31/12/2025
نیا سال
نیا سال آیا تو شورِ خوشی بھی ساتھ لایا
مگر سوال وہی ہیں، جو کل بھی تھے، آج بھی ہیں
بدل گئے ہیں کیلنڈر، چہرے وہی پرانے
وعدوں کی دھول میں لپٹے ہوئے، یہ سبھی خواب ابھی ہیں
کہو کہ جشن منانا برا نہیں ہے لیکن
چراغِ سچ نہ جلیں تو اندھیرے حاوی ہی ہیں
چلو یہ عہد کریں اس نئے برس میں ہم سب
زبانِ سچ ہو بلند، قلم امانت ہی ہے
نہ خوف کی کوئی زنجیر، نہ مفاد کا پردہ
یہی صحافت کا رستہ، یہی ہماری راہ ہے
نیا سال اگر خود کو بدلنے کا نام ہے
تو سب سے پہلا تقاضا، خود احتسابی ہی ہے