہ تھی کہ خود حجاج بن یوسف کے دور میں مکران اور سندھ کی طرف بنو اُمیہ کے مخالفین موجود تھے۔

اس کے علاوہ سندھ کی فتح کی اس مہم پر بلاذری کے مطابق چھ کروڑ درہم خرچ ہوئے اور اس کے بدلے میں 12 کروڑ درہم کا مالِ غنیمت حاصل ہوا۔
‏چنانچہ منان احمد آصف اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں:

’جب السند (سندھ) پر حملہ ہوا تو اس کا تعلق بنو امیہ کی شاخِ مروان کے مالیاتی اُمور یا باغیوں کے خلاف سرحدی خطے پر قبضے سے تھا، نہ کہ قزاقوں کی کسی رومانوی داستان سے۔‘

محمد بن قاسم کی ہلاکت کے بارے میں مشہور افسانہ
چچ نامہ میں کہا گیا ہے کہ محمد بن قاسم کی ہلاکت راجہ داہر کی دو بیٹیوں کی سازش کی وجہ سے ہوئی مگر اس حوالے سے سندھ کے ڈاکٹر نبی بخش خان بلوچ کا دعویٰ ہے کہ یہ کہانی من گھڑت اور افسانوی ہے۔

ڈاکٹر این اے بلوچ کا چچ نامہ پر تحریر کیا گیا مقدمہ بھی اپنے آپ میں ایک پوری کتاب ہے جس میں اُنھوں نے محمد بن قاسم کی ہلاکت اور پھر راجہ داہر کی بیٹیوں کے بغداد کی کسی دیوار میں چُن دیے جانے کی کہانی کو کہانی ہی قرار دیا ہے، حقیقت نہیں۔

سب سے پہلے تو اس کہانی کے مطابق خلیفہ نے محمد بن قاسم کو دارالخلافہ بغداد بلوایا۔ حالانکہ اُس زمانے میں بغداد کا وجود نہیں تھا، بلکہ دارالخلافہ دمشق تھا۔
‏اس کے بعد اس میں لکھا گیا ہے کہ محمد بن قاسم کی موت خلیفہ ولید بن عبدالملک کے حکم پر ہوئی تاہم بلاذری اور دیگر مؤرخین کے مطابق یہ واقعہ خلیفہ سلیمان بن عبدالملک کے دور میں پیش آیا۔

بلاذری کے مطابق ولید بن عبدالملک کی موت کے بعد سلیمان بن عبدالملک حکمران ہوئے تو اُنھوں نے صالح بن عبدالرحمان کو عراق کا والی اور یزید بن ابی کبشہ کو سندھ کا عملدار مقرر کیا۔

یزید نے محمد بن قاسم کو گرفتار کر کے صالح کے پاس عراق بھیج دیا جہاں اُنھیں حجاج بن یوسف کے سابقہ انتظامی ہیڈکوارٹر واسط کے ایک عقوبت خانے میں قید کر کے ایذا رسانیاں کی گئیں اور وہ ہلاک ہو گئے۔

اسی بیان کی تصدیق تاریخ ابنِ خُلدون سے بھی ہوتی ہے۔

فُتوح البلدان میں لکھا ہے کہ جب محمد بن قاسم قید میں تھے تو اُنھوں نے اپنے ساتھ ہونے والے سلوک پر یہ اشعار کہے:

ہر چند کہ میں واسط میں بیڑیوں میں جکڑا ہوا ہوں

مگر کبھی میں نے ایران کے کتنے ہی شہ سوار زیر کیے

اور اپنے جیسے کتنے ہی پہلوانوں کو پچھاڑا ہے

ایک اور شعر جو محمد بن قاسم سے منسوب کیا گیا ہے وہ کچھ یوں ہے:

اُنھوں نے مجھے ضائع کر دیا، جوان بھی ایسا کہ مردِ نبرد اور سرحد کا محافظ تھا۔

چنانچہ محمد بن قاسم کی معزولی اور ہلاکت سے اُس دور میں ہونے والی سیاسی سازشیں اور آپسی دشمنیاں بھرپور انداز میں عیاں ہو جاتی ہیں۔

مستند حوالہ جات :

1️⃣ البلاذری، احمد بن یحییٰ
فتوحُ البلدان — محمد بن قاسم کی معزولی، گرفتاری اور واسط میں وفات کا مستند ابتدائی ماخذ (9ویں صدی عیسوی)۔

2️⃣ ابنِ خلدون
تاریخ ابنِ خلدون — محمد بن قاسم کی ہلاکت کو اُموی سیاسی سازشوں اور حجاج بن یوسف سے وابستگی کے تناظر میں بیان کرتا ہے، نہ کہ داہر کی بیٹیوں کی کہانی کے طور پر۔

3️⃣ ڈاکٹر نبی بخش خان بلوچ
مقدمہ چچ نامہ — راجہ داہر کی بیٹیوں، کچی کھال اور دیوار میں چُنائے جانے کے واقعات کو افسانوی و غیر تاریخی قرار دیتے ہیں۔

دلچسپ و عجیب تاریخ

راولپنڈی کی کہانی :ابتدا میں راولپنڈی ڈنگی کھوئی اور پرانہ قلعہ تک محدود تھا۔ مگر جب سکھ آۓ تو کوچۂ صابونیاں، بھابھڑا با...
25/12/2025

راولپنڈی کی کہانی :
ابتدا میں راولپنڈی ڈنگی کھوئی اور پرانہ قلعہ تک محدود تھا۔ مگر جب سکھ آۓ تو کوچۂ صابونیاں، بھابھڑا بازار، کسیرا بازار وغیرہ آبادیاں بسائی گئیں۔ان کے ساتھ ہی محلہ امام باڑہ، محلہ شاہ نذر دیوان اور باغ سرداراں آباد ہوۓ۔ باغ سرداراں سکھ سردار سوہن سنگھ نے تعمیر کرایا۔ اسکے ساتھ ایک گوردوارہ اور ایک بڑی لائبریری بھی تھی۔ یہ سب سے پرانی لائبریری سردار سجان سنگھ کی تھی۔نہرو روڈ پر قائم اس لائبریری سے راولپنڈی کے اہل علم اپنی پیاس بجھاتے تھے۔نایاب کتابوں کی ایک بڑی تعداد کے علاوہ بے شمار مخطوطہ جات بھی موجود تھے۔ تقسیم ہند کے موقع پر فسادات میں اسے جلا کر خاکستر کر دیا گیا۔اور یہ راولپنڈی کے ماتھے پر ایک بدنما دھبہ تھا۔
سکھوں ہی کے عہد میں مہاراجہ کشمیر نے راجہ بازار میں مکانات اور سرائیں تعمیر کرائیں۔اس لئے یہ علاقہ راجہ بازار کے نام سے موسوم ہوا۔ اسی طرح کی ایک سراۓ میں آجکل مولانا غلام اللہ خان کی مسجد ہے۔
ڈنگی کھوئی کے قریب ایک کھلا میدان تھا۔ جہاں بانس فروخت کرنے کی منڈی تھی۔ اس منڈی کے باعث بازار کا نام بانساں والا بازار مشہور ہو گیا۔ موچی بازار اور قصائی گلی بھی سکھ عہد میں بنیں۔قصائی گلی کے دونوں کونوں پر(راجہ بازار کی جانب) چھوٹے گوشت کی دکانیں تھیں۔جس کی وجہ سے یہ قصائی گلی کہلائی۔ سکھ دور میں بڑے گوشت پر پنجاب میں پابندی تھی۔ جب انگریزوں کے قبضے کے بعد پنجاب میں بڑے جانور کے ذبیحہ کی اجازت ملی تو پنجاب بھر میں بڑے گوشت کے قصائی نہ ہونے کی وجہ سے انگریزوں نے میرٹھ سے قریش برادری کو لا کر یہاں آباد کیا۔
مہاراجہ کشمیر راجہ ہری سنگھ نے راولپنڈی کا پہلا سنیما گھر بھی بنوایا۔ جسکا نام اُس کے بزرگ اور ریاست کے پہلے ڈوگرہ مہاراجہ گلاب سنگھ کے نام پر “ روز “ رکھا گیا۔ اسکے بعد مزید تین سنیما نیو روز، امپیریل اور نگار تعمیر ہوۓ۔
چوہدری وارث خان کے آبا و اجداد اسی جگہ آباد تھے جہاں آج کل چوہدری مولا داد چوہان کے مکان ہیں۔انہی کے نام سے محلہ چوہدری وارث خان آباد ہوا۔ اس خاندان کے لوگ سالوں تک راولپنڈی میونسپل بورڈ( بعد میں میونسپل کمیٹی) میں چھاۓ رہے۔اور اسکے ممبر منتخب ہوتے رہے۔اسی زمانے میں ایک ہندو مائی ویرو نے عوامی بھلائی کے لئے پختہ تالاب بنوایا۔ تو محلہ بنی وجود میں آیا۔ یہ تالاب نہایت خوبصورت تھا اس کی گہرائی اٹھارہ فٹ تھی۔ چاروں طرف سیڑھیاں بنی ہوئیں تھیں۔ تقسیم کے بعد جب یہ تالاب متروک ہوا تو اہل محلہ اس کو بند کرنے کا مطالبہ کرنے لگے۔ برسات کے موسم میں اسکے پانی میں اکا دکا بچوں کے ڈوبنے کے واقعات کے وجہ سے اسے مٹی سے بھر دیا گیا اور یہاں دکانیں بنا کر راجہ بازار کے ریڑھی بانوں کو دے دی گئیں۔ جنہوں نے انہیں فروخت کر دیا یا کرایہ پر اٹھا دیا۔ اور خود پھر سے راجہ بازار میں ریڑھیاں لگانے لگے۔سکھوں کے دور میں راولپنڈی کا شہر انہی محلوں پر مشتمل تھا۔
انگریزی عہد میں چھچھ کے علاقے کے لوگ یہاں آ کر آباد ہونا شروع ہوئے تو چھاچھی محلہ کا اضافہ ہو گیا۔ یہیں سردار عالم خان روڈ پر ہندوستانی فلمی اداکار بلراج ساہنی کا گھر آج بھی موجود ہے۔ اپنی آپ بیتی ( میری فلمی آتما کتھا) میں انہوں نے چھاچھی محلہ کے آباد ہونے کا بڑی تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ انکے گھر کے سامنے مری روڈ تک کھیت ہی کھیت تھے۔
انگریزی عہد میں ہی چوہدری مکھا سنگھ نے سٹی صدر روڈ پر مکانات تعمیر کراۓ۔ وہ ناچ گانے اور قوالیوں کے شوقین تھے۔ بر صغیر کے بڑے بڑے فنکاروں اور طوائفوں نے یہاں انکی محفلوں میں شرکت کی۔ انکے یہاں ہر وقت لنگر خانہ کھلا رہتا تھا اور کسی بھی قسم کی مذہبی تفریق نہیں تھی۔ سردار مکھا سنگھ محرم کی مجالس اور مہندی، عاشورہ کے جلوس میں نہایت عقیدت و احترام سے شریک ہوتے تھے۔مہندی کی تمام رات جلوس کے ساتھ گذارتے۔ شہر کے امام باڑہ میں دسویں محرم کو ہمیشہ انکی طرف سے دیگیں پکائی جاتیں۔
شاہ چن چراغ بڑے اولیاء اللہ تھے۔ شیر شاہ سوری کے عہد میں ادھر آ کر آباد ہوۓ۔ آپ کا مزار مرجع خلائق تھا اور انگریز دور میں راولپنڈی کے مشہور تین میلوں میں بری امام کا میلہ اور شاہ چن چراغ کا میلہ مشہور تھے۔ تیسرا میلہ ہندوؤں کا سید پور گاؤں میں لگتا تھا۔ بر صغیر کی مشہور طوائفیں بلکہ تمام طوائفیں بری امام جانے سے پہلے یہاں شاہ چن چراغ کے مزار پر حاضری دیا کرتی تھیں۔جسے “چوکی بھرنا “ کہتے تھے۔
مسلمانوں کے قدیم قبرستان پیر ودہائی ، عیدگاہ اور شاہ دیاں ٹالیاں تھے۔
اسی دور میں قصائی گلی پُررونق ہوئی اور یہاں اہل نشاط نے ڈیرے جماۓ۔ شادی بیاہ میں انکی بہت طلب ہوتی تھی کیونکہ شادی بیاہ کی تقریبات کم از کم ایک ایک ماہ تک چلتی تھیں۔انگریزی دور میں لاہور کی ہیرا منڈی اور راولپنڈی کی قصائی گلی بہت مشہور ہوئیں۔
جنگ عظیم اول اور دوم کے درمیانی عرصہ میں راولپنڈی کی آبادی میں خاصا اضافہ ہوا۔اور دیکھتے ہی دیکھتے راولپنڈی کے گردونواح میں چھوٹی چھوٹی آبادیاں جنہیں ڈھوک کہتے تھے( ڈھوک چند گھروں پر مشتمل آبادی ہوا کرتی تھی) شہر کا حصہ بن گئیں۔ جن میں ڈھوک کھبہ، ڈھوک الٰہی بخش، ڈھوک رتہ، ڈھوک چراغ دین، ڈھوک فرمان علی،ڈھوک پیراں فقیراں وغیرہ شامل تھیں۔ان کے ساتھ ساتھ رتہ امرال، چاہ سلطان، امر پورہ، فیروز پورہ، ارجن نگر، محلہ راجہ سلطان، بھٹہ نیک عالم،محلہ عید گاہ، نیا محلہ، کمیٹی محلہ، محلہ قطب الدین، موہن پورہ، کوہاٹی بازار، انگد پورہ، آنند پورہ، کرتار پورہ وغیرہ کی بستیاں بس گئیں۔ جس شہر کی آبادی پچاس ہزار تھی بڑھ کر ڈیڑھ لاکھ ہو گئی۔
نالہ لئی شہر اور چھاؤنی کے درمیان حد فاصل تھا۔ صدر کی آبادی بھوسہ منڈی، کوئلہ سنٹر، میسی گیٹ، ہاتھی چوک ، احاطہ مٹھو خان، احاطہ فضل الٰہی اور آر اے بازار تک محدود تھی۔ بعد میں ٹینچ بھاٹہ، آدڑہ،مغل آباد، جھنڈا چیچی، گوالمنڈی،لال کڑتی،مریڑ حسن، چوہڑ،ڈھیری حسن آباد،تلسہ، بکرا منڈی اور ویسٹریج وجود میں آۓ۔ ڈینیز سکول کے پاس ایک کوٹھی کے علاوہ کوئی آبادی نہ تھی۔چھاؤنی کو آباد اور با رونق کرنے کے لئے اسٹیشن کمانڈر نے لوگوں میں مفت زمین تقسیم کی۔ جسکا زیادہ تر فائدہ سکھ، ہندو،بوہروں اور کچھ شیخ برادری نے اٹھایا۔ اور کافی رقبہ پر قبضہ کر لیا۔سیٹھ مامون جی ، سیٹھ آدم جی اور فضل الٰہی نے بھی کافی زمین حاصل کی۔
ڈھیری حسن آباد کی جگہ جنگل ہوا کرتا تھا۔ اور اس جگہ کنٹونمنٹ کا کوڑا کرکٹ پھینکا جاتا تھا۔ کوئی شخص خوف کے مارے سر شام اس طرف نہیں جاتا تھا۔ شیخ حسن محمد رئیس گجرات 1896 میں راولپنڈی آۓ اور انہوں نے انڈین آرمی میں گوشت سپلائی کرنے کا ٹھیکہ لیا اور بڑا نام پیدا کیا۔ انہوں نے ہی ڈھیری والی جگہ میں اپنے نام پر حسن آباد کی بستی تعمیر کرائی۔
راولپنڈی چھاؤنی کا ایک گنجان آباد علاقہ ہے. انگریزوں کی آمد اور راولپنڈی کو ناردرن کمانڈ کا ہیڈ کوارٹر بنانے سے قبل یہاں پر کُھو کھمہ کے نام سے ایک ڈھوک ہوتی تھی جس کے قریب اینٹوں کے بھٹے ہوتے تھے. اینٹوں کے لیے مٹی کی کھدائی کے نتیجے میں گہری کھائیاں بن گئی تھیں جن کو جی ایچ کیو میں تعینات انگریز Trenches of Bhattas کہا کرتے تھے. ٹینچ بھاٹہ اسی کی بگڑی ہوئی شکل ہے۔

Address

Gujrat

Telephone

+923451588952

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Shani Awan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Shani Awan:

Share