27/05/2026
عید کی اصل خوشی نئے کپڑوں، کھانوں یا رسموں میں نہیں ہوتی، بلکہ اُن اپنوں میں ہوتی ہے جن کے ساتھ بیٹھ کر دل سکون محسوس کرے۔
اگر زندگی سلامت ہو، سانسیں چلتی رہیں، اور اپنے خیریت سے ہمارے ساتھ موجود ہوں تو ہر دن عید جیسا لگتا ہے۔
کیونکہ عید تو ہر سال واپس آ جاتی ہے، لیکن جو لوگ بچھڑ جائیں، اُن کی کمی کبھی پوری نہیں ہوتی۔
اس لیے انسان وقت کے ساتھ یہ سمجھ جاتا ہے کہ اصل نعمت تہوار نہیں بلکہ اپنے لوگوں کی موجودگی ہے۔
گھر میں ہنسی کی آوازیں، ماں باپ کی دعائیں، بہن بھائیوں کی محبت، دوستوں کی خیر خیریت — یہی وہ چیزیں ہیں جو عید کو خوبصورت بناتی ہیں۔
ورنہ دل اداس ہو اور اپنے دور ہوں تو بڑی سے بڑی خوشی بھی ادھوری محسوس ہوتی ہے۔
یہ جملہ دراصل ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ زندگی کی سب سے بڑی دولت رشتے ہیں۔
اگر اپنے سلامت رہیں تو عید پھر آ جائے گی، خوشیاں پھر لوٹ آئیں گی، لیکن اگر اپنے نہ رہیں تو ہر عید میں ایک خاموش کمی محسوس ہوتی رہتی ہے۔
#