16/04/2023
*زکوۃ کے پیسے سے افطاری کروانا*
مجیب: قاری محمد ثاقب جلالی
دارالافتاء اہلسنت
(جامعہ صراط مستقیم کوٹلی لوہاراں)
سوال
کیا زکوۃ کے پیسے سے افطاری کروا سکتے ہیں ؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
زکوۃ کی ادائیگی کے لیے ضروری ہےکہ شرعی فقیر کو زکوۃ کے مال کا مالک بنادیا جائے، اس لیے زکوۃ کےپیسے سے افطاری کروانے سے زکوۃ ادا نہیں ہوگی کیونکہ افطاری میں عموما شرعی فقیر اور صاحب نصاب دونوں طرح کےافراد موجود ہوتےہیں نیز افطاری کروانے میں عام طورپرکسی کو مالک نہیں بنایا جاتا بلکہ ان کےلیے کھانا مباح کیا جاتا ہےکہ جتنا چاہیں کھالیں اوربقیہ چھوڑجائیں ۔
البتہ اگرکوئی شخص شرعی فقیر کوزکاۃ کی نیت سے افطاری کےکھانےکا مالک بنادے کہ وہ چاہےتو کھالے چاہے تو ساتھ لے جائے تو جتنی مالیت کا کھانا اسے دیا ہے اتنی زکوۃ ادا ہوجائےگی۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم