25/04/2026
ایران امریکہ جنگ میں پاکستان کے لیے کچھ اچھے مناظر
جب سے ایران امریکہ جنگ شروع ہوئی ہے پاکستان کا کافی امیج بہتر ہوا ہے۔ جہاں اور کچھ بہتر ہوا وہاں ایک خبر یہ بھی بہتر نظر آئی وہ یہ کے پاکستان میں ۸۰ ہزار سے زائد پاکستانیوں کو مساجد، امام بارگاہوں، مزارات، میلاد، محرم کے جلوسوں میں شہید کرنے والے مخصوص فرقے کے لوگ اور انکے علماء پاکستان وفادار بن کر دکھائی دیئے۔ اس سے قبل یہ مولوی ٹولا اکثر ہر دہشتگردی کے واقعے کے بعد اپنے مسلک کے دہشتگرد کی جہاں دل پر پتھر رکھ کر مجبوری میں مذمت کرتے تھے۔ وہاں یہ بونگی بھی مارتے تھے کے یہ جو دیوبندی خودکش بمبار نے دھماکہ کیا تھا یہ دراصل مشرف کی اس غلط پالیسی کا نتیجہ ہے جو اسنے امریکہ کے ساتھ مل کر وار آن ٹیرر میں شمولیت کرکے کی تھی۔ اور کیوں کے امریکہ افغانستان میں لوگوں کو مار رہا ہے اس لئے جوابن مشرف کے غلط فیصلے کے رِیکشن میں یہ سب ہورہا ہے۔
یعنی کے ایک انفرادی شخص (مشرف) کے فیصلے کا خمیازہ عام مسلمان پاکستانی شہری ادا کریں۔ حالانکہ دیکھا جائے تو مشرف نے بھی کچھ غلط نہیں کیا تھا۔ کیوں کے جب سے پاکستان وجود میں آیا تب سے ریاست نے امریکہ کا اتحادی ہونے کا فیصلہ کیا۔ یہاں تک کے ضیاء الحق کے دور میں ریاست نے روس کے لئے افغانستان میں امریکہ کا ساتھ دیا۔ اور امریکہ کی ذاتی جنگ کو اسلامی جہاد بنا کر پیش کیا۔ پاکستان کے دیوبندی مدارس سے بچوں کو جہادی بنا کر امریکہ کی جنگ کو روس کے خلاف جہاد بنا دیا گیا۔ اس غلیظ کام پر پاکستان کے دیوبندی مدارس اور علماء پر ڈالروں کی بارش کردی گئی۔ راتوں رات یہ علماء عام بچوں کو جہاد پر بھیج کر اپنے بچوں کے ساتھ شاہانہ زندگی گزارنے لگے۔ ان عنایات کی بدولت ضیاء کو علماء نے “مرد مومن مرد حق” کا خطاب دیا۔ آج تک انکو وہ علماء ہیرو کے طور پر پیش کرتے ہے۔ لیکن جب امریکہ نے کام پورا ہونے کے بعد اپنے ہی بنائے ہوے نام نہاد انہیں مجاہدین کو دہشتگرد ڈیکلیئر کردیا تو مشرف نے حسب ریاستی پالیسی اپنے اتحادی امریکہ کے ساتھ کھڑا ہونے کا فیصلہ کیا۔
اب فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی مشرف کی تمام اُنہیں پالیسیوں پر عمل پیرا ہے۔ وہ بھی مشرف کی طرح یہ جملہ دہراتے نظر آتے ہے کے گڈ طالبان اور بعد بیڈ طالبان کچھ نہیں ہوتا بلکہ یہ سب دہشتگرد اور پاکستان کے مخالف ہیں۔
عاصم منیر کیوں کے خود بھی دیوبندی مذہبی گھرانے سے تعلق رکھتے ہے اور خود حافظ بھی ہے تو انہوں نے مشرف کی کچھ غلطیوں سے سیکھا۔ وہ جانتے تھے کے مشرف تمام بہترین پالیسیوں کو دو طبقوں نے بہت زیادہ خراب کرکے پیش کیا۔ ایک مذہبی مولوی خاص طور پر دیوبندی۔ کیوں کہ ضیاء کے دور میں افغانی امریکی جہاد کا فائدہ بھی اسی فرقے کو ہوا تھا جبکہ مشرف کے دور میں تو جیسے انکے پیٹ پر لات ماردی گئی ہو۔ حالانکہ پاکستان میں بریلوی اور شیعہ تو ویسے بھی مشرف کی پالیسیز پر خوش تھے کیوں کے ضیاء کے دور میں ان دو مسالک کو سب سے زیادہ دبایا گیا تھا۔ انہیں وجوہات کی بنا پر عاصم منیر نے پہلے تو دیوبندی علماء کو اپنے ساتھ ملایا حالانکہ اس میں سارے علماء شامل نہیں۔ کراچی کے جامعہ رشید کے مہتمم مفتی عبدلرحیم اور انکے ہمنواؤں نے ریاست کا ساتھ دینا کا اعلان کیا جبکہ باقیوں نے اسکی مخالفت کی جیسے کے مولانا فضل رحمان اور دیگر۔ انہوں نے الٹا انکو ریاستی دین فروش مولوی قرار دیا۔
دوسری غلطی مشرف کی یہ تھی کے اسنے میڈیا کو کھلا چھوڑ دیا اسی وجہ سے مشرف کی تمام بہترین پالیسیز کو بھی میڈیا نے ایسا پیش کیا جیسے کہ یہ ملک دشمن ہے۔ اسی لئے عاصم منیر نے میڈیا کو ایسا اچھا اور ٹائٹ پٹا ڈالا کے میڈیا پر کوئی بکواس ریاستی اداروں کے خلاف نہیں جا سکتی چاہے وہ جائز تنقید ہی کیوں نا ہو۔ کیوں کہ جب مشرف کے دور ہمارے امریکہ سے تعلقات بہت زیادہ اچھے تھے۔ اکانومی تمام بہتر تھی اور امریکہ پاکستان کی تعریف کرتا تھا تو اس وقت کے مولوی اور یہ میڈیا اسکو امریکہ کی غلامی سے تعبیر کرتے تھے۔ مشرف کی تعریف ہوتی تھی تو کہتے تھے کے کیوں کے مشرف امریکہ کے تلوے چاٹ رہا ہے اِسی لیے امریکہ اسکی تعریف کرتا ہے۔ لیکن آج عالم یہ ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر ایسا اچھا پٹا مولویوں اور میڈیا کو ڈالا ہے کہ آج ٹرمپ اگر عاصم منیر کی تعریف کرے تو فوراً یہ مولوی اور میڈیا یہ کہتے ہوے نظر آئینگے کہ ٹرمپ کی جانب سے فیلڈ مارشل کی تعریف اسلامی اور سفارتی کامیابی ہے۔
باقی رہی سہی کسر ایران امریکہ جنگ نے پوری کردی۔ وہ تکفیری دیوبندی جو سارا وقت پاکستان کے خلاف زہر اگلتے تھے اور انہے پاکستان کی افغان طالبان کے خلاف والی پالیسی سے تکلیف اندر سے جلا رہی تھی۔ یہاں تک مولانا فضول رحمان نے پاکستانی فوج کو یہ طعنہ تک دے دیا کہ کے کیوں کے افغانستان ایک کمزور ملک ہے اِسی لیے تم ان پر حملے کر رہے ہو۔ اِسی جگہ ایران ایک طاقتور ملک ہے تو اس پر تم خاموش ہو۔ یہ بیان فضل رحمان نے تمام تکفیریوں کو ساتھ بیٹھا کر کیا۔ حد تو یہ تھی کہ اس اجلاس میں لکیر کے فقیر شیعہ مولوی بھی موجود تھے جو انہیں تکفیری ملاؤں کے ساتھ بیٹھے تھے جو انکو کافر کہتے ہیں۔ اور یہ کے یہ تو اجلاس ہی ایسی لئے بولایا گیا کے فوج افغانی اور پاکستانی طالبانی دہشتگردوں کے خلاف کاروائی روک دے جس سے پاکستان میں سب سے زیادہ متاثر شیعہ ہوے تھے۔ لیکن ایران جنگ کے بعد جب کچھ بیانات شیعہ علماء نے دئیے تو اسکی رِیکشن وہ دیوبندی تکفیری دہشتگرد اور انکے حامیوں نے جنہوں نے افغانستان کے نام پر پاکستان میں ۸۰ ہزار شہری شہید کردیے۔ پاکستانی فوجیوں کو شہید کہنے سے انکار کردیا تھا۔ وہ اچانک سے محبِ وطن بن گئے اور پاکستان اور پاک فوج سے ہمدردی نے حمایت کا راگ الاپ رہے ہیں۔ یوں یہ ایران امریکہ جنگ میں پاکستان کے لیے کچھ اچھے مناظر بھی دیکھنے کو ملے۔
✨ مہدی رضا شاھ