02/05/2026
ڈل گاؤں کا نظارہ
زیر نظر تصویر موضع " ڈل " کی ہے ، یہ تصویر 1968 میں گاؤں خالی کروانے سے کچھ پہلے اونچائی سے لی گئی تھی ۔ واضح رہے کہ ڈل اور صوبڑا گاؤں ڈیم کے ورکنگ ایریا میں ہونے کی وجہ سے ڈیم پر کام شروع ہوتے ہی خالی کروا لئے گئے تھے ۔
ڈل گاؤں اس پہاڑی پر آ باد تھا جبکہ چند گھر تربیلہ روڈ اور مزکورہ پہاڑی کے درمیاں نیچے کھیتوں میں بھی تعمیر ہو چکے تھے ۔
ڈل کی آ بادی اور علاقہ جھیل میں زیر آ ب آ چکا ہے یا ڈیم کے ایریا میں ڈل کیمپ میں تبدیل ہوچکا ہے ۔ پانی کی سطح تھوڑی کم ہونے پر تصویر میں نظر آ نے والی پہاڑی پر موجود مسجد اور آ بادی کی باقیات اب بھی نظر آ تی ہیں ۔
اس گاؤں کی ملکیت شورا خیل قوم کی تھی جن کی چہاڑ اور جٹو میں رشتے داریاں تھیں ، مدا خیل اور دوسری متفرق قوموں کے لوگ بھی یہاں آ باد تھے ، اس گاؤں کی معروف شخصیات میں دوست محمد خان ، ییرا خان ، شیر احمد خان ، شریف خان اور عبداللہ خان شامل تھے ، ڈیم سے متاثر ہونے پر یہاں کے لوگ غازی ہیملٹ کے علاوہ پنجاب میں بھی آ باد ہیں جن میں ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کے چک نمبر 289 اور 290 گ ب رجانہ سر فہرست ہیں ، کچھ مدا خیلوں کے گھر کراچی میں آ باد ہو چکے ہیں ۔
دریائے سندھ کے کنارے ہونے کی وجہ سے یہاں کی زمینیں سرسبز و شاداب اور زرخیز تھیں اور اس کی قدرتی خوبصورتی دیکھنے والے کی نظر میں ہمیشہ کے لئے رچ بس جایا کرتی تھی ۔ ۔