Bayania

Bayania بیانیہ ایسی دنیا جہاں آپ حالات حاضرہ، تجارت سمیت مختلف

15/01/2022

ملک ترقی کررہا ہے لیکن کراچی؟
تحریر: حیدر خان

کراچی کو ہمیشہ خوشحال دیکھا ہے، لیکن حالیہ وزٹ نے یہ سوچنے پر مجبور کردیا کہ لوگ کس قدر پریشانی میں مبتلا ہیں۔ فقیروں کی بھرمار ہوچکی ہے۔ بوڑھے اور بوڑھیوں سڑک کنارے ماسک اور کنگے بیچنے پر مجبور ہیں۔ یہ منظر لالہ زار، بیچ لگژری ہوٹل کے پاس کا ہے جب میری نانی کی عمر کی عورت آتی ہے اور کہتی ہے بیٹا کچھ خرید لو۔ اگرچہ اس کی قیمت کچھ زیادہ تھی لیکن یہ قیمت کسی مال سے کہیں کم تھی۔ وہاں سے ٹاور گیا اور ٹاور سے جب ناظم آباد کے لیے بائیکیا بلوائی تو ایک پڑھا لکھا شخص آیا کہ بس آفس کی شفٹ ختم ہوئی ہے ایک کام میں گزارا نہیں۔ اب صبح کا نکلا ہوا یہ لڑکا سردی میں رات گئے تک بائیک چلائے گا۔ تاکہ اپنے ماہانہ اخراجات کو پورا کرسکے۔ ابھی یہیں تک حیرت نہیں اگلے دن جب لالہ زار سے گلشن جانے کے لئے بائیکیا بلوائی تو ایک گونگا بہرا شخص آکر مجھے ریسیو کرتا ہے۔ جسے بائیک چلاتے ہوئے نہ شاہراہ فیصل پر پیچھے سے آنے والی والے پروٹوکول کی سنائی لگتی ہے نہ سجھائی۔
یہیں پر بس نہیں رات تقریبا بارہ بجے کے قریب سخت سردی میں ایک بائیکیا اور منگوائی جو کوئی 19، 20 سال کا لڑکا ہوگا۔ جس کی رہائش سرجانی میں تھی لیکن بھٹک وہ گلشن میں رہا تھا۔ میری رائیڈ اس کے لئے کسی نعمت غیر مترقبہ سے کم نہ تھی کہ مجھے بھی یوپی تک جانا تھا۔ ابھی ہماری رائیڈ شروع ہی ہوئی تھی کہ اس لڑکے کا موبائل بجا جس پر اس کے والد صاحب تھے جو اس کے ابھی تک گھر نہ پہنچنے پر پریشان تھے۔

سارے راستے واپسی پر میں سوچتا رہا کہ اس بڑھیا کا کیا قصور؟ جو اس عمر میں چند پیسوں کے لیے نہ جانے اپنے گھر سے کتنا دور آتی ہوگی۔ اس گونگے بہرے کا کیا قصور؟ جو مجبوری میں ایسا کام کر رہا ہے جس میں اس کی اپنی اور دوسرے کی جان کو خطرہ ہے۔ قصور تو اس لڑکے کا بھی نہیں جو تعلیم پوری کرنے کی عمر میں اپنے ماں باپ کو پریشان کررہا ہے۔
اور پھر میری نظر مشیر خزانہ اکی تقریر پر پڑی کہ ملک ترقی کررہا ہے۔۔۔۔۔۔۔

29/09/2021

پاکستان اور کھیل:
از قلم: حیدر خان

ٹوکیو اولمپکس میں پاکستانی عوام نے غیر معمولی دلچسپی لی، جس کی ابتداء بیس کروڑ کی عوام میں سے فقط 10 کی اولمپک ٹیم سے ہوئی۔۔ ہر شخص کا یہی کہنا تھا کہ اولمپکس اسکواڈ بڑا ہونا چاہیے تھا۔۔۔ کیونکہ کھیلوں کے مقابلوں میں نمائندگی ملک و قوم کے بارے میں عالمی برادری میں اچھا تاثر پیدا کرتی ہے۔ لیکن ایسا نہ ہوسکا۔۔۔۔ آخر کیا وجوہات ہیں جو ہم کبھی اولمپکس میں نمایاں کارکردگی نہیں دکھا سکے ۔

عوام کی کھیل سے عدم دلچسپی:
کسی بھی کھیل سے لگاؤ بچپن سے ہوتا ہے جسے ہمارے یہاں کا معاشرہ اور ماحول بچپن میں ہی دبا دیتا ہے۔ بچوں کو شروع سے ایک ہی بات سننے کو ملتی ہے۔ پڑھوگے لکھو گے بنو گے نواب، کھیلوگے کودوگے ہوگے خراب۔۔ والدین بچپن میں ہی اس کی صلاحیت کو کچل دیتے ہیں، اور یہ بچہ پہلے اسکول، پھر کالج اور یونیورسٹی اور اس کے بعد نوکری کی تگ و دو میں کھو جاتا ہے۔۔ جس کی وجہ سے نہ صرف وہ کھیل سے دور ہوتا ہے بلکہ ایک صحت مند زندگی سے بھی دور ہو جاتا ہے۔۔

تعلیمی ادارے:
ٹوکیو اولمپکس میں نمایاں کارکردگی اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے طلباء نے دکھائی۔۔ اگر ہمارے یہاں کے تعلیمی اداروں کا مشاہدہ کیا جائے تو یہاں موجود فرسودہ تعلیمی نظام طلباء کو اس بات کا موقع ہی نہیں دیتا کہ طلباء کسی غیر نصابی سرگرمی میں حصہ لیں۔ کبھی کبھار برائے نام سال میں ایک دفعہ اسپورٹس ڈے منعقد کرلیا جاتا ہے۔ جہاں طلباء چاٹ، گول گپے کھا کر شرکاء پر فقرے کس کر گزار دے دیتے ہیں۔

کھیلوں کے میدان کا فقدان:
اس کی ایک مثال ارشد ندیم کی ویڈیو میں دیکھنے میں آئی کہ وہ اپنی تیاری کسی کھیل کے میدان میں نہیں بلکہ اپنے گاؤں میں موجود کسی اسکول کے گراؤنڈ میں کی۔ اور اگر ہم خود غور کریں تو یہاں 5 لاکھ کی آبادی میں نہ کوئی انڈور گیم ایریا ہے نہ کوئی بڑے میدان۔۔ مشکل سے کوئی ہمارے پاس اسپرنٹنگ اسٹیڈیم ہے، سوئمنگ پول تو کسی شہر میں ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتا، گولف اسٹیڈیم تو ہمارے یہاں امراء کے لیے ہے اور کراٹے و جوڈو کلب، باکسنگ گیم تو کوئی سوچ بھی نہیں سکتا کہ سرکاری سطح پر کہیں سکھایا جائے۔

اسپورٹس مین کو پذیرائی نہ ملنا:

دنیا بھر میں اسپورٹس مین کو اسپونسرشپ اور گورنمنٹ سپورٹ حاصل ہوتی ہے، مگر ہمارے یہاں حسین شاہ جیسا باکسر کانسی کا تمغہ اور کئی دوسرے اعزازات حاصل کرنے کے باوجود دو وقت کی روٹی کے لیے ترستا تھا۔ اسپونسر نہ ملنے کی بڑی وجہ عوام کی دلچسپی نہ ہونا ہے۔

گورنمنٹ سپورٹ کا نہ ہونا:
اس اولمپک سے پہلے ہمیں یہ بھی نہیں معلوم تھا کہ پاکستان میں کوئی اولمپک فیڈریشن بھی ہے اور اس کے پریذیڈنٹ کو 15 سال ہوچکے ہیں۔ یہاں سوال پریزیڈنٹ صاحب سے بنتا ہے کہ اس عرصے میں پاکستان بھر میں اولمپکس کے لیے انہوں نے کیا کام کیا۔ دوسرا سوال گزشتہ اور موجودہ حکومتوں سے بھی ہے کہ انہوں نے کھیلوں کے لیے کتنے فنڈ جاری کیے۔۔

مذہبی سوچ:
ہمارے یہاں مساجد اور ممبروں پر بیٹھے بعض لوگ کھیل کود کو نہ صرف ناجائز کہتے ہیں بلکہ اس کے کھیلنے والوں کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں۔ جبکہ دیکھا جائے تو اولمپکس میں کئی کھیل ایسے ہیں جس کی حدیث میں ترغیب بھی موجود ہے۔ جیسے تیر اندازی، پیراکی، گھڑ سواری، نیزہ زنی۔

پاکستان اولمپکس مقابلوں میں ایک بھی تمغہ نہیں جیت سکا کیونکہ عالمی سطح پر جیت کے لیے مستقل ڈائٹ، پروپر ماحول میں ذہنی اور جسمانی ٹریننگ اور سالہا سال اس پر کاربند رہنا ضروری ہوتا ہے نہ کہ مقابلوں سے چند مہینوں پہلے کی پریکٹس۔

28/04/2021

تحریر: حیدر خان

پچھلے لاکڈاؤن کے اثرات ابھی تک مکمل ختم نہیں ہوئے کہ نیا لاکڈاؤن شروع ہوچکا ہے۔ سینکڑوں ہزاروں لوگ جو روز کے کمانے والے تھے بیروزگار ہوچکے ہیں۔ رہی سہی کسر مہنگائی نے توڑ دی ہے۔ اپنے اطراف کے لوگوں کا خیال رکھیں، اگر اللہ نے آپ کو استطاعت دی ہے تو اپنے پڑوسیوں، رشتے داروں اور سفید پوش لوگوں کی مدد کریں۔ بازاروں اور گھر گھر مانگنے والے بھکاریوں کو چند سکے دینے سے بہتر اس کو ایک رقم کی صورت میں جمع کرکے کسی حقیقی مستحق کو دے دیں۔

مستحق کے لیے ضروری نہیں کہ وہ کسی جھونپڑی میں رہتا ہو، کئی کرایے کے گھروں کے مکین اور اپنے خاندانی گھر رکھنے والے بھی آپ کی مدد کے مستحق ہوسکتے ہیں۔ چاہے آپ انہیں قرض حسنہ کرکے دیں یا تحفہ کرکے، لیکن اس مشکل وقت میں ان کا سہارا ضرور بنیں۔

اگر آپ کے پاس بقدر نصاب زکوٰۃ رقم موجود ہے چاہے اس پر سال گزرا ہو یا نہیں۔ اس کی ادائیگی پیشگی کردیجئے۔ حالات بد سے بدتر ہوتے نظر آتے ہیں۔ یہ مدینے کی وہ ریاست نہیں جو آپ کی مدد کرے گی بلکہ یہ ریاست آپ سے آپ کا مال بھی لے لے گی۔

الحاصل یہ کہ آس پاس کے لوگوں کا خیال رکھیں، اور انہیں عید کی خوشیوں میں اپنا شریک بنائیں۔

16/08/2020

پروپیگنڈا کیسے کام کرتا ہے؟:
تحریر: حیدر خان
یہ کیسے ممکن ہے کہ سارے سائنسدان دنیا کو گول، متحرک بتائیں اور زمین ساکن و فلیٹ ہو۔ سب چاند پر پہنچنے کا دعویٰ کریں لیکن وہ غلط ہوں، سیٹلائیٹ تو ایک اٹل حقیقت بن گئی ہے تو وہ کیسے غلط ہوسکتی ہے۔ آخر کیسے ممکن ہے لوگوں کو اتنے بڑے پیمانے پر بےوقوف بنانا؟؟
حال ہی میں کورونا کی وبا نے اس کیسے کا جواب دے دیا۔ کس طرح سے پوری دنیا کو ایک جھٹکے میں کئی دنوں تک بند کردیا گیا، حج جیسا اہم اسلامی رکن محدود ہوگیا۔ طواف و عمرہ جیسی عبادت بند ہوگئی۔ پوری دنیا کے لوگ اپنے گھروں تک محدود ہوگئے۔ کیا کورونا ابھی ختم ہوگیا؟ نہیں نا۔ صرف اس کا خوف ختم ہورہا ہے۔ جیسے جیسے لوگ باہر نکل رہے ہیں انہیں اندازہ ہورہا ہے کہ شاید کورونا وائرس کی وجہ سے اتنا بڑا لاکڈاؤن بے وقوفی تھی۔ خیر اس کو رہنے دیتے ہیں کچھ دوسری باتوں پر بھی غور کرتے ہیں۔ کہ بزنس اور سرمایہ دارانہ نظام کس طرح اس دنیا پر قابض ہے۔
مجھے اپنے بچپن میں یاد ہے کہ ہم ہینڈ پمپ سے پانی بھر کر لاتے اور پینے کے لیے وہ ایک عمدہ پانی مانا جاتا لیکن پھر ایک پروپگنڈا ہم تک پہنچا۔زمینی پانی کو بلڈ پریشر کا سبب بتایا جانے لگا اور پھر نتیجتاً ہم لوگوں نے فلٹر کا پانی خریدنا شروع کردیا۔ برصغیر کے چھوٹے شہروں اور دیہاتوں میں لوگ اب بھی زمینی پانی استعمال کرتے ہیں لیکن دنیا بھر میں اس وقت نیسلے، ایکوافیینا، ایویان جیسی کمپنیاں قابض ہوچکی ہیں اور ان کا اثر پاکستان کے بڑے شہروں میں بھی مسلسل پھیلتا جارہا ہے۔
ہم لوگ خود جاکر باڑے سے بھینس کا دودھ لیکر آتے تھے اور شاید آج سے بیس سال پہلے تک پاکستان میں ڈبے والے دودھ کا رواج بھی نہیں تھا اور پھر ایک مہم شروع ہوئی کہ کھلا دودھ نقصان دہ اور ٹیٹرا پیک والا دودھ محفوظ ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے لوگ ملک پیک اولپر اور معلوم نہیں کس کس کمپنی کا دودھ لینے لگے۔ آج دنیا بھر میں ٹیٹرا پیک استعمال ہوتا ہے اور پاکستان میں بھی اس کا استعمال کھلے دودھ سے زیادہ ہے۔
حکمت قدیم طریقہ علاج تھا جو کہ سستا اور بے ضرر ہوتا تھا۔ حکیم نبض دیکھ کر سارے امراض کا بتا دیتے تھے کسی قسم کے میڈیکل ٹیسٹ کی ضرورت نہ ہوتی۔ پھر آہستہ آہستہ اس کو ختم کیا گیا۔ کئی حکماء کو باقاعدہ قتل کرایا گیا۔ تاکہ ایلوپیتھک دوائیوں کی اربوں ڈالر کی انڈسٹری کو فروغ دیا جاسکے۔ اور آج نتیجہ آپ کے سامنے ہے۔
اب سوال یہی ہے کہ پہلے لوگ زمینی پانی پی کر بلڈ پریشر سے محفوظ رہتے تھے۔ کھلے دودھ پی کر مضبوط ہڈیوں کے مالک تھے اور دیسی طریقہ علاج سے طویل زندگی پاتے تھے۔ اگر منرل واٹر، ٹیٹرا پیک دودھ، ایلوپیتھی اتنی فایدہ مند ہے تو لوگ جلدی کیوں مرجاتے ہیں؟
اور بھی بے شمار ایسی مثالیں مل جائیں گی جس میں ہمیں غلام بنایا گیا ہے۔ اور ہم بن چکے ہیں لیکن سوچنے کو تیار نہیں۔۔

02/08/2020

آن لائن اور اجتماعی قربانی کا فراڈ:
⁦✒️⁩تحریر: حیدر خان

کراچی!! جہاں اکثر لوگ اپنے رشتے داروں سے دور رہتے ہیں ان کی ترجیح ہوتی ہے کہ اجتماعی قربانی میں حصہ ڈالا جائے تاکہ جانور کی خریداری، قصائیوں کے نخروں سے بچتے ہوئے تھوڑا گوشت مل جائے جو رات کو باربی کیو پارٹی میں کام آسکے۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ کئی سالوں سے مختلف سیاسی، سماجی اور مذہبی جماعتیں، مساجد و مدرسہ اجتماعی قربانی کا اہتمام کرتے آئے ہیں۔ جو ان جماعتوں کے لیے دگنا منافع بخش ثابت ہوتا ہے ایک تو سستا سا جانور مہنگے داموں آگے بیچ دیتے ہیں اور جانور کی کھال، پائے مغز وغیرہ بھی ہاتھ آجاتا ہے۔ کتنی جماعتیں شرعی معاملات کا خیال رکھتی ہیں، اس قربانی کی شرعی حیثیت کیا ہے اس کی کسے فکر ہے۔ مگر لوگوں کو 15, 16 کلو گوشت مل جاتا ہے۔
اجتماعی قربانی تو ہر سال ہی ہوتی تھی اور لوگ کافی حد تک مطمئن تھے لیکن اس سال کچھ اجتماعی آن لائن قربانی کا اہتمام ہوا، مذہبی، سیاسی اورسماجی جماعتوں کے بعد کچھ کارپوریٹ نے بھی اس منافع بخش کام میں ہاتھ ڈالا لیکن بدقسمتی کہ ان کارپوریٹ کے مالکان وہ تھے جنہوں نے شاید خود سے کبھی قربانی نہیں کی تھی۔ ہماری عوام جو ششکوں کی دیوانی ہے اس نے کھل کر ان کارپوریٹ میں بکنگ کی اور مالکان کولگا خوب دھندا چل نکلا ہے تو انہوں نے اپنی بساط سے زیادہ بکنگ کرلیں۔ اب نتیجہ یہ نکلا کہ جن لوگوں کو پہلے دن قربانی کا گوشت ملنا تھا انہیں دوسرے دن کے اختتام تک بھی گوشت نہ ملا۔ اب اللہ بہتر جانتا ہے کہ آیا ان کارپوریٹ نے اتنی تعداد میں جانور لیے بھی ہیں یا نہیں جو لوگوں کی قربانی کو پورا کرسکیں۔۔ اب تک تو80 فیصد لوگ اپنے فیصلے پر پچھتا رہے ہیں۔ اور اس وقت ہزاروں لوگ اس فراڈ کا شکار ہوچکے ہیں۔
قربانی ایک دینی فریضہ ہے جس میں مستحب تو یہ ہے کہ اپنا جانور سارے سال پالا جائے اور اس کی قربانی کی جائے یا پھر کچھ وقت پہلے جانور لاکر اپنے پاس رکھا جائے کہ اس سے انسیت ہوجائے۔۔ یا کم از کم اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے جانور کا ذبح کیا کروایا جائے۔ لیکن ہماری آرام طلبی، کیا کہیے۔ کسے فرق پڑتا ہے۔ اگر کار خریدنی ہو تو کم از کم ایک بار ڈرائیو کرکے ضرور دیکھتے ہیں لیکن دینی معاملات میں ہم اتنے لاپرواہ کیسے ہوجاتے ہیں۔

سوال سب سے ہونا چاہیے:تحریر: حیدر خانیہ ہماری موجود حکومت کی مجموعی کارکردگی۔۔۔ جس میں ہر چیز گزشتہ سالوں سے بدترین ہے۔ ...
12/06/2020

سوال سب سے ہونا چاہیے:
تحریر: حیدر خان
یہ ہماری موجود حکومت کی مجموعی کارکردگی۔۔۔ جس میں ہر چیز گزشتہ سالوں سے بدترین ہے۔ مگر ابھی بھی کچھ لوگ ہیں جو خان صاحب کو ہینڈ سم سمجھتے ہیں۔ اگرچہ ان کے تمام قیاسات غلط ہی نکلتے ہیں۔ جیسے اندازہ نہیں تھا ڈالر اتنا اوپر جائے گا، اندازہ نہیں تھا کورونا اتنا پھیلے گا، اندازہ نہیں تھا مہنگائی اتنی ہوجائے گی۔
کس شعبے کو کتنا بجٹ دیا گیا اس کو ایک طرف رکھ کر ہم صرف تعلیم، تحقیق، ٹیکنالوجی کے بجٹ پر غور کرتے ہیں جو فقط 83 ارب بنتا ہے جو کہ 20 کروڑ عوام کے حساب سے 415 روپے سالانہ ہے۔ ہماری موجودہ حکومت کے کچھ سپورٹر خان صاحب کے حمایتی صرف اس لیے تھے کہ خان صاحب تعلیم پر کام کرتے ہوئے وزیر اعظم ہاؤس کو یونیورسٹی اور گورنر ہاؤس کو لائبریری بنوائیں گے۔ مگر یونیورسٹی اور لائبریری تو کیا بننی تھی۔ الٹا تعلیم کا بجٹ 97 ارب ( جو کچھ زیادہ نہیں تھا) سے کم کردیا۔ آپ نے بجٹ میں فنکاروں کے لیے حصہ تو رکھا لیکن لاکھوں کی تعداد میں نجی اسکولوں کے اساتذہ کو بھلادیا جنہیں تنخواہ نہ ملنے کی وجہ سے آلو، جوس بیچنا پڑھ رہا ہے۔
اب ہمارے انصافی حضرات کو اس طرح کی چیزیں تو نظر نہیں آئیں گی۔۔ اور ابھی بھی ڈھٹائی سے گزشتہ حکومتوں کو برا کہنے میں مگن ہیں۔ مانا کہ وہ کوئی دودھ کے دھلے نہ تھے۔ مگر جتنا شور شرابہ آپ ان کے خلاف کرتے تھے۔ اب موجودہ کے خلاف بھی کردو۔ ۔۔ پچھلے سال تو بہانہ تھا کہ حکومت نئی تھی۔مگر اس مرتبہ تو اس سے بھی بری صورتحال ہے اور اگر پوری کوشش بھی کریں تب بھی آپ 2018 کی حالت میں اپنے بقیہ 3 سالوں میں بھی نہیں پہنچ سکتے۔
تو عرض صرف اتنی ہے کہ سوال سب سے کیا جائے۔

04/06/2020

اربوں روپے سے تیار ہونے والا ڈرامہ:
حیدر خان:

چاند پر پہنچ جانے والے ڈرامے کے بعد پیش ہے اسپیس ایکس کا نیا ڈرامہ۔ راکٹ کے ٹرمینل پر بڑے مزے سے لائیو ویڈیو میں چوہا گھوم رہا ہے۔ پھر اس سائنس کے پیروکار ہمیں کہتے ہیں کہ ان مکاروں کی بات پر یقین کرو۔ اگر یہ تمہیں بندر کی اولاد بولتے ہیں تو وہ بھی مانو اور اگر تمہارا دنیا کو بیک وقت 1600 کلومیٹر اور 107300 کلو میٹر کی اسپیڈ سے گھماتے ہیں وہ بھی مانو۔
جو لوگ کہنے کو اربوں روپے کا خرچہ کرکے ایک ویڈیو صحیح سے ریکارڈ نہیں کرسکتے اب ان کے سائنسی نظریات کو ہم مانیں۔ اور ایک چوہے کی ویڈیو ہی اس ویڈیو میں خامی نہیں بلکہ لائیو ویڈیو میں ایک ہی کیمرے دو مختلف انداز سے شوٹ بھی کبھی زمین کے بیچ میں ہے اور کبھی سائیڈ میں۔ ساتھ کے ساتھ یہ بھی بتاتا چلوں کے یہ ویڈیو جو اسپیس ایکس کی لائیو ویڈیو میں موجود ہے اصل میں ریکارڈڈ ہے جو کہ 5 ماہ پہلے یوٹیوب پر موجود تھی اور اس میں چوہے والی خامی کا بتا بھی دیا گیا تھا۔ لیکن کیا کریں کام چوری کی بھی حد ہوتی ہے۔
https://youtu.be/pMsvr55cTZ0
یہ لنک ناسا کی لائیو لانچ کا ہے۔ اس کے 4:50:00 سے یہ ویڈیو دیکھی جاسکتی ہے۔
اور یہ پرانی ویڈیو کا لنک ہے۔
https://youtu.be/yHQjkor4rX4
اور یہ سی بی سی نیوز کی ویڈیو کا جس میں مائنس 14:24 سے یہ ویڈیو دیکھی جاسکتی ہے۔
https://youtu.be/W36QKRS_t5k

یاد رہے یہ وہی اسپیس ایکس کا مشن ہے جس کا ریفرینس ڈبو چوہدری نے دے کر ٹویٹ کیا تھا۔
باقی اب آپ خود فیصلہ کریں کہ یہ کہاں کہاں دھوکہ دے چکے ہیں۔ ویسے اس ویڈیو میں بھی زمین ساکن ہی ہے۔۔۔ کیونکہ اگر حرکت میں ہوتی تو اب تک کئی کلومیٹر آگے نکل چکی ہوتی۔

03/06/2020

ساکن و متحرک زمین:
تحریر⁦✒️⁩ حیدر خان:

کچھ دن سے ایک بحث جو سوشل میڈیا پر چل رہی ہے کہ کیا زمین ساکن ہے؟ مختلف آراء دونوں جانب سے پڑھنے کو ملیں۔ اب اس بارے میں اپنا کچھ تجزیہ کردیتا ہوں۔
سکون زمین کا مسئلہ کوئی نیا نہیں بلکہ 1600 عیسوی تک یہی نظریہ صحیح سمجھا جاتا تھا۔ اس کے گلیلیو نے حرکت زمین کا نظریہ دیا جس پر دلائل بعد میں نیوٹن اور آئن سٹائن کی جانب سے دیے گئے۔ اور اس کے بعد سائنس ترقی کرتی گئی اور بالآخر حرکت زمین کو مسلم نظریہ مان لیا گیا۔
جب اس بحث کا آغاز ہوا تو جو لوگ سکون زمین کے قائل ہیں ان کی جانب سے مختلف دلائل آنا شروع ہوئے جن میں قرآن اور حدیث کے بھی دلائل تھے اور عقلی، منطقی بھی۔ لیکن اس بات کا شدت سے غم محسوس ہوا کہ ہمارے سائنس و ٹیکنالوجی کے بڑے بڑے علمبردار اور حرکت زمین کے حامیوں کی جانب سے نہ کسی دلیل کا رد ہوا اور نہ کوئی عقلی دلائل دیے گئے بلکہ محض جگتیں اور ایک رٹا رٹایا جملہ دیا گیا کہ سائنس یہ کہتی ہے۔ دین و مذہب کے بارے میں عقلی سے لے جر نقلی دلائل کو قبول نہ کرنے والی یہ قوم سائنس کے نظریہ کا بلادلیل دفاع کر رہی تھی۔
اب اگر محض یہی دلیل مان لی جائے کہ سائنس نے ترقی کرلی ہے، تو اس کی یہ تھیوری غلط نہیں ہوسکتی تو یہاں تھوڑی سے معلومات کی ضرورت ہے کتنی ہی تھیوریز ہیں جو غلط ہوچکی ہیں۔ اور ہر سائنسدان کی اولین کوشش یہ ہوتی ہے کہ وہ سامنے والے کی تھیوری کو غلط ثابت کرے تاکہ رہتی دنیا تک اس کی دی گئی تھیوری کو یاد رکھا جائے۔ اور سائنس چونکہ عقلی علم ہے اس لیے اس کے بارے میں رائے دینے کے لیے آپ کو کسی قسم کی ڈگری یا باقاعدہ تعلیم کی بھی ضرورت نہیں۔ کیونکہ اگر تعلیم کی شرط مان لی جائے گلیلیو اور نیوٹن کی سائنس کی کوئی باقاعدہ تعلیم نہیں تھی۔
اور سائنس کی اس ترقی کے دور میں جب چھوٹے سے چھوٹے واقعہ کی ویڈیو آجاتی ہے یہاں تک کہ ہم بلیک ہول کی تصویر لینے میں کامیاب ہوگئے لیکن زمین کی حرکت کی کوئی ویڈیو ہمیں اب تک میسر نہیں اور جو چند سیکنڈز کی ویڈیوز ملتی ہیں وہ بھی اینیمیٹڈ ہوتی ہیں۔ اگر آپ کے پاس کوئی ویڈیو ہو تو کمینٹ میں لازمی شیئر کریں۔ یہاں میں ایک ویڈیو شیئر کر رہا ہوں جس میں ایک خلا باز نے اسپیس اسٹیشن سے چھلانگ لگائی ہے۔ زمین جس کی روٹیشن اسپیڈ 1600 کلو میٹر فی گھنٹہ اور ریویلیوشن اسپیڈ 107300 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے۔ اور وہ اس ویڈیو میں کہیں بھی موجود نہیں۔ اور وہ بندہ صحیح سلامت زمین پر اتربھی جاتا ہے۔ جب کہ کوئی بھی شخص کتنی ہی اسپیڈ سے گرے اس کی اسپیڈ مذکورہ اسپیڈ کے مطابق نہیں ہوسکتی۔ اور اگر کوئی آہستہ اسپیڈ والی شے تیز اسپیڈ سے ٹکراتی ہے جو جسامت میں بھی بڑی ہو تو وہ چھوٹی اور کم اسپیڈ والے شے کے پرزے بھی نہ چھوڑے۔
اب مزید تھوڑا یہ بھی دیکھ لیتے ہیں کہ کیا سائنس کی ہر بات کو درست مان لینا ضروری ہے تو پھر تھیوری آف ایویلیوشن، سات آسمانوں کا انکار، جن و ملائکہ کا انکار سب درست مان لیا جائے۔ یہاں صرف اتنا کہنا چاہونگا کہ اگر ہم سائنس میں ترقی کرنا چاہتے ہیں تو سوالات کا دروازے کھلا رکھنا ہوگا۔ اگر آپ کے پاس سکون زمین کے رد میں باقاعدہ دلائل ہیں تو اس پر بات کی جائے نہ کہ اس مسئلے کو بھی عظمیٰ اور آمنہ کے تنازع کی طرح جگتیا مسئلہ بنایا جائے۔
نوٹ: ویڈیو پہلے کمنٹ میں ہے۔

02/06/2020

ڈیجیٹل پاکستان اور تعلیمی نظام
⁦✒️⁩ تحریر: حیدر خان

کل ایک پوسٹ دیکھنے کو ملی بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی کے لیے تیار کیا گیا آن لائن ایجوکیشن سسٹم آن لائن ہونے سے پہلے ہی نا کام ہوگیا اور آئی ٹی ڈپارٹمنٹ نے اس پر مزید کام کرنے سے انکار کردیا کیونکہ وہ اس کے بس کی بات نہیں۔ اس پوسٹ کو دیکھنے کے بعد میرے ذہن میں کچھ سوالات پیدا ہوئے جو کہ ہمارے نظام تعلیم کے ساتھ ساتھ ہمارے جاب ریکروٹنگ پروسس پر بھی سوالیہ نشان ہیں۔
پاکستان میں ایسے ہزارہا آئی ٹی ماہرین اور سوفٹ ویئر ڈویلپر موجود ہیں جو پیچیدہ سے پیچیدہ سوفٹویئر بھی ڈیزائن کرسکتے ہیں۔ پھر ایسے لوگوں کو تلاش کرنے کی بجائے آئی ٹی ٹیم میں جن لوگوں کو بھرتی کیا گیا وہ کس بنیاد پر کیا گیا۔ کیا آئی ٹی والوں سے صرف ونڈو انسٹالیشن کرانی تھیں اور اس کی انہیں لاکھوں روپے ماہانہ تنخواہ دینی تھی۔
یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ہمارے یہاں یونیورسٹیز میں پریکٹیکل سے زیادہ تھیوری پر توجہ دی جاتی اور تھیوری بھی وہ جو 1998 میں لکھی گئی۔ 1998 سے لے کر 2020 ان 22 سالوں میں بہت سی نئی ٹیکنالوجیز آگئیں، دنیا لوکل ڈیٹا بیس سے کلاؤڈ سرور پر منتقل ہوگئی، آرٹیفشل انٹیلیجنس اور ڈیٹا سائینس کا دور آگیا۔ لیکن ہمارے یہاں کمپیوٹر سائنس میں ابھی سی لینگویج سے اوپر کچھ نہیں پڑھایا جاتا۔ اور مزے کی بات یہ سب پڑھایا جانا بھی تھیوریٹیکل ہوتا ہے کسی قسم کے پریکٹیکل سے دور ہی بھاگا جاتا ہے۔ ہمارے یہاں اسکولوں میں کمپیوٹر کے مضمون میں فلاپی ڈرائیو، ونڈو 98 اور ڈاس ابھی تک شامل ہیں۔
ہم آگے بڑھنا نہیں چاہتے یا ہمیں آگے بڑھنے نہیں دیا جارہا یہ ایک سوال ہے۔ سالانہ اربوں روپے کا تعلیمی بجٹ صرف فلاں موڈل یونائیٹڈ نیشن، فیئر ویل، ویلکم، یہ ایونٹ وہ ایونٹ کروانے کے لیے ہے؟ یا ہم کچھ تخلیقی سرگرمیاں بھی اپنائیں گے۔
یہاں ہماری حکومت کا سب سے بڑا قصور پورے پاکستان میری معلومات کے مطابق کوئی ایسی جگہ نہیں جہاں طلبہ کو ان کی فیلڈ سے ریلیٹڈ ایجوکیشنل ٹور کرایا جائے اسی لیے ہمارے یہاں گھومنے کے لیے یونیورسٹیز واٹر پارک کے ٹور کراتی ہیں۔

24/05/2020

Address

Mezzanine Floor, Gul Center
Hyderabad
71000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Bayania posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category