05/07/2026
کچھ عرصے سے کراچی کے مختلف سوشل میڈیا پیجز پر پارسی برادری، بالخصوص کراچی کی پارسی کمیونٹی، کے حوالے سے کچھ غلط مفروضے اور غیر مصدقہ معلومات گردش کر رہی ہیں۔ میں نے اپنی استطاعت کے مطابق ان کی تصحیح اور درست معلومات لوگوں تک پہنچانے کی کوشش کی ہے۔
اس سلسلے میں میرے نہایت عزیز دوست، جنہیں میں بڑے بھائی کا درجہ دیتا ہوں، جناب زین ایرانی صاحب Zain Irani، جو خود پارسی برادری سے تعلق رکھتے ہیں، نے میری بھرپور رہنمائی کی اور مستند معلومات فراہم کیں۔ میں ان کا تہہِ دل سے شکر گزار ہوں۔
ایڈمن صاحبان سے گزارش ہے کہ اس پوسٹ کو ضرور شیئر کریں تاکہ لوگوں تک پارسی برادری کے اصل عقائد، روایات اور حقائق درست انداز میں پہنچ سکیں اور غلط فہمیوں کا ازالہ ہو سکے۔
کراچی کی زرتشتی برادری: تاریخ، عقائد اور مروجہ روایات کی حقیقت
کراچی کی تعمیر و ترقی اور تاریخ میں پارسی (زرتشتی) برادری کا کردار انتہائی نمایاں رہا ہے۔ تاہم، بیرونی دنیا یا عام لوگوں کے لیے اس برادری کے عقائد اور آخری رسومات ہمیشہ سے پراسراریت کا شکار رہے ہیں، جس کی وجہ سے کئی غلط فہمیاں اور مبالغہ آرائی پر مبنی کہانیاں جنم لیتی رہی ہیں۔ زیرِ نظر مضمون میں پارسی برادری کے داخلی نظام، عبادات، سجدگاہوں اور دخمہ (ٹاور آف سائلنس) کے حقیقی حقائق کو دستاویزی شکل میں پیش کیا گیا ہے۔
اگیاری (مقدس عبادت گاہ) کا تقدس اور داخلی نظام
عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ کوئی بھی پارسی دوست کسی غیر مسلم کو اپنی عبادت گاہ یعنی *اگیاری* کی سیر کروا سکتا ہے، جو کہ بالکل غلط ہے۔ پارسی اپنے مذہب اور عبادت گاہ کے تقدس کے ترمیمی قوانین پر انتہائی سختی سے کاربند ہیں۔
* 🚫 *داخلی ممانعت:* کسی بھی غیر زرتشتی یا باہر کے فرد کو اگیاری کے اندر داخل ہونے کی قطعاً اجازت نہیں ہوتی، چاہے ان کا کوئی پارسی دوست ہی کیوں نہ ہو۔
*بت پرستی کی تردید:* اگیاری کے اندر بتوں یا مجسموں (Statues) کی موجودگی کا دعویٰ محض ایک افسانہ ہے۔ زرتشتی مذہب میں بت پرستی کا کوئی تصور نہیں۔ اگیاری کے اندر صرف پیغمبرِ زرتشت کی ایک تصویر (فریم) اور مقدس مذہبی کلمات (آیات کی مانند) آویزاں ہوتے ہیں۔ (احتمال ہے کہ بعض لوگ 'کراچی پارسی انسٹی ٹیوٹ' (KPI) میں نصب سر ایڈل جی ڈنشا اور ان کے صاحبزادے کے مجسموں کو دیکھ کر انہیں عبادتی مجسمے سمجھ بیٹھتے ہیں، جو کہ محض یادگاری مجسمے ہیں)۔
دخمہ (ٹاور آف سائلنس) کا جغرافیہ اور حقیقت ⛰️
موت کے بعد لاش کو ٹھکانے لگانے والی جگہ کو *دخمہ* کہا جاتا ہے۔ اسے 'موت کا کنواں' کہنا لسانی اور ثقافتی طور پر بالکل غلط ہے، کیونکہ موت کا کنواں سرکس یا میلوں میں موٹر سائیکل چلانے والے ٹریک کو کہا جاتا ہے۔ پارسی روایت میں میت کو *"پائیداس" (Paidas)* کہا جاتا ہے۔
* 📍 *جغرافیائی وقوع:* محمود آباد میں واقع دخمہ ایک چھوٹی پہاڑی کو کاٹ کر بنائے گئے راستے پر واقع ہے۔ یہ پوری ایک کالونی نما ایریا ہے، جہاں جانے کا راستہ سیدھا نہیں بلکہ اونچائی اور چڑھائی پر ہے۔
*لاشوں کو تحلیل کرنے کا جدید نظام:* ماضی کے برعکس، اب کراچی کے آسمان پر گدھ (Vultures) نظر نہیں آتے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے اب دخمہ کے اندر *سولر ریفلیکٹر سسٹم* (شیشے کا نظام) لگایا گیا ہے، جو سورج کی تپش اور روشنی کو عکاس (Reflect) کر کے تیز کرتا ہے، جس سے لاش قدرتی طور پر جلد تحلیل ہو جاتی ہے۔
* ❌ *من گھڑت روایات کی تردید:* انٹرنیٹ اور عام لوگوں میں یہ من گھڑت کہانی مشہور ہے کہ لاش پر دہی لگا کر اسے کتوں سے چٹوایا جاتا ہے، یہ بالکل جھوٹ، لغو اور بے بنیاد بات ہے۔ زرتشتی مذہب میں مردے کے احترام کے سخت قوانین ہیں۔
* داخلی بناوٹ:* دخمہ کے اندر تین دائروں پر مشتمل اقدامات (Steps) بنے ہوتے ہیں۔ پہلا دائرہ مردوں کے لیے، دوسرا عورتوں کے لیے اور تیسرا بچوں کے لیے مخصوص ہوتا ہے۔ تاہم، اگر بچے بہت چھوٹے ہوں تو انہیں دخمہ میں ڈالنے کے بجائے وہیں سائیڈ پر زمین میں دفن کر دیا جاتا ہے۔
خاندھیا برادری اور جدید ہائیڈرولک نظام ⚙️
زرتشتی مذہب میں *خاندھیا (Khandhia)* سے مراد وہ روایتی اور مخصوص نگہبان ہیں جن کے ذمے متوفی کو دخمہ تک پہنچانا اور ان کی آخری باقیات کی دیکھ بھال کرنا ہوتا ہے۔ لفظ "خاند" زرتشتی اصطلاح میں کاندھے (Shoulder) کو ظاہر کرتا ہے، یعنی کاندھا دینے والے۔ انگریزی میں انہیں *Pall-bearers* کہا جاتا ہے۔
*کاندھا دینے کے رواج کا خاتمہ:* ماضی میں مروجہ روایات کے مطابق عام طور پر چار خاندھیے میت کو کاندھا دے کر دخمہ کے اندر لے جاتے تھے۔ لیکن *2021ء سے کاندھا دینے کا یہ روایتی رواج اب ختم ہو چکا ہے*۔ اب خاندھیے باڈی کو ایک پہیے والے اسٹریچر پر رکھ کر، ہائیڈرولک لفٹ کے ذریعے دخمہ کے اندر لے کر جاتے ہیں۔
* 👨👦 *اس تبدیلی کی وجہ:* خاندھیا برادری کی نئی نسل (اولاد) اب تعلیم اور دیگر شعبوں میں جانے کی وجہ سے یہ روایتی کام نہیں کر رہی، جبکہ پرانے خاندھیے اب بوڑھے اور بیمار ہو چکے ہیں اور وہ باڈی کا وزن اٹھانے کی سکت نہیں رکھتے۔
* 🤝 *معاشرتی رویوں میں تبدیلی:* ماضی میں خاندھیا برادری کے ساتھ پارسی معاشرے میں ویسا ہی اچھوت جیسا سلوک کیا جاتا تھا جیسے انڈیا میں دلت برادری کے ساتھ ہوتا تھا (ان کے ہاتھ کا کھانا پینا منع تھا اور اگیاری میں آنے کی اجازت نہیں تھی)، لیکن *اب یہ طبقاتی تفریق اور اچھوت والا رویہ بالکل ختم ہو چکا ہے*۔
سجدگاہ (Sezdegah) اور محمود آباد پارسی کالونی کی تاریخ 🏡
1800ء کی دہائی میں صدر (لکی اسٹار) کے پاس، جہاں اب کچھی میمن میموریل ہاسپٹل کا پلاٹ ہے، پارسیوں کا پرانا مردہ خانہ ہوتا تھا جسے *سجدگاہ (Sezdegah)* کہتے تھے۔ یہاں میت کو غسل دیا جاتا تھا اور خاندھیا برادری کے کوارٹرز بھی اسی کے ساتھ تھے۔ محمود آباد کی پارسی کالونی دراصل دو حصوں پر مشتمل ہے جن کے مرکز میں دخمہ واقع ہے:
* *الف) سائرس منوالا کالونی (Cyrus Minwalla Colony):* یہ حصہ مرکزی گیٹ سے داخل ہوتے ہی بائیں جانب واقع ہے اور یہ پہلے آباد ہوا تھا۔ اسے میٹروپول ہوٹل اور ملیر میں قائم 'گرینڈ ہوٹل' کے مالک *منوالا خاندان* نے آباد کیا تھا۔ مقامی طور پر اس جگہ کو مختصرًا *"سائی کال" (Cy-Col)* بھی کہا جاتا ہے۔
* آواری کالونی (Avari Colony): * مرکزی گیٹ سے دائیں جانب کا حصہ نامور پارسی شخصیت *بہرام آواری* صاحب نے 1980ء کی دہائی میں آباد کیا تھا، جو اب ایک ٹرسٹ کے تحت ان کے بیٹے سنبھالتے ہیں۔
* 🏢 *سجدگاہ اور کوارٹرز کی منتقلی:* بہرام آواری صاحب نے صدر (لکی اسٹار) کے پاس قائم پرانی سجدگاہ اور خاندھیا برادری کے کوارٹرز کو ختم کر کے دخمہ کے بالکل قریب منتقل کر دیا۔ انہوں نے ہوبہو پرانے نقشے اور آرکیٹیکچر کے مطابق ایک نئی جدید سجدگاہ تعمیر کی، تاکہ میت کو لانے لے جانے میں آسانی ہو اور پرانی قیمتی زمین کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم ٹرسٹ کے فلاحی کاموں میں استعمال ہو سکے۔ خاندھیا برادری کے لیے بھی وہیں دخمہ کے پاس دو منزلہ نئے فلیٹس بنا دیے گئے۔
موت کے بعد کے ۴ دن اور "دھنساک" کی روایت 🍽️
جب کسی پارسی کا انتقال ہوتا ہے، تو تجہیز و تکفین کے بعد متوفی کے اہل خانہ (جیسے والدین, بہن بھائی، اولاد) لگاتار *چار دن* تک اسی سجدگاہ کے ہال میں قیام کرتے ہیں، جہاں ان کی رہائش اور طہارت کا مکمل انتظام ہوتا ہے۔
* دستور جی (پادری) کا کردار:* متوفی کی پائیداس (میت) کو دخمہ میں رکھنے کے بعد، پادری یعنی *دستور جی* اسی دن اپنا مخصوص رجسٹر کھولتے ہیں اور اس میں مرنے والے کا نام، تاریخ اور موت کی وجہ (Cause of Death) درج کرتے ہیں۔
* 🔥 *مقدس فرائض:* ہال میں جہاں میت کی رسومات ہوتی ہیں، وہاں خاندھیا برادری کے لوگ چورس شکل (قبر کی مانند) میں پھول بچھاتے ہیں۔ وہاں ایک دیا، لوبان، اور صندل کی لکڑی (سکھر) دھکائی جاتی ہے۔ لواحقین کا کام چار دن تک اس دیے اور چھوٹے آتش دان کو مسلسل روشن رکھنا اور مرجھائے پھولوں کی جگہ تازہ گلاب بچھانا ہوتا ہے۔
* 🥩 *گوشت کی ممانعت:* ان ۴ دنوں میں متوفی کے گھر میں چولہا نہیں جلایا جاتا، نہ کھانا پکتا ہے اور نہ ہی گوشت کھایا جاتا ہے۔ عقیدے کے مطابق ان دنوں گوشت کھانا اپنے ہی مردے کا گوشت کھانے کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔
* 🍲 *چارم اور دھنساک (Dhansak):* چوتھے دن کی رسم کو *"چارم"* کہا جاتا ہے۔ اس دن مٹن *دھنساک* (دال، چاول اور گوشت کا ایک خاص روایتی پکوان) بنا کر گوشت کھانے کی شروعات کی جاتی ہے۔ یہ کھانا قریبی رشتہ داروں اور دوستوں کو بلوا کر کھلایا جاتا ہے۔ چونکہ دھنساک بنیادی طور پر غم اور موت کے موقع کا کھانا ہے، اس لیے اسے کبھی بھی شادی، سالگرہ یا خوشی کی تقاریب میں نہیں پکایا جاتا۔
"کنواں بابا" کی روایت اور غیبی رکاوٹ کا تصور 🪵
پارسی ثقافت میں پانی کو *"آوا" (Ava)* کہا جاتا ہے، جسے کائنات کے پاک عناصر میں شمار کیا جاتا ہے۔ محمود آباد میں نہیں، بلکہ *صدر لکی اسٹار کے پاس واقع پرانی جگہ (پرانی سجدگاہ) پر ایک تاریخی کنواں موجود تھا*، جس کی صفائی خاندھیا برادری کے بچے اور خواتین کرتے تھے۔
* 🕯️ *کنواں بابا کا مزار/عقیدت:* اس کنویں سے ایک مافوق الفطرت عقیدت وابستہ تھی۔ مقامی لوگوں (جن میں پارسی، میمن، ہندو اور کرسچن شامل تھے) کا ماننا تھا کہ فجر، مغرب یا عشاء کے وقت وہاں سفید لباس میں ملبوس ایک بزرگ آتے ہیں، جنہیں *"کنواں بابا"* کہا جاتا تھا۔ لوگ وہاں جمعرات کو چراغ جلانے اور پھول چڑھانے آتے تھے۔
* 🚧 *تعمیراتی غیبی رکاوٹ:* جب بہرام آواری صاحب نے صدر کی یہ زمین ایک بلڈر کو فروخت کی، تو وہ کنواں اور پرانی جگہ مسمار کر دی گئی۔ مقامی لوگوں کا پختہ یقین ہے کہ اس پاک جگہ کو توڑنے کی وجہ سے اس زمین پر ایک غیبی رکاوٹ آ گئی۔ چنانچہ 1999ء سے لے کر اب تک کئی بلڈرز نے وہاں کمرشل تعمیرات کی کوشش کی لیکن مسلسل نقصانات اور پراسرار مسائل کی وجہ سے کام نہ ہو سکا۔ اب وہاں 'کچھی میمن ٹرسٹ' کا بورڈ آویزاں ہے جو وہاں ہسپتال تعمیر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
مکتاد کے ۱۰ دن اور سالانہ عبادات 🗓️
زرتشتی تقویم (کیلنڈر) کے مطابق سال میں ایک بار *مکتاد کے ۱۰ دن* آتے ہیں، جو عام طور پر اگست کے مہینے میں ہوتے ہیں اور ان کے فوراً بعد پارسیوں کا نیا سال یعنی *نوروز* شروع ہوتا ہے۔
* 👥 *روحوں کی آمد کا عقیدہ:* پارسیوں کا یہ عقیدہ ہے کہ ان ۱۰ دنوں میں ان کے گزرے ہوئے اجداد اور پیاروں کی روحیں دنیا میں واپس آتی ہیں۔
* ⛪ *عبادات کا طریقہ اور پادریوں کا شیڈول:* مکتاد کے ان دنوں میں پارسی برادری کے لوگ سجدگاہ کے پاس بنی اگیاری میں جا کر انفرادی طور پر یا اکا دکا اپنے پیاروں کے لیے دعائیں کرتے ہیں، سجدگاہ میں نہیں اور نہ ہی ان دنوں پادری (دستور جی) یہاں موجود ہوتے ہیں۔ پادری ان دنوں محمود آباد کی اگیاری کے بجائے *صدر اور پاکستان چوک پر واقع دو دیگر بڑی اگیاریوں میں موجود ہوتے ہیں*، جہاں وہ مرحومین کی روحوں کے لیے خصوصی اور باضابطہ دعائیں (Prayers) سرانجام دیتے ہیں۔
کراچی کے نامور پارسی خاندان، بانیان اور بااثر شخصیات 🌟
کراچی کی سماجی، تعلیمی اور طبی تاریخ پارسی برادری کے بغیر بالکل ادھوری ہے۔ شہر کے افق پر چمکنے والے چند اہم نام اور ان کی درست تفصیلات درج ذیل ہیں:
* 🎓 *نادرشا ایڈل جی ڈنشا (Nadirshaw Eduljee Dinshaw):* کراچی کی تاریخ کی سب سے مایہ ناز اور عظیم شخصیت، جو مشہورِ زمانہ *NED یونیورسٹی کے فاؤنڈر* ہیں۔ آپ کراچی کی سب سے ٹاپ پارسی شخصیت میں شمار ہوتے تھے۔ ان کا وقار اس قدر بلند تھا کہ بانیِ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح بھی ان کے گھر دعوتوں پر تشریف لے جایا کرتے تھے۔
* 🏨 *بہرام آواری (Behram Avari):* کراچی کی ایک انتہائی نامور اور متحرک کاروباری و سماجی شخصیت، جنہوں نے کراچی کے مشہور *Beach Luxury Hotel* سمیت پورے پاکستان میں پھیلے *Avari Group of Hotels* کی بنیاد رکھی اور اسے ملک کا ایک بڑا ہوٹلنگ گروپ بنایا۔ ان کے بعد اب یہ تمام انتظام اور کاروبار ان کے صاحبزادے *ڈنشا آواری (Dinshaw Avari)* کے تحت کامیابی سے چلایا جا رہا ہے۔ بہرام آواری صاحب اقلیتی نشست پر کامیاب ہو کر قومی اسمبلی کے رکن (MNA) بھی بنے۔
* 🏛️ *جمشید نسروانجی مہتا (Jamshed Nusserwanji Mehta):* کراچی کے سب سے پہلے اور مثالی میئر، جنہیں 'جدید کراچی کا بانی' بھی کہا جاتا ہے اور جن کا فلاحی کاموں میں کوئی ثانی نہیں تھا۔ ان کے قائم کردہ ٹرسٹ کے تحت نہ صرف پارسیوں بلکہ *بڑی تعداد میں غیر پارسیوں کو بھی مالی امداد اور تعلیمی اسکالرشپس* دی جاتی رہی ہیں، جو ان کے وسیع المشرب ہونے کا ثبوت ہے۔
* 🛣️ *سہراب کاٹرک (Sohrab Katrak):* کراچی کے ایک اور معزز اور نامور پارسی رہنما، جن کی شہر کے لیے گراں قدر خدمات کے اعتراف میں صدر کی مشہور سڑک کا نام *کاٹرک روڈ (Katrak Road)* رکھا گیا ہے۔
* ⚔️ *مسز دینا مستری (Mrs. Deena Mistry):* بی وی ایس (BVS) پارسی اسکول کی انتہائی معروف اور لیجنڈری پرنسپل، جو اس اسکول کے فاؤنڈر کی بیٹی تھیں۔ ان کے شوہر کراچی کے ایک انتہائی نامور آرکیٹیکٹ (معمار) تھے، جنہوں نے کلفٹن کی مشہور اور تاریخی یادگار *"تین تلوار"* ڈیزائن اور تعمیر کی تھی۔
* 🏥 *سوپاری والا فیملی اور آغا خان ہسپتال:* آغا خان یونیورسٹی ہسپتال (AKU) کی مین پارکنگ کے سامنے واقع مشہور *'سوپاری والا بلڈنگ'* کسی ایک برادری کے لیے نہیں بلکہ *سب کے لیے (پبلک کے لیے) ہے*، جہاں آغا خان ہسپتال کی دوسری لیبارٹری قائم ہے۔ یہ بلڈنگ سوپاری والا فیملی کے فنڈز سے تعمیر کی گئی تھی۔ البتہ اس سوپاری والا فنڈ کا ایک حصہ آغا خان ہسپتال کے 'پیشنٹ ویلفیئر' (Patient Welfare) میں مخصوص ہے، جس کے ذریعے غریب پارسی مریضوں کا بالکل مفت علاج کیا جاتا ہے۔
* 👁️ *ڈاکٹر اسپینسر:* کراچی کے علاقے *لی مارکیٹ* میں واقع مشہور اور تاریخی *اسپینسر آئی ہاسپیٹل* انھی کا قائم کردہ ہے۔ ان کی اہلیہ *ٹریٹی اسپینسر* (جن کا تعلق سوپاری والا خاندان سے تھا) پریس کلب کے پاس ایک پرانے بنگلے میں رہتی تھیں اور برادری کی بااثر خاتون تھیں۔
* 🏥 *انکلیسریا فیملی (Anklesaria):* کراچی کی طبی تاریخ کا ایک اور معتبر نام، جن کا قائم کردہ *انکلیسریا ہسپتال* طویل عرصے تک شہر کے عوام کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کے حوالے سے جانا جاتا رہا ہے۔
* 🍺 *بھنڈارا فیملی اور سیاسی تاریخ:* عام طور پر لوگ بھنڈارا فیملی کو کراچی کا سمجھتے ہیں، لیکن *ان کا تعلق بنیادی طور پر راولپنڈی سے ہے* اور ان کی مشہور کمپنی 'مری بریوری' (Murree Brewery) بھی وہیں واقع ہے۔ اس خاندان کے چشم و چراغ *مینو بھنڈارا صاحب* اور کراچی کے *بہرام آواری صاحب* اقلیتی نشست کے الیکشن میں ایک دوسرے کے مدمقابل (آمنے سامنے) سخت حریف رہے تھے، جس میں بہرام آواری صاحب کامیاب ہوئے تھے۔
* ✨ *اردشیر کاؤس جی:* نامور کالم نگار اور بے باک شخصیت (جن کی بہرام آواری سے روایتی اور مشہور کاروباری و سیاسی رقابت معروف تھی)، کراچی کی پارسی تاریخ کے درخشندہ ستارے ہیں۔
Atif Ahmed Khan sb تحریر کی وال سے کاپی کی گئی ہے
#کراچی #زرتشتی #دخمہ #اگیاری #سجدگاہ #آواری