21/12/2025
سو خراب توپوں کی سلامی ان مشوروں کو
تحریر: ساجد بن رحیم
بلوچستان میں پیٹرول کے چھوٹے پمپس بند کرنے کا مشورہ کوئی سادہ انتظامی فیصلہ نہیں، یہ ایک خاموش وار ہے۔ ایسا وار جو گولی کی آواز کے بغیر لگتا ہے مگر اثر میں کہیں زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔ کاغذ پر ایک دستخط، اور زمین پر ہزاروں چولہے بجھ جاتے ہیں۔
یہاں فاصلہ صرف میلوں میں نہیں، قسمتوں میں ناپا جاتا ہے۔ ایک چھوٹا پمپ کسی *غیر قانونی دھندے* کا نام نہیں، یہ کسی باپ کی آخری امید ہے، کسی ماں کے ہاتھ کی روٹی ہے، کسی بیمار کے لئے چلتی ایمبولینس کی سانس ہے۔ جب یہ پمپ بند ہوتے ہیں تو صرف کاروبار نہیں مرتا، زندگی ٹھٹھک کر رک جاتی ہے۔
بھوک جب دروازہ کھٹکھٹاتی ہے تو تہذیب دیوار سے پھسل کر گر جاتی ہے۔ بھوکا پیٹ قانون نہیں پڑھتا، وہ صرف انصاف مانگتا ہے۔ اور جب انصاف نظر نہ آئے تو غصہ راستہ بناتا ہے۔ پھر امن و امان کا قیام حکومت کے لئے ایک نعرہ رہ جاتا ہے، حقیقت نہیں ہوتی ۔ یہ کوئی فلسفہ نہیں، بلوچستان کی روز کی سچائی ہے۔
یہ کہا جاتا ہے کہ بلوچستان نہ صنعت ہے نہ معیشت۔ یہ آدھا سچ جبکہ پورا ظلم ہے۔ یہاں صنعت کم ہے، مگر زندگی پوری ہے۔ ماہی گیر کی کشتی ایندھن مانگتی ہے، ٹرانسپورٹر کی گاڑیاں سانس مانگتی ہے، دور دراز کے طالب علم کی بس امید مانگتی ہے۔ ایک پمپ بند ہوتا ہے تو پورا علاقہ اندھیرے میں چلا جاتا ہے۔
فیصلہ ساز شاید بلوچستان کو دور سے جانتے ہیں ۔ یہاں کی مشکلات لوگوں کی زندگیاں اور ریاست سے جڑے ہوئے جزبات نہیں جانتے۔ کسی کا زرزگار جب وہ بند ہوتا ہے تو لوگوں کے دل میں ریاست کی محبت کو فیصلہ ساز بند کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پھر شکوے جنم لیتے ہیں، فاصلے بڑھتے ہیں، اور وہ خلیج گہری ہو جاتی ہے جسے بھرنے میں دہائیاں لگتی ہیں۔سال 2012 میں گوادر میں تعنیات ایک افسر نے کہا لوگوں میں شعور پھیلائیں یہ وہ باڈر سے منشیات اور بندوق کے علاوہ جو کام کرنا چاہتے ہیں وہ کریں ۔ مگر امن وامان خراب والے والوں کے ہاتھوں میں استمال نہ ہو ۔ آج کسی شہری کے گھر کے باہر پیٹرول کی دکان کو بند کرکے کیا پیغام دیا جارہا ہے ؟
سو خراب توپوں کی سلامی ان مشورہ دینے والوں کو جو ایئر کنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھ کر یہ بھول گئے ہیں کہ بلوچستان نقشہ نہیں، زندہ انسانوں کا نام ہے۔
اگر آج چولہے بجھائے گئے تو کل دل جلیں گے۔ اور جلتے دلوں پر کوئی قانون حکمرانی نہیں کر سکتا!