09/08/2026
گوادر پریس کلب میں گوادر یوتھ رائٹس موومنٹ (GYRM) کے رہنماؤں عارفہ عبداللہ، رضوانہ دلمراد، فریدہ بلوچ، صابر حیاتان اور نصیر نگوری نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے گوادر کے نوجوانوں کے بنیادی حقوق، روزگار، تعلیم، صحت، ماہیگیری، تجارت اور معاشی مواقع سے متعلق 16 نکاتی مطالبہ نامہ پیش کردیا۔ جی وائی آر ایم کے رہنماؤں نے کہا کہ گوادر پاکستان کے اہم معاشی، بندرگاہی اور تجارتی مراکز میں شمار ہوتا ہے، جہاں گوادر پورٹ، گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ، صنعتی زون، ہسپتال، یونیورسٹی اور دیگر بڑے منصوبے قائم ہوئے ہیں، تاہم سوال یہ ہے کہ ان منصوبوں اور اداروں میں گوادر کے نوجوان کا حصہ کہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ گوادر میں جاری ترقی کی وہ مخالفت نہیں کرتے بلکہ چاہتے ہیں کہ ترقی کے ثمرات میں مقامی نوجوانوں کو برابر کا شریک بنایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومتِ پاکستان، حکومتِ بلوچستان، ضلعی انتظامیہ اور تمام سرکاری، نیم سرکاری و نجی اداروں کو چاہیے کہ جہاں کسی آسامی کے لیے اہل مقامی نوجوان موجود ہو، وہاں اسے نظرانداز کرکے باہر سے کسی فرد کو تعینات نہ کیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کا مطالبہ کسی غیر مقامی فرد کے خلاف نہیں بلکہ مقامی نوجوانوں کے حقِ روزگار کے لیے ہے۔ گوادر یوتھ رائٹس موومنٹ نے مطالبہ کیا کہ گوادر پورٹ میں کم از کم 70 فیصد آسامیوں پر اہل مقامی نوجوانوں کو روزگار فراہم کیا جائے اور تکنیکی شعبوں میں مقامی نوجوانوں کی اہلیت کے لیے پورٹ ٹریننگ انسٹیٹیوٹ میں تربیت دی جائے۔ اسی طرح گوادر ڈیولپمنٹ اتھارٹی، فشریز ڈیپارٹمنٹ، صنعتی اداروں اور دیگر متعلقہ محکموں میں گریڈ 1 سے 14 تک کی آسامیوں پر مقامی اہل افراد کو ترجیح دینے کا مطالبہ کیا گیا۔ رہنماؤں نے گوادر میں کام کرنے والی قومی و بین الاقوامی این جی اوز کے لیے لوکل ایمپلائمنٹ پالیسی نافذ کرنے، جی ڈی اے انڈس ہسپتال گوادر اور پاک عمان ہسپتال پسنی میں مقامی نوجوانوں کو ترجیح دینے اور طبی شعبے میں مقامی نوجوانوں کی تربیت کے لیے ٹریننگ انسٹیٹیوٹ قائم کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ انہوں نے یونیورسٹی آف گوادر میں گریڈ 1 سے 12 تک کی آسامیوں پر اہل مقامی افراد کو ترجیح دینے، گوادر نیو انٹرنیشنل ایئرپورٹ میں کم از کم 50 فیصد روزگار کے مواقع مقامی نوجوانوں کے لیے مختص کرنے اور مقامی افراد کے لیے خصوصی تربیتی پروگرام شروع کرنے کا مطالبہ کیا۔ گوادر یوتھ رائٹس موومنٹ نے تمام سرکاری و نیم سرکاری اداروں میں گریڈ 1 سے 12 تک مقامی نوجوانوں کے لیے ترجیحی پالیسی نافذ کرنے، نوجوانوں کو بین الاقوامی تجارت، امپورٹ ایکسپورٹ، کسٹمز اور لاجسٹکس کے شعبوں میں تربیت دینے، ماہی گیروں کے حقوق کو قانونی تحفظ فراہم کرنے اور غیر قانونی ماہی گیری کے خلاف مؤثر کاروائی کا مطالبہ کیا۔ مطالبات میں مقامی نوجوانوں کے لیے جامع لوکل ایمپلائمنٹ اینڈ اسکلز پالیسی تشکیل دینے کی تجویز بھی شامل ہے، جس میں روزگار کا واضح کوٹہ، فنی تربیت اور عملی مواقع فراہم کیے جائیں۔ پریس کانفرنس میں مختلف سرکاری، نیم سرکاری اور نجی اداروں میں طویل عرصے سے کنٹریکٹ بنیادوں پر خدمات انجام دینے والے مقامی ملازمین کا مسئلہ بھی اٹھایا گیا۔ رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ تمام کنٹریکٹ ملازمین کا ریکارڈ مرتب کیا جائے، ان کی کارکردگی کا جائزہ لے کر قواعد و ضوابط کے مطابق مستقل کرنے کے اقدامات کیے جائیں اور کنٹریکٹ سسٹم کے ناجائز استعمال کا خاتمہ کیا جائے۔ گوادر یوتھ رائٹس موومنٹ کے رہنماؤں نے کہا کہ گوادر کا نوجوان خیرات نہیں مانگ رہا اور نہ ہی کسی خصوصی رعایت کا مطالبہ کر رہا ہے، بلکہ اپنے جائز، آئینی اور قانونی حق کا مطالبہ کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ میرٹ کے خلاف نہیں بلکہ میرٹ کے حق میں ہیں، تاہم اگر مقامی نوجوان کسی شعبے میں اہل نہیں تو حکومت کی ذمہ داری ہے کہ اسے تعلیم، تربیت، انٹرن شپ اور عملی مواقع فراہم کرکے اہل بنائے۔ انہوں نے کہا کہ گوادر یوتھ رائٹس موومنٹ کی جدوجہد پرامن، آئینی اور جمہوری ہے۔ وہ کسی ادارے یا فرد کے روزگار کے خلاف نہیں بلکہ ناانصافی کے خلاف اور گوادر کے نوجوانوں کے حقِ روزگار کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں۔ رہنماؤں نے حکومتِ پاکستان، حکومتِ بلوچستان اور تمام متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ 16 نکاتی مطالبات پر فوری اور سنجیدہ مذاکرات کیے جائیں اور گوادر یوتھ رائٹس موومنٹ کے نمائندگان کو اعتماد میں لیا جائے۔ پریس کانفرنس کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ گوادر کے وسائل پر پہلا حق گوادر کے عوام کا، گوادر میں بننے والے اداروں میں پہلا موقع گوادر کے اہل نوجوان کا اور گوادر کی ترقی میں نوجوانوں کی شمولیت ناگزیر ہے۔
دی گوادر پوسٹ