29/08/2026
والدین دنیا کی وہ عظیم ترین نعمت ہیں جن کا متبادل کوئی نہیں۔ ان کی زندگی میں ان کی خدمت کرنا اور ان کی وفات کے بعد ان کے لیے مسلسل دعا گو رہنا حسنِ سلوک کی اعلیٰ ترین مثال ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ والدین کے لیے دعا کرنا دراصل ان کی بے لوث محبتوں اور قربانیوں کا ایک چھوٹا سا اعتراف ہے۔
حضرت سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ عامر بن عبداللہ بن زبیر رحمہ اللہ نے اپنے والد حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد پورا ایک سال اس حال میں گزارا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے اپنے لیے کچھ مانگنے کے بجائے صرف اور صرف اپنے والد کی مغفرت اور بلندیٔ درجات کے لیے دعائیں کرتے رہے۔
یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ جب دنیا سے ہمارے والدین رخصت ہو جاتے ہیں تب بھی ہماری دعاؤں کے ذریعے ہمارا ان سے تعلق باقی رہتا ہے۔ نیک اولاد کی دعا والدین کے لیے آخرت میں نہ ختم ہونے والا صدقہ جاریہ اور ان کے درجات کی بلندی کا ذریعہ بنتی ہے۔
قرآنِ کریم میں بھی ہمیں یہ خوبصورت دعا سکھائی گئی ہے:
﴿رَبَّنَا ٱغۡفِرۡ لِی وَلِوَ ٰلِدَیَّ وَلِلۡمُؤۡمِنِینَ یَوۡمَ یَقُومُ ٱلۡحِسَابُ﴾
"اے ہمارے رب! مجھے، میرے والدین کو اور تمام مومنوں کو اس دن بخش دے جس دن حساب قائم ہوگا۔"
آج ہی سے اپنا یہ معمول بنا لیں کہ اپنی ہر نماز اور ہر دعا میں اپنے والدین کو لازمی یاد رکھیں۔ اگر وہ زندہ ہیں تو اللہ ان کی عمر و صحت میں برکت دے، اور اگر اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں تو اللہ ان کی کامل مغفرت فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے۔ آمین۔