Live Pakistan

Live Pakistan You are free you are free to go to your temples, you are free to go to your mosques or to any other place of worship in this State of Pakistan.

You may belong to any religion or caste or creed that has nothing to do with the business of the State
Jinnah's

کینیڈا  #امریکہ میں گھروں کی چھتوں پر  #پانی کی ٹینکیاں کیوں نہیں ہوتیں؟کینیڈا آنے کے چند دن بعد ایک پاکستانی نے اپنے دو...
27/07/2026

کینیڈا #امریکہ میں گھروں کی چھتوں پر #پانی کی ٹینکیاں کیوں نہیں ہوتیں؟

کینیڈا آنے کے چند دن بعد ایک پاکستانی نے اپنے دوست سے بڑی حیرت سے پوچھا:

"یار، ایک بات سمجھ نہیں آئی۔ یہاں کسی گھر کی چھت پر پانی کی ٹینکی نظر نہیں آتی، نہ موٹر چلتی دکھائی دیتی ہے۔ پھر پانی آتا کہاں سے ہے؟"

دوست مسکرایا اور بولا:

"یہی تو اصل فرق ہے۔ یہاں ہر گھر اپنا پانی نہیں سنبھالتا، بلکہ شہر یہ ذمہ داری اٹھاتا ہے۔"

پاکستان میں اکثر گھروں کی اپنی ٹینکی، موٹر اور پانی ذخیرہ کرنے کا الگ انتظام ہوتا ہے۔ لیکن کینیڈا میں یہ کام شہری حکومت کرتی ہے۔ پانی جھیلوں، دریاؤں یا زیرِ زمین ذرائع سے حاصل کیا جاتا ہے، جدید واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس میں اسے انتہائی سخت معیار کے مطابق صاف کیا جاتا ہے، پھر طاقتور پمپوں کے ذریعے ہزاروں کلومیٹر طویل زیرِ زمین پائپ لائنوں کے جال سے ہر گھر، اسکول، اسپتال، دفتر اور پارک تک پہنچایا جاتا ہے۔

وہ حیران ہو کر بولا:

"یعنی مجھے موٹر چلانے کی بھی ضرورت نہیں؟"

دوست ہنس کر بولا:

"نہ موٹر، نہ ٹینکی، نہ پانی ختم ہونے کی فکر۔ بس نل کھولو... پانی حاضر!"

لیکن اس کے ذہن میں ایک اور سوال آیا۔

"اچھا، جب سردیوں میں درجہ حرارت منفی 30 یا 40 ڈگری تک پہنچ جاتا ہے تو پانی جم کیوں نہیں جاتا؟"

دوست نے جواب دیا:

"کیونکہ پانی کی لائنیں زمین کے کافی نیچے بچھائی جاتی ہیں، فراسٹ لائن سے بھی نیچے، جہاں مٹی مکمل طور پر نہیں جمتی۔ گھروں کے اندر پائپ بھی گرم حصوں سے گزارے جاتے ہیں، اس لیے عام حالات میں پانی مسلسل بہتا رہتا ہے۔"

وہ ابھی بھی متاثر تھا۔

"اتنا بڑا نظام آخر سنبھالتا کون ہے؟"

دوست نے کہا:

"شہر کی میونسپل حکومت۔"

مثال کے طور پر صرف ٹورانٹو واٹر تقریباً 36 لاکھ افراد اور کاروباروں کو پانی فراہم کرتا ہے۔ ہر سال تقریباً 435 ارب لیٹر صاف پانی سپلائی کیا جاتا ہے، جبکہ تقریباً 400 ارب لیٹر استعمال شدہ پانی کو دوبارہ صاف کرکے ماحول میں واپس چھوڑا جاتا ہے۔

یہ کوئی معمولی منصوبہ نہیں۔ صرف ٹورانٹو نے اپنے پانی، سیوریج اور اسٹورم واٹر کے نظام کی بہتری کے لیے آئندہ برسوں میں 15 ارب ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کا منصوبہ بنایا ہے، جبکہ اس پورے انفراسٹرکچر کی مالیت 90 ارب ڈالر سے بھی زیادہ سمجھی جاتی ہے۔

پھر اس نے پوچھا:

"کیا پورے کینیڈا میں یہی نظام ہے؟"

دوست نے جواب دیا:

"اصول تقریباً ایک ہی ہے، صرف پانی کا ذریعہ بدل جاتا ہے۔"

ٹورانٹو اپنا زیادہ تر پانی لیک اونٹاریو سے لیتا ہے۔

وینکوور #پہاڑوں کے قدرتی ذخائر سے پانی حاصل کرتا ہے۔

کیلگری میں باؤ اور ایلبو ریور بنیادی ذریعہ ہیں۔

جبکہ مونٹریال زیادہ تر سینٹ لارنس ریور پر انحصار کرتا ہے۔

یعنی شہر بدل جاتا ہے، لیکن نظام وہی رہتا ہے: صاف پانی، جدید ٹریٹمنٹ پلانٹس، زیرِ زمین پائپ لائنیں اور چوبیس گھنٹے مسلسل سپلائی۔

لیکن اس کہانی کا سب سے دلچسپ حصہ ابھی باقی تھا۔

پاکستان میں ہم اکثر نلکے کا پانی پینے سے گھبراتے ہیں، فلٹر، کولر یا بوتل والا پانی استعمال کرتے ہیں۔ مگر کینیڈا میں صورتِ حال بالکل مختلف ہے۔

یہاں گھروں، اسکولوں، کالجوں، دفاتر، اسپتالوں، پارکوں اور عوامی مقامات کے نلکوں سے آنے والا یہی پانی براہِ راست پینے کے لیے محفوظ سمجھا جاتا ہے۔ لاکھوں لوگ روزانہ یہی پانی پیتے ہیں، اپنی دوبارہ استعمال ہونے والی بوتل ساتھ رکھتے ہیں اور جہاں نل نظر آئے، وہیں بھر لیتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹورانٹو میں پانی کے معیار کو برقرار رکھنے کے لیے ہر سال ہزاروں نہیں بلکہ دسیوں ہزار لیبارٹری ٹیسٹ کیے جاتے ہیں۔ پانی کو پلانٹ سے نکلنے کے بعد بھی مختلف مقامات پر مسلسل چیک کیا جاتا ہے تاکہ ہر نل تک محفوظ پانی پہنچے۔

اسی لیے بوتل والا پانی یہاں ضرورت نہیں بلکہ زیادہ تر سہولت، سفر یا ذاتی پسند کی چیز ہے۔ روزمرہ زندگی میں لوگوں کی اکثریت نلکے کا پانی ہی استعمال کرتی ہے۔

یہ سب دیکھ کر احساس ہوتا ہے کہ ترقی یافتہ ملک صرف اونچی عمارتوں، خوبصورت سڑکوں یا بڑی گاڑیوں سے نہیں بنتا۔

اصل ترقی وہ نظام ہوتے ہیں جن کے بارے میں لوگوں کو سوچنا ہی نہ پڑے۔

جب پانی وقت پر آئے، صاف ہو، محفوظ ہو، ہر موسم میں دستیاب ہو، اور ہر شہری کو برابر ملے، تو لوگ اپنی توانائی زندگی، تعلیم، کاروبار اور ترقی پر صرف کرتے ہیں، پانی جمع کرنے پر نہیں۔

ہم صرف نل کھولتے ہیں... مگر اس ایک گلاس پانی کے پیچھے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری، ہزاروں کلومیٹر پائپ لائنیں، جدید ٹیکنالوجی، مسلسل نگرانی اور ہزاروں انجینئرز، سائنس دانوں اور ماہرین کی محنت کام کر رہی ہوتی ہے۔

کبھی کبھی ترقی کا راز اونچی عمارتوں میں نہیں، بلکہ زمین کے نیچے چھپے ہوئے ان مضبوط نظاموں میں ہوتا ہے، جنہیں ہم دیکھ بھی نہیں پاتے۔
محمد لطیف جاوید
#کینیڈا

چکوال کا علاقہ "ونہار"علی خان(پہلا حصہ)" اگر میرا دشمن بھی مجھ سے مدد مانگے تو میں پوری نیک نیتی سے اس کی مدد کروں گا"۔ ...
22/07/2026

چکوال کا علاقہ "ونہار"

علی خان

(پہلا حصہ)

" اگر میرا دشمن بھی مجھ سے مدد مانگے تو میں پوری نیک نیتی سے اس کی مدد کروں گا"۔

یہ الفاظ 1933ء میں سردھی گاؤں کے ایک معزز شخص نے ایک انگریز افسر میلکم ڈارلنگ کو کہے تھے۔ میلکم ڈارلنگ نے یہ بات اپنی Wisdom and waste نامی کتاب میں لکھی ہے جسے 1934ء میں آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا تھا۔ میلکم ڈارلنگ ذکر کرتا ہے کہ اس علاقے کے لوگ غیرت کے نام پر قتل کرتے ہیں۔

میلکم ڈارلنگ کے الفاظ پتھریلے علاقہ ونہار کے اس مجموعی مزاج کی عکاسی کرتے ہیں جو دشمنی کو بھی ایک وقار کے ساتھ پالتا ہے۔ اس روایتی درشتگی کے ساتھ غیرت، شجاعت، مہمان نوازی، سادگی اور خوش مزاجی اور کسی قدر لاابالی پن یہاں کے مزاج کا خاصا ہے۔ سو سال پہلے نہ صرف علاقہ ونہار بلکہ ضلع چکوال کے موجودہ تمام علاقوں میں اس وقت نیم قبائلی زندگی کا اثر نمایاں تھا چنانچہ یہاں غیرت کے نام پر قتل معمول کی بات تھی۔تاہم پہلی جنگ عظیم سے کچھ عرصہ پہلے کوہستان نمک کے علاقوں میں تیزی سے تبدیلی آنا شروع ہو گئی تھی۔ یہاں کے نوجوانوں کی بڑے پیمانے پر فوج میں شمولیت سے حالات یکسر بدل گئے تھے۔ مذکورہ کتاب کا مصنف میلکم ڈارلنگ جب سردھی سے بوچھال کلاں آتا ہے تو اس کی صفائی کا معیار دیکھ کر دنگ رہ جاتا ہے۔وہ اس کو پنجاب کے صاف ترین دیہات میں شامل کرتا ہے۔اس وقت گاؤں میں ایک اینگلو ورنیکلر مڈل سکول تھا جس میں 385 لڑکے پڑھتے تھے۔

کوہستان نمک کے خطہ میں علاقہ ونہار کلر کہار سے منارہ تک تقریباً چار سو مربع میل پر مشتمل علاقے کا نام ہے۔ اس سے ملحقہ علاقے سون سکیسر، احمد آباد، کہون، دھن اور تھرچک کہلاتے ہیں۔ معتدل موسموں کا یہ علاقہ مشرق سے مغرب کی طرف کلرکہار سے کچھ دور نکل کر منارہ تک جب کہ شمالاً جنوباً سردھی سے وسنال تک پھیلا ہے۔ سطح سمندر سے ستائیس سے اٹھائیس سو فٹ تک بلند یہ علاقہ کوہستان نمک کے اندر ایک بڑے پیالے کی شکل میں موجود ہے۔ علاقہ ونہار کی تین بلند ترین چوٹیوں میں وسنال 3277 فٹ، بوچھال خورد 2934 فٹ اور ماٹن کے قریب نکی نامی چوٹی 2690 فٹ بلند ہیں۔

علاقہ ونہار 1985ء میں ضلع چکوال کے قیام تک تحصیل پنڈ دادنخان کا حصہ تھا۔ سکھ دور سے پہلے بھی پنڈ دادنخان ایک اہم تجارتی مرکز تھا۔ یہاں سے کپاس، پٹ سن، نیل، شکر، اناج، تیل، مسالہ جات ،میوہ جات دھات اور دیسی کپڑے کی تجارت ہوتی تھی۔ پنڈ دادنخان کا دریائی گھاٹ پنجاب کی تجارت کے لیے نہایت اہم تھا۔ سکھ دور میں بھی علاقہ ونہار بھی پنڈ دادنخان کا حصہ تھا۔ سکھ کاردار جن کے صدر دفاتر پنڈ دادنخان میں تھے علاقہ ونہار کے انتظامی امور کے بھی ذمہ دار تھے۔

ونہار کی وجہ تسمیہ بارے مختلف توجیہات ملتی ہیں مگر ان میں سے کسی ایک کو حتمی طور پر درست تسلیم کرنا ممکن نہیں ہے۔ یہ نام کب اور کیسے پڑا اس کے کوئی ٹھوس دستاویزی حوالے موجود نہیں ہیں البتہ 1904ء کے ڈسٹرکٹ گزیٹیئر جہلم میں ونہار کو مالیہ اکٹھا کرنے کے لیے کی گئی علاقائی تقسیم میں الگ علاقہ کے طور پر ظاہر کیا گیا ہے۔ انگریزوں نے اقتدار سنبھالنے کے بعد سکھوں کی مالیہ اکٹھا کرنے کے لیے کی گئی تقسیم میں لگ بھگ تمام علاقوں کے نام وہی رکھے تھے جو وہ پہلے سے تھے۔ سکھوں نے یہ نام مغلیہ سلطنت کی انتظامیہ سے مستعار لیے تھے۔ محتاط اندازہ ہے کہ ونہار کا نام مغلیہ دور یا ممکنہ طور پر اس سے بھی پہلے کا موجود ہے۔سولہویں صدی کے وسط میں مغلوں نے پہلی بار ہندوستان میں اراضی کا پہلا بندوبست کیا تھا اور اسی بندوبست میں زیادہ تر علاقوں کی موجودہ شناخت سامنے آئی تھی۔

لفظ ونہار دو لفظوں یعنی ون اور ہار کا مرکب ہے۔ ون کے دو معنی سامنے آتے ہیں۔ سنسکرت میں ون جنگل کو کہتے ہیں جب ون یا جنڈ ایک سخت جان مگر گھنی چھاؤں دینے والے ایک سایہ دار درخت کا نام بھی ہے۔ افسانوی نوعیت کی شہرت رکھنے والے اس پودے کا وجود اس علاقے میں نہ ہونے کے برابر ہے وجہ تسمیہ میں اس کی موجودگی کا امکان بھی کم ہے۔ ہار ایک زیور ہے مگر پہاڑی علاقے کو بھی کہا جاتا ہے۔ ونہار کا نواحی علاقہ کلرکہار ہے اور اس میں بھی ہار موجود ہے یعنی کلر کا ہار یا کہار۔ کلر کہار کو کلری زمین یا جھیل کی وجہ سے اگر یہ نام ملا تھا تو شاید ونہار کو بھی اس کے جنگل یا ون کے پودے کی مناسبت سے یہ نام ملا ہو۔ اس اعتبار سے ونہار کا مطلب جنگلی پہاڑی علاقہ یا ون کا پہاڑی علاقہ نکلتا ہے۔ پروفیسر انور بیگ اعوان کی کتاب دھن ملوکی کے مطابق کہار مقامی زبان میں جھیل کو کہا جاتا ہے اس لیے کلر کہار کا مطلب کلر یعنی نمکین جھیل ہے۔ ہندی لفظ کہار کے معانی پانی بھرنے والا اور ڈولی اٹھانے والے کے بھی ہیں۔ کچھ مقامی لوگ علاقہ ونہار کو اعوان اکثریتی علاقے کی بنیاد پر اعوان ہار یا اعوانوں کا ہار کی نسبت سے اس کی بگڑی شکل ونہار قرار دیتے ہیں البتہ اس بات کا بھی کوئی ٹھوس حوالہ موجود نہیں ہے۔ اس کی وجہ تسمیہ کے ایک غیر مستند معانی "ون" یعنی خوشگوار ہوا اور "ہار" یعنی مالا یا گھیرا کے بھی سامنے آتے ہیں جس سے مراد خوشگوار ہواؤں کا علاقہ ہے۔ یہ معانی اس کے ماحول کی نسبت سے تو درست معلوم ہوتے ہیں مگر ون کا مطلب لغت میں خوشگوار ہوا کے طور پر درج نہیں ہے۔

علاقہ ونہار میں تین درجن سے زائد دیہات اور پانچ یونین کونسل شامل ہیں۔ یونین کونسل بوچھال کلاں میں مکھیال ،بولہ شامل ہیں۔ یونین کونسل بوچھال خورد میں گاہی، گفانوالہ، رنسیال ،سردھی، رکھ سملی شمالی، چک مصری اور مانک پورشامل ہیں۔یونین کونسل میانی میں بھسین ،پہاڑ خان،دھرکنہ، دئیاں، کہوٹ ، جھامرہ، رکھ سمرقند شامل ہیں۔ یونین کونسل نور پور میں سرکلاں ،بھلیال، نور پور، ماٹن کلاں، سرکلاں اور لاپھی شامل ہیں۔ یونین کونسل منارہ میں منارہ ،سیتھی، وسنال شامل ہیں۔ تحصیل کلر کہار کی یونین کونسل بھرپور کو قدیم علاقائی تقسیم کے اعتبار سے علاقہ تھرچک میں شامل ہے۔ یونین کونسل خیر پور کا گاؤں خیر پور تو علاقہ کہون میں ہے مگر ملوٹ علاقہ ونہار میں ہے جب کہ مور جھنگ بھی علاقہ ونہار کا حصہ ہے۔ تحصیل صدر مقام کلرکہار خود بھی قدیم علاقائی تقسیم کے اعتبار سے علاقہ دھن میں شامل ہے۔

(جاری ہے)

پنڈ دادنخان کا نمک آج حلال ہو گیاعالمی طور پر تسلیم شدہ قانون ہے کہ  قدرتی وسائل پر پہلا حق اس علاقہ کے لوگوں کا ۔۔۔سکند...
17/07/2026

پنڈ دادنخان کا نمک آج حلال ہو گیا
عالمی طور پر تسلیم شدہ قانون ہے کہ قدرتی وسائل پر پہلا حق اس علاقہ کے لوگوں کا ۔۔۔
سکندر یونانی کے دور سے #کھیوڑہ #پنڈدادنخان کا نمک دنیا بھر کے شکم کو سیر کرتا آیا ہے۔ نمک کی تجارت کی بدولت پنڈدادنخان اور للہ کی نمک منڈیاں تو قائم ہو گئی لیکن علاقہ کی پسماندگی دور نہ ہو سکی۔

اسی طرح یہاں سے نکلنے والے چونے کے پتھر، جپسم اور کوئلے نے غریب وال، ڈنڈوٹ #سیمنٹ اور سوڈا ایش فیکٹریوں کو تو جنم دے دیا لیکن علاقے کی محرومی ختم نہ ہو سکی
پنڈ دادنخان کے رقبے سے #موٹروے تو گزر گئی لیکن یہاں زمین مختص ہونے کے باوجود انجینیئرنگ یونیورسٹی کا کیمپس نہ کھل سکا
انگریزوں نے معدنی وسائل کی ترسیل کیلیے 1887 میں دریائے جہلم پر چک نظام پل تو بنا دیا لیکن 1898 میں رسول ہیڈورکس بناتے ہوئے اس علاقے کو نظر انداز کر دیا
1945-46کے الیکشن میں ٹوانہ صاب بہادر نے نہر کے بدلے ووٹ کا خراج مانگا تو اس علاقے کے غیور عوام نے نہر پر پاکستان کو ترجیح دی اور قائد اعظم کے دست راست کابینہ ممبر لیگی امیدوار راجہ غضنفر علیخان کو کامیاب کروایا۔
1905 کے ٹرپل کینال منصوبہ کی بدولت جہلم کا پانی منٹگمری #ساہیوال پر قربان کردیا گیا۔ پھر آزادی کے بعد مشرقی دریا ہاتھ سے گئے تو سندھ طاس معاہدہ کی رو سے اس علاقے کی لائف لائن دریائے #جہلم کو #منگلا کے مقام پر بند باندھ کر روک لیا گیا اور پھر رابطہ نہروں کے زریعے ستلج کے اس پار بہاولنگر تک پانی کو پہنچا دیا لیکن پنڈ دادن خان کو اس کے قدرتی حق سے اگلے ساٹھ تک محروم رکھا گیا۔
اس دوران کسی منچلے نے #نہر دو یا زہر دو کا نعرہ لگا دیا تو ارباب بست و کشا نے سوچا اتنا زہر کہاں سے لائیں انکو پیاسا ہی مار دیتے
سب سے بڑھ کر اس علاقہ کے جری جوانوں نے 65 71اور 99 کی سرحدی جنگوں اور بعد ازاں اندرونی سورش زدہ علاقوں میں اپنا خون پانی کی طرح بہایا لیکن آج تک یہاں کے کئی دیہات تالابوں کا پانی پینے پر مجبور ہیں

اس علاقہ کے لوگ گورنر بنے جرنیل بنے چیف جسٹس بنے بیوروکریٹ بنے صنتکار و سرمایہ کار بنے لیکن اپنے آبائی گاوں میں سکونت نصیب نہ ہوئی۔۔۔ موٹروے یا جی ٹی روڈ چڑھتے ہی لہور اسلام آباد کے ہو جاتے پھر یا کسی مرے پر آتے یا خود مر کر ہی اسی مٹی میں ملنے آئے

سیاسی قیادت ہمیشہ سے امپورٹد مسلط کی گئی جو وائسرائے کی طرح جی ٹی روڈ سے آتے اور موٹروے سے نکل جاتے۔ اس علاقہ کے تعمیراتی منصوبوں سے مشینری دوسرے علاقوں کو منتقل ہوئی تو کسی کی دال نہ گل سکی۔ اس دوران بیمار گھر میں پڑے جان سے جاتے رہے اور تندرست کشتیوں پر دریائے جہلم عبور کرتے ہوئے غرق ہوتے رہے۔ ریلوے لائنوں پر نمک کوئلے کی مال گاڑیاں تو چلتی رہی لیکن مسافر دھکے کھاتےرہے

ان تمام تر زیادتیوں کے باوجود نہ کبھی روڈ بلاک نہ ہنگامہ آرائی
Son of soilہونے کے ناطے یہ بات ہمیشہ سے فکر مند کیے دیتی کہ ہمارا خون اور #نمک اتنا ارزاں کیوں۔۔۔؟

بالآخر اگر جلالپور کینال کی بات چل نکلی تو پھر سوال۔۔بھائی کدھر۔۔۔اگر یہ بن گئی تو سکھر بیراج سے نکلنے والی سات نہروں کا کیا ہو گا۔۔؟

ان سب کا ایک ہی جواب
اگر جہلم کا پانی جہلم کو نہیں ملے گا تو کسے ملے گا۔۔۔؟
بہرحال نہر بن بھی گئی اور چل بھی گئی اور قدرت کا کمال دیکھیں سندھی بھائیوں کی کمپنی سے بنوا ڈالی

آج چلتی ہوئی جلالپور کینال کے عرشے پر کھڑے ہو کر دعوی ہے ہمارا
دریا ہے ہمارا دریا ہے ہمارا

راجہ حیدر بشکریہ
پنڈ دادنخان

کچھ عرصے سے کراچی کے مختلف سوشل میڈیا پیجز پر پارسی برادری، بالخصوص کراچی کی پارسی کمیونٹی، کے حوالے سے کچھ غلط مفروضے ا...
05/07/2026

کچھ عرصے سے کراچی کے مختلف سوشل میڈیا پیجز پر پارسی برادری، بالخصوص کراچی کی پارسی کمیونٹی، کے حوالے سے کچھ غلط مفروضے اور غیر مصدقہ معلومات گردش کر رہی ہیں۔ میں نے اپنی استطاعت کے مطابق ان کی تصحیح اور درست معلومات لوگوں تک پہنچانے کی کوشش کی ہے۔

اس سلسلے میں میرے نہایت عزیز دوست، جنہیں میں بڑے بھائی کا درجہ دیتا ہوں، جناب زین ایرانی صاحب Zain Irani، جو خود پارسی برادری سے تعلق رکھتے ہیں، نے میری بھرپور رہنمائی کی اور مستند معلومات فراہم کیں۔ میں ان کا تہہِ دل سے شکر گزار ہوں۔

ایڈمن صاحبان سے گزارش ہے کہ اس پوسٹ کو ضرور شیئر کریں تاکہ لوگوں تک پارسی برادری کے اصل عقائد، روایات اور حقائق درست انداز میں پہنچ سکیں اور غلط فہمیوں کا ازالہ ہو سکے۔

کراچی کی زرتشتی برادری: تاریخ، عقائد اور مروجہ روایات کی حقیقت
کراچی کی تعمیر و ترقی اور تاریخ میں پارسی (زرتشتی) برادری کا کردار انتہائی نمایاں رہا ہے۔ تاہم، بیرونی دنیا یا عام لوگوں کے لیے اس برادری کے عقائد اور آخری رسومات ہمیشہ سے پراسراریت کا شکار رہے ہیں، جس کی وجہ سے کئی غلط فہمیاں اور مبالغہ آرائی پر مبنی کہانیاں جنم لیتی رہی ہیں۔ زیرِ نظر مضمون میں پارسی برادری کے داخلی نظام، عبادات، سجدگاہوں اور دخمہ (ٹاور آف سائلنس) کے حقیقی حقائق کو دستاویزی شکل میں پیش کیا گیا ہے۔

اگیاری (مقدس عبادت گاہ) کا تقدس اور داخلی نظام
عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ کوئی بھی پارسی دوست کسی غیر مسلم کو اپنی عبادت گاہ یعنی *اگیاری* کی سیر کروا سکتا ہے، جو کہ بالکل غلط ہے۔ پارسی اپنے مذہب اور عبادت گاہ کے تقدس کے ترمیمی قوانین پر انتہائی سختی سے کاربند ہیں۔
* 🚫 *داخلی ممانعت:* کسی بھی غیر زرتشتی یا باہر کے فرد کو اگیاری کے اندر داخل ہونے کی قطعاً اجازت نہیں ہوتی، چاہے ان کا کوئی پارسی دوست ہی کیوں نہ ہو۔

*بت پرستی کی تردید:* اگیاری کے اندر بتوں یا مجسموں (Statues) کی موجودگی کا دعویٰ محض ایک افسانہ ہے۔ زرتشتی مذہب میں بت پرستی کا کوئی تصور نہیں۔ اگیاری کے اندر صرف پیغمبرِ زرتشت کی ایک تصویر (فریم) اور مقدس مذہبی کلمات (آیات کی مانند) آویزاں ہوتے ہیں۔ (احتمال ہے کہ بعض لوگ 'کراچی پارسی انسٹی ٹیوٹ' (KPI) میں نصب سر ایڈل جی ڈنشا اور ان کے صاحبزادے کے مجسموں کو دیکھ کر انہیں عبادتی مجسمے سمجھ بیٹھتے ہیں، جو کہ محض یادگاری مجسمے ہیں)۔

دخمہ (ٹاور آف سائلنس) کا جغرافیہ اور حقیقت ⛰️
موت کے بعد لاش کو ٹھکانے لگانے والی جگہ کو *دخمہ* کہا جاتا ہے۔ اسے 'موت کا کنواں' کہنا لسانی اور ثقافتی طور پر بالکل غلط ہے، کیونکہ موت کا کنواں سرکس یا میلوں میں موٹر سائیکل چلانے والے ٹریک کو کہا جاتا ہے۔ پارسی روایت میں میت کو *"پائیداس" (Paidas)* کہا جاتا ہے۔
* 📍 *جغرافیائی وقوع:* محمود آباد میں واقع دخمہ ایک چھوٹی پہاڑی کو کاٹ کر بنائے گئے راستے پر واقع ہے۔ یہ پوری ایک کالونی نما ایریا ہے، جہاں جانے کا راستہ سیدھا نہیں بلکہ اونچائی اور چڑھائی پر ہے۔
*لاشوں کو تحلیل کرنے کا جدید نظام:* ماضی کے برعکس، اب کراچی کے آسمان پر گدھ (Vultures) نظر نہیں آتے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے اب دخمہ کے اندر *سولر ریفلیکٹر سسٹم* (شیشے کا نظام) لگایا گیا ہے، جو سورج کی تپش اور روشنی کو عکاس (Reflect) کر کے تیز کرتا ہے، جس سے لاش قدرتی طور پر جلد تحلیل ہو جاتی ہے۔
* ❌ *من گھڑت روایات کی تردید:* انٹرنیٹ اور عام لوگوں میں یہ من گھڑت کہانی مشہور ہے کہ لاش پر دہی لگا کر اسے کتوں سے چٹوایا جاتا ہے، یہ بالکل جھوٹ، لغو اور بے بنیاد بات ہے۔ زرتشتی مذہب میں مردے کے احترام کے سخت قوانین ہیں۔

* داخلی بناوٹ:* دخمہ کے اندر تین دائروں پر مشتمل اقدامات (Steps) بنے ہوتے ہیں۔ پہلا دائرہ مردوں کے لیے، دوسرا عورتوں کے لیے اور تیسرا بچوں کے لیے مخصوص ہوتا ہے۔ تاہم، اگر بچے بہت چھوٹے ہوں تو انہیں دخمہ میں ڈالنے کے بجائے وہیں سائیڈ پر زمین میں دفن کر دیا جاتا ہے۔

خاندھیا برادری اور جدید ہائیڈرولک نظام ⚙️
زرتشتی مذہب میں *خاندھیا (Khandhia)* سے مراد وہ روایتی اور مخصوص نگہبان ہیں جن کے ذمے متوفی کو دخمہ تک پہنچانا اور ان کی آخری باقیات کی دیکھ بھال کرنا ہوتا ہے۔ لفظ "خاند" زرتشتی اصطلاح میں کاندھے (Shoulder) کو ظاہر کرتا ہے، یعنی کاندھا دینے والے۔ انگریزی میں انہیں *Pall-bearers* کہا جاتا ہے۔
*کاندھا دینے کے رواج کا خاتمہ:* ماضی میں مروجہ روایات کے مطابق عام طور پر چار خاندھیے میت کو کاندھا دے کر دخمہ کے اندر لے جاتے تھے۔ لیکن *2021ء سے کاندھا دینے کا یہ روایتی رواج اب ختم ہو چکا ہے*۔ اب خاندھیے باڈی کو ایک پہیے والے اسٹریچر پر رکھ کر، ہائیڈرولک لفٹ کے ذریعے دخمہ کے اندر لے کر جاتے ہیں۔
* 👨‍👦 *اس تبدیلی کی وجہ:* خاندھیا برادری کی نئی نسل (اولاد) اب تعلیم اور دیگر شعبوں میں جانے کی وجہ سے یہ روایتی کام نہیں کر رہی، جبکہ پرانے خاندھیے اب بوڑھے اور بیمار ہو چکے ہیں اور وہ باڈی کا وزن اٹھانے کی سکت نہیں رکھتے۔
* 🤝 *معاشرتی رویوں میں تبدیلی:* ماضی میں خاندھیا برادری کے ساتھ پارسی معاشرے میں ویسا ہی اچھوت جیسا سلوک کیا جاتا تھا جیسے انڈیا میں دلت برادری کے ساتھ ہوتا تھا (ان کے ہاتھ کا کھانا پینا منع تھا اور اگیاری میں آنے کی اجازت نہیں تھی)، لیکن *اب یہ طبقاتی تفریق اور اچھوت والا رویہ بالکل ختم ہو چکا ہے*۔

سجدگاہ (Sezdegah) اور محمود آباد پارسی کالونی کی تاریخ 🏡
1800ء کی دہائی میں صدر (لکی اسٹار) کے پاس، جہاں اب کچھی میمن میموریل ہاسپٹل کا پلاٹ ہے، پارسیوں کا پرانا مردہ خانہ ہوتا تھا جسے *سجدگاہ (Sezdegah)* کہتے تھے۔ یہاں میت کو غسل دیا جاتا تھا اور خاندھیا برادری کے کوارٹرز بھی اسی کے ساتھ تھے۔ محمود آباد کی پارسی کالونی دراصل دو حصوں پر مشتمل ہے جن کے مرکز میں دخمہ واقع ہے:
* *الف) سائرس منوالا کالونی (Cyrus Minwalla Colony):* یہ حصہ مرکزی گیٹ سے داخل ہوتے ہی بائیں جانب واقع ہے اور یہ پہلے آباد ہوا تھا۔ اسے میٹروپول ہوٹل اور ملیر میں قائم 'گرینڈ ہوٹل' کے مالک *منوالا خاندان* نے آباد کیا تھا۔ مقامی طور پر اس جگہ کو مختصرًا *"سائی کال" (Cy-Col)* بھی کہا جاتا ہے۔

* آواری کالونی (Avari Colony): * مرکزی گیٹ سے دائیں جانب کا حصہ نامور پارسی شخصیت *بہرام آواری* صاحب نے 1980ء کی دہائی میں آباد کیا تھا، جو اب ایک ٹرسٹ کے تحت ان کے بیٹے سنبھالتے ہیں۔
* 🏢 *سجدگاہ اور کوارٹرز کی منتقلی:* بہرام آواری صاحب نے صدر (لکی اسٹار) کے پاس قائم پرانی سجدگاہ اور خاندھیا برادری کے کوارٹرز کو ختم کر کے دخمہ کے بالکل قریب منتقل کر دیا۔ انہوں نے ہوبہو پرانے نقشے اور آرکیٹیکچر کے مطابق ایک نئی جدید سجدگاہ تعمیر کی، تاکہ میت کو لانے لے جانے میں آسانی ہو اور پرانی قیمتی زمین کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم ٹرسٹ کے فلاحی کاموں میں استعمال ہو سکے۔ خاندھیا برادری کے لیے بھی وہیں دخمہ کے پاس دو منزلہ نئے فلیٹس بنا دیے گئے۔

موت کے بعد کے ۴ دن اور "دھنساک" کی روایت 🍽️
جب کسی پارسی کا انتقال ہوتا ہے، تو تجہیز و تکفین کے بعد متوفی کے اہل خانہ (جیسے والدین, بہن بھائی، اولاد) لگاتار *چار دن* تک اسی سجدگاہ کے ہال میں قیام کرتے ہیں، جہاں ان کی رہائش اور طہارت کا مکمل انتظام ہوتا ہے۔

* دستور جی (پادری) کا کردار:* متوفی کی پائیداس (میت) کو دخمہ میں رکھنے کے بعد، پادری یعنی *دستور جی* اسی دن اپنا مخصوص رجسٹر کھولتے ہیں اور اس میں مرنے والے کا نام، تاریخ اور موت کی وجہ (Cause of Death) درج کرتے ہیں۔
* 🔥 *مقدس فرائض:* ہال میں جہاں میت کی رسومات ہوتی ہیں، وہاں خاندھیا برادری کے لوگ چورس شکل (قبر کی مانند) میں پھول بچھاتے ہیں۔ وہاں ایک دیا، لوبان، اور صندل کی لکڑی (سکھر) دھکائی جاتی ہے۔ لواحقین کا کام چار دن تک اس دیے اور چھوٹے آتش دان کو مسلسل روشن رکھنا اور مرجھائے پھولوں کی جگہ تازہ گلاب بچھانا ہوتا ہے۔
* 🥩 *گوشت کی ممانعت:* ان ۴ دنوں میں متوفی کے گھر میں چولہا نہیں جلایا جاتا، نہ کھانا پکتا ہے اور نہ ہی گوشت کھایا جاتا ہے۔ عقیدے کے مطابق ان دنوں گوشت کھانا اپنے ہی مردے کا گوشت کھانے کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔
* 🍲 *چارم اور دھنساک (Dhansak):* چوتھے دن کی رسم کو *"چارم"* کہا جاتا ہے۔ اس دن مٹن *دھنساک* (دال، چاول اور گوشت کا ایک خاص روایتی پکوان) بنا کر گوشت کھانے کی شروعات کی جاتی ہے۔ یہ کھانا قریبی رشتہ داروں اور دوستوں کو بلوا کر کھلایا جاتا ہے۔ چونکہ دھنساک بنیادی طور پر غم اور موت کے موقع کا کھانا ہے، اس لیے اسے کبھی بھی شادی، سالگرہ یا خوشی کی تقاریب میں نہیں پکایا جاتا۔

"کنواں بابا" کی روایت اور غیبی رکاوٹ کا تصور 🪵
پارسی ثقافت میں پانی کو *"آوا" (Ava)* کہا جاتا ہے، جسے کائنات کے پاک عناصر میں شمار کیا جاتا ہے۔ محمود آباد میں نہیں، بلکہ *صدر لکی اسٹار کے پاس واقع پرانی جگہ (پرانی سجدگاہ) پر ایک تاریخی کنواں موجود تھا*، جس کی صفائی خاندھیا برادری کے بچے اور خواتین کرتے تھے۔
* 🕯️ *کنواں بابا کا مزار/عقیدت:* اس کنویں سے ایک مافوق الفطرت عقیدت وابستہ تھی۔ مقامی لوگوں (جن میں پارسی، میمن، ہندو اور کرسچن شامل تھے) کا ماننا تھا کہ فجر، مغرب یا عشاء کے وقت وہاں سفید لباس میں ملبوس ایک بزرگ آتے ہیں، جنہیں *"کنواں بابا"* کہا جاتا تھا۔ لوگ وہاں جمعرات کو چراغ جلانے اور پھول چڑھانے آتے تھے۔
* 🚧 *تعمیراتی غیبی رکاوٹ:* جب بہرام آواری صاحب نے صدر کی یہ زمین ایک بلڈر کو فروخت کی، تو وہ کنواں اور پرانی جگہ مسمار کر دی گئی۔ مقامی لوگوں کا پختہ یقین ہے کہ اس پاک جگہ کو توڑنے کی وجہ سے اس زمین پر ایک غیبی رکاوٹ آ گئی۔ چنانچہ 1999ء سے لے کر اب تک کئی بلڈرز نے وہاں کمرشل تعمیرات کی کوشش کی لیکن مسلسل نقصانات اور پراسرار مسائل کی وجہ سے کام نہ ہو سکا۔ اب وہاں 'کچھی میمن ٹرسٹ' کا بورڈ آویزاں ہے جو وہاں ہسپتال تعمیر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

مکتاد کے ۱۰ دن اور سالانہ عبادات 🗓️
زرتشتی تقویم (کیلنڈر) کے مطابق سال میں ایک بار *مکتاد کے ۱۰ دن* آتے ہیں، جو عام طور پر اگست کے مہینے میں ہوتے ہیں اور ان کے فوراً بعد پارسیوں کا نیا سال یعنی *نوروز* شروع ہوتا ہے۔
* 👥 *روحوں کی آمد کا عقیدہ:* پارسیوں کا یہ عقیدہ ہے کہ ان ۱۰ دنوں میں ان کے گزرے ہوئے اجداد اور پیاروں کی روحیں دنیا میں واپس آتی ہیں۔
* ⛪ *عبادات کا طریقہ اور پادریوں کا شیڈول:* مکتاد کے ان دنوں میں پارسی برادری کے لوگ سجدگاہ کے پاس بنی اگیاری میں جا کر انفرادی طور پر یا اکا دکا اپنے پیاروں کے لیے دعائیں کرتے ہیں، سجدگاہ میں نہیں اور نہ ہی ان دنوں پادری (دستور جی) یہاں موجود ہوتے ہیں۔ پادری ان دنوں محمود آباد کی اگیاری کے بجائے *صدر اور پاکستان چوک پر واقع دو دیگر بڑی اگیاریوں میں موجود ہوتے ہیں*، جہاں وہ مرحومین کی روحوں کے لیے خصوصی اور باضابطہ دعائیں (Prayers) سرانجام دیتے ہیں۔

کراچی کے نامور پارسی خاندان، بانیان اور بااثر شخصیات 🌟
کراچی کی سماجی، تعلیمی اور طبی تاریخ پارسی برادری کے بغیر بالکل ادھوری ہے۔ شہر کے افق پر چمکنے والے چند اہم نام اور ان کی درست تفصیلات درج ذیل ہیں:
* 🎓 *نادرشا ایڈل جی ڈنشا (Nadirshaw Eduljee Dinshaw):* کراچی کی تاریخ کی سب سے مایہ ناز اور عظیم شخصیت، جو مشہورِ زمانہ *NED یونیورسٹی کے فاؤنڈر* ہیں۔ آپ کراچی کی سب سے ٹاپ پارسی شخصیت میں شمار ہوتے تھے۔ ان کا وقار اس قدر بلند تھا کہ بانیِ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح بھی ان کے گھر دعوتوں پر تشریف لے جایا کرتے تھے۔
* 🏨 *بہرام آواری (Behram Avari):* کراچی کی ایک انتہائی نامور اور متحرک کاروباری و سماجی شخصیت، جنہوں نے کراچی کے مشہور *Beach Luxury Hotel* سمیت پورے پاکستان میں پھیلے *Avari Group of Hotels* کی بنیاد رکھی اور اسے ملک کا ایک بڑا ہوٹلنگ گروپ بنایا۔ ان کے بعد اب یہ تمام انتظام اور کاروبار ان کے صاحبزادے *ڈنشا آواری (Dinshaw Avari)* کے تحت کامیابی سے چلایا جا رہا ہے۔ بہرام آواری صاحب اقلیتی نشست پر کامیاب ہو کر قومی اسمبلی کے رکن (MNA) بھی بنے۔
* 🏛️ *جمشید نسروانجی مہتا (Jamshed Nusserwanji Mehta):* کراچی کے سب سے پہلے اور مثالی میئر، جنہیں 'جدید کراچی کا بانی' بھی کہا جاتا ہے اور جن کا فلاحی کاموں میں کوئی ثانی نہیں تھا۔ ان کے قائم کردہ ٹرسٹ کے تحت نہ صرف پارسیوں بلکہ *بڑی تعداد میں غیر پارسیوں کو بھی مالی امداد اور تعلیمی اسکالرشپس* دی جاتی رہی ہیں، جو ان کے وسیع المشرب ہونے کا ثبوت ہے۔
* 🛣️ *سہراب کاٹرک (Sohrab Katrak):* کراچی کے ایک اور معزز اور نامور پارسی رہنما، جن کی شہر کے لیے گراں قدر خدمات کے اعتراف میں صدر کی مشہور سڑک کا نام *کاٹرک روڈ (Katrak Road)* رکھا گیا ہے۔
* ⚔️ *مسز دینا مستری (Mrs. Deena Mistry):* بی وی ایس (BVS) پارسی اسکول کی انتہائی معروف اور لیجنڈری پرنسپل، جو اس اسکول کے فاؤنڈر کی بیٹی تھیں۔ ان کے شوہر کراچی کے ایک انتہائی نامور آرکیٹیکٹ (معمار) تھے، جنہوں نے کلفٹن کی مشہور اور تاریخی یادگار *"تین تلوار"* ڈیزائن اور تعمیر کی تھی۔
* 🏥 *سوپاری والا فیملی اور آغا خان ہسپتال:* آغا خان یونیورسٹی ہسپتال (AKU) کی مین پارکنگ کے سامنے واقع مشہور *'سوپاری والا بلڈنگ'* کسی ایک برادری کے لیے نہیں بلکہ *سب کے لیے (پبلک کے لیے) ہے*، جہاں آغا خان ہسپتال کی دوسری لیبارٹری قائم ہے۔ یہ بلڈنگ سوپاری والا فیملی کے فنڈز سے تعمیر کی گئی تھی۔ البتہ اس سوپاری والا فنڈ کا ایک حصہ آغا خان ہسپتال کے 'پیشنٹ ویلفیئر' (Patient Welfare) میں مخصوص ہے، جس کے ذریعے غریب پارسی مریضوں کا بالکل مفت علاج کیا جاتا ہے۔
* 👁️ *ڈاکٹر اسپینسر:* کراچی کے علاقے *لی مارکیٹ* میں واقع مشہور اور تاریخی *اسپینسر آئی ہاسپیٹل* انھی کا قائم کردہ ہے۔ ان کی اہلیہ *ٹریٹی اسپینسر* (جن کا تعلق سوپاری والا خاندان سے تھا) پریس کلب کے پاس ایک پرانے بنگلے میں رہتی تھیں اور برادری کی بااثر خاتون تھیں۔
* 🏥 *انکلیسریا فیملی (Anklesaria):* کراچی کی طبی تاریخ کا ایک اور معتبر نام، جن کا قائم کردہ *انکلیسریا ہسپتال* طویل عرصے تک شہر کے عوام کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کے حوالے سے جانا جاتا رہا ہے۔
* 🍺 *بھنڈارا فیملی اور سیاسی تاریخ:* عام طور پر لوگ بھنڈارا فیملی کو کراچی کا سمجھتے ہیں، لیکن *ان کا تعلق بنیادی طور پر راولپنڈی سے ہے* اور ان کی مشہور کمپنی 'مری بریوری' (Murree Brewery) بھی وہیں واقع ہے۔ اس خاندان کے چشم و چراغ *مینو بھنڈارا صاحب* اور کراچی کے *بہرام آواری صاحب* اقلیتی نشست کے الیکشن میں ایک دوسرے کے مدمقابل (آمنے سامنے) سخت حریف رہے تھے، جس میں بہرام آواری صاحب کامیاب ہوئے تھے۔
* ✨ *اردشیر کاؤس جی:* نامور کالم نگار اور بے باک شخصیت (جن کی بہرام آواری سے روایتی اور مشہور کاروباری و سیاسی رقابت معروف تھی)، کراچی کی پارسی تاریخ کے درخشندہ ستارے ہیں۔

Atif Ahmed Khan sb تحریر کی وال سے کاپی کی گئی ہے

#کراچی #زرتشتی #دخمہ #اگیاری #سجدگاہ #آواری

ہر نان-ٹیکنیکل بندہ  #گوگل کو صرف چیزیں  #سرچ کرنے یا ویڈیوز دیکھنے کے لیے استعمال کرتا ہے، جبکہ ہوشیار لوگ اس کے فری ٹو...
25/06/2026

ہر نان-ٹیکنیکل بندہ #گوگل کو صرف چیزیں #سرچ کرنے یا ویڈیوز دیکھنے کے لیے استعمال کرتا ہے، جبکہ ہوشیار لوگ اس کے فری ٹولز سے اپنے مہینوں کے کام منٹوں میں نکال رہے ہیں!

گوگل کے پاس ایسے دردنوں پاورفل ٹولز موجود ہیں جن کا 90 فیصد لوگوں کو پتا ہی نہیں ہے۔

اگر آپ ان کا صحیح استعمال سیکھ لیں، تو کسی بھی تھرڈ پارٹی ایپ یا پیڈ سافٹ ویئر کے بغیر آپ کی #لائف بہت آسان ہو جائے گی۔

یہ ہیں وہ 10 چھپے ہوئے گوگل ٹولز جو بالکل فری ہیں:

1. (روزمرہ کے نوٹس اور پرچیاں)

اگر آپ دکان کا حساب کتاب، اچھے آئیڈیاز، یا سودا سلف کی لسٹ واٹس ایپ پر خود کو میسج کر کے یا کاغذ پر لکھ کر بھول جاتے ہیں، تو یہ بیسٹ ہے۔

اصل کام کیا ہے:
یہ ایک سمارٹ ڈائری ہے۔ آپ اس میں بولیں گے تو یہ خود اسے ٹائپ کر دے گا۔ اس میں بازار کی لسٹ بنانے کے لیے ٹک مارک کا فیچر بھی ہے، اور یہ موبائل اور #کمپیوٹر دونوں پر ہر وقت اپڈیٹ رہتا ہے۔

2. (کیمرے سے سرچ کریں)

موبائل کیمرے کا ایسا کمال استعمال جو آپ نے پہلے کبھی نہیں کیا ہوگا۔

اصل کام کیا ہے:
کسی بھی پروڈکٹ، پودے، یا مشین کے پرزے کی تصویر کھینچیں، یہ انٹرنیٹ سے اس کا نام اور قیمت نکال دے گا۔ اگر سامنے کوئی انگلش لکھی ہے، تو کیمرہ گھمائیں؛ یہ سیکنڈز میں اس انگلش کو لائیو اردو میں بدل کر دکھا دے گا۔

3. (مارکیٹ کی لائیو اپڈیٹس)

اگر آپ اپنے بزنس، کسی #پروڈکٹ، یا #پراپرٹی کے ریٹس پر نظر رکھنا چاہتے ہیں لیکن روزانہ سرچ کرنے کا ٹائم نہیں ہے۔

اصل کام کیا ہے:
اس ٹول میں جا کر اپنا کی ورڈ (جیسے " " یا " ") سیٹ کر دیں۔ اب دنیا میں کہیں بھی اس ٹاپک پر کوئی نئی خبر یا بلاگ آئے گا، گوگل خود آپ کو ای میل کر کے بتا دے گا۔

4. (فری اور پروفیشنل فونٹس)

اگر آپ اپنی ویب سائٹ، سوشل میڈیا پوسٹس، یا #بینرز کے لیے اچھے اور کمال کے #فونٹس ڈھونڈتے رہتے ہیں۔

اصل کام کیا ہے:
یہ دنیا کی سب سے بڑی فری فونٹس لائبریری ہے۔ یہاں آپ کو اردو کے بہترین فونٹس (جیسے نستعلیق وغیرہ) اور انگلش کے ہزاروں ماڈرن فونٹس بالکل فری ملتے ہیں جنہیں آپ کہیں بھی استعمال کر سکتے ہیں۔

5. (کاغذات موبائل میں سیو کریں)

آفس کے ڈاکومنٹس، کی کاپی، یا دکان کے بلز سنبھالنا ایک بڑی سردردی ہے۔

اصل کام کیا ہے:
گوگل ڈرائیو کی ایپ کھولیں اور پلس (+) پر کلک کر کے " " چلائیں۔ یہ آپ کے #موبائل کیمرے کو ایک اسکینر میں بدل دے گا جو ٹیڑھی #تصویر کو بھی بالکل سیدھا اور صاف پی ڈی ایف ( ) بنا کر محفوظ کر دے گا۔

6. (آسان #اردو ٹائپنگ)

اگر آپ کو کمپیوٹر پر اردو ٹائپنگ کرنا مشکل لگتا ہے کیونکہ آپ کا کی بورڈ صرف انگلش کا ہے۔

اصل کام کیا ہے:
اس ٹول کی مدد سے آپ رومن اردو لکھیں گے (جیسے: "kya hal hai") اور یہ کمپیوٹر پر خود بخود اسے خوبصورت اردو رسم الخط ("کیا حال ہے") میں تبدیل کرتا جائے گا۔

7. (فری ون پیج ویب سائٹ)

اگر آپ کا کوئی چھوٹا #بزنس، #دکان یا پرسنل برانڈ ہے اور آپ #ڈویلپر کو پیسے دیے بغیر اپنی ایک سادہ ویب سائٹ بنانا چاہتے ہیں۔

اصل کام کیا ہے:
یہ بالکل فری ویب سائٹ بلڈر ہے۔ بغیر کسی #کوڈنگ کے، آپ صرف چیزیں ڈریگ اینڈ ڈراپ (Drag & Drop) کر کے 10 منٹ میں اپنے بزنس کی لائیو ویب سائٹ تیار کر سکتے ہیں۔

8. (لوگ کیا سرچ کر رہے ہیں؟)

کوئی بھی نیا بزنس شروع کرنے یا سوشل میڈیا پر کام کرنے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ #مارکیٹ میں کس چیز کا ٹرینڈ ہے۔

اصل کام کیا ہے:
یہ ٹول آپ کو لائیو گراف دکھاتا ہے کہ پاکستان میں اس وقت کس چیز کی ڈیمانڈ بڑھ رہی ہے اور کون سی چیز مارکیٹ میں فلاپ ہو رہی ہے، تاکہ آپ کا پیسہ اور وقت ضائع نہ ہو۔

9. (آج کے کاموں کی لسٹ)

اگر آپ صبح سوچتے ہیں کہ آج یہ 5 اہم کام کرنے ہیں، لیکن رات تک آدھے کام ذہن سے نکل جاتے ہیں۔

اصل کام کیا ہے:
یہ ٹول آپ کے جی میل اور کیلنڈر کے اندر ہی سیٹ ہو جاتا ہے۔ اپنے موبائل پر روز کے ٹاسک لکھیں، جیسے ہی وہ کام ہو جائے، ٹک مارک کر دیں۔ یہ آپ کے ڈسپلن کو بہت بہتر بنا دے گا۔

10. (موبائل گم ہونے کا علاج)

یہ ایک ایسی سیٹنگ ہے جو ہر بندے کے موبائل میں ہر وقت آن ہونی چاہیے۔

اصل کام کیا ہے:
اگر آپ کا فون گھر میں کہیں کھو گیا ہے اور سائلنٹ پر ہے، یا باہر کہیں چوری ہو گیا ہے، تو آپ کسی بھی دوسرے فون سے لاگ ان کر کے اپنے فون پر فل والیوم میں گھنٹی بجا سکتے ہیں، اس کی لائیو لوکیشن دیکھ سکتے ہیں، اور گھر بیٹھے اس کا ڈیٹا ڈیلیٹ کر سکتے ہیں۔
منقول

کیا آپ کو معلوم ہے کہ ریسرچرز کو بحر ہند میں  #وہیلز کا ایک  #قبرستان ملا ہے جو کہ بارہ سو کلو میٹر لمبا ہے جس میں پانچ ...
21/06/2026

کیا آپ کو معلوم ہے کہ ریسرچرز کو بحر ہند میں #وہیلز کا ایک #قبرستان ملا ہے جو کہ بارہ سو کلو میٹر لمبا ہے جس میں پانچ سو سے اوپر وہیلز کی باقیات ملی ہیں اور ان میں سے سب سے پرانی باقیات 5.3 ملین یا پھر ترپن لاکھ سال پرانی ہیں۔

یاد رہے ایک #وہیل تقریبا دس فٹ (سب سے چھوٹی قسم) سے لے کر سو فٹ (سب سے بڑی قسم) تک لمبی ہو سکتی ہے۔ اور ان کی عمر کم سے کم اسی سال سے لے کر زیادہ سے زیادہ دو سو سال تک ہو سکتی ہے۔

دوسری  #جنگِ عظیم میں جو جنگی  #جہاز واپس لوٹتے، اُن کے پروں اور دُم پر گولیوں کے سب سے زیادہ نشان ہوتے۔ فوج نے فیصلہ کی...
20/06/2026

دوسری #جنگِ عظیم میں جو جنگی #جہاز واپس لوٹتے، اُن کے پروں اور دُم پر گولیوں کے سب سے زیادہ نشان ہوتے۔ فوج نے فیصلہ کیا: انہی حصوں پر زیادہ حفاظتی لوہا لگاؤ۔ منطقی لگتا ہے، نا؟ ایک ریاضی دان نے کہا: "بالکل غلط۔ لوہا وہاں لگاؤ جہاں ایک بھی نشان نہیں۔"
وہ ریاضی دان تھا ۔ اور اُس کی بات نے سوچنے کا ایک پورا انداز بدل دیا۔

#والڈ نے ایک ایسی بات کی طرف اشارہ کیا جو سب کی نظروں سے اوجھل تھی۔ یہ نشان صرف اُن جہازوں پر تھے جو واپس لوٹ آئے۔ یعنی پروں اور دُم پر گولی کھا کر بھی جہاز اُڑ سکتا تھا۔ مگر جو جہاز انجن یا کاک پٹ پر گولی کھاتے، وہ کبھی واپس ہی نہیں آتے — اِسی لیے اُن حصوں پر "کوئی نشان نہیں" دکھتا تھا۔ اصل کمزور جگہ وہی تھی جہاں ڈیٹا خاموش تھا۔
اِسے "سروائیورشپ بایس" کہتے ہیں — یعنی صرف کامیاب یا بچ جانے والوں کو دیکھ کر نتیجہ نکالنا، اور اُن سب کو بھول جانا جو ناکام ہو کر منظر سے غائب ہو چکے۔ ہماری سب سے بڑی غلطیاں اکثر اُس ڈیٹا میں چھپی ہوتی ہیں جو ہمیں نظر ہی نہیں آتا۔

یہ فریب ہماری روزمرہ سوچ میں گہرا دھنسا ہوا ہے۔ ہم کہتے ہیں "فلاں ارب پتی نے تو کالج چھوڑ دیا تھا، تو ڈگری بے کار ہے۔" مگر ہم اُن لاکھوں لوگوں کو نہیں دیکھتے جنہوں نے کالج چھوڑا اور کہیں نہ پہنچے — کیونکہ اُن کی کوئی کہانی نہیں چھپتی۔ ہم صرف جیتنے والوں کی سرخیاں پڑھتے ہیں، اور ہارنے والوں کی خاموشی کو "ثبوت کی غیر موجودگی" سمجھ لیتے ہیں۔

یہی باتیں ہمیں اپنی زندگی میں بھی دھوکا دیتا ہے۔ ہم کامیاب لوگوں کی عادتیں نقل کرتے ہیں — "وہ صبح 4 بجے اٹھتا تھا، اِس لیے میں بھی اٹھوں گا" — یہ بھولتے ہوئے کہ شاید ہزاروں ناکام لوگ بھی 4 بجے اٹھتے تھے۔ کامیابی کا اصل راز اکثر وہ ہوتا ہے جو کہانی میں نظر نہیں آتا: اتفاق، حالات، مدد، اور وہ بے شمار جو اُسی راستے پر چل کر بھی نہ پہنچ سکے۔
سوچنے کا سمجھدار طریقہ یہ ہے کہ ہر کامیابی کی کہانی کے پیچھے ایک سوال رکھیں: "جو لوگ یہی کر کے ناکام ہوئے، وہ کہاں ہیں — اور کیا میں اُنہیں دیکھ بھی پا رہا ہوں؟" سب سے اہم سچ اکثر وہاں چھپا ہوتا ہے جہاں ڈیٹا خاموش ہے۔

Address

Abdul Rehman Shaheed Road Gujrat
Gujrat
50700

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Live Pakistan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share