15/01/2022
ملک ترقی کررہا ہے لیکن کراچی؟
تحریر: حیدر خان
کراچی کو ہمیشہ خوشحال دیکھا ہے، لیکن حالیہ وزٹ نے یہ سوچنے پر مجبور کردیا کہ لوگ کس قدر پریشانی میں مبتلا ہیں۔ فقیروں کی بھرمار ہوچکی ہے۔ بوڑھے اور بوڑھیوں سڑک کنارے ماسک اور کنگے بیچنے پر مجبور ہیں۔ یہ منظر لالہ زار، بیچ لگژری ہوٹل کے پاس کا ہے جب میری نانی کی عمر کی عورت آتی ہے اور کہتی ہے بیٹا کچھ خرید لو۔ اگرچہ اس کی قیمت کچھ زیادہ تھی لیکن یہ قیمت کسی مال سے کہیں کم تھی۔ وہاں سے ٹاور گیا اور ٹاور سے جب ناظم آباد کے لیے بائیکیا بلوائی تو ایک پڑھا لکھا شخص آیا کہ بس آفس کی شفٹ ختم ہوئی ہے ایک کام میں گزارا نہیں۔ اب صبح کا نکلا ہوا یہ لڑکا سردی میں رات گئے تک بائیک چلائے گا۔ تاکہ اپنے ماہانہ اخراجات کو پورا کرسکے۔ ابھی یہیں تک حیرت نہیں اگلے دن جب لالہ زار سے گلشن جانے کے لئے بائیکیا بلوائی تو ایک گونگا بہرا شخص آکر مجھے ریسیو کرتا ہے۔ جسے بائیک چلاتے ہوئے نہ شاہراہ فیصل پر پیچھے سے آنے والی والے پروٹوکول کی سنائی لگتی ہے نہ سجھائی۔
یہیں پر بس نہیں رات تقریبا بارہ بجے کے قریب سخت سردی میں ایک بائیکیا اور منگوائی جو کوئی 19، 20 سال کا لڑکا ہوگا۔ جس کی رہائش سرجانی میں تھی لیکن بھٹک وہ گلشن میں رہا تھا۔ میری رائیڈ اس کے لئے کسی نعمت غیر مترقبہ سے کم نہ تھی کہ مجھے بھی یوپی تک جانا تھا۔ ابھی ہماری رائیڈ شروع ہی ہوئی تھی کہ اس لڑکے کا موبائل بجا جس پر اس کے والد صاحب تھے جو اس کے ابھی تک گھر نہ پہنچنے پر پریشان تھے۔
سارے راستے واپسی پر میں سوچتا رہا کہ اس بڑھیا کا کیا قصور؟ جو اس عمر میں چند پیسوں کے لیے نہ جانے اپنے گھر سے کتنا دور آتی ہوگی۔ اس گونگے بہرے کا کیا قصور؟ جو مجبوری میں ایسا کام کر رہا ہے جس میں اس کی اپنی اور دوسرے کی جان کو خطرہ ہے۔ قصور تو اس لڑکے کا بھی نہیں جو تعلیم پوری کرنے کی عمر میں اپنے ماں باپ کو پریشان کررہا ہے۔
اور پھر میری نظر مشیر خزانہ اکی تقریر پر پڑی کہ ملک ترقی کررہا ہے۔۔۔۔۔۔۔