Haider_aesthetics

Haider_aesthetics DM fOR || PaID PERmoTioN, CoLlaboratiOns ||

08/02/2026

Mohsan e Chora Sharif Hazrat Peer Sayed Ali Tahir Badshah G❤️

30/01/2026

اسلام میں جمعہ کا دن ایک غیر معمولی مقام اور عظیم فضیلت رکھتا ہے۔ یہ دن نہ صرف ہفتے کا بہترین دن ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے اسے مسلمانوں کے لیے عبادت، اجتماع، نصیحت اور روحانی تجدید کا خاص موقع بنایا ہے۔ قرآنِ مجید اور احادیثِ نبوی ﷺ میں جمعہ کی اہمیت پر بار بار زور دیا گیا ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ دن محض ایک عام دن نہیں بلکہ ایمان کو تازہ کرنے اور اللہ سے تعلق مضبوط کرنے کا ذریعہ ہے۔
جمعہ کو عربی میں “یومُ الجمعہ” کہا جاتا ہے، جس کے معنی ہیں “جمع ہونے کا دن”۔ اس دن مسلمان ایک جگہ جمع ہو کر نمازِ جمعہ ادا کرتے ہیں، خطبہ سنتے ہیں اور باہمی اخوت و اتحاد کا عملی مظاہرہ کرتے ہیں۔ اسلام میں اجتماعیت کی بڑی قدر ہے، اور جمعہ اس اجتماعیت کی ایک زندہ مثال ہے۔
جمعہ کی تاریخی حیثیت
احادیثِ مبارکہ کے مطابق جمعہ کے دن حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کیا گیا، اسی دن انہیں جنت میں داخل کیا گیا اور اسی دن زمین پر اتارا گیا۔ ایک روایت میں یہ بھی آیا ہے کہ قیامت جمعہ کے دن قائم ہوگی۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ جمعہ کا دن انسانی تاریخ کے اہم ترین واقعات سے جڑا ہوا ہے۔ گویا یہ دن آغاز بھی ہے اور انجام بھی، تخلیق بھی اور حساب بھی۔
قرآنِ مجید میں جمعہ کا ذکر
اللہ تعالیٰ نے سورۂ جمعہ میں واضح حکم دیا ہے:
“اے ایمان والو! جب جمعہ کے دن نماز کے لیے پکارا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف دوڑو اور خرید و فروخت چھوڑ دو۔”
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ جمعہ کی نماز کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ دنیاوی مصروفیات—even تجارت—کو بھی وقتی طور پر ترک کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جمعہ کا وقت اللہ کے ذکر اور اجتماعی عبادت کے لیے مخصوص ہے۔
نمازِ جمعہ کی اہمیت
نمازِ جمعہ ہر بالغ، آزاد اور مقیم مسلمان مرد پر فرض ہے۔ یہ نماز دو رکعت ہوتی ہے لیکن اس سے پہلے دو خطبے دیے جاتے ہیں جو وعظ و نصیحت، اصلاحِ معاشرہ اور دینی تعلیم کا ذریعہ بنتے ہیں۔ خطبۂ جمعہ کے دوران خاموشی اختیار کرنا ضروری ہے، حتیٰ کہ کسی کو خاموش کرانے کے لیے بولنا بھی منع ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام میں علم، نصیحت اور اجتماعی پیغام کی کتنی قدر ہے۔
جمعہ کے دن کے مسنون اعمال
نبی کریم ﷺ نے جمعہ کے دن کے لیے چند خاص اعمال کی تلقین فرمائی ہے:
غسل کرنا، صاف ستھرے کپڑے پہننا اور خوشبو لگانا
جلدی مسجد جانا اور پہلی صف میں بیٹھنے کی کوشش کرنا
سورۂ کہف کی تلاوت کرنا، جس کے بارے میں حدیث میں آیا ہے کہ یہ تلاوت اگلے جمعہ تک نور عطا کرتی ہے
کثرت سے درودِ پاک پڑھنا، کیونکہ جمعہ کے دن درود نبی ﷺ تک خاص طور پر پہنچایا جاتا ہے
نماز کے بعد دعا اور استغفار میں مشغول رہنا
قبولیتِ دعا کی گھڑی
جمعہ کے دن ایک خاص گھڑی ایسی ہے جس میں مانگی گئی دعا رد نہیں ہوتی۔ علماء نے اس گھڑی کے بارے میں مختلف آراء بیان کی ہیں، مگر دو اوقات زیادہ مشہور ہیں:
خطبے کے دوران سے نماز کے اختتام تک
عصر کی نماز کے بعد غروبِ آفتاب تک
یہی وجہ ہے کہ بزرگانِ دین جمعہ کے دن خاص طور پر عصر کے بعد دعا، ذکر اور توبہ میں مشغول رہتے تھے۔
جمعہ اور امتِ مسلمہ
جمعہ کا دن امتِ مسلمہ کے اتحاد اور باہمی بھائی چارے کی علامت ہے۔ اس دن مسلمان ایک دوسرے سے ملتے ہیں، حالات سے آگاہ ہوتے ہیں اور اجتماعی مسائل پر غور کرتے ہیں۔ خطبۂ جمعہ معاشرے کی اصلاح، اخلاقی بیداری اور دینی شعور پیدا کرنے کا ایک طاقتور ذریعہ ہے۔ اگر خطبہ ذمہ داری اور اخلاص سے دیا جائے تو یہ پورے معاشرے کی سمت بدل سکتا ہے۔
اخلاقی اور روحانی پیغام
جمعہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ زندگی صرف دنیا کمانے کا نام نہیں بلکہ اللہ کی رضا سب سے بڑی کامیابی ہے۔ ہفتے بھر کی مصروفیات کے بعد جمعہ کا دن ہمیں ٹھہر کر سوچنے کا موقع دیتا ہے کہ ہم کہاں جا رہے ہیں، ہمارا مقصد کیا ہے، اور ہمارا اللہ سے تعلق کیسا ہے۔ یہ دن توبہ، رجوع الی اللہ اور خود احتسابی کا دن ہے۔
درود و سلام کی خاص اہمیت
نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جمعہ کے دن مجھ پر کثرت سے درود بھیجا کرو، کیونکہ تمہارا درود میرے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔ درود پڑھنا محبتِ رسول ﷺ کا اظہار بھی ہے اور گناہوں کی معافی اور درجات کی بلندی کا ذریعہ بھی۔ اس دن درود کی کثرت انسان کے دل میں سکون اور نور پیدا کرتی ہے۔
نتیجہ
جمعہ محض ایک ہفتہ وار چھٹی یا رسمی عبادت کا دن نہیں، بلکہ یہ ایمان کی تجدید، روحانی تربیت اور اجتماعی اصلاح کا دن ہے۔ جو مسلمان جمعہ کی قدر کرتا ہے، اس کے آداب کا خیال رکھتا ہے اور اس دن کو اللہ کے قریب ہونے کے لیے استعمال کرتا ہے، اس کی زندگی میں برکت، سکون اور راہنمائی آتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں جمعہ کی حقیقی روح کو سمجھنے، اس کی برکتوں سے فائدہ اٹھانے اور اس دن کی عبادات کو اخلاص کے ساتھ ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین 🤲

30/01/2026

فرمانِ مرشدِ پاک: حضرت پیر سید محمد منظور آصف طاہر بادشاہ رحمتہ اللہ علیہ

"قیامت کے دن جنت اور دوزخ کا فیصلہ آلِ نبی ﷺ کی نسبت سے ہوگا۔"

محبتِ اہل بیتؑ: ایمان کی بنیاد اور نجات کا معیار
حضرت پیر سید محمد منظور آصف طاہر بادشاہ رحمتہ اللہ علیہ کا فرمانِ عالیشان ہے کہ "قیامت کے دن جنت اور دوزخ کا فیصلہ آلِ نبی ﷺ کی نسبت سے ہوگا"۔ یہ قولِ مبارک قرآن و حدیث کے عین مطابق ہے، کیونکہ اہل بیتِ اطہارؑ کی محبت کوئی عام نیکی نہیں بلکہ ایمان کی قبولیت کی بنیادی شرط ہے۔

۱. اہل بیتؑ سے دشمنی، رسول اللہ ﷺ سے دشمنی ہے
نبی کریم ﷺ نے واضح طور پر ارشاد فرمایا:

"جس نے میری آل سے جنگ کی، اس نے مجھ سے جنگ کی، اور جس نے ان سے پیار کیا، اس نے مجھ سے پیار کیا۔"
یہ حدیث اس بات پر مہرِ تصدیق ثبت کرتی ہے کہ حضور ﷺ کی رضا ان کے پاک گھرانے کی رضا میں پوشیدہ ہے۔ جو شخص پنجتن پاکؑ سے بغض رکھتا ہے، اس کا دعویِٰ عشقِ رسول ﷺ جھوٹا ہے، کیونکہ محبوب کے پیاروں سے دشمنی رکھ کر محبوب کا قرب حاصل نہیں کیا جا سکتا۔

۲. بغضِ علیؑ اور نفاق
مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے بارے میں حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ "علیؑ سے مومن ہی محبت کرے گا اور منافق ہی بغض رکھے گا"۔ لہٰذا، قیامت کے دن جب مومن اور منافق کا فرق کیا جائے گا، تو علیؑ کی محبت ہی وہ ترازو ہوگی جو سچے غلاموں کو الگ پہچان دے گی۔

۳. عبادت کی قبولیت کی شرط
جیسا کہ پیر و مرشد نے فرمایا کہ اگر کوئی شخص حضرت آدم علیہ السلام جتنی طویل عمر پائے اور ساری زندگی حجرِ اسود اور مقامِ ابراہیم کے درمیان نمازیں پڑھتا رہے، روزے رکھے اور حج کرے، لیکن اگر اس کے دل میں سیدہ فاطمہ الزہراءؑ، مولا علیؑ، امام حسنؑ اور امام حسینؑ کے لیے ذرہ برابر بھی بغض ہوا، تو وہ ہرگز جنت کی خوشبو نہیں پا سکے گا۔
بغیرِ حبِ اہل بیتؑ، بڑی سے بڑی عبادت بھی منہ پر مار دی جائے گی۔ کیونکہ اللہ پاک نے اجرِ رسالت کے طور پر ہم سے صرف ایک ہی چیز مانگی ہے: "قُلْ لَّاۤ اَسْـَٔلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبٰی" (فرما دیجیے کہ میں تم سے اس (تبلیغِ دین) پر کوئی اجرت نہیں مانگتا سوائے اپنی قرابت داروں (اہلِ بیت) کی محبت کے)۔

حاصلِ کلام
قیامت کے دن جب تمام نیسب کٹ جائیں گے، صرف رسول اللہ ﷺ کا نسب اور نسبت کام آئے گی۔ حضرت پیر سید محمد منظور آصف طاہر بادشاہ رحمتہ اللہ علیہ کا یہ ارشاد ہمیں جھنجھوڑتا ہے کہ ہم اپنی عبادات پر غرور کرنے کے بجائے اپنے دلوں کو اہل بیتؑ کی محبت سے منور کریں۔ جس کا دل آلِ رسول ﷺ کی محبت سے خالی ہے، اس کا دامنِ عمل بھی خالی ہے، اور جس کا دل ان کی مودت سے لبریز ہے، اسے کسی اور سہارے کی ضرورت نہیں۔
اللہ پاک ہمیں پنجتن پاکؑ کے نقشِ قدم پر چلنے اور ان کی سچی غلامی میں موت عطا فرمائے۔ آمین۔

30/01/2026

جبۂ ولایت اور مولا علیؑ کی پردہ پوشی
روایت ہے کہ شبِ معراج اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو ایک مقتدر جبہ (خِرقہ) عطا فرمایا اور ارشاد ہوا: "اے حبیب! یہ ولایت کا جبہ ہے، زمین پر جا کر اپنی امت میں اسے عطا کیجیے گا جو اس کا اہل ہو۔"

جب حضور ﷺ زمین پر تشریف لائے تو آپ ﷺ نے اپنے صحابہ کا امتحان لینے کے لیے ایک سوال کیا: "اگر تم کسی کو گناہ یا برائی کرتے دیکھو تو کیا کرو گے؟"

حضرت ابوبکر صدیقؓ: نے عرض کیا کہ میں اسے منع کروں گا اور حق کی تلقین کروں گا۔

حضرت عمر فاروقؓ: نے (اپنے جلال اور عدل کے پیشِ نظر) عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میں اسے سزا دوں گا یا قتل کر دوں گا۔

حضرت عثمان غنیؓ: نے بھی حیا اور شرع کے مطابق جواب دیا۔

لیکن جب حضور ﷺ نے مولا علی کرم اللہ وجہہ سے پوچھا: "علی! اگر تم کسی کو گناہ کرتے دیکھو تو کیا کرو گے؟" تو آپؑ نے عرض کیا:

"یا رسول اللہ! میں اس کے گناہ پر اپنا پردہ ڈال دوں گا۔"

حضور ﷺ نے دوبارہ پوچھا: "اگر وہ پھر کرے؟" مولا علیؑ نے عرض کیا: "میں پھر پردہ ڈال دوں گا۔" آپ ﷺ نے تین بار پوچھا اور مولا علیؑ نے ہر بار پردہ پوشی کا ہی جواب دیا۔

تب نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "علی! یہ جبہ تمہارا ہی ہے، کیونکہ اللہ کی ایک صفت 'ستار' (عیب چھپانے والا) ہے اور تمہارے اندر اللہ کی اس صفت کا عکس کامل موجود ہے۔"

30/01/2026

حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کا لقب "یعسوب": مستند حوالے

یہ لقب خود رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو عطا فرمایا تھا۔

1۔ مستدرک الحاکم (المستدرک علی الصحیحین): امام حاکم (جو کہ بہت بڑے محدث ہیں) اپنی کتاب میں روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی طرف اشارہ کر کے فرمایا:

"هَذَا يَعْسُوبُ الْمُؤْمِنِينَ" (ترجمہ: یہ (علی) مومنوں کے یعسوب (سردار) ہیں۔) حوالہ: (المستدرک، جلد 3، صفحہ 137، حدیث نمبر 4639)

2۔ معجم الکبیر (امام طبرانی): امام طبرانی نے حضرت ابن عباسؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"أَنْتَ يَعْسُوبُ الْمُؤْمِنِينَ" (ترجمہ: اے علی! آپ مومنوں کے یعسوب (سردار) ہیں۔) حوالہ: (المعجم الکبیر للطبرانی، جلد 11، صفحہ 78)

3۔ کنز العمال (علامہ متقی ہندی): اس کتاب میں بھی حضور ﷺ کا یہ ارشاد منقول ہے:

"يا علي! أنت سيد المسلمين، وإمام المتقين، ويعسوب المؤمنين" (ترجمہ: اے علی! آپ مسلمانوں کے سردار، متقین کے امام اور مومنوں کے یعسوب ہیں۔) حوالہ: (کنز العمال، جلد 11، صفحہ 606، حدیث نمبر 32921)

لفظ "یعسوب" کے معنی کی وضاحت
عربی لغت کی مشہور کتاب "النهایة فی غریب الحدیث" میں علامہ ابن اثیر لکھتے ہیں:

"یعسوب اصل میں شہد کی مکھیوں کے بادشاہ (Queen Bee) کو کہتے ہیں، جس کے پیچھے پوری چھتے کی مکھیاں چلتی ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو یہ لقب اس لیے دیا کیونکہ جیسے مکھیاں اپنے بادشاہ کی پیروی کرتی ہیں، ایسے ہی سچے مومن حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی پیروی کرتے ہیں۔"

30/01/2026

ولادتِ با سعادت ثانیِ زہرا سلام اللہ علیہا مبارک

تمام عالمِ اسلام کو پیکرِ صبر و رضا، جبلِ استقامت، شریکۃ الحسین، سیدہ زینب سلام اللہ علیہا کا یومِ ولادت بہت بہت مبارک ہو!

آپ حضرت علی (کرم اللہ وجہہ) کی وہ بہادر بیٹی ہیں جنہوں نے کربلا کے بعد اپنے خطبوں سے یزیدیت کے ایوانوں کو ہلا کر رکھ دیا اور مظلومیت کو فتح میں بدل دیا۔

کتبِ تواریخ میں درج ہے کہ جب بی بی زینب سلام اللہ علیہا کی ولادت ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے آپ کا نام "زینب" رکھا، جس کے معنی ہیں "باپ کی زینت"۔

امام زین العابدین نے آپ کی علمی شان میں فرمایا:

"اے پھوپھی جان! آپ بحمد اللہ ایسی عالمہ ہیں جن کا کوئی معلم نہیں (یعنی آپ کا علم لدنی اور خداداد ہے)۔"

آپ کے خطبات کے بارے میں مؤرخین لکھتے ہیں کہ جب آپ کوفہ و شام کے درباروں میں بولیں تو لوگ پکار اٹھے کہ حضرت علی (کرم اللہ وجہہ) دوبارہ دنیا میں آگئے ہیں، کیونکہ آپ کے لہجے میں وہی گھرج اور حق گوئی تھی جو حضرت علی (کرم اللہ وجہہ) کا خاصہ تھی۔

ہمارے پیر و مرشد فرماتے ہیں کہ: "نبی پاک ﷺ کی آلِ پاک کو یاد کرنے والا (صرف کسی خاص فرقے تک محدود نہیں) بلکہ حقیقت میں وہ سنی ہے جس سے اللہ اور اس کا محبوب نبی ﷺ پیار کرتے ہیں۔"

22/01/2026

۳ شعبان المعظم

یومِ ولادتِ با سعادت

نواسہ رسول ﷺ، جگر گوشہِ بتول (س)، فرزندِ علی (کرم اللہ وجہہ)، سلطانِ کربلا حضرت امام حسین علیہ السلام تمام مومنین کو مبارک ہو۔

قبلہ بادشاہ جی فرماتے ہیں کہ: "امام حسین (ع) نے دینِ محمدی ﷺ کو وہ زندگی عطا کی کہ اگر وہ نہ ہوتے تو آج حق کا نام لیوا کوئی نہ ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا مقام نبوت کے اتنے قریب ہے کہ وہ دین کے محافظ اور بقا بن گئے۔"

محبتِ الٰہی کا راستہ: قبلہ بادشاہ جی مزید فرماتے ہیں کہ نبی پاک ﷺ نے بارگاہِ الٰہی میں التجا کی: "اے اللہ! میں ان (حسن و حسین) سے پیار کرتا ہوں، تو بھی ان سے پیار کر، اور اے اللہ! جو ان سے پیار کرے تو ان سے بھی پیار کر۔" پس ثابت ہوا کہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ آپ سے پیار کریں، تو اس کا آغاز یہی ہے کہ ہمیں نبی پاک ﷺ کی آل، امام حسن (ع) اور امام حسین (ع) سے سچی محبت کرنی ہوگی۔

شانِ حسین (ع) احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں:

محبتِ رسول ﷺ: حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: "حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں، اللہ اس سے محبت رکھتا ہے جو حسین سے محبت رکھے۔"

فرزندانِ رسول ﷺ: جب نجران کے عیسائیوں سے مباہلہ کا وقت آیا اور اللہ کا حکم ہوا کہ "اپنے بیٹوں کو بلاؤ"، تو نبی پاک ﷺ حسن و حسین (ع) کو لے کر نکلے اور ثابت کر دیا کہ کائنات میں یہی آپ ﷺ کے بیٹے ہیں۔

مقامِ محبوبیت: حضور ﷺ نے امام حسین (ع) کو اپنی چادر میں لیا اور عرض کی: "اے اللہ! میں ان سے محبت کرتا ہوں، تو بھی ان سے محبت فرما۔"

غمِ حسین (ع): حضرت ام سلمہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ ایک دن نبی پاک ﷺ امام حسین (ع) کو سینے سے لگا کر رو رہے تھے، آپ ﷺ کے ہاتھ میں سرخ مٹی تھی اور فرمایا: "جبرائیل نے مجھے بتایا ہے کہ میری امت میرے اس بیٹے کو قتل کر دے گی، یہ اس جگہ کی مٹی ہے۔"

جیسا کہ مولا علی (کرم اللہ وجہہ) نے فرمایا: "لوگو! حسین (ع) کو پہچان لو، یہ وہ ہے جس کا نام آسمانوں پر زمین سے زیادہ روشن ہے، اور اس کی عظمت کا ادراک صرف وہی کر سکتا ہے جس کے دل کو خدا نے ایمان کے لیے چن لیا ہو۔"

سچ تو یہ ہے کہ کائنات کی ہر شے مٹ سکتی ہے مگر حسین (ع) کا ذکر نہیں مٹ سکتا، کیونکہ آپ (ع) نے اپنی گردن دے کر اللہ کے نام کو وہ بلندی عطا کی کہ اب جب تک خدا کا نام باقی ہے، حسین (ع) کا نام بھی باقی رہے گا۔

21/01/2026
21/01/2026

Muhabbat💯

Address

Hafizabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Haider_aesthetics posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Haider_aesthetics:

Share

Category