04/03/2021
"خان صاحب آپکی داڑھی کب ہلے گی؟"
سلطان محمود غزنویؒ کے زمانے میں چوروں کا کچھ زور ہو گیا تھا، بادشاہ اس کی وجہ سے پریشان ہوا اور چوروں کو پکڑنے کے لئے ایک عجیب تدبیر نکالی کہ شاہی لباس اتار کر چوروں کا سا لباس پہن لیا اور شہر میں گشت کرنے لگا، ایک جگہ پر دیکھا کہ بہت سے چور اکٹھے بیٹھے ہوئے آپس میں باتیں کر رہے ہیں، بادشاہ بھی ان میں بیٹھ گیا۔ چوروں نے پوچھا کہ تم کون ہو؟ بادشاہ نے کہا میں بھی تم جیسا ہوں، چوروں نے سمجھا کہ یہ بھی کوئی چور ھے، انہوں نے کہا تم کوئی اپنا ہنر بتاؤ، اگر تمہارے اندر کوئی ہنر ہوا تو تم کو اپنے ساتھ شریک کر لیں گے، ورنہ نہیں۔
بادشاہ نے کہا: پہلے آپ لوگ اپنا اپنا ہنر بتاؤ، پھر میں بھی اپنا ہنر بتاؤں گا، سب چوروں نے اپنا اپنا فن بتا دیا تو بادشاہ نے کہا کہ میری داڑھی میں یہ خاصیت ھے کہ جب مجرموں کو پھانسی کے پھندے کے حوالے کیا جاتا ھے، اس وقت اگر میری داڑھی ہل جاۓ تو مجرم پھانسی کے پھندے سے بچ جاتے ہیں، سارے چور یہ بات سن کر خوش ہو گئے اور کہنے لگے کہ جب ہم کسی مصیبت میں پھنس جائیں گے تو تمھارے ذریعے ہم کو خلاصی مل سکتی ھے۔
پھر سب نے مشورہ کیا اور طے کیا کہ آج بادشاہ کے یہاں چوری کی جائے، اس لئے کہ آج مصیبت سے چھڑانے کے لئے داڑھی والا موجود ھے، لہٰذا سب کے سب بادشاہ کے محل کی طرف چل پڑے، چوری کی اور مال آپس میں تقسیم کر لیا۔
بادشاہ نے کہا: سب لوگ اپنا پتہ لکھوا دو، تاکہ آئندہ چوری کرنا ہو تو ہم سب لوگ آسانی سے جمع ہو سکیں، سب کا پتہ نوٹ کر لیا گیا اور سب نے اپنا اپنا راستہ لیا، اگلے دن بادشاہ نے عدالت لگوائی اور سپاہیوں کو چوروں کا پتہ دیا اور حکم دیا کہ سب کو پکڑ کر لاؤ۔
جب سب چور عدالت پہنج گۓ تو بادشاہ نے سب کو پھانسی کا حکم دے دیا اور کہا کہ اس مقدمہ میں کسی گواہ کی ضرورت نہیں، کیوں کہ سلطان خود وہاں موجود تھا۔
جب چوروں کو پھانسی کے تختے پر لے کر جانے لگے تو ایک چور مڑ مڑ کر بادشاہ کو دیکھنے لگا، بادشاہ نے کہا کہ تم بار بار میری طرف کیا دیکھتے ہو؟ چور نے کہا سب نے اپنا اپنا فن دکھا دیا ھے لیکن "اے داڑھی والے تیری داڑھی کب ہلے گی؟"
محترم وزیراعظم عمران خان صاحب اس مُلک کے لوگوں خاص طور پر نوجوانوں سے آپ نے ایک وعدہ کیا تھا کہ "میں وزیراعظم بنا تو پاکستان کو لُوٹنے والے تمام ڈاکوؤں اور لُٹیروں کو کیفر کردار تک پہنچا کر عبرت کا نشان بناؤں گا" ہر نوجوان نے اپنا اپنا ہُنر دکھا دیا اور آپکو وزارت عظمیٰ کے منصب تک پہنچا دیا، اب آپکی باری ھے اپنا ہُنر دکھانے کی۔
کیوں یہ چور لُٹیرے پکڑے جانے کے بعد ثبوت ہونے کے باوجود ضمانتوں پر رہا ہو جاتے ہیں اور انکو سزا دینے میں نیب اور اعلیٰ عدالتیں تاخیر کرتی ہیں؟ کیوں یہ ضمانتوں پر رہا ہو کر مُلک سے بھاگ جاتے ہیں؟ کیوں نیب افسران اور عدالتیں ان سے بلیک میل ہوتی ہیں؟ یہ سب تاخیر اسلیۓ ھے کہ سب آپکی وزارت عظمیٰ کے ختم ہونے کا انتظار کر رہے ہیں، اداروں میں وہ افسر لگائیں جو ان لُٹیروں سے نہ ڈریں اور نہ بلیک میل ہوں، اور انکو کیفرکردار تک پہنچائیں۔
خان صاحب کل کا کسی کو علم نہیں !!
"کون جانے زندگی وفا کرے یاں نہ کرے"
"کون جانے پھر وزارت عظمیٰ آۓ نہ آۓ"
آج پروردگار نے آپکو طاقت دی ھے اسکو استعمال کر لیں، "اپنی داڑھی ہلا دیں خان صاحب"
محسن جاوید بٹ
صدر ٹریڈرز ونگ کارپوریشن گجرات