07/09/2026
راولپنڈی ایکسپریس شعیب اختر نے اپنے کیریئر میں برداشت کی جانے والی شدید جسمانی تکلیفوں، گھٹنوں کے سرجریز اور انجریز کے باوجود پاکستان کے لیے کھیلنے کے جنون پر ایک انتہائی سنسنی خیز اور جذباتی انکشاف کیا ہے! 🗣️👇
شعیب اختر نے بتایا کہ اپنے کیریئر کے دوران گھٹنوں میں پانی بھر جانے کی وجہ سے ان کے پاس صرف ایک ہی چارہ بچتا تھا کہ گھٹنوں سے پانی نکلوا کر ڈائریکٹ انجیکشنز لگوائے جائیں۔ انہوں نے سچی بات بتاتے ہوئے کہا کہ "مجھے گھٹنوں سے پانی نکالنے اور درد کے تقریباً 100 انجیکشنز لگے ہیں اور اب تک میرے گھٹنوں کے 12 سے زائد آپریشنز ہو چکے ہیں!"
انہوں نے تنقید کرنے والوں کو کرارا جواب دیتے ہوئے کہا کہ مجھ پر الزام لگایا جاتا تھا کہ میں انجری کا بہانہ بنا کر بھاگ جاتا تھا، حالانکہ اتنی شدید تکلیف اور اتنے آپریشنز کے بعد بھی اتنے ٹیسٹ میچز کھیل جانا ایک معجزہ (Miracle) سے کم نہیں تھا!
شعیب اختر نے حسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "کاش! میں پاکستان کے لیے 70 سے 80 ٹیسٹ میچز کھیل پاتا، تو میں آسانی سے 350 سے 400 وکٹیں حاصل کر لیتا۔ لیکن بدقسمتی سے مجھے مسلسل مواقع اور سلیکشن ہی نہ مل سکی۔"
انہوں نے سلیکٹرز کے معیار پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ اگر مجھ جیسے بالر سے 400 وکٹوں کی گارنٹی لے کر ہی سلیکٹ کرنا تھا تو پھر ایسی سلیکشن پر کیا ہی کہا جائے! یہ تمام ریکارڈز اور ڈیٹا سب کے سامنے موجود ہے، لیکن پاکستان کی نمائندگی کا جو جنون تھا، اس کے لیے میں نے اپنا جسم تک داؤ پر لگا دیا!
سورس : پی ٹی وی اسپورٹس