Media Max

Media Max Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Media Max, Hyderabad.

19/10/2025

Hi everyone! 🌟 You can support me by sending Stars - they help me earn money to keep making content you love. Whenever you see the Stars icon, you can send me Stars! 💫🌠🎉😊👍💖

وہ اپنے ملازمین کو مارکیٹ میں سب سے زیادہ معاوضہ بھی دیتا تھا‘ ایک بار ایک صحافی آیا اور اس نے ہنری فورڈ سے پوچھا ”آپ سب...
05/09/2025

وہ اپنے ملازمین کو مارکیٹ میں سب سے زیادہ معاوضہ بھی دیتا تھا‘ ایک بار ایک صحافی آیا اور اس نے ہنری فورڈ سے پوچھا ”آپ سب سے زیادہ معاوضہ کس کودیتے ہیں“ فورڈ مسکرایا‘ اپنا کوٹ اور ہیٹ اٹھایا اورصحافی کو اپنے پروڈکشن روم میں لے گیا‘ ہر طرف کام ہو رہا تھا‘ لوگ دوڑ رہے تھے‘ گھنٹیاں بج رہی تھیں اور لفٹیں چل رہی تھیں‘ ہر طرف افراتفری تھیں‘ اس افراتفری میں ایک کیبن تھا اور اس کیبن میں ایک شخص میز پر ٹانگیں رکھ کر کرسی پر لیٹا تھا‘ اس نے منہ پر ہیٹ رکھا ہوا تھا‘ ہنری فورڈ نے دروازہ بجایا‘ کرسی پر لیٹے شخص نے ہیٹ کے نیچے سے دیکھا اور تھکی تھکی آواز میں بولا ”ہیلو ہنری آر یو اوکے“ فورڈ نے مسکرا کر ہاں میں سر ہلایا‘ دروازہ بند کیا اور باہر نکل گیا‘ صحافی حیرت سے یہ سارا منظر دیکھتا رہا‘ فورڈ نے ہنس کر کہا ”یہ شخص میری کمپنی میں سب سے زیادہ معاوضہ لیتا ہے“ صحافی نے حیران ہو کر پوچھا ” یہ شخص کیاکرتا ہے؟“ فورڈ نے جواب دیا ”کچھ بھی نہیں‘ یہ بس آتا ہے اور سارا دن میز پر ٹانگیں رکھ کر بیٹھا رہتا ہے“ ۔ صحافی نے پوچھا ”آپ پھر اسے سب سے زیادہ معاوضہ کیوں دیتے ہیں“ فورڈ نے جواب دیا ”کیوں کہ یہ میرے لیے سب سے مفید شخص ہے“ فورڈ کا کہنا تھا ”میں نے اس شخص کو سوچنے کے لیے رکھا ہوا ہے‘ میری کمپنی کے سارے سسٹم اور گاڑیوں کے ڈیزائن اس شخص کے آئیڈیاز ہیں‘ یہ آتا ہے‘ کرسی پر لیٹتا ہے‘ سوچتا ہے‘ آئیڈیا تیار کرتا ہے اور مجھے بھجوا دیتا ہے۔ میں اس پر کام کرتا ہوں اور کروڑوں ڈالر کماتا ہوں“ ہنری فورڈ نے کہا ”دنیا میں سب سے زیادہ قیمتی چیز آئیڈیاز ہوتے ہیں اور آئیڈیاز کے لیے آپ کو فری ٹائم چاہیے ہوتا ہے‘ مکمل سکون‘ ہر قسم کی بک بک سے آزادی‘ آپ اگر دن رات مصروف ہیں تو پھرآپ کے دماغ میں نئے آئیڈیاز اور نئے منصوبے نہیں آ سکتے چناں چہ میں نے ایک سمجھ دار شخص کو صرف سوچنے کے لیے رکھا ہوا ہے‘ میں نے اسے معاشی آزادی بھی دے رکھی ہے تاکہ یہ روز مجھے کوئی نہ کوئی نیا آئیڈیا دے سکے“ صحافی تالی بجانے پر مجبور ہو گیا۔ آپ بھی اگر ہنری فورڈ کی وزڈم سمجھنے کی کوشش کریں گے تو آپ بھی بے اختیار تالی بجائیں گے‘ انسان اگر مزدور یا کاریگر ہے تو پھر یہ سارا دن کام کرتا ہے لیکن یہ جوں جوں اوپر جاتا رہتا ہے اس کی فرصت میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ بڑی انڈسٹریز اور نئے شعبوں کے موجد پوراسال گھر سے باہر قدم نہیں رکھتے۔ بزنس کی دنیا میں بل گیٹس اور وارن بفٹ بھی ویلے ترین لوگ ہیں‘ وارن بفٹ روزانہ ساڑھے چار گھنٹے پڑھتے ہیں‘ بل گیٹس ہفتے میں دو کتابیں ختم کرتے ہیں‘ یہ سال میں 80 کتابیں پڑھتے ہیں‘ یہ دونوں اپنی گاڑی خود چلاتے ہیں‘ لائین میں لگ کر کافی اور برگر لیتے ہیں اور سمارٹ فون استعمال نہیں کرتے لیکن یہ اس کے باوجود دنیا کے امیر ترین لوگ ہیں‘ کیسے؟ فرصت اور سوچنے کی مہلت کی وجہ سے۔ ہم جب تک ذہنی طور پر فری نہیں ہوتے ہمارا دماغ اس وقت تک بڑے آئیڈیاز پر کام نہیں کرتا، چنانچہ آپ اگر دنیا میں کوئی بڑا کام کرنا چاہتے ہیں تو پھر آپ کو اپنے آپ کو فری رکھنا ہو گا‘ آپ اگر خود کو چھوٹے چھوٹے کاموں میں الجھائے رکھیں گے تو پھر آپ سوچ نہیں سکیں گے‘ آپ پھر زندگی میں کوئی بڑا کام نہیں کر سکیں گے۔

I truly admire the bold changes President Donald Trump has brought into law and leadership. His vision, courage, and det...
04/09/2025

I truly admire the bold changes President Donald Trump has brought into law and leadership. His vision, courage, and determination to put the people first inspire me deeply. Every step he takes to strengthen the country shows that real leadership means making tough decisions for the greater good. He has shown us that with passion, strength, and faith in our nation, we can rise above challenges and create a future of prosperity and freedom. His actions motivate me to believe in myself, to stand strong for my values, and to never give up on the hope of a better tomorrow.

اچھا ہوا عائشہ  آپا مر گئی۔۔۔۔۔ ایک بیٹا کراچی ڈیفنس ۔ دوسرا اسلام آباد کے بڑے فارم ہاؤس میں رہتا ہے ہے  ناں  بڑی  عجیب ...
21/06/2025

اچھا ہوا عائشہ آپا مر گئی۔۔۔۔۔ ایک بیٹا کراچی ڈیفنس ۔ دوسرا اسلام آباد کے بڑے فارم ہاؤس میں رہتا ہے
ہے ناں بڑی عجیب بات ۔۔۔۔
بھلا کسی کے مرنے پے کوئی اس طرح کہتا ہے۔۔۔۔؟

لیکن عائشہ آپا کو تو مرے ہوئے کئی برس گُزر گئے تھے

بس ہوا یہ ہے ان کی " ڈیڈ باڈی " کل ملی ہے
ایک فلیٹ میں جہاں وہ کئی برسوں سے بھوت بن کر رہ رہی تھیں
لیکن یہ حیرت کی بات نہیں کہ
ان کا ایک بیٹا اپنی بیوی اور دو بچوں کے ساتھ کراچی ڈیفنس خیابان بحریہ میں چار کنال کے وسیع محل نما گھر میں خوش وخرم زندگی گزار رہا ہے
دوسرا بیٹا اسلام أباد میں جس کا چک شہزاد میں آٹھ کنال کافارم ہاؤس اور بحریہ میں لگژری کوٹھی
اور کراچی میں کروڑوں روپے مالیت کی پراپرٹی
اور ماں ۔۔۔۔۔۔ کا یہ حال
عائشہ آپا ۔۔۔۔ جگت عائشہ. آپا
ہمیشہ سے ایسی نہیں تھیں
یہی کوئی دس پندرہ برسوں پہلے نہ جانے اُن کے من میں کیا سمائی
سب بچوں کو کال کرکے بلایا
اپنی ساری جائیداد بچوں کے نام کردی
اس کے بعد وہ ہی ہوا
جو ہمیشہ سے ہوتا آیا
۔۔۔
ان جیسوں کے ساتھ ایسا ہی ہونا چاہیے تھا۔۔۔۔ آخر کیوں نہیں ایسوں کو عقل نہیں آتی ۔۔۔۔؟

کس کس کا نام لوں ۔۔۔۔؟
عائشہ آپا کی اولاد ۔۔۔۔ چند مہینوں میں ہی اُکتا گئی عائشہ آپا ایک دن طلعت حسین صاحب کے آگے پھٹ پڑیں زار و قطار روتے ہوئے. کہنے لگیں کہ دن میں کئی کئی بار سارے بچوں کو فون کرتی ہوں
لیکن وہ کال اٹینڈ ہی نہیں کرتے
کبھی کبھار اٹھا بھی لیتے ۔۔۔ تو کہتے ۔۔۔ دو منٹ ٹھہریں ابھی کال کڑتا ہوں
اور وہ دو منٹ پہلے گھنٹوں پھر دنوں پھر ہفتوں مہینوں پر محیط ہوجاتے
عائشہ آپا ۔۔۔۔ فون ہاتھ میں پکڑے انتظار کرتی رہ جاتیں
کبھی کبھی تو ساری رات انتظار کرتے گزر جاتی
لیکن کسی ایک. کا بھی فون نہیں أثا
ابھی کوئی پندرہ برس پہلے ہی کی تو بات ہے
جب عائشہ آپا نے بے حد شوق سے پراڈو TZ گاڑی لی
شوق سے خود چلاتی ہوئیں طلعت حسین کے گھر آئیں
کیک اور مٹھائی لانا نہ بھولیں
پھر وہ ہوتیں اور کراچی کی سڑکیں
اپنے غریب حلقہ احباب اور رشتے داروں کو کبھی نہیں بھولیں
چند برس پہلے ۔۔۔۔۔ جب تک انہوں نے اپنی جائیداد اپنے بچوں میں تقسیم نہیں کی تھی
ڈائری پر ترتیب سے دنوں کی تقسیم یعنی باقاعدہ شیڈول بنا رکھا تھا
روزانہ کسی نہ کسی غریب اور نادار کے گھر جانا
ان کے لئے راشن
اور نقدی
بچوں کے سکولوں کی فیسیں
نہ جانے کتنے نادار خاندانوں کے تو باقاعدہ وظیفے لگے ہویےتھے
پھر ایک دن ۔۔۔۔۔ سب کچھ بدل گیا
اپنی جائیداد اپنے بچوں کے نام کر دی
پھر ۔۔۔
اس کے بعد
اس لئے ہی کہہ رہا ہوں کہ اچھا ہوا سانس کی ڈوری ٹوٹی تو انہیں یقیناً سکون مِل گیا ہوگا
کیونکہ وہ جس طرح ساری ساری رات اپنے فلیٹ کے باہر
بے چینی سے ٹہلتی رہتیں بُڑبڑاتی رہتیں ۔۔۔ تھک کے چُور ہو جاتیں تو نیچے بیٹھ جاتیں ۔۔۔ پھر ان سے اُٹھا نہیں جاتا تھا
اب تو وہ اچانک چیخیں مار کر رونے لگ جاتیں
جب انہیں اپنی اس حالت کا خود احساس ہوتا ایک دم سے چُپ کر جاتیں پڑوسی پیچارے ان کے قریب آتے تو یہ انہیں زور سے ڈانٹنا شروع ہو جاتیں

لیکن گزشہ کافی دنوں. سے وہ اس احساس سے بھی عاری ہوتی جا رہی تھیں
کچھ ہفتوں سے انہوں نے رات کو بھی فلیٹ سے باہر آنا چھوڑ دیا کبھی کبھار چند منٹوں کے لئے دکھائی دیتیں پھر پاؤں فریکچر کروا بیٹھیں ۔۔۔۔۔ پھر خاموشی
اس بار جب خاموشی. خاصی طویل ہو گئی
اور پھر جب فلیٹ سے عجیب سی بدبو بھی آنے. لگی ۔۔۔۔۔۔ !
عائشہ آپا کو تنہائی نے مار دیا ۔

سبق سیکھنا چاہیے جب تک آپ کے ہاتھ پاؤں ٹھیک کام کر رہے ہیں جائیداد بچوں کے نام نہ کیجئے چاہے وہ کتنے ہی ترلے کریں جس دن جائیداد نام کی سمجھیں آپ نے ہاتھ پاؤں کٹوا لئے اب سوکھی عزت بھی نہیں ملنی وقت تو چھوڑ ہی دیں۔
منقول

"چاہے کوئی آپ کو کتنا ہی اُکسائے، آپ اپنے رویے کے خود ذمہ دار ہیں۔پیچھے ہٹ جائیں، بحث سے انکار کریں، دور ہو جائیں، کمرہ ...
03/06/2025

"چاہے کوئی آپ کو کتنا ہی اُکسائے، آپ اپنے رویے کے خود ذمہ دار ہیں۔

پیچھے ہٹ جائیں، بحث سے انکار کریں، دور ہو جائیں، کمرہ چھوڑ دیں، نظر انداز کریں۔

جو بھی کرنا پڑے کریں جب کوئی آپ کو چبھتی ہوئی باتوں سے تنگ کر رہا ہو۔ خود کو یاد دلائیں کہ یہ اُن کا مسئلہ ہے۔

آپ اتنے اچھے ہیں کہ اُن کی فضول باتوں کو خود پر اثر انداز نہ ہونے دیں۔

اپنے آپ کو پرسکون کریں۔ لڑائی سے بچنے کے لیے جانا ہمیشہ بہتر ہوتا ہے۔

براہِ کرم اُنہیں خود کو اُن کے درجے تک گھسیٹنے نہ دیں۔"

ایک آدمی نے سالوں کی محنت سے پیسہ جوڑ جوڑ کر اپنی بیوی اور بچوں کے لیے ایک خوبصورت نیا گھر تعمیر کیا۔جب گھر مکمل ہوا تو ...
30/05/2025

ایک آدمی نے سالوں کی محنت سے پیسہ جوڑ جوڑ کر اپنی بیوی اور بچوں کے لیے ایک خوبصورت نیا گھر تعمیر کیا۔
جب گھر مکمل ہوا تو اس نے فیصلہ کیا کہ تین دن بعد اپنے اہل خانہ کے ساتھ نئے گھر میں شفٹ کرے گا۔

لیکن… شفٹنگ سے ایک دن پہلے رات میں زلزلہ آیا۔
وہ نیا، خوابوں جیسا گھر زمین بوس ہو گیا۔

اگلی صبح جب محلے والے، عزیز و اقارب افسوس کے لیے ملبے پر کھڑے تھے…
تو اچانک گھر کا مالک ہاتھ میں مٹھائی کا ڈبہ لے کر پہنچا اور سب میں مٹھائی بانٹنے لگا۔

لوگ حیران رہ گئے!
ایک صاحب نے غصے سے پوچھا:

"کیا تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے؟
اتنا بڑا نقصان ہوا اور تم خوشیاں بانٹ رہے ہو؟"

گھر کے مالک نے مسکرا کر جواب دیا:

"نہیں...
میں تو اپنے رب کا شکر ادا کر رہا ہوں کہ زلزلہ ایک رات پہلے آیا۔
اگر میں اپنے بچوں کے ساتھ اس گھر میں ہوتا،
تو آج مٹھائی نہیں بانٹ رہا ہوتا بلکہ ملبے کے نیچے دفن ہوتا۔" 💔

زندگی میں ہمیشہ دو پہلو ہوتے ہیں:
✨ ایک شکایت کا
✨ دوسرا شکر کا

ہم کیا چنتے ہیں…
یہی ہماری سوچ اور ایمان کی پہچان ہے۔ 🤲

میرے پیچھے جو چاہو کہہ لو…لیکن رہو گے پیچھے، جیسے میں چاہتا ہوںیہ جملہ خوداعتمادی، وقار اور بے نیازی کی خوبصورت مثال ہے ...
28/05/2025

میرے پیچھے جو چاہو کہہ لو…
لیکن رہو گے پیچھے، جیسے میں چاہتا ہوں

یہ جملہ خوداعتمادی، وقار اور بے نیازی کی خوبصورت مثال ہے
لوگ باتیں کریں گے، الزام لگائیں گے، اپنی رائے دیں گے…
مگر جو آگے بڑھنا جانتا ہے، وہ پیچھے والوں کی آوازوں میں نہیں الجھتا
کیونکہ اصل طاقت یہ ہے کہ تمہیں کوئی روک نہ سکے
اور اصل جواب یہ ہے کہ تم اپنی جگہ پر قائم رہو،
اور دنیا کو ثابت کر دو کہ تمہارا راستہ تمہاری رفتار، اور تمہارا مقام… تمہارے اپنے فیصلے سے ہے، نہ کہ دوسروں کی باتوں سے

19/05/2025

ابو پچاس روپے ہیں
’’تم نے ابھی صبح تو ہزار روپے لیے تھے‘ اب دوبارہ مانگ رہے ہو‘‘ بزرگ نے حیرت سے پوچھا‘ دوست نے شرما کر جواب دیا ’’ابو اب چوہدری صاحب آ گئے ہیں‘ انھیں بھی کافی پلانی پڑے گی‘ صبح کے ہزار روپے صبح کے دوستوں پر خرچ ہو گئے‘‘۔

بزرگ نے جیب میں ہاتھ ڈالا‘ گن کر سو سو روپے کے دس نوٹ نکالے اور اس کے بعد لمبی دعا دی‘ ہم باہر آ گئے‘ کافی شاپ گھر سے ذرا سے فاصلے پر تھی‘ ہم پیدل چل پڑے‘ میں نے راستے میں دوست سے پوچھا ’’کیا تم اب بھی اپنے والد سے پیسے لیتے ہو؟‘‘ میرے دوست نے ہنس کر سر ہاں میں ہلایا اور بولا ’’بالکل میں روزانہ کئی مرتبہ والد صاحب سے پیسے لیتا ہوں‘کبھی پچاس روپے‘ کبھی سو روپے اور اگر تم جیسا کوئی معزز مہمان آ جائے تو پانچ سو اور ہزار روپے بھی لے لیتا ہوں‘‘۔

میں یہ سن کر حیران ہوا اور پھر پوچھا ’’آپ پچاس سال کی عمر میں والد سے پیسے لینے والے پہلے شخص ہو‘ اللہ نے آپ کو بہت کچھ دے رکھا ہے‘ آپ کے اپنے بچے بھی بڑے ہو چکے ہیں لیکن اس کے باوجود والد سے روزانہ پیسے مانگنا مجھے منطق سمجھ نہیں آئی‘‘۔

میرا دوست مسکرایا‘ رکا‘ اپنا دایاں ہاتھ نیچے رکھا اور بایاں اس کے اوپر رکھ کر بولا ’’آپ بتاؤ ہمارے دو ہاتھ ہیں‘ ایک نیچے والا ہاتھ جسے ہم لینے والا ہاتھ کہتے ہیں اور دوسرا اوپر والا ہاتھ ہے جسے ہم دینے والا ہاتھ کہتے ہیں‘ ان دونوں میں سے افضل کون سا ہے؟‘‘۔

میں نے فوراً جواب دیا ’’اوپر والا یعنی دینے والا ہاتھ‘‘ اس نے مسکرا کر دیکھا اور پھر پوچھا ’’آپ اب ذرا فرض کرو آپ پوری زندگی اوپر والا ہاتھ رہے ہو‘ آپ نے عمر بھر اپنی اولاد اور دائیں بائیں موجود لوگوں کو صرف دیا ہو لیکن پھر اچانک آپ نیچے والا ہاتھ بن جائیں اور آپ کو معمولی معمولی ضرورت کے لیے دوسروں کی طرف دیکھنا پڑے تو پھر آپ کی فیلنگ کیا ہو گی؟‘‘ میں نے ذرا سا سوچ کر کہا ’’آپ بالکل ٹھیک کہتے ہیں‘ انسان اپنے آپ کو کمتر اور محتاج سمجھے گا‘‘۔

وہ مسکرایا اور پھر بولا ’’بالکل صحیح میرے والد پوری زندگی اوپر والا ہاتھ رہے‘ ہم جوانی تک ان سے مانگتے تھے‘ جوتے لینے ہوں یا کپڑے یا پھر مہمان ہوں ہم ابو سے پیسے مانگ کر اپنا خرچ چلاتے تھے‘ ابو ہمارا واحد سورس آف انکم تھے لیکن پھر ہم معاشی طور پر آزاد ہوتے چلے گئے اور والد کے سورس آف انکم کم ہوتے چلے گئے۔

ابو نے پوری زندگی کسی سے مانگا نہیں تھا‘ میں نے دیکھا یہ مجھ سے بھی نہیں مانگتے تھے‘ ان کی جیب مہینہ مہینہ خالی رہتی تھی‘ جوتے اور کپڑے بھی پرانے ہو جاتے تھے اور اگر ان کو دوا کی ضرورت پڑتی تھی تو بھی یہ خاموش رہتے تھے‘ میں شروع شروع میں اس رویے پر غصہ کرتا تھا۔

میرا خیال تھا والدین کا اپنی اولاد کی دولت پر حق ہوتا ہے لیکن مجھے اندازہ ہی نہیں تھا اوپر والا ہاتھ کبھی نیچے نہیں آ سکتا اور اگر اسے کبھی آنا پڑجائے تو اس کے لیے مر مٹنے کا مقام ہوتا ہے‘ میرے والد خود کو محتاج سمجھنے لگے تھے اور آہستہ آہستہ کمرے تک محدود ہو گئے تھے۔

میرا خیال تھا یہ بڑھاپے کی وجہ سے ہو رہا ہے‘ والد کی عمر 75 سال ہو چکی ہے‘ یہ علیل بھی رہنے لگے ہیں چناں چہ یہ ایکٹو لائف سے نکل رہے ہیں لیکن پھر میرے ساتھ ایک عجیب واقعہ پیش آیا‘ میرا بیٹا 17 سال کا تھا‘ اس نے اچانک مجھ سے پیسے لینا بند کر دیے۔

میں نے تحقیق کی تو پتا چلا یہ تعلیم کے ساتھ ساتھ آن لائین کام کرتا ہے اور اسے اس سے ٹھیک ٹھاک آمدنی ہو جاتی ہے چنانچہ اب اسے جیب خرچ کی ضرورت نہیں رہتی‘ یہ ماں اور اپنی بہنوں کوبھی پیسے دینے لگا۔

آپ یقین کریں مجھے برا لگا اور میں خود کو غیر ضروری اور محتاج سا محسوس کرنے لگا‘ مجھے اس وقت سمجھ آئی اوپروالا ہاتھ جب نیچے والا بنتا ہے تو اسے کتنی تکلیف ہوتی ہے‘ مجھے اس وقت اپنے والد کی تکلیف کا اندازہ ہوا‘ میں سیدھا ان کے پاس گیا اور بچپن کی طرح ان سے پوچھا‘ ابو کیا آپ کے پاس پچاس روپے ہیں۔

میرے والد اس وقت اداس بیٹھے تھے‘ آپ یقین کریں یہ الفاظ ان کے کانوں سے ٹکرانے کی دیر تھی‘ ان کے جسم میں توانائی آ گئی‘ یہ سیدھے ہو کر بیٹھے‘ بے اختیار جیب میں ہاتھ ڈالا اور 50 روپے نکال کر میرے ہاتھ پر رکھ دیے‘ مجھے پچاس روپے دینے کے بعد ان کی باڈی لینگوئج ہی بدل گئی‘ یہ چہکنے لگے۔

بس وہ دن ہے اور آج کا دن ہے میں اپنے والد سے روزانہ ایک دو مرتبہ پیسے مانگتا ہوں‘ میں ان سے باہر جانے سے قبل اجازت بھی لیتا ہوں‘ یہ شروع میں انکار کرتے ہیں‘ حالات کی خرابی کا شکوہ کرتے ہیں‘ احتیاط کا مشورہ دیتے ہیں اور اس کے بعد مجھے جانے کی اجازت دے دیتے ہیں‘ اس سے میرے ان کے ساتھ تعلقات بھی اچھے ہو گئے ہیں اور یہ خوش بھی ہیں‘‘ وہ خاموش ہو گیا۔

میں نے اس سے پوچھا ’’لیکن تم والد کو پیسے کیسے دیتے ہو؟ ان کا سورس آف انکم تو کوئی نہیں‘‘ وہ ہنس کر بولا ’’میں نے اپنی تنخواہ کا آدھا حصہ ان کے نام ٹرانسفر کر دیا ہے‘ یہ رقم سیدھی ان کے اکاؤنٹ میں آتی ہے‘ چیک بک بھی ان کے پاس ہے‘ یہ رقم نکلواتے ہیں اور اپنی جیب اور الماری میں رکھ لیتے ہیں اور وہاں سے نکال نکال کر مجھے دیتے رہتے ہیں۔

میں نے سبزی اور فروٹ کی ذمے داری بھی ان کو سونپ دی ہے‘ ملازمین ان سے پیسے لیتے ہیں اور فروٹ اور سبزی خرید کر کچن میں دیتے ہیں‘ دودھ اور گوشت بھی ابو کی ڈیوٹی ہے‘ یہ خود دودھ خریدتے ہیں‘ دودھی کو ’’پے منٹ‘‘ بھی کرتے ہیں‘ گوشت کی دکان سے بھی انھی کا رابطہ ہے‘ جس دن قصاب کے پاس اچھا گوشت ہوتا ہے یہ ابو کو فون کر کے بتا دیتا ہے اور ابو جی خوش ہو جاتے ہیں۔

میں کپڑے بھی ان کی مرضی کے خریدتا ہوں اور اگر آپ جیسے دوست آ جائیں تو ان سے پیسے مانگ کر انھیں چائے کافی بھی پلاتا ہوں‘ اس سے میرے والد کی صحت بھی اچھی ہو گئی اور ہمارے تعلقات بھی‘‘ وہ خاموش ہو گیا‘ میں نے اس سے عرض کیا ’’آپ یہ بھی دیکھیں آپ کو یہ حقیقت اس وقت پتا چلی جب آپکا اپنا بیٹا خود مختار ہوا اور آپ نے خود کو نیچے والا ہاتھ محسوس کیا‘‘ اس نے ہاں میں سر ہلا دیا۔

میں نے عرض کیا ’’ہم سب کی یہی ٹریجڈی ہے‘ ہمیں زندگی کی حقیقتوں کا ادراک اس وقت ہوتا ہے جب وقت کا پہیہ گھوم کر ہمارے

بس اک خُدا نہیں ہوتی💖ورنہ ماں کیا نہیں ہوتی💖خود غرضی سے بھری اِس دنیا میں  ماں سے بڑھ کر کوئی بھی آپ کا خیرخواہ ہو ہی نہ...
16/05/2025

بس اک خُدا نہیں ہوتی💖
ورنہ ماں کیا نہیں ہوتی💖

خود غرضی سے بھری اِس دنیا میں ماں سے بڑھ کر کوئی بھی آپ کا خیرخواہ ہو ہی نہیں سکتا اور جیسا آپ کی ماں آپ کیلئے چاہتی ہے ایسا کوئی چاہ ہی نہیں سکتا۔ سب دل وقت کے ساتھ بدل جاتے ہیں سوائے ماں کے دل کے جو ایک مستقل جنّت ہے...!!!!!

اللہ تعالیٰ ہم سب کی ماؤں کو سلامت رکھے جن کی مائیں حیات ہیں ان کو صحت و سلامتی کے ساتھ لمبی عمر عطا فرمائے اـᷟـــ

11/05/2025

تم اس زمین پر زیادہ سے زیادہ ستر سال ہی جیو گے،
اور ممکن ہے کہ موت تمہیں اچانک اس عمر سے پہلے ہی لے جائے،
تو پھر تم خود کو کیوں غم، درد، لوگوں کے خوف اور مستقبل کی فکریں دے کر ہلاک کرتے ہو؟
اور کیوں ایک ایسے نظام کو درست کرنے کی کوشش میں لگے ہو،
جس میں تم صرف چند سال ہی رہنے والے ہو؟

— فیوڈور دوستوفسکی

کم ظرف لوگ اور پطرس بخاری پطرس بخاری کو کالج کا چوکیدار پیٹھ پیچھے گالیاں دیتا تھا۔ ایک دن ساتھی پروفیسر نے پطرس سے کہا ...
10/05/2025

کم ظرف لوگ اور پطرس بخاری
پطرس بخاری کو کالج کا چوکیدار پیٹھ پیچھے گالیاں دیتا تھا۔ ایک دن ساتھی پروفیسر نے پطرس سے کہا کہ چوکیدارکہتا ھے پطرس میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتا اس پہ پطرس بخاری نے تاریخی جواب دیا۔
"کہ وہ بلکل سچ کہتا ھے اسکے پاس نہ شہرت ہے، نہ عزت ھے اور نہ ہی غیرت اب میں اسکا کیا بگاڑ سکتا ہوں۔

ہم سب کی زندگی میں کچھ ایسے گِرے ہوئے کردار ضرور آتے ہیں جن کے پاس کھونے کے لیے کچھ نہیں ہوتا۔
اور وہ اپنا آپ دکھا کر یہ سوچتے ہیں کہ وہ بہت بڑی توپ چیز ہی‍ں جنکا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا.

ایسے کمظرف لوگوں کو جواب دیکر ان جیسے بننے کی کوشش مت کریں. وہ بلکل ٹھیک سوچتے ہیں۔

Address

Hyderabad
77099

Opening Hours

Monday 09:00 - 20:00
Tuesday 09:00 - 20:00
Wednesday 09:00 - 20:00
Thursday 09:00 - 20:00
Friday 09:00 - 20:00
Saturday 09:00 - 17:00

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Media Max posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share