Haripur News

Haripur News یہ پیج ہری پور کی خبریں ۔ معلومات اور فیچرز کیلئے بنایا گیا ہے ۔

آپ ہری پور سے متعلق جو خبر دینا چاہیں ۔ اس کی تصدیق کے بعد اسے شائع کیا جائے گا ۔
(5)

پروفیسر ڈاکٹر عابد فرید، وائس چانسلر، یونیورسٹی آف ہری پور نے آن لائن ٹرانسکرپٹ اور ڈگری اجرا سسٹم کا افتتاح کر دیاہری پ...
07/08/2026

پروفیسر ڈاکٹر عابد فرید، وائس چانسلر، یونیورسٹی آف ہری پور نے آن لائن ٹرانسکرپٹ اور ڈگری اجرا سسٹم کا افتتاح کر دیا

ہری پور : یونیورسٹی آف ہری پور نے ڈیجیٹل تبدیلی اور ای گورننس کے فروغ کی جانب ایک اہم سنگ میل عبور کرتے ہوئے آن لائن ٹرانسکرپٹ اور ڈگری اجرا سسٹم کا باضابطہ افتتاح کر دیا۔ اس جدید نظام کا افتتاح پروفیسر ڈاکٹر عابد فرید، وائس چانسلر، یونیورسٹی آف ہری پور نے امتحانی سیکشن میں منعقدہ تقریب کے دوران کیا۔

افتتاح کے موقع پر وائس چانسلر نے خود نئے آن لائن سسٹم کے ذریعے ایک طالب علم کی ٹرانسکرپٹ اور ڈگری جاری کر کے اس جدید نظام کا عملی مظاہرہ کیا۔ یہ نظام ڈائریکٹوریٹ آف آئی ٹی سروسز اور امتحانی سیکشن کی مشترکہ کاوش کا نتیجہ ہے، جس کا مقصد طلبہ کو ٹرانسکرپٹس اور ڈگریوں کے اجرا کی محفوظ، شفاف، تیز رفتار اور مؤثر آن لائن سہولت فراہم کرنا ہے۔ یہ اقدام یونیورسٹی کے وژن کے مطابق ای گورننس، ڈیجیٹلائزیشن اور طلبہ دوست خدمات کے فروغ کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔

تقریب میں پروفیسر ڈاکٹر محتاج خان، ڈائریکٹر آئی ٹی سروسز، ڈاکٹر اصغر علی، کنٹرولر امتحانات، ریاض محمد، رجسٹرار، ڈاکٹر ظہور، ڈائریکٹر انڈرگریجویٹ اسٹڈیز، ڈاکٹر شاہ مسعود خان، ڈائریکٹر کیو ای سی، مختلف شعبہ جات کے ڈائریکٹرز، چیئرمین صاحبان، مسٹر عثمان رؤف اور ان کی آئی ٹی ٹیم، پیر اسفندیار (ایڈیشنل پرووسٹ)، محمد کاشف (لائبریرین)، یونیورسٹی کے افسران، اساتذہ، ملازمین اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

اپنے خطاب میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عابد فرید نے کہا کہ جدید جامعات میں آٹومیشن اور ڈیجیٹلائزیشن وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی آف ہری پور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے شفافیت، مؤثر انتظامی نظام، بہتر گورننس اور طلبہ کو معیاری سہولیات کی فراہمی کے لیے مسلسل اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ یونیورسٹی مستقبل میں بھی جدید آن لائن سہولیات متعارف کروا کر طلبہ کو بہترین خدمات فراہم کرتی رہے گی۔

وائس چانسلر نے اس منصوبے کی کامیاب منصوبہ بندی، مؤثر رابطہ کاری اور بروقت تکمیل پر ڈاکٹر اصغر علی، کنٹرولر امتحانات اور پروفیسر ڈاکٹر محتاج خان، ڈائریکٹر آئی ٹی سروسز کی خدمات کو خصوصی طور پر سراہا۔ انہوں نے امتحانی سیکشن اور ڈائریکٹوریٹ آف آئی ٹی سروسز کے تمام افسران و اہلکاروں، بالخصوص مسٹر عثمان رؤف اور ان کی ٹیم کی انتھک محنت، پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور لگن کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

اس موقع پر ڈاکٹر اصغر علی، کنٹرولر امتحانات نے شرکاء کا خیرمقدم کرتے ہوئے امتحانی سیکشن اور ڈائریکٹوریٹ آف آئی ٹی سروسز کی پوری ٹیم کو اس اہم کامیابی پر مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ آن لائن ٹرانسکرپٹ اور ڈگری اجرا سسٹم کی کامیاب تکمیل صرف وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عابد فرید کی بصیرت افروز اور کرشماتی قیادت، انفارمیشن ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے ان کے غیر متزلزل عزم اور مسلسل سرپرستی کی بدولت ممکن ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وائس چانسلر کی رہنمائی، اعتماد اور اصلاحات پر مبنی وژن نے امتحانی سیکشن اور ڈائریکٹوریٹ آف آئی ٹی سروسز کو ایک جدید، شفاف، مؤثر اور طلبہ دوست آن لائن نظام متعارف کرانے کے قابل بنایا، جو امتحانی خدمات کی رفتار، معیار اور شفافیت میں نمایاں بہتری لائے گا۔

تقریب کے اختتام پر وائس چانسلر نے امتحانی سیکشن اور ڈائریکٹوریٹ آف آئی ٹی سروسز کے افسران و اہلکاروں میں ان کی نمایاں خدمات اور اس منصوبے کی کامیاب تکمیل کے اعتراف میں تعریفی اسناد تقسیم کیں۔

تقریب اس عزم کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی کہ یونیورسٹی آف ہری پور مستقبل میں بھی ڈیجیٹل گورننس کو مزید فروغ دیتے ہوئے جدید ٹیکنالوجی پر مبنی نظام متعارف کرائے گی تاکہ طلبہ، اساتذہ اور دیگر سٹیک ہولڈرز کو عالمی معیار کی تعلیمی و انتظامی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

آپ کے اسکول کی کارکردگی امتحانات میں کیا رہی ہے ؟خراب کارکردگی کی وجوہات کیا ہیں اور اچھی کارکردگی کی وجوہات کیا ہیں ؟  ...
07/08/2026

آپ کے اسکول کی کارکردگی امتحانات میں کیا رہی ہے ؟

خراب کارکردگی کی وجوہات کیا ہیں اور اچھی کارکردگی کی وجوہات کیا ہیں ؟

07/08/2026

چک شاہ محمد میں اراضی کی حد براری کے لئے تیسری بار فریق دوم خورشید انور خان حاضر نہیں ہوئے ۔

رپورٹ : عزت اللہ خان

جامعہ ہری پور میں مبینہ میرٹ خلاف ورزیوں پر شکایت کنندگان کا مکمل فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ جاری کرنے کا مطالبہپشاور: جامعہ ہری...
07/08/2026

جامعہ ہری پور میں مبینہ میرٹ خلاف ورزیوں پر شکایت کنندگان کا مکمل فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ جاری کرنے کا مطالبہ

پشاور: جامعہ ہری پور میں بھرتیوں کے دوران مبینہ میرٹ خلاف ورزیوں کے خلاف درخواستیں دینے والے امیدواروں نے ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ (HED)، معزز چانسلر، پرو چانسلر اور فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کے اراکین کو نئی درخواست ارسال کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی مکمل رپورٹ اور سفارشات فوری طور پر جاری کی جائیں۔

شکایت کنندگان کا مؤقف ہے کہ 16 جولائی 2026 کو ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن، جسے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کا حتمی نتیجہ قرار دیا گیا، صرف ایک انتظامی مسئلے یعنی فنانس سے منظور شدہ آسامیوں اور منتخب امیدواروں کی تعداد میں فرق تک محدود ہے۔ ان کے مطابق اس نوٹیفکیشن میں ان بنیادی میرٹ سے متعلق سوالات پر کوئی رائے یا فیصلہ موجود نہیں جن کی بنیاد پر شکایات درج کروائی گئی تھیں۔

شکایت کنندگان کا کہنا ہے کہ ان کی اصل شکایت کبھی بھی صرف آسامیوں کی گنتی نہیں تھی، بلکہ یہ تھی کہ زیادہ میرٹ رکھنے والے امیدواروں کو کیوں مسترد کیا گیا جبکہ کم میرٹ رکھنے والے امیدواروں کا انتخاب کیا گیا؟ اسی طرح ریسرچ پراجیکٹس، تعلیمی کوانٹیفیکیشن، اضافی تجربہ، پوسٹ ڈاک اور انٹرویو مارکس کے تعین میں مبینہ بے ضابطگیوں کے بارے میں بھی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی کوئی واضح رائے سامنے نہیں آئی۔

انہوں نے کہا کہ فنانس سے منظور شدہ اور منتخب امیدواروں کی تعداد کا موازنہ ایک انتظامی معاملہ ہے، جو چند دنوں میں بھی کیا جا سکتا تھا، جبکہ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی نے کئی ماہ تک مختلف امیدواروں کے میرٹ سے متعلق تفصیلی شواہد اور دستاویزات کا جائزہ لیا۔ اس لیے یہ توقع تھی کہ رپورٹ میں ان تمام میرٹ سے متعلق نکات پر بھی واضح نتائج اور سفارشات شامل ہوں گی۔

اپنی نئی درخواست میں شکایت کنندگان نے مطالبہ کیا ہے کہ اگر فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی اپنی مکمل رپورٹ پہلے ہی ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کو جمع کرا چکی ہے تو اسے فوری طور پر عوام، شکایت کنندگان اور متعلقہ حکام کے سامنے لایا جائے، تاکہ سینیٹ سمیت کسی بھی فورم پر فیصلہ مکمل ریکارڈ کی بنیاد پر ہو، نہ کہ صرف ایک مختصر نوٹیفکیشن کی بنیاد پر۔

شکایت کنندگان نے معزز وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا (بطور چانسلر) اور وزیر برائے ہائر ایجوکیشن سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ شفافیت، احتساب اور میرٹ کے اصولوں کو یقینی بنائیں اور فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی مکمل سفارشات کو منظر عام پر لانے کے احکامات جاری کریں۔

شکایت کنندگان کے مطابق اگر میرٹ سے متعلق ان کے بنیادی اعتراضات کو نظر انداز کیا گیا تو وہ آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے اور اپنے آئینی و قانونی حقوق کے حصول کے لیے پرامن ذرائع اختیار کریں گے۔

#نیوز

محکمہ مال میں بڑے پیمانے پر پٹواریوں اور عملے کے تبادلے، 77 پٹواریوں سمیت عملہ تبدیلہری پور : ضلع ہری پور میں عوامی مفاد...
07/08/2026

محکمہ مال میں بڑے پیمانے پر پٹواریوں اور عملے کے تبادلے، 77 پٹواریوں سمیت عملہ تبدیل

ہری پور : ضلع ہری پور میں عوامی مفاد کے پیش نظر انتظامیہ نے محکمہ مال (فیلڈ ریوینیو اسٹاف) اور منسٹریل اسٹاف کے بڑے پیمانے پر تبادلے کر دیئے ہیں۔

ڈپٹی کمشنر ہری پور اصلاح الدین کی جانب سے 6 اگست 2026 کی رات کو دیر گئے جاری کردہ باضابطہ نوٹیفیکیشن کے مطابق 77 پٹواریوں اور دیگر عملے کو فوری طور پر نئی ذمہ داریاں سونپ دی گئی ہیں۔

تبادلے پانے والوں میں حماد محمود (کوٹہڑہ سے بیٹ گلی)
صادر شاہ (بیٹ گلی سے خیربارہ)
یاسر خان (سلام کھنڈ سے نارہ امازئی)
عاطف ربانی (نارہ امازئی سے سلام کھنڈ)
زاہد رشید-II (ٹوفکیان سے خانپور)
عبد المالک (خانپور سے ٹوفکیان)
ہمایوں خان (ماناکارئی سے بریلہ)
اصغر خان (بریلہ سے مانگ)
نادر خان (میلم سے کیا)
محمد ساجد (پانیان سے میلم)
ماجد علی (سب رجسٹرار آفس خانپور سے ایس ڈی سی ہری پور)
زاہد رشید (ہری پور سے پانڈک)
کفایت خان (نورڑی سے سری)
عظیم اللہ خان (مالکیار سے پانیان)
زبیر خان (لدارمنگ سے ڈلڑی)
میاں محمد علی (علی خان سے جاگل)
زاہد ارشاد (اخون بندی سے چھجیاں)
شاہ نواز (چھجیاں سے اخون بانڈی)
ملک عامر محمود (فرح اللہ سے بجیڑہ)
ملک شاکر نواز (بیئر سے فرح اللہ)
ملک طاہر نواز (پنڈ خان خیل سے بیئر)
میاں محمد عرفان (بکا سے پنڈ خان خیل)
جاوید اقبال (چمبا پنڈ سے بکا)
نادر علی (سرائے صالح سے شاہ مقصود)
زاہد نواز (سری سے چمبا پنڈ)
راشد خان (کوٹ نجیب اللہ سے ہری پور)
امیر شہزاد (ڈی سی آفس سے علی خان)
خالد محمود (تالوکر سے ماناکارئی)
دل فراز (ڈی سی آفس سے لدڑمنگ)
بشارت خان (سب رجسٹرار آفس غازی سے جب)
محب الرحمٰن (سب رجسٹرار آفس ہری پور سے پنڈ ہاشم خان)
راجہ ذیشان جاوید (بڈاروس سے چھچیاں)
محمد پرویز (ڈل موہٹ سے ڈریش خیل)
وقار احمد (میان ڈھیری سے بھیرا)
ذوالفقار احمد (سریکوٹ سے چوئی)
شاہد اقبال (لالو گلی سے جٹی پنڈ)
سجاد احمد (ہتر سے ہتر)
اسد نواز (چوہار شریف سے بڈاروس)
فیصل شہزاد (شادی سے ڈل موہٹ)
محمد شعیب (جب سے سریکوٹ)
بدر عزیز خان (کھوئی نارہ سے لالو گلی)
ملک ناصر (مسلم آباد سے چوہر شریف)
جہانزیب خان (درویش سے مسلم آباد)
بلال بخت (SDC آفس خانپور سے سرائے صالح)
بلال بشیر (NOK تحصیل آفس خانپور سے کھوئی نارہ)
غلام قادر شاہ (کھلابٹ سے گوجرہ)
ملک وسیم الرحمٰن (کچھی سے گرمتھون)
عاقب (ڈری سے کھلابٹ)
طاہر نواز (بانڈی سیڑاں سے میان ڈھیری)
اللہ یار خان (ریونیو محافظ خانہ سے گندف)
عمران عزیز (گھیریاں سے کوٹ نجیب اللہ)
سردار سہراب (کانگڑا سے گھیڑیاں)
سید رضوان علی (ڈھیڈن سے کاچی)
ریاض خان (فرحڑی سے نجف پور)
ماجد نواز خان (کالیگ سے ڈھیڈن)
عبد الحنان (چنگی بندی سے بانڈی سیران)
عمران خان (بگڑا سے ڈری)
تیمور ابرار (مکھنیال سے ڈرویش)
باسط الٰہی (گندیاں سے مکھنیال)
محمد قاسم (ڈھیری سے کالیگ)
محمد فردوس (سرائے نعمت خان سے کانگرا)
اسد خان (نورپور پسوال سے چنگی بندی)
عادل خان (سی ایف سی سے بگڑا)
جہانزیب مسعود (ہالی سے شاہ محمد)
محمد فیاض (مکھن سے ہالی)
ملک ارسلان افضل (کھولیاں سے فرحڑی)
فارمان خان (کلنجر سے مکھن)
ضمیر حیدر شاہ (صوابی میرہ سے تلوکر)
عبد الجلیل (جبری سے کھولیاں)
محمد بشارت (کھرکوٹ سے جبری)
اویس خان (ڈیجیٹائزیشن ریونیو محافظ خانہ سے کھرکوٹ)
بشارت خان (سرائے گدائی سے کلنجر)
مبشر عالم (ایکوئزیشن برانچ DC آفس سے ملکیار)
عمر غفور (ٹی آر اے تحصیل آفس ہری پور سے سرائے گدائی)
شیر یار خان (کاکوٹڑی سے گندیاں)
ماجد خان (قاضی پور سے ڈھینڈہ)
واجد محمود (خیربارہ سے کوٹہڑہ)

منسٹریل اسٹاف کے تبادلوں میں آنے والوں میں عالم زیب (جونیئر کلرک، سب رجسٹرار آفس غازی سے ڈی آر اے برانچ ڈی سی آفس ہری پور)
محمد نیاز (نائب قاصد، سب رجسٹرار آفس ہری پور سے لیگل سیل برانچ ڈی سی آفس ہری پور)
ضلعی انتظامیہ نے تمام متعلقہ حکام کو ان احکامات پر فوری عملدرآمد یقینی بنانے کی سخت ہدایت جاری کی ہے۔

یونیورسٹی آف ہری پور میں قانون کی دھجیاں، 2 آسامیوں پر 6 تقرریوں کی کوشش، TTS اور انتظامی افسران کو نظر اندازمستقل VC کی...
07/08/2026

یونیورسٹی آف ہری پور میں قانون کی دھجیاں، 2 آسامیوں پر 6 تقرریوں کی کوشش، TTS اور انتظامی افسران کو نظر انداز

مستقل VC کی تعیناتی سے قبل ہنگامی اجلاس اور تقرریوں پر اساتذہ کا شدید احتجاج، شفاف تحقیقات کا مطالبہ

ہری پور: یونیورسٹی آف ہری پور میں قائم مقام وائس چانسلر کی جانب سے مستقل وائس چانسلر کی تعیناتی سے قبل جلد بازی میں اہم تقرریوں کی منظوری لینے کی کوش پر سنگین سوالات اٹھ گئے ہیں۔ اساتذہ اور یونیورسٹی حلقوں نے میرٹ، شفافیت اور HEC قوانین کی خلاف ورزی کا الزام عائد کر دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق 4 اگست 2026 کو ہونے والے سلیکشن بورڈ اجلاس سے قبل ایک ہفتے کے دوران سنڈیکیٹ کے دو ہنگامی اجلاس طلب کیے گئے جن میں پروفیسرز کی تقرریوں پر غور کیا گیا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس غیر معمولی عجلت نے پورے عمل کو متنازع بنا دیا ہے۔

دستاویزات کے مطابق یونیورسٹی کے بجٹ میں پروفیسر کی صرف دو منظور شدہ اور خالی آسامیاں موجود ہیں جبکہ چھ امیدواروں کی بطور پروفیسر تقرری کی سمری تیار کی گئی ہے۔

اساتذہ نے سوال اٹھایا ہے کہ باقی چار تقرریاں کس قانونی اور مالیاتی بنیاد پر کی جائیں گی اور کیا اس کے لیے حکومت سے NOC حاصل کیا گیا ہے یا نہیں۔

دستیاب اعداد و شمار کے مطابق شعبہ زراعت کے سات ذیلی شعبوں میں صرف فوڈ سائنس میں طلبہ و اساتذہ کا تناسب تقریباً 40:1 ہے جبکہ دیگر شعبوں میں یہ تناسب 2:1 سے 9:1 کے درمیان ہے۔ فوڈ سائنس میں پہلے ہی ایک پروفیسر موجود ہے۔ اساتذہ کا موقف ہے کہ دیگر شعبوں میں پروفیسرز کی تقرری کے لیے HEC کا مقررہ معیار پورا نہیں ہوتا۔

ذرائع کے مطابق یونیورسٹی میں Tenure Track System کے چھ اہل فیکلٹی ممبران موجود ہیں جن کے کیسز تمام شرائط پوری کرنے کے باوجود سلیکشن بورڈ کے ایجنڈے میں شامل نہیں کیے گئے۔ البتہ انہی میں سے صرف دو کے کیسز رکھے گئے جس پر دیگر امیدواروں نے شدید اعتراض کیا ہے۔

اسی طرح متعدد انتظامی افسران نے حکومت سے NOC اور بجٹ میں منظور شدہ آسامیوں سمیت تمام قانونی تقاضے پورے کر رکھے ہیں لیکن ان کے کیسز بھی سلیکشن بورڈ میں پیش نہیں کیے گئے۔

یونیورسٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ہائی کورٹ نے کیسز کو قانون اور HEC قواعد کے مطابق نمٹانے کی ہدایت کی تھی، کسی امیدوار کی لازمی تقرری کا حکم نہیں دیا تھا۔ الزام ہے کہ عدالت کے سامنے تمام حقائق پیش نہیں کیے گئے۔

اساتذہ اور مبصرین کا کہنا ہے کہ مستقل وائس چانسلر کی تعیناتی متوقع ہے، ایسے میں اتنے اہم اور مستقل نوعیت کے فیصلے ہنگامی بنیاد پر کرنا غیر مناسب ہے۔

متاثرہ حلقوں نے حکومت خیبرپختونخوا، ہائر ایجوکیشن کمیشن، یونیورسٹی سنڈیکیٹ اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ پورے تقرری کے عمل کی آزادانہ تحقیقات کرائی جائیں تاکہ میرٹ اور شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔

06/08/2026

پاکستان تحریک انصاف کے ڈویژنل ڈپٹی جنرل سیکرٹری راجہ شہاب سکندر کا اصولی اعلان

ہری پور : راجہ شہاب سکندر نے محلہ ملک درہ آمد کے موقع پر کہا کہ آج دن کو فیملی پارک زمین تنازعہ کے حوالے سے پیش آنے والے واقع کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں ۔

انہوں نے کہا کہ اپنے علاقہ کی غریب عوام ریلیف فراہم ہونے تک ہر پلیٹ فارم پر عوام شانہ بشانہ کھڑا ہوں گا۔

چک شاہ محمد میں زمین کی حد براری کیس میں فریق دوم کی تیسری بار بھی عدم شرکت ہری پور : ہری پور کے علاقے چک شاہ محمد میں ر...
06/08/2026

چک شاہ محمد میں زمین کی حد براری کیس میں فریق دوم کی تیسری بار بھی عدم شرکت

ہری پور : ہری پور کے علاقے چک شاہ محمد میں راضی کی حد براری کے لئے تیسری بار سرکاری افسران آئے جس میں فریق دوم خورشید انور خان مسلسل تیسری بار حاضری کو یقینی بنانے میں ناکام رہے ۔

چک شاہ محمد کے مکین حیدر زمان و برادران نے 1970 کی دہائی میں زمین خریدی تھی جس کا نقشہ جیم سمیت تمام مراحل مکمل تھے ۔ تاہم اس کے باوجود بھی فریق دوم خورشید انور خان نے سرکاری مشنری کا استعمال کرتے ہوئے بعض مکانات وغیرہ مسمار کر دیئے تھے ۔

جس کے بعد اہلیان چک شاہ محمد کی جانب سے ڈپٹی کمشنر آفس کے باہر بھر پور احتجاج کیا گیا تھا ۔ جس کے بعد ڈپٹی کمشنر کی جانب سے کمیشن تشکیل دیا گیا تھا ۔

کمیشن کی جانب سے حد براری کے لئے پہلا دورہ 6 جولائی کو کیا تھا جس میں فریق اول کی جانب سے حاضری و گواہان ممکمل موجود تھے جب کہ فریق دوم خورشید انور خان نہیں آئے ۔ جس کے بعد دوسری بار 22 جولائی کو تحصیل دار ، گرداور ، پٹوراری ، ٹی ایم اے پٹواری اور سٹی پولیس اسٹیشن کے اہلکار آئے تاہم خورشید انور خان پھر حاضر نہیں ہوئے ۔

اس دوران فریق اول کیخلاف ایک جھوٹا مقدمہ بھی درج کرایا گیا جس میں ضمانت کرا لی گئی تھی ۔ اس کے بعد اب 6 اگست کو تیسری بار مذکورہ بالا افسران آئے تاہم فریق اول کی جانب سے پھر پور حاضری تھی اور فریق دوم تیسری بار بھی نہیں آئے ۔

اس حوالے سے اہلیان چک شاہ محمد کا کہنا ہے کہ سرکاری انتظامیہ فریق دوم کا رویہ نوٹ کرے اور اس معاملے کو حل کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ آئندہ چک شاہ محمد کے مکینوں کو تنگ نہیں کیا جائے گا ۔

خانپور درہ کی قیمتی اراضی کو کوڑیوں کے بھاؤ لینے کی کوش قابلِ مذمت ہے: راجہ عامر زمانسابق ضلع ناظم نے ٹی ایم اے اور زمین...
06/08/2026

خانپور درہ کی قیمتی اراضی کو کوڑیوں کے بھاؤ لینے کی کوش قابلِ مذمت ہے: راجہ عامر زمان

سابق ضلع ناظم نے ٹی ایم اے اور زمین مالکان کے تنازعے پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا، متاثرین کے ساتھ کھڑے ہونے کا اعلان

خانپور : سابق ضلع ناظم و سابق ایم این اے راجہ عامر زمان نے خانپور میں ٹی ایم اے اور مقامی زمین مالکان کے درمیان جاری تنازعے پر شدید ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے "انتہائی غلط اور عوام دشمن اقدام" قرار دیا ہے۔

راجہ عامر زمان نے اپنے بیان میں الزام عائد کیا کہ "سونا اگلتی قیمتی اراضی کوڑیوں کے بھاؤ حاصل کرنے کی کوشش" کی جا رہی ہے جو کہ پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کی ایک غیر منصفانہ پالیسی ہے۔ انہوں نے اس اقدام کی بھرپور مذمت کی۔

انہوں نے کہا کہ متاثرہ زمین مالکان کو کسی صورت تنہا نہیں چھوڑا جائے گا اور وہ ان کے ساتھ ہر قانونی، آئینی اور اخلاقی محاذ پر کھڑے رہیں گے۔

راجہ عامر زمان نے اس بات پر بھی حیرت کا اظہار کیا کہ متاثرہ مالکان کے پاس عدالت سے حاصل کردہ اسٹے آرڈر موجود ہونے کے باوجود ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ رویہ قانون کی بالادستی اور عدالتی احکامات کے منافی ہے۔

سابق ایم این اے کا کہنا تھا کہ "اگر عدالتی احکامات کے باوجود کارروائیاں جاری رکھی جائیں تو اس سے نہ صرف انصاف کے نظام پر سوالات اٹھتے ہیں بلکہ عوام کا ریاستی اداروں پر اعتماد بھی متاثر ہوتا ہے ۔

انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی نمائندوں کی جانب سے کی جانے والی مبینہ انتقامی کارروائیاں ان کی سیاسی ناکامیوں کا واضح ثبوت ہیں اور ایسے اقدامات کسی بھی مہذب جمہوری معاشرے میں قابلِ قبول نہیں ۔

Address

Haripur

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Haripur News posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share