08/07/2026
30 روزہ تربیتی کورس برائے زوجین
تیرہواں دن
ازدواجی زندگی میں دوستی کا کردار
(حصہ چہارم: صفحہ 7 تا 8)
الحمد للہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علی سیدنا محمد ﷺ، وعلی آلہ وأصحابہ أجمعین۔
گزشتہ حصوں میں ہم نے ازدواجی دوستی کی اہمیت، اس کے فوائد اور اس کے مثبت اثرات کا مطالعہ کیا۔ اب ضروری ہے کہ ان اسباب کو بھی سمجھا جائے جو میاں بیوی کے درمیان محبت، اعتماد اور دوستی کو کمزور کرتے ہیں۔ جب ان اسباب کو بروقت پہچان کر دور کر لیا جائے تو ازدواجی زندگی دوبارہ خوشگوار بن سکتی ہے۔
---
ازدواجی دوستی کو کمزور کرنے والے اسباب
1۔ بدگمانی اور بے اعتمادی
بدگمانی ازدواجی تعلقات کی سب سے خطرناک بیماریوں میں سے ایک ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
> "يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِّنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ"
ترجمہ: "اے ایمان والو! بہت زیادہ گمان کرنے سے بچو، بے شک بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔"
(سورۃ الحجرات: 12)
جب میاں بیوی ایک دوسرے پر بلاوجہ شک کرنے لگتے ہیں تو اعتماد ختم ہونے لگتا ہے، اور اعتماد کے بغیر دوستی قائم نہیں رہ سکتی۔
اسلام ہمیں حسنِ ظن، سچائی اور تحقیق کی تعلیم دیتا ہے، نہ کہ بدگمانی کی۔
---
2۔ غصہ اور سخت لہجہ
غصہ ایک لمحے میں برسوں کی محبت کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"غصہ نہ کرو۔"
یہ مختصر مگر جامع نصیحت ازدواجی زندگی میں بھی انتہائی اہم ہے۔
جب غصہ آئے تو خاموشی اختیار کریں، وضو کریں، جگہ بدل لیں اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگیں۔
نرمی اور بردباری دوستی کو مضبوط کرتی ہے جبکہ سخت لہجہ دلوں میں دوریاں پیدا کرتا ہے۔
---
3۔ ایک دوسرے کو وقت نہ دینا
آج کے دور میں موبائل فون، کاروبار، ملازمت اور سوشل میڈیا نے خاندانوں کے درمیان فاصلے پیدا کر دیے ہیں۔
اگر شوہر سارا وقت کام میں اور بیوی ہر وقت موبائل میں مصروف رہے تو آہستہ آہستہ جذباتی فاصلے بڑھنے لگتے ہیں۔
دوستی وقت مانگتی ہے۔
روزانہ چند لمحے ایک دوسرے کے لیے مخصوص کرنا ازدواجی محبت کو تازہ رکھتا ہے۔
---
4۔ دوسروں سے غیر ضروری موازنہ
بعض لوگ اپنے شریکِ حیات کا موازنہ دوسروں سے کرتے رہتے ہیں۔
یہ عادت دل آزاری اور احساسِ کمتری پیدا کرتی ہے۔
ہر انسان کی اپنی خوبیاں اور کمزوریاں ہوتی ہیں۔
عقل مندی یہ ہے کہ انسان اپنے شریکِ حیات کی خوبیوں کو دیکھے اور خامیوں کی اصلاح محبت سے کرے۔
---
5۔ سوشل میڈیا کا غلط استعمال
سوشل میڈیا ایک نعمت بھی ہے اور آزمائش بھی۔
اگر اس کا استعمال اعتدال کے ساتھ ہو تو فائدہ مند ہے، لیکن اگر یہی وقت، توجہ اور محبت چھین لے تو یہ ازدواجی تعلقات کے لیے نقصان دہ بن جاتا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ میاں بیوی ایک دوسرے کے ساتھ حقیقی گفتگو کو مجازی دنیا پر ترجیح دیں۔
---
شیطان کا سب سے بڑا ہتھکنڈا
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ شیطان اپنے لشکروں کو بھیجتا ہے، اور جو شخص میاں بیوی کے درمیان جدائی ڈال دیتا ہے، شیطان اسے اپنے قریب کر لیتا ہے۔
یہ حدیث اس حقیقت کی طرف رہنمائی کرتی ہے کہ شیطان خاندان کو کمزور کرنے کی پوری کوشش کرتا ہے۔
اس لیے جب معمولی بات پر جھگڑا ہو تو فوراً یہ سوچیں کہ کہیں شیطان ہمیں ایک دوسرے سے دور کرنے کی کوشش تو نہیں کر رہا۔
---
اسلامی حل
ازدواجی دوستی کو مضبوط رکھنے کے لیے درج ذیل امور اختیار کریں:
ہر روز ایک دوسرے کے لیے دعا کریں۔
ایک دوسرے کی تعریف کرنے کی عادت اپنائیں۔
غلطی پر فوراً معافی مانگیں اور معاف کریں۔
نماز اور تلاوتِ قرآن کو گھر کا معمول بنائیں۔
فیصلے مشورے سے کریں۔
ایک دوسرے کی عزت ہر حال میں برقرار رکھیں۔
بچوں کے سامنے کبھی ایک دوسرے کی بے عزتی نہ کریں۔
---
عملی مشق
آج ہی اپنے شریکِ حیات کے ساتھ بیٹھ کر یہ تین کام کریں:
1. اس کی تین اچھی صفات بیان کریں۔
2. گزشتہ کسی غلطی پر دل سے معاف کریں۔
3. آئندہ ایک اچھی عادت اپنانے کا مشترکہ عہد کریں۔
یہ چھوٹے چھوٹے اقدامات محبت اور دوستی میں حیرت انگیز اضافہ کرتے ہیں۔
---
سبق کا خلاصہ
بدگمانی، غصہ، بے توجہی، موازنہ اور سوشل میڈیا کا غلط استعمال ازدواجی دوستی کے بڑے دشمن ہیں۔ اگر میاں بیوی صبر، اعتماد، حسنِ اخلاق، دعا اور باہمی احترام کو اپنا لیں تو ان کا گھر محبت، سکون اور رحمت کا گہوارہ بن جاتا ہے۔
(جاری ہے...)
اگلے حصے (صفحہ 9 تا 10) میں ازدواجی دوستی کو زندگی بھر قائم رکھنے کے سنہری اصول، کامیاب ازدواجی زندگی کے عملی نسخے، جامع خلاصہ، اختتامی نصیحت اور دعا پیش کی جائے گی، جس سے یہ دس صفحات پر مشتمل مضمون مکمل ہو جائے گا۔۔
اچھی بات پھیلانا صدقہ ہے
✍️ عبدالصمد نعیمی
اللّٰہ سبحانہ و تعالیٰ میری اور آپ کی اصلاح آسان فرمائے
اور ہمیں نیک اعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے
آمین یا رب العالمین۔۔