Mehdi Raza Shah

Mehdi Raza Shah I am Mehdi Raza Shah, lives in Hyderabad. Doing as Podcaster here. Thankyou🙂

ایران امریکہ جنگ میں پاکستان کے لیے کچھ اچھے مناظر جب سے ایران امریکہ جنگ شروع ہوئی ہے پاکستان کا کافی امیج بہتر ہوا ہے۔...
25/04/2026

ایران امریکہ جنگ میں پاکستان کے لیے کچھ اچھے مناظر

جب سے ایران امریکہ جنگ شروع ہوئی ہے پاکستان کا کافی امیج بہتر ہوا ہے۔ جہاں اور کچھ بہتر ہوا وہاں ایک خبر یہ بھی بہتر نظر آئی وہ یہ کے پاکستان میں ۸۰ ہزار سے زائد پاکستانیوں کو مساجد، امام بارگاہوں، مزارات، میلاد، محرم کے جلوسوں میں شہید کرنے والے مخصوص فرقے کے لوگ اور انکے علماء پاکستان وفادار بن کر دکھائی دیئے۔ اس سے قبل یہ مولوی ٹولا اکثر ہر دہشتگردی کے واقعے کے بعد اپنے مسلک کے دہشتگرد کی جہاں دل پر پتھر رکھ کر مجبوری میں مذمت کرتے تھے۔ وہاں یہ بونگی بھی مارتے تھے کے یہ جو دیوبندی خودکش بمبار نے دھماکہ کیا تھا یہ دراصل مشرف کی اس غلط پالیسی کا نتیجہ ہے جو اسنے امریکہ کے ساتھ مل کر وار آن ٹیرر میں شمولیت کرکے کی تھی۔ اور کیوں کے امریکہ افغانستان میں لوگوں کو مار رہا ہے اس لئے جوابن مشرف کے غلط فیصلے کے رِیکشن میں یہ سب ہورہا ہے۔

یعنی کے ایک انفرادی شخص (مشرف) کے فیصلے کا خمیازہ عام مسلمان پاکستانی شہری ادا کریں۔ حالانکہ دیکھا جائے تو مشرف نے بھی کچھ غلط نہیں کیا تھا۔ کیوں کے جب سے پاکستان وجود میں آیا تب سے ریاست نے امریکہ کا اتحادی ہونے کا فیصلہ کیا۔ یہاں تک کے ضیاء الحق کے دور میں ریاست نے روس کے لئے افغانستان میں امریکہ کا ساتھ دیا۔ اور امریکہ کی ذاتی جنگ کو اسلامی جہاد بنا کر پیش کیا۔ پاکستان کے دیوبندی مدارس سے بچوں کو جہادی بنا کر امریکہ کی جنگ کو روس کے خلاف جہاد بنا دیا گیا۔ اس غلیظ کام پر پاکستان کے دیوبندی مدارس اور علماء پر ڈالروں کی بارش کردی گئی۔ راتوں رات یہ علماء عام بچوں کو جہاد پر بھیج کر اپنے بچوں کے ساتھ شاہانہ زندگی گزارنے لگے۔ ان عنایات کی بدولت ضیاء کو علماء نے “مرد مومن مرد حق” کا خطاب دیا۔ آج تک انکو وہ علماء ہیرو کے طور پر پیش کرتے ہے۔ لیکن جب امریکہ نے کام پورا ہونے کے بعد اپنے ہی بنائے ہوے نام نہاد انہیں مجاہدین کو دہشتگرد ڈیکلیئر کردیا تو مشرف نے حسب ریاستی پالیسی اپنے اتحادی امریکہ کے ساتھ کھڑا ہونے کا فیصلہ کیا۔

اب فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی مشرف کی تمام اُنہیں پالیسیوں پر عمل پیرا ہے۔ وہ بھی مشرف کی طرح یہ جملہ دہراتے نظر آتے ہے کے گڈ طالبان اور بعد بیڈ طالبان کچھ نہیں ہوتا بلکہ یہ سب دہشتگرد اور پاکستان کے مخالف ہیں۔
عاصم منیر کیوں کے خود بھی دیوبندی مذہبی گھرانے سے تعلق رکھتے ہے اور خود حافظ بھی ہے تو انہوں نے مشرف کی کچھ غلطیوں سے سیکھا۔ وہ جانتے تھے کے مشرف تمام بہترین پالیسیوں کو دو طبقوں نے بہت زیادہ خراب کرکے پیش کیا۔ ایک مذہبی مولوی خاص طور پر دیوبندی۔ کیوں کہ ضیاء کے دور میں افغانی امریکی جہاد کا فائدہ بھی اسی فرقے کو ہوا تھا جبکہ مشرف کے دور میں تو جیسے انکے پیٹ پر لات ماردی گئی ہو۔ حالانکہ پاکستان میں بریلوی اور شیعہ تو ویسے بھی مشرف کی پالیسیز پر خوش تھے کیوں کے ضیاء کے دور میں ان دو مسالک کو سب سے زیادہ دبایا گیا تھا۔ انہیں وجوہات کی بنا پر عاصم منیر نے پہلے تو دیوبندی علماء کو اپنے ساتھ ملایا حالانکہ اس میں سارے علماء شامل نہیں۔ کراچی کے جامعہ رشید کے مہتمم مفتی عبدلرحیم اور انکے ہمنواؤں نے ریاست کا ساتھ دینا کا اعلان کیا جبکہ باقیوں نے اسکی مخالفت کی جیسے کے مولانا فضل رحمان اور دیگر۔ انہوں نے الٹا انکو ریاستی دین فروش مولوی قرار دیا۔
دوسری غلطی مشرف کی یہ تھی کے اسنے میڈیا کو کھلا چھوڑ دیا اسی وجہ سے مشرف کی تمام بہترین پالیسیز کو بھی میڈیا نے ایسا پیش کیا جیسے کہ یہ ملک دشمن ہے۔ اسی لئے عاصم منیر نے میڈیا کو ایسا اچھا اور ٹائٹ پٹا ڈالا کے میڈیا پر کوئی بکواس ریاستی اداروں کے خلاف نہیں جا سکتی چاہے وہ جائز تنقید ہی کیوں نا ہو۔ کیوں کہ جب مشرف کے دور ہمارے امریکہ سے تعلقات بہت زیادہ اچھے تھے۔ اکانومی تمام بہتر تھی اور امریکہ پاکستان کی تعریف کرتا تھا تو اس وقت کے مولوی اور یہ میڈیا اسکو امریکہ کی غلامی سے تعبیر کرتے تھے۔ مشرف کی تعریف ہوتی تھی تو کہتے تھے کے کیوں کے مشرف امریکہ کے تلوے چاٹ رہا ہے اِسی لیے امریکہ اسکی تعریف کرتا ہے۔ لیکن آج عالم یہ ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر ایسا اچھا پٹا مولویوں اور میڈیا کو ڈالا ہے کہ آج ٹرمپ اگر عاصم منیر کی تعریف کرے تو فوراً یہ مولوی اور میڈیا یہ کہتے ہوے نظر آئینگے کہ ٹرمپ کی جانب سے فیلڈ مارشل کی تعریف اسلامی اور سفارتی کامیابی ہے۔

باقی رہی سہی کسر ایران امریکہ جنگ نے پوری کردی۔ وہ تکفیری دیوبندی جو سارا وقت پاکستان کے خلاف زہر اگلتے تھے اور انہے پاکستان کی افغان طالبان کے خلاف والی پالیسی سے تکلیف اندر سے جلا رہی تھی۔ یہاں تک مولانا فضول رحمان نے پاکستانی فوج کو یہ طعنہ تک دے دیا کہ کے کیوں کے افغانستان ایک کمزور ملک ہے اِسی لیے تم ان پر حملے کر رہے ہو۔ اِسی جگہ ایران ایک طاقتور ملک ہے تو اس پر تم خاموش ہو۔ یہ بیان فضل رحمان نے تمام تکفیریوں کو ساتھ بیٹھا کر کیا۔ حد تو یہ تھی کہ اس اجلاس میں لکیر کے فقیر شیعہ مولوی بھی موجود تھے جو انہیں تکفیری ملاؤں کے ساتھ بیٹھے تھے جو انکو کافر کہتے ہیں۔ اور یہ کے یہ تو اجلاس ہی ایسی لئے بولایا گیا کے فوج افغانی اور پاکستانی طالبانی دہشتگردوں کے خلاف کاروائی روک دے جس سے پاکستان میں سب سے زیادہ متاثر شیعہ ہوے تھے۔ لیکن ایران جنگ کے بعد جب کچھ بیانات شیعہ علماء نے دئیے تو اسکی رِیکشن وہ دیوبندی تکفیری دہشتگرد اور انکے حامیوں نے جنہوں نے افغانستان کے نام پر پاکستان میں ۸۰ ہزار شہری شہید کردیے۔ پاکستانی فوجیوں کو شہید کہنے سے انکار کردیا تھا۔ وہ اچانک سے محبِ وطن بن گئے اور پاکستان اور پاک فوج سے ہمدردی نے حمایت کا راگ الاپ رہے ہیں۔ یوں یہ ایران امریکہ جنگ میں پاکستان کے لیے کچھ اچھے مناظر بھی دیکھنے کو ملے۔

✨ مہدی رضا شاھ

06/04/2026

پیٹرول کی قیمتیں بہت بڑھ گئی ہیں اور آگے مزید بڑھیں گی۔
ظلم کے خلاف اٹھو - امام حسین علیہ السلام کا قول ہے کہ ظلم سہنے والا بھی ظالم کے ساتھ برابر کا شریک ہے۔
Petrol prices have increased significantly and will likely rise further.
Stand against injustice — the message of Imam Hussain teaches that one who tolerates oppression is equally responsible as the oppressor.

06/04/2026

افسران پر ہر مہینے کروڑوں اور اربوں روپے خرچ ہو رہے ہیں — کوئی پوچھنے والا نہیں۔
Government officers consume millions and even billions every month — yet no one is held accountable.

02/04/2026

پیٹرول کی قیمتیں بہت بڑھ گئی ہیں اور آگے مزید بڑھیں گی۔
ظلم کے خلاف اٹھو - امام حسین علیہ السلام کا قول ہے کہ ظلم سہنے والا بھی ظالم کے ساتھ برابر کا شریک ہے۔
پاکستان میں وزیرِاعظم ہاؤس، صدر، وزرائے اعلیٰ، گورنرز اور افسران پر ہر مہینے کروڑوں اور اربوں روپے خرچ ہو رہے ہیں — کوئی پوچھنے والا نہیں۔

Petrol prices have increased significantly and will likely rise further.
Stand against injustice — the message of Imam Hussain teaches that one who tolerates oppression is equally responsible as the oppressor.
In Pakistan, Prime Minister House, President, Chief Ministers, Governors, and government officers consume millions and even billions every month — yet no one is held accountable.

18/03/2026

علی لاریجانی اور آیت اللہ علی خامنہ ای کے درمیان اُن کی شہادت سے پہلے کی ایک گفتگو

علی لاریجانی، ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری، آیت اللہ علی خامنہ ای کے پاس ایک سنجیدہ رپورٹ لے کر آئے — لیکن اُن کا دل سرد نہیں تھا۔

طویل خاموشی کے بعد انہوں نے کہا:“میرے رہبر… اس بار خطرہ صرف دباؤ کا ایک گزرتا ہوا پیغام نہیں ہے۔ ایک فیصلہ کیا جا چکا ہے۔ دشمن آپ کو قتل کرنا چاہتا ہے، چاہے آسمان میزائلوں سے کیوں نہ جل اٹھے۔ ہم نے ایک مضبوط محفوظ مقام تیار کیا ہے، ایسا مقام جو بڑی احتیاط سے محفوظ اور نظروں سے پوشیدہ رکھا گیا ہے — ایسی جگہ جہاں بم آسانی سے نہیں پہنچ سکتے اور نہ ہی طیارے حملہ کر سکتے ہیں۔ یہ چھپنا نہیں ہے، میرے رہبر… بلکہ طوفان گزرنے تک عارضی طور پر نظروں سے اوجھل ہو جانا ہے۔”

رہبر کچھ لمحے خاموش رہے، پھر آہستہ سے کھڑے ہوئے — گویا تاریخ خود اُن کے ساتھ کھڑی ہو گئی ہو۔

وہ قریب آئے اور پُرسکون لہجے میں پوچھا:“جب تم میرے پاس آئے تھے… تو تم کس جواب کی توقع کر رہے تھے؟”

لاریجانی نے کچھ جھجکتے ہوئے جواب دیا:“مجھے توقع تھی کہ آپ انکار کریں گے۔ لیکن میرے رہبر، قوم کو آپ کی ضرورت ہے اور جنگ کو اپنے کمانڈر کی۔”

رہبر مسکرائے — ایسی مسکراہٹ جس میں اداسی بھی تھی اور دانائی بھی۔

“تم ریاستوں کے حساب اور سکیورٹی کی کتابوں میں بالکل درست ہو۔ لیکن آؤ، کچھ دیر ایک ایسی زبان میں بات کریں جو سیاست سے بھی زیادہ پرانی ہے۔

میں ایک سپاہی سے موت کا سامنا کرنے کو کیسے کہہ سکتا ہوں اگر اس کا کمانڈر خود غائب ہو جائے؟میں لوگوں سے ثابت قدم رہنے کو کیسے کہوں… اگر میں ہی خطرے کے میدان سے سب سے پہلے چلا جاؤں؟”

وہ رکے، جیسے کربلا کا دروازہ اُن کے دل میں کھل گیا ہو۔

“ہم اُس شخص کے فرزند ہیں جس کا نام حسین ابن علی ہے — وہ امام جسے اپنے انجام کا علم تھا اور پھر بھی وہ اُس کی طرف یوں بڑھے جیسے کوئی خدا کے وعدے کی طرف بڑھتا ہے۔ وہ اس لیے غائب نہیں ہوئے کہ اُن کی فوج کم تھی — کیونکہ آسمانوں میں اُن کے پاس ایک بڑی فوج موجود تھی۔”

لاریجانی نے جواب دیا:“لیکن میرے رہبر، تاریخ صرف ایک صفحہ نہیں ہے۔ ہمارے پاس ایک غائب امام بھی ہیں جن کی غیبت نے ہمیں سکھایا کہ کبھی کبھی غائب ہونا حکمت ہوتا ہے، خوف نہیں۔”

رہبر نے آہ بھری اور کہا:“فرق یہ ہے، مسٹر لاریجانی، کہ جب امام غائب ہوئے تو اُن کے پاس نہ فوج تھی اور نہ ایسی قوم جو حق کا دفاع کر سکتی۔ لیکن ہم… میں کیسے غائب ہو جاؤں جب میرے پاس لڑنے والی ایک قوم موجود ہے؟ میں کیسے اوجھل ہو جاؤں جبکہ میرے سپاہی آگ کے نیچے کھڑے ہیں؟

جب ایک رہنما اکیلا ہو اور غائب ہو جائے تو شاید وہ حکمت ہو۔لیکن جب پوری قوم اُس کے پیچھے کھڑی ہو تو اُس کی غیبت تاریخ کے ضمیر میں ایک بھاری سوال بن سکتی ہے۔”

لاریجانی خاموش ہو گئے، اُن کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔

رہبر نے اُن سے مصافحہ کیا اور اُن کی فکر مندی پر شکریہ ادا کیا۔ جب لاریجانی چلے گئے تو انہوں نے اپنے خاندان کو جمع کیا اور انہیں اس تجویز کے بارے میں بتایا — ایک محفوظ جگہ جہاں وہ جنگ ختم ہونے تک جا سکتے تھے۔

انہوں نے انہیں ایسے دیکھا جیسے بچے عزت اور وقار کے معنی کو دیکھتے ہیں اور بس اتنا کہا:“ہم وہیں ہیں جہاں آپ ہیں۔”

چنانچہ وہ شخص وہیں رہا — اس لیے نہیں کہ وہ خطرے کو نہیں جانتا تھا، بلکہ اس لیے کہ وہ اس سے بھی گہری حقیقت کو جانتا تھا:

کچھ رہنما جب موت سے بچنے کے لیے غائب ہو جاتے ہیں تو ممکن ہے وہ اپنی قوم کی یادوں سے بھی غائب ہو جائیں۔

12/03/2026

on US bases in gulf countries are legitimate. No matters these bases are being physically used against Iran or not.

خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں پر حملہ جائز ہے۔ کوئی فرق نہیں پڑتا کہ یہ اڈے ایران کے خلاف جسمانی طور پر استعمال ہو رہے ہیں یا نہیں۔

05/03/2026

آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت اور صدام حسین کا قصہ۔

05/03/2026

‎ “اہلسنت کے مقدسات کی توہین حرام ہے” رہبر معظم آیت اللّٰہ خامنائی کا فتویٰ۔
لیکن اسکی باوجود بھی نفرت پھیلانے والے تکفیری باز نہیں آرہے۔ یہ خود بھی نہیں چاہتے کے صحابہ کی توہین رک جائے۔ یہ جان بوجھ کر اشتعال دلا کر گستاخی کرواتے ہیں تاکہ انکا کاروبار چلتا رہے۔

05/03/2026

ایران پر حملہ امریکہ اور اسرائیل نے کیا ہے تو ایران سعودی عرب ، یو اے ای ، قطر ، کویت ، بحرین پر کیوں حملے کر رہا ہے؟۔

02/03/2026

کربلا تو دوبارہ کبھی نہیں ہوسکتی لیکن کربلا کی ادنیٰ مثال دینے کے لیے ایک کربلا ہر دور میی برپا ہوتی ہے جو بتاتی ہے کے کربلا کیوں ہوئ تھی اور امام حسین علیہ السلام تنہا کیوں رہ گئے تھے ۔ عصر حاضر میں وارث خون حسینؑ “سید علی خامنہ ای” نے سچا حسینی بن کر دکھایا اور وقت کے یزید کے ساتھ ٹکڑا کر شہید ہوگئے ۔

02/03/2026

رہبر معظم انقلاب اسلامی امام سید علی الحسین الخامنہ ای کی شہادت اس امت کے لیے عظیم نقصان ہے ۔ یہاں تک کے ہندو بھائیوں نے اپنا سب سے بڑا مذہبی تہوار یعنی اپنی سب سے بڑی عید کی تمام تقریبات کینسل کردی ہے ۔ ہم بحثیت مسلمان کے چاہیے کے عید الفطر سادگی سے گزارے اور عید کے دن بھی اپنے اس عظیم قائد کو یاد رکھے۔

Address

Hyderabad

Telephone

+923199278203

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mehdi Raza Shah posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category