Live Pakistan

Live Pakistan You are free you are free to go to your temples, you are free to go to your mosques or to any other place of worship in this State of Pakistan.

You may belong to any religion or caste or creed that has nothing to do with the business of the State
Jinnah's

حساب برابر کرو  Mian Shehbaz Sharif Maryam Nawaz Sharif Ishaq Dar ISPR
10/04/2026

حساب برابر کرو

Mian Shehbaz Sharif Maryam Nawaz Sharif
Ishaq Dar ISPR

مشترکہ پیغام شکریہ پاکستان شکریہ پاکستان 🇵🇰منجانب برطانیہ،فرانس، اٹلی، جرمنی، کینیڈا،ڈنمارک، ہالینڈ، اسپین، یورپی کمیشن ...
09/04/2026

مشترکہ پیغام شکریہ پاکستان شکریہ پاکستان 🇵🇰
منجانب برطانیہ،فرانس، اٹلی، جرمنی، کینیڈا،ڈنمارک، ہالینڈ، اسپین، یورپی کمیشن اور جاپان

بھاگ لگے رہن!!! آئی ایم ایف سے قرض لیا۔ افغانستان کی منجی ٹھوکی۔ چین سے جنگ بندی کی بات کی۔ ایران کے ساتھ کھڑے ہوئے۔ سعو...
08/04/2026

بھاگ لگے رہن!!!

آئی ایم ایف سے قرض لیا۔ افغانستان کی منجی ٹھوکی۔ چین سے جنگ بندی کی بات کی۔ ایران کے ساتھ کھڑے ہوئے۔ سعودی عرب پر حملے کی مذمت کی۔ امارات کو قرض واپس دینے کی یقین دہانی کرائی. ٹرمپ کو دو ہفتے کی مہلت دلوائی۔ ایرانی سول آبادی کو بہت بڑی بربادی سے بچایا. عالمی ثالث بنے۔ آبنائے ہرمز کھلوائی۔ دنیا پھر کو تیسری عالمی جنگ ہے بال بال بچا لیا.

اور قوم؟ قوم ہفتے میں تین دن ورک فرام ہوم کرتے ہوئے، ایس ایل دیکھ رہی تھی۔

یہ ملک نہیں، معجزہ ہے، جو بیک وقت دیوالیہ بھی ہے اور ناگزیر بھی۔ دنیا کی کوئی بزنس سکول اس ماڈل کو نہیں سمجھا سکتا جس میں ایک ملک ایک ہاتھ سے بھیک مانگے اور دوسرے ہاتھ سے دنیا بچائے۔ جس کی کرنسی گر رہی ہو مگر عالمی وقار بڑھ رہا ہو۔ جس کا بجٹ خسارے میں ہو مگر جغرافیائی سیاسی سرمایہ عروج پر ہو۔

کوئی اور ملک ہوتا تو یا تو قرض لیتا یا جنگ روکتا۔ پاکستان نے دونوں بیک وقت کیے۔ اور درمیان میں کرکٹ بھی دیکھی۔

اسے کہتے ہیں پاکستان۔ جہاں بقا بھی معجزہ ہے اور معجزہ بھی معمول۔

پاکستان - نام یاد رکھیں! 😅

عارف انیس

منقول

اگر سمجھ نہ آئی ہو تو سمجھنے کی ایک کوشش مزید کی جا سکتی ہے.پاکستان کا ٹرمپ کو نوبل انعام کے لیے تجویز کرنا اس سے محبت ن...
08/04/2026

اگر سمجھ نہ آئی ہو تو سمجھنے کی ایک کوشش مزید کی جا سکتی ہے.

پاکستان کا ٹرمپ کو نوبل انعام کے لیے تجویز کرنا اس سے محبت نہ تھی یہ ایک سفارتی حربہ تھا. ان مووز کے سٹریٹیجک فائدے ہوتے ہیں اور ایک فائدہ اس وقت آپ سب کے سامنے ہے.

باقی نہ نوبل انعام ہم نے دینا ہوتا ہے نہ ہم سے پوچھ کر دیا جاتا ہے نہ ہی یہ پہلے بڑا میرٹ پر دیا جاتا تھا کہ ہم نے غلط بندے کا نام لے کر اس کی حرمت پامال کر دی

یہ انعام پہلے ہی ویپنائز ہو چکا ، ہم نے بھی ایک داؤ کھیل دیا اور بس.

یہ جب تجویز کیا گیا تھا اس وقت بھی کوشش یہی تھی کہ امن پر یہ پکا ہو جائے اور ایران پر حملہ نہ کرے. عدیم ہاشمی والی بات کہ:
اس نے ہنسی ہنسی میں محبت کی بات کی
میں نے عدیم اس کو مکرنے نہیں دیا

ٹرمپ امن اور جنگیں رکوانے کی بات کر رہا تھا پاکستان نے اسے پکا کرنے کی کوشش کی یہ شاہزادہ تو امن کا داعی ہے،. یہ بالکل جنگ نہیں کرے گا، اسے نوبل انعام دے دو یار.

پاکستان سپر پاور نہیں ہے کہ ڈنڈا اٹھا کر امریکہ کے سامنے کھڑا ہو جائے ، جب کہ یہ کام ابھی تک روس اور چین نہیں کرسکے. پاکستان نے ناخنوں سے پہاڑ تراش کر راستے بنانے ہوتے ہیں.

جسے بات سمجھ آ گئی ہو اس کا بھی بھلا، جسے نہ آئی ہو اس کا بھی بھلا، اور جو جانتےبوجھتے نہ سمجھے اس کا بھی بھلا

پاکستان زندہ باد

پیٹرول پمپوں میں زیادہ شک پیمانے کا ہی ہوتا ہے۔لیکن کیا آپ کو نہیں لگتا اس چیز پہ گاڑیاں بنانے والی کمپنیاں قابو پا سکتی...
03/04/2026

پیٹرول پمپوں میں زیادہ شک پیمانے کا ہی ہوتا ہے۔لیکن کیا آپ کو نہیں لگتا اس چیز پہ گاڑیاں بنانے والی کمپنیاں قابو پا سکتی ہیں؟ اتنے فیچرز ہونے کے باوجود گاڑیوں میں ابھی تک یہ فیچر کیوں نہیں آیا کہ فیول ٹینک کا ڈھکن کھُلنے کے بعد کتنا پیٹرول گاڑی میں ڈلا اُسے ناپا جائے؟ اس سے سارے شکوک و شُبہات اور دو نمبریاں دور ہو سکتی ہیں۔صرف ایک گیج لگنا ہے ٹینکی کے ڈھکن کے اندر جو میٹر میں الگ سے نئے ڈلنے والے پیٹرول کی مقدار بتائے گی۔اگر اب تک گاڑیوں کی کمپنیوں نے ایسا نہیں کیا تو کیا آپ کو لگتا ہے یہ کرنا چاہیے؟یا وہ جان بوجھ کر یہ نہیں کر رہے؟

“امارات” کا وہ راز جو کوئی نہیں جانتاصحافی: جمال ریانکوئی نہیں جانتا کہ “امارات” جیسے ایک ملک، جس کا رقبہ صرف تقریباً (7...
01/04/2026

“امارات” کا وہ راز جو کوئی نہیں جانتا
صحافی: جمال ریان

کوئی نہیں جانتا کہ “امارات” جیسے ایک ملک، جس کا رقبہ صرف تقریباً (75) ہزار مربع کلومیٹر ہے، اور جس کی مقامی آبادی ابھی تک (800) ہزار سے بھی کم ہے، اتنی تیزی سے ترقی کیسے کر گیا؟!!

“امارات” کے پاس نہ کوئی مضبوط سیاسی تاریخ ہے، نہ آزادی کی تحریکیں، اور نہ ہی ثقافتی یا فکری ادارے۔
کیا شیخ زاید نے اس پر سورۃ “یس” پڑھ دی کہ یہ ایک ہی رات میں تعمیر و ترقی سے بھر گیا، اور مغربی ایشیا کی تیزی سے بڑھتی ہوئی معیشتوں میں شامل ہو گیا؟!!

حقیقت یہ ہے کہ: “امارات پروجیکٹ” کے پیچھے یہودی ہیں۔ مغرب میں موجود “امیر یہودیوں” نے یہ سوچا کہ مشرقِ وسطیٰ میں ایک یہودی بستی قائم کی جائے، جو مالی مفادات اور تجارتی سرگرمیوں کی نگرانی کرے، بغیر اس کے کہ “اصل ریاست” سے براہِ راست تعلق رکھا جائے، کچھ سیاسی اور دیگر وجوہات کی بنا پر۔

1971 سے، جو کہ قیام کا سال ہے، مغرب نے امارات کو پہلے چھ اور پھر سات ریاستوں میں تقسیم رکھا، اور ہر ریاست کا اپنا امیر، فوج، پولیس اور سکیورٹی نظام ہے،
جبکہ ابوظہبی تین چوتھائی سے زیادہ رقبے پر مشتمل ہے،
تاکہ ایک مضبوط مرکزی ریاست بننے کا امکان کم رہے۔

اگر ہم سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مان بھی لیں کہ امارات کی آبادی 750 ہزار ہے،
تو اس کا کیا مقابلہ ان غیر ملکیوں سے ہے جو وہاں رہتے ہیں، جن کی تعداد (90 لاکھ) ہے، اور وہ (200) قومیتوں اور (150) نسلوں سے تعلق رکھتے ہیں؟!!
یہاں تک کہ اگر تمام مقامی لوگ فوج، سکیورٹی اور انٹیلیجنس بن جائیں، تب بھی وہ اپنے ملک کا دفاع نہیں کر سکتے!!

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جب آپ امارات میں داخل ہوتے ہیں، تو ایسا لگتا ہے جیسے آپ کسی یورپی یا ترقی یافتہ ایشیائی ملک میں آ گئے ہوں، جہاں بہترین نظام، پیشہ ورانہ رویہ، اعلیٰ نظم و ضبط، صاف ستھری اور خوبصورت سڑکیں نظر آتی ہیں،
لیکن ایک “اصل شہری” کو تلاش کرنا مشکل ہوتا ہے؛ کیونکہ ایئرپورٹ سے لے کر رہائش تک زیادہ تر معاملات “غیر ملکیوں” کے ہاتھ میں ہوتے ہیں۔

مختلف عرب ممالک کے لوگ بھی موجود ہیں، جبکہ ہوائی اڈوں پر پروازوں کی تعداد اور بندرگاہوں میں جہازوں کی آمد و رفت دنیا کے بڑے ترین مراکز کا مقابلہ کرتی ہے، جس سے انسان حیران رہ جاتا ہے!!!

کیا یہ ممکن ہے کہ ایک سادہ سوچ رکھنے والا “اماراتی” اس پیچیدہ نظام کو چلا رہا ہو؟!!

“امارات” بالخصوص ابوظہبی میں دنیا کے امیر ترین افراد کی بڑی تعداد موجود ہے، جن کی تعداد تقریباً (75) ہزار ملینئرز بتائی جاتی ہے، جن میں امیر یہودیوں کا تناسب زیادہ ہے۔
اس کا مطلب ہے کہ اس بڑے مالی ذخیرے کے لیے ایک محفوظ ماحول فراہم کیا گیا ہے۔
اسی لیے یہ عجیب نہیں کہ محمد بن زاید کو اسرائیل کی طرف لے جانے میں ایک یہودی ارب پتی حاییم سابان کا کردار تھا۔

“امارات” صرف بلند عمارتوں، خوبصورت سڑکوں، تجارت یا صنعت کا نام نہیں،
بلکہ یہ “امت کے خلاف سازش کا ایک مرکز” ہے۔

اہم سوال:
امارات کو اس قدر اسلحہ پر خرچ کرنے کی کیا ضرورت ہے، جبکہ وہ دنیا میں اسلحہ خرچ کرنے والی پانچویں بڑی ریاست ہے؟
اس کی فوج کہاں ہے؟
اور وہ کن سرحدوں کا دفاع کر رہی ہے؟

جواب:
یہ تمام اسلحہ، چاہے ظاہر ہو یا پوشیدہ، خطے کے ممالک میں مداخلت اور سازشوں کے لیے استعمال ہوتا ہے،
اور کوئی بھی عرب یا اسلامی ملک ایسا نہیں جس کے سیاسی، معاشی یا سکیورٹی معاملات میں امارات کی مداخلت نہ ہو۔

ایک اور سوال:
کیا آلِ زاید خاندان کے پاس اتنی ذہانت ہے کہ وہ اتنے پیچیدہ معاملات چلا سکے؟
اور کیا امارات کے حکمرانوں کے مفاد میں ہے کہ وہ ہزاروں کلومیٹر دور ممالک کے معاملات میں مداخلت کریں؟

سوال:
سرمایہ دار خود براہِ راست امارات پر حکومت کیوں نہیں کرتے؟

اس سوال کا جواب ہنری فورڈ کی 1921 کی کتاب “دی انٹرنیشنل جیو” میں دیا گیا ہے، جس میں کہا گیا کہ:
“یہودی دنیا کو پس پردہ رہ کر چلانا پسند کرتے ہیں۔”

ایک اور سوال:
انہوں نے سرمایہ کاری کے لیے اسرائیل کے بجائے امارات کو کیوں منتخب کیا؟

جواب:
کیونکہ اسرائیل سرمایہ کاری کے لیے موزوں نہیں، وہ ایک “فوجی مورچہ” ہے، ہر وقت خطرے میں رہتا ہے،
اور خطے میں اس کے ساتھ تجارتی تعلقات بھی زیادہ پسند نہیں کیے جاتے۔
یعنی وہ غیر مستحکم ہے، اور وہاں کام کرنے والوں کا تعلق براہِ راست یہودیوں سے ہوتا ہے۔

خلاصہ:
“امارات” دراصل 1971 سے ایک اسرائیلی بستی ہے۔

آج یہ پوسٹ کئی بار نظروں سے گزری ہے، مجھے لگتا ہے کہ اس میں کافی دم ہے۔

آپ کی کیا رائے ہے؟

راجہ مبین اللہ خان

جب امریکہ نے ویت نامی انقلابیوں کے ساتھ مذاکرات کا فیصلہ کیا تو اس نے انہیں کہا کہ پیرس میں اپنا ایک وفد بھیجیں تاکہ جنگ...
28/03/2026

جب امریکہ نے ویت نامی انقلابیوں کے ساتھ مذاکرات کا فیصلہ کیا تو اس نے انہیں کہا کہ پیرس میں اپنا ایک وفد بھیجیں تاکہ جنگ بندی پر بات چیت ہوسکے۔ اُس وقت ویت نامی مجاہدین امریکی فوجیوں پر کاری ضربیں لگا چکے تھے اور ان کے ساتھ سخت سلوک بھی کیا تھا۔
چنانچہ ویت نامی انقلابیوں نے چار افراد پر مشتمل ایک وفد بھیجا، دو خواتین اور دو مرد۔ امریکی خفیہ اداروں نے اس وفد کے لیے پیرس کے اعلیٰ ترین ہوٹلوں میں قیام و طعام کا بندوبست کیا، ہر طرح کی آسائشیں، راحتیں اور نعمتیں مہیا کر دیں۔
لیکن جب وفد پیرس کے ہوائی اڈے پر اُترا تو وہاں موجود امریکی کاریں انہیں ہوٹل لے جانے کے لیے تیار کھڑی تھیں، مگر ویت نامی وفد نے ان میں بیٹھنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ وہ اپنی مرضی سے قیام کریں گے اور وقت پر اجلاس میں پہنچ جائیں گے۔
امریکی وفد کو یہ سن کر حیرت ہوئی۔ انہوں نے پوچھا: "آپ کہاں قیام کریں گے؟"
وفد کے سربراہ نے جواب دیا: "ہم پیرس کے ایک مضافاتی علاقے میں مقیم ایک ویت نامی طالب علم کے گھر میں رہیں گے۔"
امریکی نمائندہ مزید حیران ہوا اور کہا: "ہم نے تو آپ کے لیے ایک شاندار اور آرام دہ ہوٹل کا بندوبست کیا ہے۔"
اس پر ویت نامی نے کہا:
"ہم تو آپ سے لڑائی کے دوران پہاڑوں میں رہتے تھے، چٹانوں پر سوتے اور گھاس پھوس کھا کر گزارا کرتے تھے۔ اگر اب ہماری زندگی بدل گئی تو ڈرتے ہیں کہ کہیں ہمارے ضمیر بھی نہ بدل جائیں۔ اس لیے ہمیں ہماری حالت پر رہنے دیں۔"
چنانچہ وفد نے اس طالب علم کے گھر میں قیام کیا، اور بعد ازاں یہی مذاکرات امریکی قبضے کے مکمل خاتمے کا سبب بنے۔
جب دونوں وفود ہوائی اڈے پر ملاقات کے لیے آئے تو امریکی نمائندہ مصافحہ کرنے کے لیے آگے بڑھا مگر ویت نامیوں نے ہاتھ بڑھانے سے انکار کر دیا اور ان کے سربراہ نے کہا:
"ہم اب بھی دشمن ہیں، ہمارے عوام نے ہمیں آپ سے مصافحہ کرنے کا اختیار نہیں دیا۔
جو اپنا ضمیر بیچ دے، وہ اپنا وطن بھی بیچ دیتا ہے۔"
ایک دن جنرل "جیاب" جو ویت نامی انقلابی رہنماؤں میں سے تھے، نے ستر کی دہائی میں ایک عربی دارالحکومت کا دورہ کیا، جہاں فلسطینی "انقلابی" تنظیمیں موجود تھیں۔
وہاں جا کر اُس نے دیکھا کہ ان کے قائدین پرتعیش زندگی گزار رہے ہیں: جرمن گاڑیاں، کوبائی سگری، اطالوی مہنگے سوٹ، اور فرانسیسی قیمتی خوشبوئیں۔ جب اس نے یہ سب اپنی ویت کانگ کے جنگلوں کی زندگی سے موازنہ کیا تو بے ساختہ ان سے کہا:
"آپ کی بغاوت کبھی کامیاب نہیں ہوگی !"

انہوں نے پوچھا: "کیوں؟"
جنرل جیاب نے جواب دیا:
"کیونکہ انقلاب اور دولت اکٹھے نہیں رہ سکتے۔
وہ بغاوت جو شعور کے بغیر ہو دہشت گردی میں بدل جاتی ہے، اور وہ بغاوت جس پر مال و دولت برسائی جائے اس کے قائدین چور بن جاتے ہیں۔
اگر کوئی شخص انقلاب کا دعویٰ کرے مگر خود محلوں اور کوٹھیوں میں رہے، لذیذ کھانے کھائے، اور عیش و عشرت کی زندگی بسر کرے، جبکہ باقی عوام کیمپوں میں رہیں اور زندہ رہنے کے لیے بین الاقوامی امداد کے محتاج ہوں… تو سمجھ لو کہ وہ قیادت حقیقتاً انقلاب لانا ہی نہیں چاہتی۔
اور جس قیادت کو انقلاب کی کامیابی مطلوب ہی نہ ہو، اس کی بغاوت کبھی کامیاب نہیں ہوسکتی۔

مستند حوالہ جات :
1) Stanley Karnow — Vietnam: A History
اس کتاب میں پیرس امن مذاکرات، ویت نامی قیادت کے اصولی رویّے، سادگی اور امریکی دباؤ کو مسترد کرنے کے واقعات تفصیل سے بیان کیے گئے ہیں۔
2) Vo Nguyen Giap — People’s War, People’s Army
جنرل جیاب کی یہ مستند تصنیف ہے جس میں وہ واضح کرتے ہیں کہ انقلاب کی کامیابی کے لیے اخلاقی دیانت، عوام سے قربت اور سادہ طرزِ زندگی ناگزیر ہے۔
3) Frantz Fanon — The Wretched of the Earth
یہ کتاب انقلابی تحریکوں کے زوال پر گہرا تجزیہ پیش کرتی ہے اور واضح کرتی ہے کہ جب انقلابی قیادت مراعات اور عیش و عشرت میں مبتلا ہو جائے تو تحریک اپنی روح کھو دیتی ہے۔

24/03/2026

اگر دولت سے ایٹم بم بنتے تو آج ایران،عراق، سعودیہ،دبئی،لبیہ کے پاس سونے کے ایٹم بم ہوتے

24/03/2026

ان بابا جی کو یہ سب کس نے بتایا تھا؟
❤️🇵🇰❤️

کیا پاکستان بننے سے پہلے بلوچستان نام کی کوئی ریاست تھی؟بلوچ نوجوانوں کو اپنی ریاست کے لیے لڑانے اور پنجابیوں کے خلاف نف...
16/03/2026

کیا پاکستان بننے سے پہلے بلوچستان نام کی کوئی ریاست تھی؟

بلوچ نوجوانوں کو اپنی ریاست کے لیے لڑانے اور پنجابیوں کے خلاف نفرت کا بیج بونے سمیت تمام پاکستانیوں کے خلاف ظلم و بربریت کے پہاڑ توڑے گے،

جو بلوچی نوجوانوں جھوٹ بولے گئے ان میں پہلا یہ ہے کہ بلوچستان ایک آزاد ریاست تھی جسے زبردستی پاکستان کے ساتھ الحاق کیا گیا تھا۔
اس حوالے سے بہت سی جھوٹی کہانیاں سنائی جاتی ہیں۔

سچ تو یہ ہے کہ بلوچستان کا پاکستان سے الحاق بلوچستان کے تمام نمائندوں نے اپنی مرضی اور خوشی سے کیا تھا۔

یاد رہے کہ 1947 سے پہلے بلوچستان نامی ریاست کا وجود بھی نہیں تھا۔
موجودہ بلوچستان پاکستان نے بنایا تھا۔

1933 تک بلوچستان کا یہ علاقہ 6 حصوں پر مشتمل تھا۔
قلات خاران اور لسبیلہ شاہی ریاستیں تھیں،

مکران ایک ضلع تھا اور باقی علاقہ ایک ولی عہد برطانوی چیف کمشنر صوبہ تھا۔

گوادر سلطنت عمان کا حصہ تھا جسکو پاکستان نے 60 کی دہائی میں سلطنت امان سے خریدا۔

ان سب کے معاملات بلوچ اور پشتون شاہی جرگہ اور کوئٹہ میونسپلٹی کے زیر انتظام تھے۔

1933 میں انگریزوں نے خان آف قلات کو لسبیلہ 1933 اور خاران پر انتظامی کنٹرول دے دیا لیکن انہیں ریاست قلات میں شامل نہیں کیا۔
اس وقت بھی خان آف قلات کو غیر ہندوستانی ریاست بنانے کی درخواست برطانوی ولی عہد نے مسترد کر دی تھی۔

پاکستان کے خلاف بغاوت ریاست قلات سے شروع ہوئی، جہاں 'خان' کے ایک کانگریسی بھائی نے بغاوت کی۔

اہم بات یہ ہے کہ باغی کی اہلیہ کا تعلق افغان شاہی خاندان سے تھا اور قلات کے حکمران کے پاکستان سے الحاق کے بعد وہ اپنی اہلیہ کے ساتھ افغانستان فرار ہو گیا اور وہاں پاکستان کے خلاف دہشت گردی کا پہلا کیمپ بنایا۔

یہ بلوچستان میں پاکستان کے خلاف افغانستان کی پہلی پراکسی تھی۔

ایک اور اہم بات قابل غور ہے کہ قلات کے حکمران جنہیں خان آف قلات کہا جاتا تھا وہ براہوی نسل کا تھا نہ کہ بلوچ، بلوچ نسل کی بلوچستان میں کل آبادی کا 35 فیصد ہے۔

براہوی 17فیصد ہیں اور پشتون بھی 35 فیصد ہیں۔ باقی دیگر قومیتوں کے لوگ ہیں۔

پاکستان بننے سے پہلے یہ تناسب تقریباً ایک جیسا تھا.

قلات کے معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد، خان آف قلات نے قلات کو برطانوی ولی عہد کے زیر کنٹرول ریاست کے طور پر تسلیم کیا۔ جس کے بعد قلات کو نہ فوج رکھنے کی اجازت تھی، نہ ہی وہ خارجہ تعلقات یا الگ خارجہ پالیسی بنا سکتا تھا، نہ اس کے پاس ریلوے ہو سکتا تھا اور نہ ہی وہ غیر ملکی تجارت کر سکتا تھا۔
نیز خان آف قلات نے برطانوی پولیٹیکل ایجنٹ کو بلوچ سرداروں کے درمیان تنازعات میں ثالث کے طور پر قبول کیا تھا.

اس معاہدے کے تحت خان آف قلات نہ صرف برطانیہ کے ولی عہد کو ٹیکس دینے کا پابند تھا بلکہ وہ ولی عہد برطانیہ کو جنگ کے لیے افرادی قوت فراہم کرنے کا بھی پابند تھا۔ اس کے بدلے میں، برطانوی ولی عہد نہ صرف قلات کو افغانستان کی دراندازی سے بچائے گا، بلکہ خان کو رقم یا وظیفہ بھی فراہم کرے گا۔

قلات کی طرح پورے ہندوستان میں کل 565 ریاستیں تھیں جن پر نواب خان یا راجے مہاراجہ حکومت کرتے تھے۔ یہ ریاستیں کشمیر کی طرح آزاد نہیں تھیں۔ نہ ہی یہ آزاد ریاستیں تھیں۔

لہٰذا یہ بات سراسر غلط ہے کہ قلات یا بلوچستان کا کوئی حصہ قیام پاکستان سے پہلے آزاد یا خود مختار تھا۔
قلات تاج برطانوی دور حکومت میں دیگر 565 شاہی ریاستوں کی طرح برطانیہ کی ایک جاگیردار ریاست تھی، جسے نہ فوج رکھنے کی اجازت تھی، نہ غیر ملکی تجارت کی، نہ خارجہ پالیسی کی، یہاں تک کہ ریلوے کی تعمیر کی بھی اجازت نہیں تھی۔ قلات اور ان دوسری ریاستوں میں کوئی فرق نہیں تھا اور اس کے تمام دستاویزی ثبوت آج بھی موجود ہیں۔

اور ہم امید کرتے ہیں ہماری پاک فوج پورے بلوچستان سے ان ظالم جابر دہشت گردوں کا صفایا کر کے کہ پاکستان کے اتنے بڑے علاقہ کو انتظامی بنیادوں پر صوبوں/ریاستوں/capital territories میں تقسیم کر کے ان علاقوں میں امن بحال کرے گی تاکہ یہ اس علاقے کا امن خراب کرنے والے یہ مٹھی بھر لوگ اپنے منطقی انجام کو پہنچیں۔

14/03/2026

یہ محترمہ اکیلی نہیں ہم میں سے بہت سے لوگوں کی فطرت ایسی ہی غلیظ اور گھناؤنی ہے ۔
یہ معاملہ ان محترمہ کی چھوٹی سی معافی سے ختم ہوسکتا تھا لیکن کیونکہ پاکستان میں یہ آزادی ہے کہ "ڈگا کھوتی تو غصہ کمہار تے"
اپنی ذاتی سوچ کا گند پھیلاو پھر اسکو ملک پاکستان پر ڈال دو۔ ان محترمہ کو حق حاصل نہیں کہ کسی بھی قوم کے بارے اپنی رائے دے کیونکہ ہر قوم میں ہر طرح کے لوگ ہوتے ہیں۔پھر اگر اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے تو اسکا ری ایکشن فیس کرے۔ اپنی غلطی ماننے کی بجائے اس ملک پاکستان کو برا بھلا کہنا کہاں کا انصاف ہے؟؟؟ کیا کسی حکومتی عہدیدار نے اسکے منہ میں الفاظ ڈالے تھے کہ ایسا بولو۔ ذاتی رائے دیتے وقت اگر اندر کی غلاظت کو کنٹرول نہیں کیا تو اب اس میں پاکستان کا کیا قصور ہے؟ یہاں تو ہر دوسرے ٹاپ برینڈ کے پیچھے خواتین شامل ہیں لیکن انہوں نے اپنے ذاتی خیالات کو پبلسٹی سمیٹنے کےلئے استعمال نہیں کیا نہ جھوٹی ہمدردی سمیٹنے کےلئے عورت کارڈ استعمال کیا۔ اس لئے آج کوئی بھی ان پر تنقید نہیں کرتا۔
کیا دنیا کے کسی بھی ملک میں وہاں کا ایک بزنس آنر ایسی باتیں کرسکتا ہے؟

جب 1973 میں عرب اسرائیل جنگ کے نتیجے میں خلیجی ممالک نے امریکہ کا تیل بند کر دیا تو اس وقت امریکہ میں بہت زیادہ افرا تفر...
11/03/2026

جب 1973 میں عرب اسرائیل جنگ کے نتیجے میں خلیجی ممالک نے امریکہ کا تیل بند کر دیا تو اس وقت امریکہ میں بہت زیادہ افرا تفری پھیل گئی۔ امریکہ نے اس کے نتیجے میں 1975 میں ایک پلان بنایا کہ کیوں نہ ہم اپنے ہی ملک میں ایک بہت بڑا تیل کا سٹوریج بنائیں جس کو سٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو (SPR) کا نام دیا گیا۔ امریکہ میں خلیج میکسیکو کے پاس دو جگہ پر ایسے سٹوریج بنائے گئے ایک Louisiana اور دوسری ریاست ٹیکساس میں۔ اس کی ٹوٹل کپیسٹی 714 ملین بیرل ہے۔
اس وقت یہ 2025 کے ڈیٹا کے مطابق اس کے اندر 395 ملین بیرل تیل موجود ہے اور امریکہ کی روزانہ کی کھپت 20 ملین بیرل ہے (یہ تقریباً 20 دن کا ایک ایمرجنسی سٹوریج بنتا ہے)۔ اس تیل کے ذخیرے میں مختلف وقت میں مختلف مقدار رہی ہے، 2015 کے بعد اس SPR کے اندر سے تیل نکال کر فروخت کرنے کی اجازت کانگرس کی طرف سے دی گئی اور 2017 سے اب تک تقریباً سات بار اس سے تیل نکال کے بیچا جا چکا ہے۔ بائیڈن انتظامیہ نے 2022 میں اس کے بارے میں یہ اجازت نامہ دیا تھا کہ ہر روز ایک ملین بیرل تیل نکال کر بیچا جا سکتا ہے اگلے 180 دن تک۔ لیکن 2024 تک اس کی فروخت جاری رہی اس کے بعد ابھی تک اس کو فروخت کرنے کا پروسس بند ہے۔
پاکستان کے اندر کیا ہم ایسا کر سکتے ہیں کہ ایک ایسا سٹوریج بنائیں جس کے اندر کم از کم ایک سے دو مہینے تک تیل کا سٹریٹیجک ریزرو رکھ سکیں۔ پاکستان کی حالیہ ضرورت تقریباً پانچ لاکھ بیرل یومیہ ہے۔ اس کو سامنے رکھیں تو ہم تقریباً 35 سے 40 ملین بیرل سٹوریج کا ایک فیسلٹی بنا سکتے ہیں جو ہمیں 60 دن کا ایک ایمرجنسی ذخیرہ فراہم کرے گا۔
یاد رہے کہ پاکستان کے اندر آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے زریعے ہی 25 دن کا بفر سٹوریج رکھا جاتا ہے جس کو اسٹریٹجک پیٹرول ریزرو نہیں کہہ سکتے۔ اوگرا کی 2022 کی ایک سٹڈی کے بعد ایسا سٹوریج بنانے کی تجویز دی گئی تھی۔ پاکستان کی Federal War Book کے مطابق 45 دن کا ذخیرہ ملک میں موجود ہونا چاہیے۔
لیکن اس کی ایک لاگت ہوگی، جس کو کم سے کم کرنے کا خیال رکھنا لازمی ہوگا۔ ایسے سٹوریج دو طرح سے بنائے جا سکتے ہیں امریکہ نے جو طریقہ اپنایا ہے اس کو Salt Caverns کہتے ہیں یعنی کہ زیر زمین گہرے کنویں بنائے جاتے ہیں، نمک کی دیواروں والے یہ کنوئیں سٹوریج کے ساتھ ساتھ ان کو محفوظ بھی بناتے ہیں۔ مطلب کہ یہ ایک تو سیپج نہیں ہوتی اس کی زمین کے اندر پانی کے ذخائر میں ملاوٹ نہیں ہوتی دوسرا بیرونی حملے سے بھی تحفظ ملتا ہے۔ نمک والے ذخائر بنانا کوئی اتنا مشکل کام نہیں ہے لیکن ظاہر ہے اس کے اندر سرمایہ لگتا ہے اور پاکستان کے اندر اگر ایسی سٹوریج بنائیں گے تو یہ دوسرے Above Ground سٹیل سٹرکچر ہیں سٹیل ٹینکس ہیں ان کے مقابلے میں سستا بنتا ہے ایک اندازے کے مطابق (جو میں نے مصنوعی ذہانت سے ڈسکس کیا ہے) کہ چار سے چھ ڈالر فی بیرل کاسٹ ہوتی ہیں اگر ہم نمک والے سٹوریج بناتے ہیں اور 15 سے 20 ڈالر فی بیرل لاگت آتی ہے اگر ہم ان کو زمین سے اوپر سٹیل ٹینکوں کے اندر رکھتے ہیں۔ سٹیل ٹینکوں کو maintain کرنا بھی مشکل ہوتا ہے اور ان کو مینٹین کرنے کے لیے ایک ڈالر فی بیرل ہے۔

اور جو نمک کے کنوؤں میں آئل رکھا جاتا ہے اس کو سٹور کرنے کی مینٹیننس کاسٹ ہے وہ 20 سینٹ کے قریب بنتی ہے جو سٹیل ٹینکوں کے مقابلے میں کافی کم ہے۔ لیکن ظاہر ہے یہ ایک اسٹریٹجک فیصلہ ہے اگر ہمیں انرجی کی ایمرجنسی سٹوریج چاہیے ہو جس طرح کے حالات آج کل خراب ہو رہے ہیں اور ماضی قریب کے اندر بھی اس طرح کی پریشانی کا سامنا کیا جا چکا ہے اگر ہم اس طرح کی کوئی سٹوریج فیسلٹی بناتے ہیں تو اس کے لیے ہمیں کم از کم ایک سے دو ارب ڈالر چاہیے ہوں گے۔ لیکن اس سے فائدہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کم قیمت پر خریدا گیا آئل یا روس سے امپورٹ کیا گیا ہے آئل اس کے اندر سٹور کر کے اس کو کچھ منافہ پر جو اس کا جو لاگت ہے وہ اس کو پوری کرنے کے لیے ہم لاگو کر سکتے ہیں منافہ کو ا عوام کو بیچا جا سکتا ہے جس سے بڑی پریشانی سے بچا جا سکتا ہے جس قسم کی پریشانی کی صورتحال آج کل ہم دیکھ رہے ہیں۔
ایسے ذخائر صرف امریکہ میں ہی نہیں ہیں بلکہ فرانس اور جرمنی میں بھی ایسے salt caverns پہلے سے موجود ہیں۔ چین نے 2003 میں 500 ملین بیرل کا سٹوریج بنانے کا آغاز کیا تھا جس کا ابھی آخری اور تیسرا مرحلہ جاری ہے۔ چین میں یہ سٹوریج زمین کی سطح کے اوپر بنائے گئے ہیں۔
(ثاقب علی)





#ایران

Address

Abdul Rehman Shaheed Road Gujrat
Gujrat
50700

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Live Pakistan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share