Bashir Ahmed

Bashir Ahmed We upload hadees , islamic information ,islamic Qoutes From authentic books of islam and NEWS

آرتھر کی پیدائش ایک سپرم ڈونر کی مدد سے ہوئی تھی، لیکن انھیں یہ معلوم نہیں تھا کہ ان کے حیاتیاتی والد کون ہیں۔ اسی وجہ س...
14/08/2026

آرتھر کی پیدائش ایک سپرم ڈونر کی مدد سے ہوئی تھی، لیکن انھیں یہ معلوم نہیں تھا کہ ان کے حیاتیاتی والد کون ہیں۔ اسی وجہ سے جب بھی وہ پیرس میں کہیں جاتے، انھیں اپنے اردگرد موجود کسی بھی مرد کو دیکھ کر خیال آتا کہ شاید وہی ان کے اصل والد ہوں۔

برسوں تک وہ اپنے آس پاس کے مردوں کو اسی نظر سے دیکھتے رہے۔ وہ کہتے ہیں: ’میں سوچتا تھا کہ شاید میرے استاد ہی میرے والد ہوں، یا پھر وہ لوگ جنھیں میں روز بس میں دیکھتا ہوں۔ یہ خیال مجھے مسلسل بے چین اور غصے میں رکھتا تھا، کیونکہ اس طرح زندگی گزارنا بہت مشکل تھا۔‘

بعد میں آرتھر کو آڈری نام کی ایک لڑکی سے محبت ہو گئی۔ آڈری بھی سپرم ڈونر کی مدد سے پیدا ہوئی تھیں۔ دونوں پہلی ملاقات میں ہی ایک دوسرے کو پسند کرنے لگے۔

آڈری اپنی پہلی ملاقات کو ’پہلی نظر کی محبت‘ قرار دیتی ہیں، لیکن دونوں کے ذہن میں ایک تشویش موجود تھی: کیا یہ محض رومانوی کشش تھی یا پھر کسی جینیاتی تعلق کا نتیجہ؟

اس خدشے کی ایک وجہ بھی تھی۔ آرتھر اور آڈری کی پیدائش کے وقت پیرس میں صرف دو سپرم بینک کام کرتے تھے اور کئی مرد ایک سے زیادہ بار سپرم عطیہ کرتے تھے۔ اس لیے یہ ممکن تھا کہ آرتھر اور آڈری سوتیلے بہن بھائی ہوں۔

چنانچہ مشترکہ زندگی کا آغاز کرنے سے پہلے ان کے لیے یہ جاننا ضروری تھا کہ آیا ان کے درمیان کوئی خونی رشتہ موجود ہے یا نہیں۔

تاہم، فرانس میں جینیاتی جانچ اور سپرم عطیہ کنندگان کی شناخت کو خفیہ رکھنے سے متعلق سخت قوانین نے اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی راہ انتہائی دشوار بنا دی تھی۔
فرانس میں جینیاتی ٹیسٹ کے حوالے سے قوانین خاصے سخت ہیں۔ وہاں صرف کوئی تحقیقی سائنس دان، ڈاکٹر یا جج ہی ڈی این اے ٹیسٹ کی اجازت دے سکتا ہے اور اس کی نگرانی کر سکتا ہے۔ گھر پر استعمال ہونے والی ڈی این اے ٹیسٹنگ کٹ رکھنے پر 3500 یورو تقریباً 4288 امریکی ڈالر سے زیادہ جرمانہ بھی ہو سکتا ہے۔
اسی وجہ سے 23اینڈمی، اینسسٹری اور مائی ہیریٹیج جیسی بین الاقوامی کمپنیاں فرانس میں اپنی ڈی این اے ٹیسٹنگ کٹس فروخت نہیں کرتیں۔

سنہ 1994 سے نافذ اس قانون کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ اس کے ذریعے حساس جینیاتی معلومات کو تجارتی کمپنیوں کے ہاتھوں میں جانے سے روکا جاتا ہے۔ ان کے مطابق یہ پابندی ایسے غیر متوقع انکشافات سے بھی بچاتی ہے جو بعض اوقات خاندانوں میں تنازعات اور رشتوں میں کشیدگی کا سبب بن سکتے ہیں۔

تاہم آرتھر کا کہنا ہے کہ فرانس یورپ کا واحد ملک ہے جہاں گھریلو ڈی این اے ٹیسٹ کے استعمال کو باقاعدہ جرم قرار دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے ان جیسے افراد کے لیے اپنی حیاتیاتی شناخت یا خاندانی تعلقات کے بارے میں بنیادی سوالات کے جواب حاصل کرنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔
آڈری کو یہ معلوم ہونے سے پہلے ہی کہ وہ سپرم ڈونر کے ذریعے پیدا ہوئی تھیں، انھوں نے قانون کی تعلیم حاصل کر لی تھی اور ’بایو ایتھکس‘ کے قانون میں مہارت بھی حاصل کر چکی تھیں۔

اسی لیے وہ بخوبی جانتی تھیں کہ فرانسیسی قانون تین دہائیوں سے زیادہ عرصے تک سپرم عطیہ کنندگان کی شناخت کو مکمل طور پر خفیہ رکھنے کی ضمانت دیتا رہا ہے، یہاں تک کہ ان کی وفات کے بعد بھی۔

تاہم آڈری 1979 میں پیدا ہوئی تھیں، یعنی اس دور میں جب اس حوالے سے کوئی باقاعدہ قانون موجود نہیں تھا۔

سنہ 1994 سے پہلے سپرم عطیے کے ذریعے پیدا ہونے والے دیگر افراد کی تلاش کے دوران ان کی ملاقات آرتھر سے ہوئی۔

آرتھر اس وقت تک ایک کتاب لکھ چکے تھے جس میں انھوں نے اپنی حیاتیاتی شناخت اور اصل کے بارے میں مزید جاننے کی خواہش کا ذکر کیا تھا۔

آڈری کہتی ہیں کہ انھیں حیرت ہوئی کہ آرتھر نے ان احساسات کو کتنی خوبصورتی اور درستگی سے بیان کیا تھا جنھیں وہ برسوں سے محسوس تو کر رہی تھیں، مگر الفاظ نہیں دے پا رہی تھیں۔
دونوں ایسے گھرانوں میں پلے بڑھے تھے جہاں انھیں محبت اور توجہ کی کوئی کمی نہیں تھی۔ اس کے باوجود وہ بار بار ان نامعلوم افراد کے بارے میں سوچنے پر مجبور ہو جاتے تھے جنھوں نے ان کے وجود میں بنیادی کردار ادا کیا تھا۔

جب دونوں پہلی بار آمنے سامنے ملے تو ان کے درمیان فوراً ایک مضبوط تعلق قائم ہو گیا۔

لیکن اسی لمحے ایک پیچیدہ سوال بھی سر اٹھانے لگا۔

انھیں اپنے حیاتیاتی باپ کے بارے میں سچ جاننا تھا، مگر جن لوگوں کے پاس یہ معلومات موجود تھیں، وہ انھیں بتانے پر آمادہ نہیں تھے۔
مہینوں کی تلاش کے بعد انھیں جنوبی فرانس میں ایک ڈاکٹر ملا جس نے نقد 900 یورو یعنی تقریباً 1,028 امریکی ڈالر کے عوض جینیاتی ٹیسٹ کیا اور معلوم کیا کہ ان کا آپس میں کوئی رشتہ نہیں تھا۔

لیکن انھیں یقین نہیں تھا کہ وہ اس پر بھروسہ کر سکتے ہیں۔

آڈری کہتی ہیں، ’ہمیں فکر تھی کہ کہیں وہ دھوکے باز نہ ہو۔‘

انھوں نے نتیجے کی تصدیق کے لیے گھر میں استعمال ہونے والا ٹیسٹنگ کٹ لینے پر غور کیا، لیکن ایک وکیل ہونے کے ناتے آڈری قانون کے دائرے میں رہ کر کام کرنا چاہتی تھیں۔

چنانچہ 2010 سے انھوں نے فرانسیسی نظام کو قانونی طور پر چیلنج کرنا شروع کر دیا۔

وہ جاننا چاہتی تھیں کہ آیا ان کا عطیہ کنندہ ابھی زندہ ہے اور اگر ایسا ہے تو کیا وہ اب بھی گمنام رہنا چاہتا ہے۔

کیا انھیں اس بارے میں غیر شناختی معلومات مل سکتی تھیں کہ اس نے کتنی بار عطیہ کیا تھا اور کیا آرتھر ان کے ایک ہی باپ سے پیدا ہونے والے بہن بھائیوں میں شامل ہو سکتے تھے؟

ان کی تمام کوششیں ناکام رہیں۔

سنہ 2015 میں فرانس کی اعلیٰ ترین انتظامی عدالت نے ان کی آخری اپیل بھی مسترد کر دی۔
اپنے پہلے بچے کی پیدائش سے کچھ عرصہ قبل ایک ڈاکٹر نے ان کے متعلقہ عطیہ کنندگان کے بارے میں دستیاب معلومات کی جانچ پر آمادگی ظاہر کی۔

فرانسیسی قانون کے تحت ایک طبی ماہر کو اپنے مریضوں کے بارے میں اس نوعیت کی معلومات تک مکمل رسائی حاصل ہوتی ہے، لیکن وہ انھیں یہ معلومات فراہم نہیں کر سکتا۔

ڈاکٹر نے معلوم کیا کہ ان کے عطیہ کنندگان مختلف برسوں میں پیدا ہوئے تھے، اس لیے وہ ایک ہی شخص نہیں ہو سکتا تھا۔

یہ ایک ایسی معلومات تھی جس نے ان کی زندگی بدل دی، لیکن انھیں یہ صرف اس لیے معلوم ہو سکی کیونکہ ایک ڈاکٹر نے قواعد توڑنے پر رضامندی ظاہر کی۔

آڈری کہتی ہیں، ’یہ بالکل عجیب ہے، کیونکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ڈاکٹر میرے بارے میں مجھ سے زیادہ جان سکتا ہے۔‘

اس نئی معلومات کے باوجود آرتھر کو اب بھی خدشہ تھا کہ کہیں وہ آپس میں کزن یا کسی اور طرح رشتہ دار نہ ہوں، اس لیے برسوں مزاحمت کے بعد انھوں نے بالآخر گھر پر کیا جانے والا ڈی این اے ٹیسٹ کرا لیا۔

مہم چلانے والوں کا کہنا ہے کہ فرانس کی پابندی لوگوں کو ایسے ٹیسٹ کرنے سے روکنے میں زیادہ مؤثر ثابت نہیں ہوئی، جبکہ وکالتی گروپ ’ڈی این اے پاس‘ کے اندازے کے مطابق فرانس میں 10 لاکھ سے کہیں زیادہ افراد یہ ٹیسٹ کرا چکے ہیں۔

بہت سے لوگ یہ کٹس ان دوستوں کے ذریعے منگواتے ہیں جو ان ممالک میں رہتے ہیں جہاں یہ قانونی طور پر دستیاب ہیں، یا پھر پڑوسی ممالک میں فارورڈنگ سروسز استعمال کرتے ہیں۔

ٹیسٹ کے نتائج نے بتایا کہ ان کا آپس میں کوئی رشتہ نہیں تھا۔
ڈی این اے کے نتائج نے جلد ہی مزید دروازے کھول دیے۔

30 برس تک یہ تصور کرنے کے بعد کہ ان کے والد کون ہو سکتے ہیں، آرتھر نے بالآخر 2017 کے کرسمس کے دن اپنے سپرم عطیہ کنندہ سے رابطہ قائم کر لیا۔

لیکن آڈری کے لیے حیرت اس سے بھی بڑی تھی۔

ان کے ڈی این اے میچز میں صوفی نامی ایک خاتون شامل تھیں جن کی وہ عدالت میں نمائندگی کر چکی تھیں۔ یہ دونوں خواتین ایک جیسے قانونی حقوق کے لیے جدوجہد کر رہی تھیں۔

آڈری کہتی ہیں، ’مجھے معلوم ہوا کہ صوفی، ایک خاتون جس کا مقدمہ میں نے عدالت میں لڑا تھا، میری حیاتیاتی بہن ہے۔‘

آڈری اور آرتھر نے اپنا ڈی این اے ٹیسٹ ان آٹھ دیگر کارکنوں کے ساتھ کروایا تھا جو اپنی اصل شناخت تک رسائی کے حق کے لیے مہم چلا رہے تھے۔

ان 10 افراد میں سے چار کا تعلق ایک ہی عطیہ کنندہ سے نکلا، آڈری، ان کے بھائی پیٹر، صوفی اور صوفی کے بھائی ڈیوڈ۔ اس دریافت نے ظاہر کر دیا کہ ایک ہی عطیہ کنندہ سے متعدد بچوں کی پیدائش کا خدشہ ہمیشہ سے حقیقی تھا۔
کئی برس بعد ایک امریکی شخص کے ساتھ جینیاتی مطابقت نے آڈری کو بالآخر اپنے حیاتیاتی والد تک پہنچنے میں مدد دی۔ ان کے عطیہ کنندہ کا نام فلپ تھا، تاہم اس وقت تک وہ وفات پا چکے تھے۔

آڈری کی والدہ نے فلپ کے اہلِ خانہ کو ایک خط لکھا جس میں ان کے ’تحفے‘ پر شکریہ ادا کیا گیا۔ انھوں نے اسے ایسا عطیہ قرار دیا جس کی قدر کا اندازہ لگانا ممکن نہیں۔

جواب میں فلپ کے خاندان نے آڈری کو ملاقات کی دعوت دی۔

آڈری اس لمحے کو یاد کرتے ہوئے کہتی ہیں، ’سب کی آنکھوں میں آنسو تھے۔‘

فلپ کی بہن کو اس سے پہلے کبھی معلوم نہیں تھا کہ ان کے بھائی نے سپرم عطیہ کیا تھا۔ اس ملاقات نے آڈری کو ان بہت سے سوالات کے جواب دے دیے جن کی وہ دہائیوں سے تلاش میں تھیں۔ انھیں اپنے حیاتیاتی خاندان کی طبی تاریخ کے بارے میں معلومات ملیں، جبکہ انھوں نے فلپ کی تصاویر اور پرانی ویڈیو ریکارڈنگز بھی دیکھیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’اب میں انھیں دیکھ سکتی ہوں، یہ جان سکتی ہوں کہ وہ کیسے چلتے پھرتے تھے اور ان کی آواز کیسی تھی۔‘

آڈری کی قانونی جدوجہد اور آرتھر کی کتاب نے مل کر فرانس میں قوانین کی تبدیلی کی راہ ہموار کی۔ نئی قانون سازی کے تحت اپریل 2025 کے بعد سپرم عطیے کے ذریعے پیدا ہونے والے افراد بالغ ہونے پر اپنے عطیہ کنندگان کی شناخت سے متعلق معلومات حاصل کرنے کے حق دار ہوں گے۔

تاہم فرانس اب بھی یورپ کے ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں گھر پر ڈی این اے ٹیسٹ کرنا ممنوع ہے۔

آڈری کے نزدیک اس کا مطلب یہ ہے کہ اس معاملے میں جدوجہد ابھی ختم نہیں ہوئی۔

وہ کہتی ہیں، ہر انسان کو یہ جاننے کا حق حاصل ہے کہ وہ کہاں سے آیا ہے، اور اپنی زندگی کی کہانی اور اصل سے آگاہ ہونا اس کا بنیادی حق ہے۔‘
#محبت #شادی #رشتے ゚viralシ

دو ہفتے قبل پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان طے پانے والے ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے‘ کے مختلف پہلوؤں پر عالمی میڈیا ...
14/08/2026

دو ہفتے قبل پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان طے پانے والے ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے‘ کے مختلف پہلوؤں پر عالمی میڈیا میں تاحال بحث کا سلسلہ جاری ہے۔

جہاں ایک جانب ترک مبصرین یہ دعوے کر رہے ہیں کہ اس معاہدے کے نتیجے میں سعودی سرمایہ ترکی کے دفاعی شعبے کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے، تو وہیں لندن میں قائم میڈیا ادارے ’مڈل ایسٹ آئی‘ نے سعودی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ دراصل سعودی عرب مکہ معاہدے میں مصر کی شمولیت کے خلاف تھا۔

مڈل ایسٹ آئی، جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ اِس کے قطر سے روابط ہیں، نے تین سعودی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ’سعودی عرب نہیں چاہتا تھا کہ مصر اس معاہدے میں شامل ہو، حالانکہ ترکی اس معاہدے میں قاہرہ کی شمولیت پر زور دے رہا تھا۔‘

اِن تین ذرائع میں شامل ایک ذریعہ، جنھیں سعودی فرمانروا کا ایک سابق سینیئر مشیر بتایا گیا ہے، نے بتایا کہ سعودی عرب کم از کم اس سٹیج پر مصر کی شمولیت کا خواہاں نہیں تھا۔

یاد رہے کہ اس دفاعی معاہدے میں مصر کی عدم شمولیت نے کئی سوالات کو جنم دیا تھا۔

دوسری جانب ترک مبصرین نے مکہ معاہدے کے ترکی کے دفاعی شعبے پر ممکنہ اثرات کے حوالے سے کہا ہے کہ سعودی عرب ’کان‘ (Kaan) لڑاکا طیاروں سمیت ملک کے بڑے دفاعی منصوبوں کے لیے اہم مالی معاونت فراہم کر سکتا ہے۔

ترک تجزیہ کاروں کے مطابق یہ معاہدہ پاکستان کی جوہری صلاحیت، سعودی عرب کی مالی طاقت اور ترکی کی تیزی سے ترقی کرتی دفاعی صنعت کو یکجا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ترکی کی خارجہ پالیسی کی ماہر نباہت تانری وردی نے ’فکر تُورو‘ ویب سائٹ پر لکھا کہ ’ترکی اپنی دفاعی پیدوار کی صلاحیت بڑھانے، نئے اور جاری منصوبوں کے لیے مالی وسائل حاصل کرنے اور بعض پروگرامز کے لیے تکنیکی معاونت فراہم کرنے والے شراکت داروں کی تلاش میں ہے۔ اس لیے دفاعی صنعت میں تعاون، اس سکیورٹی معاہدے کا سب سے تیزی سے آگے بڑھنے والا حصہ ثابت ہو سکتا ہے۔‘
جبکہ روس نواز مؤقف رکھنے والے ترک اخبار ’آئدنلک‘ کے لیے اپنے کالم میں تجزیہ کار دوغان اک دنیز نے استدلال کیا کہ اگر ریاض ترکی کی دفاعی صنعت میں جدید تحقیق اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے مالی وسائل فراہم کرتا ہے، تو اس سے انقرہ کا مغربی سرمائے پر انحصار کم ہو سکتا ہے۔

دیگر ترک مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ مشترکہ دفاعی پیداوار اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں مزید قریبی تعاون کی راہ بھی ہموار کر سکتا ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان، ترکی اور سعودی عرب یہ واضح کر چکے ہیں کہ اس معاہدے کا مقصد کسی جارحانہ اقدام کے خلاف اجتماعی دفاع کو مضبوط بنانا ہے اور یہ کہ یہ معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں ہے۔

ان معاہدے کے حوالے سے مختلف ممالک میں جاری بحث کے بعد لوگوں کے ذہنوں میں اس نوعیت کے سوالات نے جنم لیا ہے کہ اس معاہدے سے تینوں ممالک بالخصوص پاکستان کس طرح اور کس نوعیت کا فائدہ حاصل کر پائیں گے اور کیا واقعی کسی ایک ملک کے خلاف جارحانہ اقدام کے بعد دیگر دونوں ممالک بھی تنازع میں کود پڑیں گے؟

بی بی سی اردو نے جیوپولیٹیکل ماہرین و مبصرین سے بات کر کے اِن سوالات کے جوابات جاننے کی کوشش کی ہے۔
خلیجی خطہ فروری 2026 سے جنگ کی لپیٹ میں ہے۔ جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملے کیے تو اُس کے ردعمل میں ایران نے نہ صرف اسرائیل میں اہداف کو نشانہ بنایا بلکہ مشرقِ وسطیٰ کے ممالک پر بھی حملے کیے۔

تہران کا دعویٰ ہے کہ وہ اِن خلیجی ممالک پر نہیں بلکہ وہاں موجود ایسے امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنا رہا ہے جہاں سے اُس کے خلاف حملے کیے جا رہے ہیں۔ تاہم خلیجی حکومتوں نے الزام عائد کیا کہ ایران نے اُن کے سویلین انفراسٹرکچر پر بھی حملے کیے ہیں۔

سعودی عرب بھی ان خلیجی ممالک میں شامل ہے، جس کی عسکری اور تیل کی تنصیبات ایرانی ڈرون و میزائل حملوں کی زد میں آئیں۔

ماہرین اس تناظر میں ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے‘ کو سعودی عرب کے لیے انتہائی اہم قرار دے رہے ہیں اور اُن کا ماننا ہے کہ بظاہر آگے چل کر اِس سے سب سے زیادہ فائدہ بھی ریاض کو ہی ہو گا۔

استنبول پولیٹیکل ریسرچ انسٹٹیوٹ کے فارن پالیسی پروگرام کوآرڈینیٹر ریکارڈو گاسکو نے بی بی سی اُردو کو بتایا کہ ’سعودی عرب کو اس معاہدے سے فوری طور پر سب سے زیادہ فائدہ حاصل ہونے کا امکان ہے۔‘

انھوں نے خطے کی موجودہ صورتحال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کو ایران اور یمنی حوثیوں کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملوں اور خصوصاً سمندری راستوں میں خلل جیسے خطرات کا سامنا ہے۔

گاسکو ک مطابق ’مکہ معاہدہ ترک ٹیکنالوجی اور پاکستان کی روایتی عسکری صلاحیتوں اور سٹریجک تجربے کو ایک جگہ یکجا کرے گا، جس سے سعودی عرب کی ڈیٹرنس صلاحیتیں اور دفاعی پوزیشن مزید مضبوط ہو گی۔‘

ریکارڈو گاسکو وہ واحد تجریہ کار نہیں جو ایسا سمجھتے ہیں۔ دیگر ماہرین بھی سمجھتے ہیں کہ ابتدائی طور پر اس معاہدے سے سب سے زیادہ فوائد سعودی عرب کو ہی حاصل ہوں گے۔

سعودی عرب اور پاکستان نے گذشتہ برس ایک مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

اسی کا حوالہ دیتے ہوئے ماضی میں امریکی انتظامیہ میں متعدد عہدوں پر کام کرنے والی اٹلانٹک کونسل کی مڈل ایسٹ پراجیکٹ ڈائریکٹر ایلیسن مائنر کہتی ہیں کہ ’ترکی کی سعودی عرب اور پاکستان کی موجودہ پارٹنرشپ میں شمولیت سے اس اتحاد کے سفارتی اور دفاعی قد میں مزید اضافہ ہوا ہے۔‘

’ترکی نیٹو کا رُکن ہے، جبکہ اس کی فوج کا شمار نیٹو میں موجود بڑی قوتوں میں ہوتا ہے۔‘

مکہ معاہدے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ایلیسن مائنر نے مزید کہا کہ ’کئی ممالک پر مشتمل اس شراکت داری کا قیام سعودی عرب کی اس حکمتِ عملی سے مطابقت رکھتا ہے جس کے تحت وہ اپنی سکیورٹی شراکت داریوں کو متنوع بنا رہا ہے اور مستقبل میں اس معاہدے میں مزید ممالک کی شمولیت بھی دیکھی جا سکتی ہے۔‘
سعودی عرب نے بحیرہ احمر میں حوثیوں کے خطرے کے سبب ایک نیا بحری دفاعی اتحاد بھی تشکیل دیا ہے۔

ایلیسن مائنر کہتی ہیں کہ سنہ 2015 میں پاکستان نے یمن میں سعودی کارروائیوں کا حصہ بننے سے انکار کر دیا تھا، تاہم وہ سمجھتی ہیں کہ موجودہ صورتحال میں اسلام آباد کا بحیرہ احمر میں کردار بڑھ سکتا ہے۔

حالیہ ہفتوں میں پاکستان نے نہ صرف حوثیوں کی دھمکیوں کی مذمت کی ہے بلکہ انھیں خبردار بھی کیا ہے کہ بحیرہ احمر میں اسلام آباد کے مفادات پر حملے کو جنگی اقدام تصور کیا جائے گا اور اس پر ردِعمل بھی دیا جائے گا۔

یاد رہے کہ بدھ (12 اگست) کو بحیرہ احمر میں ایک جہاز پر حملے میں تین پاکستانی شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق بھی کی جا چکی ہے۔

اس صورتحال میں ایلیسن مائنر سمجھتی ہیں کہ ’یمن میں تنازع دوبارہ شدت اختیار کرنے اور حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں میں اضافے کے تناظر میں یہ امکان پیدا ہو گیا ہے کہ پاکستان نئے معاہدے کے تحت سعودی عرب کو فوجی دستے یا دفاعی سامان فراہم کر سکتا ہے۔‘

تاہم وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ اس تنازع میں پاکستان اور ترکی کی شمولیت ممکنہ طور پر حوثیوں کی ناراضی کا باعث بنے گی اور یہ صورتحال یمن کی جنگ کو مزید علاقائی نوعیت دے سکتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ ترکی یا پاکستان کی ممکنہ شمولیت زمینی حقائق یا جنگ کے نتائج پر کس حد تک فیصلہ کن اثر ڈال سکے گی۔‘
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس معاہدے سے نہ صرف پاکستان کے سفارتی قد میں اضافہ ہوا ہے بلکہ اس سے اس کی دفاعی، عسکری اور معاشی صلاحیتوں میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔

کنگ فیصل سینٹر فار ریسرچ اینڈ اسلامِک سٹڈیز سے منسلک ماہرِ امورِ مشرقِ وسطیٰ عمر کریم کہتے ہیں کہ اس معاہدے سے پاکستان کی علاقائی حیثیت میں بہتری آئی گی اور مشرقِ وسطیٰ کی سکیورٹی میں اس کا کردار مزید بڑھے گا۔

وہ سمجھتے ہیں کہ اس شراکت داری سے پاکستان کو معاشی اور دفاعی فوائد بھی حاصل ہوں گے۔

’سعودی عرب نہ صرف پاکستان کے ساتھ اپنے دفاعی اثاثے شیئر کر سکتا ہے بلکہ اسلام آباد کی مزید معاشی امداد بھی کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ وہ پاکستانی کی دفاعی پیداوار بڑھانے میں بھی مدد کر سکتا ہے، جس کے سبب ایک طرح سے انڈیا کے خلاف پاکستان غیر براہ راست طریقے سے مزید مضبوط ہی ہو گا۔‘

تاہم ریکارڈو گاسکو سمجھتے ہیں کہ پاکستان اس معاہدے کے بعد ترکی کی دفاعی صلاحیتوں سے زیادہ فائدہ اُٹھا سکے گا۔

انھوں نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ پاکستان کے لیے ’سب سے زیادہ مواقع براہِ راست علاقائی جنگوں میں شرکت کے بجائے ٹریننگ اور دفاعی صنعتی تعاون سے پیدا ہوں گے۔‘

گجرات کے ضلع کچھ میں واقع ڈھولاویرا ان مقامات میں سے ایک ہے جسے عالمی ثقافتی ورثے (ورلڈ ہیریٹیج) کی فہرست میں شامل کیا گ...
13/08/2026

گجرات کے ضلع کچھ میں واقع ڈھولاویرا ان مقامات میں سے ایک ہے جسے عالمی ثقافتی ورثے (ورلڈ ہیریٹیج) کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔

تقریباً پانچ ہزار سال قدیم شہر ڈھولاویرا کی داستان کسی جدید سمارٹ سٹی سے کم نہیں ہے۔

آرکیولوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) نے 2018 میں ڈھولاویرا کو عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کروانے کے لیے اس کی نامزدگی سے متعلق دستاویزات یونیسکو ورلڈ ہیریٹیج سینٹر کو ارسال کی تھیں، جبکہ گجرات حکومت نے بھی اس تاریخی مقام کی ترقی اور تحفظ کے لیے مختلف کمیٹیاں تشکیل دی تھیں۔

یہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کچھ کا تاریخ سے تعلق نہایت منفرد رہا ہے اور اس خطے نے ماضی کے کئی اہم رازوں سے پردہ اٹھایا ہے۔

حال ہی میں کچھ کے نزدیک انڈیا اور پاکستان سرحد کے قریب ایک جگہ سے 100 سے زائد انسانی ڈھانچے برآمد ہوئے ہیں۔

حیران کن بات یہ تھی کہ 100 سے زائد ڈھانچے اس انداز میں دفن ملے کہ ان کے سر شمال کی جانب اور پاؤں جنوب کی جانب تھے۔

ان ڈھانچوں کے چہرے کا رُخ مغرب کی طرف تھا۔

ان انسانی باقیات کے گرد ہونے والی تحقیقات کے دوران پانچ دیگر آثارِ قدیمہ کے مقامات بھی دریافت ہوئے، جہاں سے مٹی کے برتن، ٹیراکوٹا کے کھلونے اور قدیم آبادیوں کے آثار برآمد ہوئے ہیں۔ ابتدائی مطالعات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ باقیات قرونِ وسطیٰ کے دور سے تعلق رکھتی ہیں
اگر ابتدائی تحقیق کے نتائج مزید سائنسی اور تفصیلی مطالعات میں درست ثابت ہوتے ہیں، تو یہ دریافت نہ صرف کچھ اور گجرات کی تاریخ بلکہ برصغیر کی وسیع تاریخی روایت کو سمجھنے میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

ان انسانی ڈھانچوں کو سب سے پہلے بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کے اہلکاروں نے دیکھا تھا۔
انڈیا اور پاکستان کی سرحد پر واقع رَن آف کچھ میں ایک مقام سے ملنے والے انسانی ڈھانچوں کے سر شمال کی جانب اور پاؤں جنوب کی جانب تھے، جبکہ ان کے چہرے مغرب کی سمت رخ کیے ہوئے تھے۔

اس دریافت کے بارے میں معلومات دیتے ہوئے کچھ یونیورسٹی کے شعبۂ ارضیات و آثارِ قدیمہ کے سربراہ ڈاکٹر گورو چوہان نے بتایا کہ کچھ میں انڈیا۔پاکستان سرحد کے قریب ایک الگ آثارِ قدیمہ کا مقام دریافت ہوا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس مقام کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ یہاں سے 100 سے زائد انسانی ڈھانچے برآمد ہوئے ہیں
ڈاکٹر گورو چوہان کے مطابق اس مقام کو سب سے پہلے بارڈر سکیورٹی فورس کے اہلکاروں نے گشت کے دوران دیکھا تھا۔ ابتدائی طور پر انھیں یہ ایک قدیم اور ویران بستی کے آثار معلوم ہوئے۔

انھوں نے بی بی سی گجراتی کو بتایا ’ہم نے 2024 میں بی ایس ایف اور ضلع کلکٹر کے دفتر کی مدد سے اس مقام کی تلاش اور تحقیق شروع کی اور بالآخر اسے دریافت کرنے میں کامیاب ہو گئے۔‘

پروفیسر گورو چوہان کا کہنا ہے کہ جب وہ پہلی مرتبہ اس مقام پر گئے تو وہ خود بھی حیران رہ گئے تھے۔

انھوں نے کہا ’اتنی بڑی تعداد میں مردوں اور خواتین کے ڈھانچے نہایت منظم انداز میں دفن پائے گئے، جو غیر معمولی بات ہے۔‘

ان کے مطابق ’ان ڈھانچوں کے سر شمال کی جانب اور پاؤں جنوب کی جانب تھے، جبکہ ان کے چہرے مغرب کی سمت تھے۔ ممکن ہے کہ اس کا تعلق اس دور کے کسی مذہبی عقیدے یا تدفین کی رسم سے ہو۔‘

انھوں نے مزید کہا ’ایک ہی مقام پر اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کی تدفین اس بات کی طرف بھی اشارہ کر سکتی ہے کہ اس زمانے میں کوئی بڑی آفت، سانحہ یا غیر معمولی واقعہ پیش آیا ہو۔‘
پروفیسر گورو چوہان کا کہنا ہے کہ اس دریافت کا ایک اور حیران کن پہلو یہ تھا کہ اس مقام کے اطراف چار سے پانچ مزید آثارِ قدیمہ کے مقامات بھی ملے، جہاں سے مٹی کے برتن، گھروں کے آثار، کھلونے اور ٹیراکوٹا کی اشیا برآمد ہوئیں۔

انھوں نے بتایا کہ بعد ازاں اس تحقیق میں آکسفورڈ یونیورسٹی اور پونے کے ڈیکن کالج کے ماہرین کی بھی مدد حاصل کی گئی۔ ابتدائی مطالعات سے یہ اشارہ ملا کہ یہاں سے ملنے والی باقیات قرونِ وسطیٰ سے تعلق رکھ سکتی ہیں، یعنی ان کی عمر تقریباً 100 سے 1500 سال کے درمیان ہو سکتی ہے۔

پروفیسر چوہان کے مطابق ’اس دریافت کی اہمیت اس لیے مزید بڑھ جاتی ہے کہ یہ باقیات ایسے صحرائی علاقے میں ملی ہیں، جہاں آج کے دور میں ایک دن گزارنا بھی مشکل محسوس ہوتا ہے، جبکہ شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ کبھی یہاں بڑی تعداد میں لوگ آباد تھے۔‘
ڈاکٹر گورو چوہان نے بی بی سی گجراتی کو بتایا کہ ڈھولاویرا قدیم زمانے میں انسانی آبادی کے لیے ایک منتخب اور اہم مقام تھا۔

’ڈھولاویرا کے دور میں دریائے سندھ کا پانی اس علاقے تک پہنچتا تھا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اسی وجہ سے لوگ یہاں آ کر آباد ہوئے تھے۔‘

انھوں نے مزید کہا ’ہمیں اس مقام سے تانبے کے سکے بھی ملے ہیں۔ پاکستان کے نزدیک کنجر کوٹ اور دیگر مقامات سے ملنے والے سکوں پر کی گئی تحقیق کی بنیاد پر یہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ان کا تعلق سومرا سلطنت اور پنجار برادریوں سے ہو سکتا ہے۔‘

زمین کی سطح پر اچانک اتنی بڑی تعداد میں انسانی ڈھانچوں کی دریافت نے مقامی لوگوں اور ماہرینِ آثارِ قدیمہ، دونوں میں شدید تجسس پیدا کر دیا ہے۔
ان ڈھانچوں کے زمین کی سطح پر نمودار ہونے کی وجہ بیان کرتے ہوئے پروفیسر گورو چوہان کہتے ہیں ’یقیناً کوئی قدرتی آفت پیش آئی ہوگی، جس کے نتیجے میں دفن شدہ لاشوں کے اوپر موجود مٹی اڑ گئی اور ان کے ڈھانچے سطحِ زمین پر ظاہر ہونے لگے۔‘

انھوں نے مزید کہا ’درحقیقت اس مقام کو ڈھولاویرا کے دور اور موجودہ دور کے درمیان ایک پل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ کلکٹر نے بھی ایسے کئی مقامات کی فہرست طلب کی تھی۔ مستقبل میں ہم مزید کئی مقامات کی کھوج کر سکتے ہیں۔‘

ڈاکٹر گورو چوہان کا کہنا ہے ’اب ہم ان ڈھانچوں کا ڈی این اے ٹیسٹ کر کے ان کی عمر اور پس منظر معلوم کرنے کی کوشش کریں گے۔‘

اگر یہ ڈھانچے سومرا قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد کے سمجھے جا رہے ہیں، تو آخر یہ سومرا تھے کون؟

برٹینیکا کے مطابق سومرا سلطنت نے 11ویں صدی کے آس پاس اس خطے پر حکومت کی تھی، جس میں موجودہ پاکستان کا صوبہ سندھ بھی شامل تھا۔

مؤرخین کا ایک حلقہ اس خاندان کو عرب النسل قرار دیتا ہے، جبکہ بعض دیگر مؤرخین کے نزدیک اس کی جڑیں راجپوت نسل سے ملتی ہیں۔

سومرا سلطنت تقریباً تین صدیوں تک برسرِ اقتدار رہی۔ اس کے بعد اس کی جگہ سما سلطنت نے لے لی اور بعد میں مغل شہنشاہ اکبر نے اس علاقے کو اپنی سلطنت میں شامل کر لیا۔
کھدیر بیٹ بھج سے تقریباً 200 کلومیٹر شمال میں واقع ہے۔ اسی جزیرے نما علاقے میں ڈھولاویرا کا گاؤں آباد ہے۔ بظاہر کچھ کا ایک عام گاؤں جیسا دکھائی دینے والا یہ مقام درحقیقت ایک غیر معمولی تاریخی ورثے کا حامل ہے۔

اگر گاؤں سے تقریباً ایک کلومیٹر شمال کی جانب جائیں تو ’کوٹڑا ٹمبا‘ کا علاقہ آتا ہے اور یہی مقام اس گاؤں کو منفرد بناتا ہے۔

تقریباً پانچ ہزار سال پہلے یہاں ڈھولاویرا نامی ایک عظیم شہر آباد تھا، جو اس دور کی ترقی یافتہ تہذیب کا ایک اہم مرکز تھا۔ یہ شہر نہ صرف آباد ہوا بلکہ ایک طویل عرصے تک پھلتا پھولتا بھی رہا۔

آئی آئی ٹی گاندھی نگر اور آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کی مشترکہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اس قدیم شہر میں آج سے پانچ ہزار سال پہلے ایک انتہائی مؤثر اور حیرت انگیز آبی نظام موجود تھا۔

13/08/2026

قیامت کا منظر: جہنم سے نکلنے والی گردن اور تین گناہگار لوگ! ⚠️🔥السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،آج کی پوسٹ میں ایک انتہائی اہم اور لرزہ خیز حدیثِ مبارکہ شیئر کی جا رہی ہے، جس میں قیامت کے دن جہنم سے نکلنے والی ایک گردن اور تین بڑے گناہوں میں مبتلا لوگوں کا ذکر ہے۔ یہ حدیث ہم سب کے لیے ایک بہت بڑی نصیحت اور لمحہ فکریہ ہے۔حدیثِ مبارکہ کا مفہوم:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "قیامت کے دن جہنم سے ایک گردن نکلے گی، اس کی دو آنکھیں ہوں گی جو دیکھیں گی، دو کان ہوں گے جو سنیں گے اور ایک زبان ہوگی جو بولے گی، وہ کہے گی: مجھے تین (طرح کے) لوگوں پر مقرر کیا گیا ہے:1️⃣ ہر سرکش ظالم پر،2️⃣ ہر اس آدمی پر جو اللہ کے سوا کسی دوسرے کو پکارتا ہو (شرک کرنے والا)،3️⃣ اور ہر مجسمہ بنانے والوں (تصویریں بنانے والوں) پر۔"حوالہ:📚 سنن الترمذی (حدیث نمبر: 2574)یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ ہمیں ظلم و ستم، شرک کی ہر مروجہ شکل، اور جانداروں کی تصویر کشی یا مجسمہ سازی جیسے سنگین گناہوں سے ہر ممکن بچنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے غضب اور جہنم کے عذاب سے محفوظ رکھے۔ آمین!اِس قیمتی معلومات اور نصیحت کو خود بھی پڑھیں اور اپنے دوستوں و گھر والوں کے ساتھ بھی لازمی شیئر کریں۔ دین کی بات پھیلانا صدقہ جاریہ ہے! 🕊️

برادری، علاقے کے لوگوں، محلے داروں، گھر والوں اور ہمیں کچھ پتا نہیں کہ حسین کیسے راولپنڈی پہنچ گیا اور اس کے پاس پستول ک...
12/08/2026

برادری، علاقے کے لوگوں، محلے داروں، گھر والوں اور ہمیں کچھ پتا نہیں کہ حسین کیسے راولپنڈی پہنچ گیا اور اس کے پاس پستول کیسے آیا تھا۔ یہ گذشتہ تین سال سے شدید ٹینشن میں تھا اور بھائی اس کا علاج کروا رہے تھے۔ البتہ وہ عمران خان کا عاشق اور دیوانہ تھا۔ یہ بات سارا علاقہ اور لوگ جانتے ہیں۔‘

ان خیالات کا اظہار راولپنڈی کے مال روڈ پر ہلاک ہونے والے محمد حسین کے کزن نیاز ولی نے بی بی سی نیوز اردو کے ساتھ بات کرتے ہوئے کیا ہے۔

واضح رہے کہ راولپنڈی پولیس نے گذشتہ روز اپنی ایک پریس ریلیز میں دعویٰ کیا کہ راولپنڈی کی مال روڈ پر سکیورٹی فورسز کی پٹرولنگ ٹیم پر فائرنگ کرنے والا مسلح شخص جوابی کارروائی میں مارا گیا ہے۔ ملزم کی شناخت محمد حسین کے نام سے کی گئی اور حکومت نے اسے پاکستان تحریک انصاف کا سرگرم کارکن قرار دیا تھا۔

پی ٹی آئی نے اگرچہ تسلیم کیا ہے کہ ہلاک ہونے والا شخص جماعت کا کارکن تھا تاہم جماعت نے اس واقعے سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
ترجمان راولپنڈی پولیس کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق یہ واقعہ منگل کی صبح تقریباً گیارہ بجے پیش آیا۔ جہاں محمد حسین نامی شخص نے سکیورٹی فورسز کی پٹرولنگ ٹیم پراپنے پاس موجود پستول سے سیدھی فائرنگ کی۔ فائرنگ کے نتیجے میں سیکیورٹی فورسز کا ایک جوان زخمی ہوا۔ پٹرولنگ ٹیم نے فوری پوزیشن سنبھالتے ہوئے جوابی فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں حملہ آور موقع پر ہی ہلاک ہو گیا۔

راولپنڈی پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والے ملزم کے قبضے سے ایک پستول، گولیاں، اہم دستاویزات اور تحریک انصاف کا جھنڈا برآمد ہوا ہے۔

پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملزم کے موبائل فون اور دیگر سامان کی ابتدائی فرانزک سے اہم روابط کے شواہد ملے ہیں جس پر مزید تفتیش جاری ہے۔
اس واقعے میں سکیورٹی اہلکاروں کی جوابی کارروائی میں مارے جانے والے 22 سالہ محمد حسین کا تعلق خیبر پختونخواہ کے ضلع خیبر کے علاقے باڑہ سے تھا۔
ان کے کزن نیاز گل نے بتایا کہ محمد حسین کے والدین وفات پا چکے ہیں جبکہ ان کے دو بھائی سعودی عرب میں ملازمت کرتے ہیں اور ایک بھائی صوبائی محکمہ تعلیم میں ملازم ہیں جنھوں نے والدین کی وفات کے بعد محمد حسین کی پرورش بھی کی تھی۔

نیاز گل کے مطابق محمد حسین کی ہلاکت کے بعد ان کے بڑے بھائی کو تفتیش کی غرض سے حراست میں لیا گیا ہے تاہم حکام کی جانب سے ان کے اس دعوے کی تصدیق نہیں کی گئی۔
نیاز گل کا کہنا تھا کہ علاقے کے سب لوگ محمد حسین کو ’عمران خان کا عاشق‘ ہونے کی وجہ سے جانتے ہیں۔ ’تحریک انصاف کا جلسہ کسی بھی جگہ اور کسی بھی مقام پر ہو محمد حسین تحریک انصاف کا جھڈا اٹھا کر ضرور پہنچتے تھے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’مختلف مسائل کی وجہ سے محمد حسین اپنی تعلیم کا سلسلہ جاری نہیں رکھ سکے۔ وہ زیادہ تعلیم حاصل نہیں کرپائے تھے جس وجہ سے ان کے بھائی نے ان کو ڈرائیونگ سکھائی تھی تاکہ ان کو ڈرائیونگ کے لیے سعودی عرب بھج دیا جائے۔ ان کے لیے ویزہ حاصل کیا جا رہا تھا کہ یہ واقعہ پیش آگیا ہے۔‘

’ان کے بھائیوں نے گذشتہ کچھ عرصے سے ان کو جیب خرچ دینا بھی بند کردیا تھا تاکہ وہ اپنے علاقے سے باہر نہ جا سکیں اور نہ ہی کسی سرگرمی میں حصہ لے سکیں۔ یہ زیادہ تر اپنے حجرے میں ہوتے تھے جہاں پر یہ مہمانوں کا خیال رکھتے تھے۔
نیاز ولی کا کہنا تھا کہ ’کچھ برسوں سے ہم دیکھ رہے تھے کہ محمد حسین شدید ٹینشن کا شکار تھا اور کچھ نفسیاتی مسائل بھی تھے۔ اس کے بھائی اس کا علاج بھی کروا رہے تھے۔ وہ ڈاکٹر کے پاس بھی آتا جاتا تھا اور کچھ ادویات بھی کھاتا تھا۔‘

راولپنڈی میں پیش آنے والے واقعے پر بات کرتے ہوئے نیاز ولی کا کہنا تھا کہ ’ہم ابھی تک حیران و پریشان ہیں کہ یہ کیا واقعہ ہوا ہے۔ اس واقعہ کا ہم سب سے، اس کے اپنے بھائیوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘

نیاز ولی کا کہنا تھا کہ ’ہمیں کچھ پتا نہیں محمد حسین نے کیا کیا ہے۔‘

ہمارا سارا خاندان قانون کے مطابق چلنے والے لوگوں میں شمار ہوتا ہے۔ ہم قانون کے ساتھ مکمل تعاون کریں گے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے لوگوں سے بھی کہا ہے کہ ابھی وہ ہمارے پاس آنے کی تکلیف نہ کرئیں کیونکہ ہمیں لاش نہیں ملی ہے۔ جب لاش مل جائے گی تو اپنے علاقے کے رسم و رواج کے مطابق باقاعدہ نماز جنازہ کا اعلان کرئیں گے۔

محمد ہاشم باڑہ سیاسی اتحاد کے رہنما ہیں۔ انھوں نے بی بی سی نیوز اردو کو بتایا ہے کہ مشران کا ایک جرگہ ڈپٹی کمشنر سے ملا ہے اور ان سے کہا گیا ہے کہ علاقے کے لوگ قانون کے ساتھ مکمل تعاون کرئیں گے۔ محمد حسین کے بڑے بھائی اس وقت زیر تفتیش ہیں ان کو تفتیش کا عمل مکمل ہونے کے بعد چھوڑا جائے اور لاش حوالے کی جائے تاکہ اس کی تدفین کر سکیں۔

امریکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق گذشتہ ماہ ترکی میں نیٹو ممالک کے سربراہی اجلاس کے بعد روانگی کے وقت ڈونلڈ ٹرمپ نے ممکنہ ...
12/08/2026

امریکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق گذشتہ ماہ ترکی میں نیٹو ممالک کے سربراہی اجلاس کے بعد روانگی کے وقت ڈونلڈ ٹرمپ نے ممکنہ ایرانی خطرے کے پیشِ نظر خفیہ طور پر اپنا طیارہ تبدیل کیا تھا۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق امریکی صدر پہلے ٹی وی کیمروں کے سامنے ایئر فورس ون میں سوار ہوئے لیکن بعد میں انھیں خاموشی سے ہوائی اڈے پر موجود ایک کیٹرنگ ٹرک کے ذریعے ایک فوجی طیارے تک پہنچایا گیا۔

رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کی خفیہ طریقے سے دوسرے طیارے میں منتقلی سے ایئرفورس ون میں موجود صحافی اور حتیٰ کہ وائٹ ہاؤس کے بعض عملے کے ارکان بھی لاعلم رہے۔

بی بی سی کے امریکی شراکت دار ادارے سی بی ایس نیوز کے مطابق، امریکی حکام کا کہنا ہے کہ انھیں ایران کی جانب سے طیارے پر میزائل حملے کے ایک قابلِ اعتبار خطرے کی اطلاع ملی تھی۔

تاہم وائٹ ہاؤس نے طیارہ خفیہ طور پر تبدیل کیے جانے کی ان اطلاعات کی تصدیق نہیں کی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سے قبل انقرہ میں ہونے والے سربراہی اجلاس کے دوران کہا تھا کہ وہ ایران کا ’نمبر ون ہدف‘ ہیں
خفیہ طریقے سے ٹرمپ کی دوسرے طیارے میں منتقلی ایک ایسے وقت ہوئی تھی حب واشنگٹن اور تہران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے جاری مذاکرات ناکام ہونے کے بعد امریکہ نے ایران کے خلاف فوجی حملے دوبارہ شروع کیے تھے۔

ٹرمپ ترکی ایک نئے بوئنگ 747-8 طیارے میں پہنچے تھے، جو قطر کی جانب سے فراہم کیا گیا تھا، تاہم انھوں نے بعد میں اعلان کیا کہ وہ ’پرانی یادوں کی خاطر‘ واپسی کے لیے پرانے ایئر فورس ون طیارے میں سفر کریں گے۔

کراچی سندھ ہائی کورٹ نے پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی شازیہ مری کے خلاف مبینہ جعلی ڈگری پر نااہلی کی درخواست کا فیصلہ 1...
12/08/2026

کراچی سندھ ہائی کورٹ نے پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی شازیہ مری کے خلاف مبینہ جعلی ڈگری پر نااہلی کی درخواست کا فیصلہ 13 سال بعد سنا دیا۔

نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق عدالت نے درخواست ناقابل سماعت قرار دیکر مسترد کردی اور اپنے فیصلے میں کہا کہ آئین کے تحت رکن پارلیمنٹ کو نااہل قرار دینے کا اختیار ہائی کورٹ کو حاصل نہیں۔

وکیل درخواست گزار کا کہنا تھا شازیہ مری نے ہم نام طالبہ کی 2002 کی ڈگری اپنے لیے استعمال کی، جس پر عدالت نے کہا کہ اسی نوعیت کا اعتراض 2018 کے انتخابات میں الیکشن ٹربیونل کے سامنے بھی اٹھایا گیا تھا، الیکشن کمیشن نے 2022 میں ڈگری سے متعلق اعتراض مسترد کر دیا تھا۔
عدالت نے قرار دیا کہ الیکشن ٹربیونل کے فیصلے پر سپریم کورٹ میں دائر اپیل 2023 میں واپس لینے پر خارج کی گئی۔

شازیہ مری کے وکیل کا کہنا تھا ڈگری کا معاملہ الیکشن کمیشن کے سامنے شواہد کے ساتھ زیر بحث آچکا ہے، الیکشن کمیشن شازیہ مری کی ڈگری سے متعلق درخواست پہلے ہی مسترد کرچکا ہے۔

سندھ ہائیکورٹ نے کہا کہ آئین کے تحت کسی شخص کو سچا اور امین قرار دینے کا اختیار عدالتی ٹربیونلز کے پاس نہیں، کسی شخص کو نااہل قرار دینے کے لیے محض آئینی درخواست کافی نہیں، سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں درخواست قابل سماعت نہیں۔

دو افراد کو ایک چھوٹے سے گاؤں کے قریب سڑک کنارے ایک سوٹ کیس ملا۔ کھولنے پر معلوم ہوا کہ سوٹ کیس کے اندر کوئی سامان نہیں ...
11/08/2026

دو افراد کو ایک چھوٹے سے گاؤں کے قریب سڑک کنارے ایک سوٹ کیس ملا۔ کھولنے پر معلوم ہوا کہ سوٹ کیس کے اندر کوئی سامان نہیں بلکہ ایک انسانی جسم تھا۔

یہ واقعہ اتوار کے روز آسٹریلیا کے شہر سڈنی سے تقریباً 230 کلومیٹر دور پیش آیا۔ اس واقعے کی اطلاع پولیس کو دی گئی۔

پولیس کو شبہ ہوا کہ سوٹ کیس میں موجود شخص کو قتل کیا گیا ہے، جس پر ’قتل کی تحقیقات‘ شروع کرنے کا اعلان کیا گیا۔ فارنزک ٹیمیں اور تفتیش کار جائے وقوعہ پر بھجوا دیے گئے۔

تاہم فارنزک جانچ سے معلوم ہوا کہ سوٹ کیس میں کوئی انسانی لاش نہیں بلکہ ایک ’گڑیا‘ تھی۔ جس کے بعد تحقیقات بند کر دی گئیں۔

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پولیس کو ابتدا میں دھوکہ کیوں ہوا؟

پولیس نے بتایا کہ گڑیا نے کسی انسان جیسے کپڑے پہن رکھے تھے، اس کے بال تھے اور ناک میں چھید بھی تھا پولیس کے مطابق ’اس چیز (گڑیا) پر ایسے نشانات بھی تھے، جو نیل اور خراشوں جیسے لگتے تھے۔‘

یہی وجہ ہو گی کہ سوٹ کیس دریافت کرنے والوں نے اسے ایک انسانی جسم ہی سمجھا۔ تاہم ’تفتیش‘ کے بعد پولیس اس نتیجے پر پہنچی کہ وہ کسی انسان جیسی دکھنے والی ایک گڑیا تھی۔
ہیوم پولیس ڈسٹرکٹ کی سپرنٹنڈنٹ لنڈا بریڈبری کے مطابق ’ابتدا میں اسے انسانی جسم سمجھ لیا گیا تھا، کیوں کہ ظاہری طور پر یہ انسانی جسم سے بہت زیادہ مشابہت رکھتی تھی۔ تاہم، اب ہم نے تصدیق کر لی ہے کہ یہ انسانی جسم نہیں ہے۔‘

Address

Hyderabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Bashir Ahmed posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

l="false"> Add listing
  • Login
  • Subscribe

    We will notify you when anything happens in Hyderabad.