Khalabat Township Haripur Hazara

Khalabat Township Haripur Hazara To Highlight Khalabat Township issues, A village by the same name inhabited by the same people also exist in Swabi District.

History
Residential construction started in 1974, inhabitants of KTS are affectee of Tarbela Dam, about 82,000 acres (330 km2) land was acquired for its construction. The large reservoir of the dam submerged 135 villages, which resulted in displacement of a population of about 96,000 people from the richest green valley of the area, Effectees of Tarbella Dam resides in Khalabat Township, Kangra C

olony (in Haripur on Hattar Road), Punjab and Sindh provinces.The town was named after the village Khalabat which had submerged in the Tarbela lake. The name Khalabat is a combination of two words 'Khala' and 'Bat'. Khala means upright and bat means stone. There was a ten feet high stone column erected in the ground of Khalabat. Famous villages that got submerged were, Tarbela, Anorra, Laloo Gali, Amb,Dheeri, Khalabat, Jahar, Luqmania, Jathoo, Dari, Thapla, Kundreala, Kiya, Khabal, Mumaiya, Pakkah Panialah, Darband , Ashra , Dokani etc.The affectees were adjusted in present KTS and Kangra Colony Haripur and District Swabi. Some people were alloted land in southern Punjab and Sindh; however, only the influentials were able to take possessions and the entitlement. The main issue which is the allotment of the land is still exists. Also, the reality fund of the tarbela power dam has not been awarded to the affectees of the project. Society of KTS
Society of Khalabat is very rich in culture and establishment of traditions.People of Khalabat are sports loving and they enjoying playing VolleyBall, Football, Field Hockey, Cricket, Kabaddi, Snooker and Mokha. Industry
When Khalabat township was under construction in early 70's. Government announced tax free industrial zone, and this announcement attracted lots of industrialists. In this industrial zone companies like Kawasaki motorcycles, Rehana woolen mills, Orion television, Ashi marbel, Jhon steel mills, Shafi woolen mill, Tarbela Cotton and Spinning mills were setup. All factories were closed down there business and have moved out. Steel Mill have dissolve and on that place MERIT SCHOOLING SYSTEM is exist there. Education
There are a number of Government boys and girls school, with a good number of private schools. In recent years a number of higher education institutes has been set up by the government and one Degree college for boys in sector 1. There is, Government Technical College in sector 4, Women Degree College in sector 3 and Degree college for Boys in sector 1. Some of the famous private schools are Quaid-e-Azam Public High School, Dawn Public School, Faizan Public High School, Pakistan Public School and Montessori, Model Public School, Iqra Academy School,Sector no 2, Iqra Public High school,sector no 4, Progressive International Academy, Sector no 4. Tribes
Many of the tribes dwelling in Khalabat Township , Utmanzai, Tanoli, Tareen , Syeds, Gujjars, Quraishi, Abbasi, Awans, Shiekh. Languages spoken
The major languages spoken in Khalabat Township are Hindko, Urdu, & Pashto. Famous
Tarbela Lake are the famous places of Khalabat Township. Lake is a picnic spot and boats can be hired by the visitors to have a tour of the Tarbela Lake. Also local people use them to get to the villages at the mountains for fishing and hunting. Climate
Khalabat has all four seasons of the year i.e summer, winter, autumn and spring. Summers are hot but pleasant and winters are too cold. Lively weather prevails in spring and autumn.

10/01/2026

"پرندے کا دماغ صرف 2 گرام ہے اور وہ آزادی کی تلاش میں ہے۔ کچھ لوگوں کے سر کا وزن 5 کلو ہے اور وہ ذلت اور غلامی کی تلاش میں ہیں..!! "

سوچ کی غلامی ملک و قوم کو تباہ کر دیتی.!

تمام ممالک اچانک پاکستان سے جے ایف–17 جنگی طیارے کیوں خرید رہے ہیں؟جے ایف–17 طیارے اس وقت پاکستان، میانمار، نائجیریا اور...
10/01/2026

تمام ممالک اچانک پاکستان سے جے ایف–17 جنگی طیارے کیوں خرید رہے ہیں؟
جے ایف–17 طیارے اس وقت پاکستان، میانمار، نائجیریا اور آذربائیجان میں آپریشنل ہیں، جبکہ سعودی عرب، لیبیا، تاجکستان، بنگلہ دیش اور سوڈان نے تقریباً 15 ارب امریکی ڈالر مالیت کے جنگی طیاروں کے آرڈرز دے دیے ہیں

پاکستان کی دفاعی مصنوعات کو دنیا بھر میں متعارف کروانے اور پاکستان کی دفاعی ایکسپورٹس میں انقلابی ترقی کی راہ ہموار کرنے پر مودی صاحب نشان پاکستان کے حق دار ہیں۔فضائیہ کو ان سےبہتر برانڈ امبیسیڈر نہیں مل سکتا تھا۔

10/01/2026

مزدور کم از کم چالیس ہزار
ٹیچر پچیس ہزار
مزدور جتنی تنخواہ تو دیں؟

Private to 10 15K bhi daity hain....

09/01/2026

**تربیلہ جھیل کی نذر ہونے والی بستیوں پر ایک نظر:*
تحریر و تحقیق :محمد آصف خان. (آرٹیکل نمبر 6)
ملک پاکستان کی ترقی میں متاثرین تربیلہ ڈیم کی قربانیوں کو سنہری حروف میں لکھا جائے تو بھی کم ہے، اپنے آباؤ اجداد کی قبروں تک قربانی دینی پڑی اور اپنے آبائی علاقوں کو چھوڑ کر در بدر ہوئے مگر ملک کو روشن اور سر سبز بنایا۔
خیر، تربیلہ ڈیم کی تعمیر کی سکیم پر 1960 کی دہائی میں آغاز ہوا. تربیلہ ڈیم (مٹی سے بنائے گے بند) کی تعمیرات کے آغاز سے پہلے کچھ رہائشیں اور دفاتر بنانے ضروری تھے۔ عین تربیلہ بند سے جڑی بستیاں، دریا کے رائیٹ بنک (مغربی کنارہ) اور لیفٹ بنک (مشرقی کنارہ) کو انخلاء کروایا گیا اور ان کی متبادل رہائش کے لیے ٹاؤن شپ تیار کئے گئے. لیفٹ بنک پر غازی ہملٹ جس میں موضع صوبڑہ، ڈل اور موہٹ کے لیے تین سیکٹر اور رائیٹ بنک پر گلہ ہملٹ نزد ٹوپی برائے موضع کیہارہ، باڑہ، پیہور اور سمبل کے لیے بنائے گئے.
17 نومبر 1967 کو لینڈ ایکوزیشن ایکٹ کے تحت سیکشن 4 کا نوٹیفکیشن جاری ہوا تو زرعی و سکنی جائیداد کے انتقالات اور خرید و فروخت بند ہو گئے اور زمینوں کے ریٹ اس سے پچھلے پانچ سالہ اوسط کے مطابق لگائے گئے جبکہ زیادہ تر ایوارڈز 71-1970 میں ہوئے اور جولائی 1974 میں جھیل میں پانی بھر گیا تھا تمام لوگوں کو با امر مجبوری انخلاء کرنا حالانکہ متبادل آباد کاری ہونی باقی تھی مگر کیا کرتے پانی چڑھ دوڑا تھا۔
سب سے پہلے تربیلہ ڈیم سکیم کے تحت 1968 میں صوبڑہ گاؤں متاثر ہوا اور اس کے باسیوں کو انخلاء نقل مکانی کرنی پڑی۔ اس کے ساتھ ککڑ چوہاء، گڑھی میرا اور پہرواسہ کے گاؤں جزوی متاثر ہوئے البتہ ان کی آبادیاں بچ گئی تھیں.
صوبڑہ گاؤں (لیفٹ بنک) کو سب سے پہلے خالی کر کے تربیلہ ڈیم انتظامیہ کے لیے دفاتر، رہائشی کالونیاں، بنک، سیکورٹی، تھانہ، اسپتال، گیسٹ ہاوسز،، گالف گراؤنڈ، کرکٹ سٹیڈیم، آرمی پبلک سکول، سکولز، مساجد اور چرچ وغیرہ تعمیر ہوئے. اس کے علاوہ ریلوے اسٹیشن اور ریل گاڑی کا سپیشل ریلوے ٹریک بچھایا گیا. اسی طرح موضع ڈل اور رائیٹ بنک پر پیہور کو بھی انخلا کرنا پڑا تھا جہاں ڈیم کی بنیادیں رکھی گئیں تھیں۔
اسی سال، 1968 میں تربیلہ ڈیم کے بند کی تعمیر کے لیے گدون: گندف سے مٹی اور بیسک سے مخصوص قسم کی ریت حاصل کرنے کے لیے زمین حاصل کی گئی. جو کنویئر بیلٹ کے ذریعے لائی جانی شروع ہوئیں. اس مخصوص ریت سے کنکریٹ کی جاتی اور مٹی سے بند کی بھرائی کی جاتی.
تربیلہ ڈیم کا بند موضع پیہور (رائیٹ بنک) اور موضع ڈل (لیفت بنک) پر تیار کیا گیا. پاور ہاؤس پیہور کے مقام پر بنایا گیا. ڈل گاؤں کا کچھ قبرستان اور کسی بزرگ اللہ کے ولی رحمت اللہ کا مزار اب بھی تربیلہ بند کے درمیانی قدرتی پہاڑی پر آج بھی موجود ہے.
آج کے آرٹیکل میں تربیلہ ڈیم کی متاثرہ بستیوں کا ذکر ہو گا.
اس آرٹیکل میں متاثرہ بستیوں کا ذکر تربیلہ ڈیم سے شروع کر کے دریائے سندھ کے ساتھ ساتھ شمال کو سفر کرتے ہوئے کریں گے اور پھر دریائے سرن کے ساتھ ساتھ مغرب سے مشرق اور پھر شمال کو سفر کریں گے. اسی طرح دریائے دوڑ کے ساتھ ساتھ مشرق سے مغرب اور جنوب میں سفر کریں گے. ان بستیوں کو دریاؤں کے آمنے سامنے (آر-پار) کلسٹرز وائز، پہلے رائیٹ بنک پھر لیفٹ بنک کا ذکر کیا جائے گا. (رائیٹ بنک دریا کے بہاؤ کی طرف منہ کر کے دیکھا جاتا ہے ظاہر ہے رائیٹ بنک دائیں اور لیفٹ بنک پانی کے بہاؤ کے بائیں ہاتھ پر واقع ہوتا ہے).
تربیلہ جھیل کی نذر ہونے والی متاثرہ بستیاں، دریائے سندھ کے رائیٹ بنک:
1 پیہور، 2 باڑہ، 3 کیہارہ (یہ تین بستیاں ٹوپی صوابی کی متاثر ہوئیں). 4 سمبل، 5 پھنیاں، 6 بُرج (پھنیاں)7 نوچھی، 8. کھولیاں دا میرا 9 شگئی، 10 گِدر بانڈی، 11 کھبل زریں، 12 کھبل بالا 13 کیاء زریں. 14 کیاء بالا، 15 گلی سیداں، 16 کالی شیرا، 17 منڈی سیداں، 18 گڑھی ستھانہ. (علاقہ اتمان بالا ہری پور ہزارہ کا اختتام ہوا اور اب ہم سابقہ امب سٹیٹ کے علاقہ میں داخل ہونے جا رہے ہیں)
19 ڈب ڈھیری زریں، 20 ڈب ڈھیری بالا.21 رڑ زرین۔ 22 رڑ بالا۔ 23 عشراہ، 24 کنیرڑی 25 لگڑاہ، 26 امب زریں، 27 امب بالا، 28 بیسگ، 29. سنگا (رائیٹ بنک امب سٹیٹ کا اختتام ہوا اور علاقہ کالا ڈھاکہ/طور غر شروع ہونے جار ہے). 30 کیاں سیداں، 31 لکوال، 32 مہابڑا زریں، 33 مہابڑا بالا.34 برنجل (زمین متاثر ہوئی)، 35 بھوکاڑا (زمین متاثر ہوئی) 36 گٹہ (زمین متاثر ہوئی)۔ 37 نادرے (زمین متاثر ہوئی)۔ 38 مریڑ، 39 گھڑی (زمین متاثر ہوئی)۔ 40 نیو کلے (زمین متاثر ہوئی)۔ 41 پلوسہ, 42 کرنا (جزوی آبادی متاثر ہوئی).
(رائیٹ بنک کالا ڈھاکہ کا اختتام ہوا اور ضلع شانگلا سوات کا متاثرہ علاقہ شروع ہونے جا رہا ہے)۔ 43 ڈب کلے دیدل، 44 والی سوات قلعہ دیدل، 45 دیدل, 46 کماچ، 47 بھڑ کماچ، 48 بانڈہ کماچ، 49 بیاڑ کماچ, 50 کابل گرام شانگلہ(زمین متاثر ہوئی)۔ دریا سندھ رائیٹ بنک آباد متاثرہ بستیوں اور جھیل کا اختتام ہوا۔
آئیے، اب دوبارہ تربیلہ ڈیم سے دریا سندھ کے لیفٹ بنک سے بطرف شمال دریائے سندھ کے ساتھ ساتھ چلتے ہیں:
51 سوبڑا، 52 بھرواسہ (جزوی)، 53 گڑھی میرا (جزوی) ، 54 ککڑ چوآ (جزوی)، 55 ڈل، 56 موہٹ، 57 تُرپکھی، 58 جھاڑ پھر تربیلہ جو کہ ایک ٹاؤن تھا جس میں: (59 جٹو، 60 گوجرہ، 61 لقمانیہ) شامل تھے۔62 گِدر بانڈی، 63 ٹاہلی.64. بانڈہ ملاح ڈھیری، 65 ڈھیری، 66 موزاء بنگ، 67 بنگ، 68 خانپور، 69 توی، 70 باندہ ملاح زریں، 71 باندہ ملاح بالا (انھیں بانڈہ بسنت بھی کہا جاتا ہے)، 72 نواں گراں، 73 کھرکوٹ، 74. انورہ، 75. لالوگلی، 76 پلابنڑیں، 77 دیرہ، 78 کرپلیاں، 79 میرا خیرو، 80 میرا سیداں.
(لیفٹ بنک, سابقہ امب سٹیٹ کا علاقہ شروع ہونے جا رہا ہے) 81 ابی بینڑں، 82 دکانی زریں، 83 دربند، 84 فرید آباد، 85 گمٹی، 86 ہوتر، 87 میرا اور 88 تیربٹ. 89 چھپر اور 90 بروٹی جزوی متاثر ہوئے.
(اب لیفٹ بنک پر علاقہ کالاڈھاکہ/طور غر شروع ہونے جا رہا ہے). 91 میاں بیلہ، 92 ڈبرئی، 93 کنڈر، 94 طوارہ، 95 کوٹکے، 96 کنہار شریف, 97 غازی کوٹ، 98 ڈاڈم (زمین متاثر ہوئی)، 99 بکرئی(زمین متاثر ہوئی)۔ 100 مچھرا (زمین متاثر ہوئی)، 101 بیمبل (زمین متاثر ہوئی) 102 بلیانی زریں، 103 بلیانی بالا، 104 سورمل (زمین متاثر ہوئی) 105 کوٹلئی، (زمین متاثر ہوئی)۔ 106 جدباء،(زمین متاثر ہوئی)۔ 107 شگئی (زمین متاثر ہوئی)۔ یہاں تربیلہ جھیل کی آخری حد ہے.
(تربیلہ ڈیم سے شگئی کالا ڈھاکہ جھیل کی لمبائی 85 کلومیٹر ہے اور شگئی سے تھاکوٹ بٹگرام 30 کلومیٹر ہے).
دریائے سندھ کے بعد اب معاون دریا، دریائے سرن جو تربیلہ گاؤں میں دریائے سندھ میں مشرق سے مغرب بہتا ہوا، دریائے سندھ جو شمالاً جنوباً بہتا تھا میں شامل ہوتا تھا اور سنگم (T کی شکل) بناتا تھا اور اس مقام کو سِر مُنہ کہا جاتا تھا یہ جگہ تربیلہ اور کھبل کے درمیان کشتیوں کا مرکزی گَدر تھا. اب معاون دریا، دریائے سرن کے ساتھ ساتھ مشرق کو چلتے ہیں. رائیٹ بنک پر ڈھیری کی بستی واقع تھی جو پہلے شمار ہو چکی ہے، 108 ترناوا، 109 میرا، 110 کنڈ، 111 مورتی، 112 ڈب، 113 سانجی کسی، 114 کندریالہ، 115 جھنگ، 116 گھوڑا، 117 نوازگاہ، 118 لنگر، 119 سید پور 120 مراد پور (جم) اور 121 لدڑھکی۔
اور، اب واپس دریا سرن کے لیفٹ بنک سے دوبارہ چلیں گے، تربیلہ (جٹو، گوجرہ، لقمانیہ، گِدربانڈی اور ٹاہلی کا شمار پہلے دریاۂے سندھ کے ساتھ بھی ہو چکا ہے لہزا ان کو دوبارہ نمبر شمار نہیں دیا گیا)، 122 تندولہ، 123 گرہان (جزوی متاثرہ) 124 ہروڑہ، 125 تھپلہ، 126 نڈی بستی، 127 کوٹ، 128 بانڈہ ککڑچوآ، 129 کرہیڑیاں، 130 اٌچہ بیلہ، 131 پنڈ خانخیل، 132 چریاں، 133 کچھی، 134 سوہا اور 135 بیڑی اور 136 بیڑ (جزوی متاثرہ). یہ ہوا دریائے سرن کا علاقہ۔
اب چلتے ہیں دریائے دوڑ کے علاقہ کی متاثرہ بستیوں کی طرف.
دریائے دوڑ جو تھپلہ پل کے پاس دریائے سرن میں شامل ہو کر سنگم (Y کی شکل) بناتا تھا. اس کے رائیٹ بنک کی متاثرہ بستیاں: 137 پکا پنیالہ، 138 پہارُو، 139 پھولدہار، 140 درگڑی، 141 جوڑاپنڈ، 142 دروازہ (جزوی متاثرہ گاؤں بچ گیا زمین زیر آب آئی)، 143 کاگ (جزوی متاثرہ زمین اور گاؤں متاثر ہوا کچھ اراضی بچ گئی جس پر دوبارہ آبادی کی گئی)، 144 جبہ، 145 بصیرہ، 146 جامعہ اُتمان (جزوی متاثر گاؤں اور کچھ زمین جھیل سے باہر بچ گئی) اور اب دریائے دوڑ کے لیفٹ بنک چلتے ہیں. 147 داڑی، 148 ناڑہ (ناڑہ کی اراضی متاثر ہوئی جبکہ گاؤں بچ گیا) 149 بِڑیاں، 150 ممائیہ، 151 باہدو، 152 ڈانڑاں، 153 کھیوہ، 154 جاگل (اس گاؤں کی داخلیاں دھمکار کالونی، بھورا بانڈہ اور بسومیرا غیر متاثرہ رقبے ہیں) 155 کھلابٹ، 156 کانڈل، 157 پڈھانہ (پڈہانہ کچھ رقبہ پانی سے باہر بچ گیا تھا جہاں یہ گاؤں دوبارہ آباد ہوا) 158 ڈھینڈہ، 159 پنیاں اور 160 بھیرہ کا جزوی رقبہ متاثر ہوا جبکہ گاؤں محفوظ ہیں.
اس کے علاوہ کھلابٹ ٹاؤن شپ متاثرین کی آباد کاری سکیم کے تحت 161 قاضیاں، 162 چک سکندرپور، 163 ملکیار، 164 چھوہر شریف اور 165 کالس کا رقبہ متاثر ہوا.
کانگرہ کالونی کے لیے 166 کانگرہ گاؤں کا رقبہ متاثر ہوا.
غازی ہملٹ کے لیے 167 پپلیالہ اور 168 گھاڑا کا رقبہ متاثر ہوا. 169 موضع غازی کا رقبہ تربیلہ ڈیم کی تربیلہ ریسٹلمنٹ آرگنائزیشن کے دفاتر کے لیے حاصل کیا گیا جہاں کلکٹرز حصول اراضی کے دفاٹر بنائے گئے. آج کل ان میں تحصیل غازی کے دفاتر اور عدالتیں وغیرہ ہیں اور مختلف محکمے موجود ہیں۔
گلہ ہملٹ کے لیے 170 گلہ (ٹوپی) کا رقبہ متاثر ہوا. اور، نیو دربند ٹاون کے لیے 171 چوئیاں گھاڑا کا رقبہ متاثر ہوا نیز 172 گندف اور 173 بیسگ (گدون) کا جزوی رقبہ بسلسلہ تعمیر تربیلہ ڈیم اور حصول میٹیریل متاثر ہوا تھا۔
زہے نصیب، تربیلہ جھیل کی 90 فیصد بستیاں جو جھیل کی نذر ہوئیں وہ بستیاں وادیوں، زرخیز زمینوں اور باغات پر مشتمل تھیں۔زمینیں اور آبادیاں ڈوب گیئں مگر ان آبادیوں کی ملکیتی قیمتی پہاڑ، وسائل اور معدنیات بلا معاوضہ ویسے ہی جھیل کے کنارے بے کار اور بے یار و مدد گار پڑے رہ گئے ہیں۔
آبادیاں اور زمینیں جھیل کی نذر ہو گئیں اور ہزاروں ایکڑ انتہائی قیمتی ملکیتی پہاڑ خواہ مخواہ ناقابل استعمال اور غرق ہو گئے۔
آرٹیکل کا اختتام اختر انصاری کے اشعار پر کیا جاتا ہے:
یاد کے تند و تیز جھونکے سے
آج ہر داغ جل اٹھا میرا
یاد ماضی عذاب ہے یا رب
چھین لے مجھ سے حافظہ میرا

*اہم گزارش* اپنی قیمتی فیڈبیک یا کمی بیشی کی نشاندھی کمنٹ سیکشن میں یا WhatsApp 03335730592 پر کیجیئے گا۔ شکریہ

09/01/2026

“They will pay one of us to kill one of us just to say it was one of us”

08/01/2026

پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے صوبے کے ستر ھزار امام مساجد کے لئیے 25000 ھزار روپے کا وظیفہ مقرر کر دیا، ایک خصوصی تقریب میں سینکڑوں امام مساجد موجود تھے جنھوں نے وزیر اعلیٰ کے اس اعلان کا بھرپور خیر مقدم کیا، اس منصوبے پر سرکاری خزانے سے 20 ارب روپے سالانہ مختص کیئے گئے ہیں۔ مریم نواز نے بتایا کہ اُنکے والد نواز شریف نے کہا کہ پندرہ ھزار روپے ماہانہ کی رقم امام مساجد کے رتبے کے لئیے بہت کم جسکے بعد میں نے 25000 روپے ماہانہ کی رقم مقرر کی جو متعلقہ امام مساجد کے بنک اکاؤنٹوں میں باقاعدگی سے منتقل کی جائیگی۔

KP main already ho rha hai shyad?

08/01/2026

“کامیابی صرف پوزیشن ہولڈرز کی میراث نہیں،
بلکہ ہر اُس دل کی امانت ہے —
جو ہار نہیں مانتا۔
اور آخر میں، میں ہر بچے کو ایک ہی بات کہتا ہوں:
"مایوس نہ ہونا! کیونکہ اکثر وہ بچے جو نمبروں میں پیچھے ہوتے ہیں، اصل زندگی میں سب سے آگے نکل جاتے ہیں۔"

03/01/2026

Today, it’s Venezuela. Tomorrow, it could be yours.

03/01/2026

جاری کر دی ہے اور اس کے نتائج خوفناک ہیں 🚨🚨🚨
•گزشتہ سال گندم کے استعمال میں 20 سال کی سب سے بڑی کمی ریکارڈ کی گئی
•دالوں اور گوشت کی کھپت بھی 20 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے
•دودھ کا استعمال بھی 20 سالوں کی کم ترین سطح پر آگیا

02/01/2026

Ghazi Haripur Tarbela

Address

Haripur
22800

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Khalabat Township Haripur Hazara posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Khalabat Township Haripur Hazara:

Share