15/06/2026
❇️ *دین میں جبر نہ ہونے کا صحیح مطلب*
«لاَ إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ قَد تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ»
(سورہ البقرہ، آیت 256)
یعنی: دین میں کوئی جبر نہیں، کیونکہ ہدایت اور گمراہی کا راستہ واضح ہو چکا ہے۔
بعض لوگ اس آیت کا مطلب یہ سمجھتے ہیں کہ اسلام انسان کو یہ مکمل آزادی دیتا ہے کہ چاہے دین قبول کرے یا نہ کرے، اور دین کے معاملے میں کسی قسم کی پابندی یا زور زبردستی نہیں ہونی چاہیے؛ بالکل اسی طرح جیسے جدید مغربی فکر میں “ذاتی آزادی” (Personal Liberty) کا تصور پایا جاتا ہے۔ لیکن یہ مفہوم درست نہیں۔
اسلام میں “دین میں جبر نہیں” کا مطلب یہ ہے کہ حق اور باطل، ہدایت اور گمراہی کا فرق پوری طرح واضح کر دیا گیا ہے۔ سچائی کی نشانیاں روشن ہیں، دلائل واضح ہیں، اور صحیح و غلط راستہ انسان کے سامنے کھول کر بیان کر دیا گیا ہے۔ اس لیے اب کسی کو زبردستی قائل کرنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔
مزید یہ کہ حقیقت میں دین کو جبر کے ذریعے انسان کے دل میں اتارا ہی نہیں جا سکتا۔ کیونکہ دین صرف چند الفاظ کا نام نہیں کہ کسی سے زبان سے کہلوائے جائیں، اور نہ ہی چند ظاہری رسموں کا مجموعہ ہے کہ انسان مجبوری میں انہیں انجام دیتا رہے۔ بلکہ دین ایک قلبی یقین، ایک فکری وابستگی، اور زندگی گزارنے کا ایک مکمل طریقہ ہے، جو انسان دل کی آمادگی اور شعوری قبولیت کے ساتھ اختیار کرتا ہے۔