TRUST ME MY FRIENDs

TRUST ME MY FRIENDs I'm online quran teacher
+ small business Man on social media
+923232900916

زندگی میں کبھی بھی اپنے ہنر پر غرور مت کرنا کیونکہ پتھر جب بھی پانی میں گرتا ہے تو اپنے ہی وزن سے ڈوب جاتا ہےانسان کو اپ...
19/07/2026

زندگی میں کبھی بھی اپنے ہنر پر غرور مت کرنا کیونکہ پتھر جب بھی پانی میں گرتا ہے تو اپنے ہی وزن سے ڈوب جاتا ہے

انسان کو اپنے علم، صلاحیت، دولت یا کسی بھی ہنر پر کبھی تکبر نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ غرور انسان کو بلندی نہیں بلکہ زوال کی طرف لے جاتا ہے۔ عاجزی وہ صفت ہے جو انسان کو لوگوں کے دلوں میں عزت اور اللہ تعالیٰ کے ہاں مقام عطا کرتی ہے۔
جس طرح ایک بھاری پتھر اپنے وزن کے غرور میں پانی پر تیر نہیں سکتا بلکہ فوراً ڈوب جاتا ہے، اسی طرح جو شخص اپنے علم، طاقت یا ہنر پر گھمنڈ کرتا ہے، وہ بھی آخرکار اپنی انا کی وجہ سے نقصان اٹھاتا ہے۔ اس کے برعکس، پھلوں سے لدا ہوا درخت ہمیشہ جھکا رہتا ہے، اور یہی جھکاؤ اس کی خوبصورتی اور افادیت کی علامت ہوتا ہے۔۔
ہنر انسان کی پہچان ہے، مگر عاجزی اس کی اصل شان ہے۔ جو شخص جتنا بڑا ہوتا ہے، وہ اتنا ہی زیادہ منکسر المزاج ہوتا ہے، جبکہ غرور انسان کو عزت سے محروم کر دیتا ہے۔ ۔۔

نوٹ:
آن لائن قرآن مجید کی تعلیم ترجمہ تفسیر و تجوید کے ساتھ جنہیں پڑھنی ہے وہ رابطہ کریں
https://wa.me/c/923232900916
اچھی بات پھیلانا صدقہ ہے
✍️ عبدالصمد نعیمی
اللّٰہ سبحانہ و تعالیٰ میری اور آپ کی اصلاح آسان فرمائے
اور ہمیں نیک اعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے
آمین یا رب العالمین







30 روزہ تربیتی کورس برائے زوجینتیرہواں دنازدواجی زندگی میں دوستی کا کردار(حصہ چہارم: صفحہ 7 تا 8)الحمد للہ رب العالمین، ...
08/07/2026

30 روزہ تربیتی کورس برائے زوجین

تیرہواں دن

ازدواجی زندگی میں دوستی کا کردار

(حصہ چہارم: صفحہ 7 تا 8)

الحمد للہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علی سیدنا محمد ﷺ، وعلی آلہ وأصحابہ أجمعین۔

گزشتہ حصوں میں ہم نے ازدواجی دوستی کی اہمیت، اس کے فوائد اور اس کے مثبت اثرات کا مطالعہ کیا۔ اب ضروری ہے کہ ان اسباب کو بھی سمجھا جائے جو میاں بیوی کے درمیان محبت، اعتماد اور دوستی کو کمزور کرتے ہیں۔ جب ان اسباب کو بروقت پہچان کر دور کر لیا جائے تو ازدواجی زندگی دوبارہ خوشگوار بن سکتی ہے۔

---

ازدواجی دوستی کو کمزور کرنے والے اسباب

1۔ بدگمانی اور بے اعتمادی

بدگمانی ازدواجی تعلقات کی سب سے خطرناک بیماریوں میں سے ایک ہے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

> "يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِّنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ"

ترجمہ: "اے ایمان والو! بہت زیادہ گمان کرنے سے بچو، بے شک بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔"

(سورۃ الحجرات: 12)

جب میاں بیوی ایک دوسرے پر بلاوجہ شک کرنے لگتے ہیں تو اعتماد ختم ہونے لگتا ہے، اور اعتماد کے بغیر دوستی قائم نہیں رہ سکتی۔

اسلام ہمیں حسنِ ظن، سچائی اور تحقیق کی تعلیم دیتا ہے، نہ کہ بدگمانی کی۔

---

2۔ غصہ اور سخت لہجہ

غصہ ایک لمحے میں برسوں کی محبت کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"غصہ نہ کرو۔"

یہ مختصر مگر جامع نصیحت ازدواجی زندگی میں بھی انتہائی اہم ہے۔

جب غصہ آئے تو خاموشی اختیار کریں، وضو کریں، جگہ بدل لیں اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگیں۔

نرمی اور بردباری دوستی کو مضبوط کرتی ہے جبکہ سخت لہجہ دلوں میں دوریاں پیدا کرتا ہے۔

---

3۔ ایک دوسرے کو وقت نہ دینا

آج کے دور میں موبائل فون، کاروبار، ملازمت اور سوشل میڈیا نے خاندانوں کے درمیان فاصلے پیدا کر دیے ہیں۔

اگر شوہر سارا وقت کام میں اور بیوی ہر وقت موبائل میں مصروف رہے تو آہستہ آہستہ جذباتی فاصلے بڑھنے لگتے ہیں۔

دوستی وقت مانگتی ہے۔

روزانہ چند لمحے ایک دوسرے کے لیے مخصوص کرنا ازدواجی محبت کو تازہ رکھتا ہے۔

---

4۔ دوسروں سے غیر ضروری موازنہ

بعض لوگ اپنے شریکِ حیات کا موازنہ دوسروں سے کرتے رہتے ہیں۔

یہ عادت دل آزاری اور احساسِ کمتری پیدا کرتی ہے۔

ہر انسان کی اپنی خوبیاں اور کمزوریاں ہوتی ہیں۔

عقل مندی یہ ہے کہ انسان اپنے شریکِ حیات کی خوبیوں کو دیکھے اور خامیوں کی اصلاح محبت سے کرے۔

---

5۔ سوشل میڈیا کا غلط استعمال

سوشل میڈیا ایک نعمت بھی ہے اور آزمائش بھی۔

اگر اس کا استعمال اعتدال کے ساتھ ہو تو فائدہ مند ہے، لیکن اگر یہی وقت، توجہ اور محبت چھین لے تو یہ ازدواجی تعلقات کے لیے نقصان دہ بن جاتا ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ میاں بیوی ایک دوسرے کے ساتھ حقیقی گفتگو کو مجازی دنیا پر ترجیح دیں۔

---

شیطان کا سب سے بڑا ہتھکنڈا

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ شیطان اپنے لشکروں کو بھیجتا ہے، اور جو شخص میاں بیوی کے درمیان جدائی ڈال دیتا ہے، شیطان اسے اپنے قریب کر لیتا ہے۔

یہ حدیث اس حقیقت کی طرف رہنمائی کرتی ہے کہ شیطان خاندان کو کمزور کرنے کی پوری کوشش کرتا ہے۔

اس لیے جب معمولی بات پر جھگڑا ہو تو فوراً یہ سوچیں کہ کہیں شیطان ہمیں ایک دوسرے سے دور کرنے کی کوشش تو نہیں کر رہا۔

---

اسلامی حل

ازدواجی دوستی کو مضبوط رکھنے کے لیے درج ذیل امور اختیار کریں:

ہر روز ایک دوسرے کے لیے دعا کریں۔

ایک دوسرے کی تعریف کرنے کی عادت اپنائیں۔

غلطی پر فوراً معافی مانگیں اور معاف کریں۔

نماز اور تلاوتِ قرآن کو گھر کا معمول بنائیں۔

فیصلے مشورے سے کریں۔

ایک دوسرے کی عزت ہر حال میں برقرار رکھیں۔

بچوں کے سامنے کبھی ایک دوسرے کی بے عزتی نہ کریں۔

---

عملی مشق

آج ہی اپنے شریکِ حیات کے ساتھ بیٹھ کر یہ تین کام کریں:

1. اس کی تین اچھی صفات بیان کریں۔

2. گزشتہ کسی غلطی پر دل سے معاف کریں۔

3. آئندہ ایک اچھی عادت اپنانے کا مشترکہ عہد کریں۔

یہ چھوٹے چھوٹے اقدامات محبت اور دوستی میں حیرت انگیز اضافہ کرتے ہیں۔

---

سبق کا خلاصہ

بدگمانی، غصہ، بے توجہی، موازنہ اور سوشل میڈیا کا غلط استعمال ازدواجی دوستی کے بڑے دشمن ہیں۔ اگر میاں بیوی صبر، اعتماد، حسنِ اخلاق، دعا اور باہمی احترام کو اپنا لیں تو ان کا گھر محبت، سکون اور رحمت کا گہوارہ بن جاتا ہے۔

(جاری ہے...)

اگلے حصے (صفحہ 9 تا 10) میں ازدواجی دوستی کو زندگی بھر قائم رکھنے کے سنہری اصول، کامیاب ازدواجی زندگی کے عملی نسخے، جامع خلاصہ، اختتامی نصیحت اور دعا پیش کی جائے گی، جس سے یہ دس صفحات پر مشتمل مضمون مکمل ہو جائے گا۔۔
اچھی بات پھیلانا صدقہ ہے
✍️ عبدالصمد نعیمی
اللّٰہ سبحانہ و تعالیٰ میری اور آپ کی اصلاح آسان فرمائے
اور ہمیں نیک اعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے
آمین یا رب العالمین۔۔







ہزاروں طلباء کے استاذ اور حضرت سائیں قاری امیر الدین رحمۃ اللہ علیہ کے جانشین صاحبزادہ میرے استاذ استاد القراء قاری القر...
05/07/2026

ہزاروں طلباء کے استاذ اور حضرت سائیں قاری امیر الدین رحمۃ اللہ علیہ کے جانشین صاحبزادہ میرے استاذ استاد القراء قاری القراء حضرت سائیں قاری خلیل احمد ملک صاحب مدظلہ العالی اللہ تبارک و تعالی ان کی عمر میں رزق میں برکات عطا فرمائے اور ان کی تکالیف و مصیبتیں دور فرمائے
آمین یا ربّ العالمین

#جامعہـتجویدـالقرآنـرحموالیـگھوٹکی






30 روزہ تربیتی کورس برائے زوجینتیرہواں دنازدواجی زندگی میں دوستی کا کردار(حصہ اول: صفحہ 1 تا 2)تمہیدالحمد للہ رب العالمی...
04/07/2026

30 روزہ تربیتی کورس برائے زوجین

تیرہواں دن

ازدواجی زندگی میں دوستی کا کردار

(حصہ اول: صفحہ 1 تا 2)

تمہید

الحمد للہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علی سید الأنبیاء والمرسلین، وعلی آلہ وأصحابہ أجمعین، أما بعد!

اللہ تعالیٰ نے نکاح کو محض دو افراد کے درمیان ایک قانونی معاہدہ نہیں بنایا بلکہ اسے محبت، رحمت، سکون اور رفاقت کا مقدس بندھن قرار دیا ہے۔ دنیا کے تمام تعلقات میں میاں بیوی کا رشتہ سب سے زیادہ گہرا، حساس اور دائمی ہوتا ہے۔ اس رشتے کی کامیابی کا انحصار صرف محبت پر نہیں بلکہ محبت کے ساتھ ایک مضبوط دوستی پر بھی ہے۔

محبت کبھی کم یا زیادہ ہو سکتی ہے، جذبات میں اتار چڑھاؤ آ سکتا ہے، لیکن اگر میاں بیوی ایک دوسرے کے بہترین دوست ہوں تو وہ ہر مشکل، ہر آزمائش اور ہر اختلاف کو آسانی سے عبور کر لیتے ہیں۔

آج بہت سے ازدواجی مسائل کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ میاں بیوی ایک دوسرے کے شریکِ حیات تو بن جاتے ہیں لیکن شریکِ راز، شریکِ غم اور بہترین دوست نہیں بن پاتے۔ جہاں دوستی ہوتی ہے وہاں اعتماد پیدا ہوتا ہے، جہاں اعتماد ہوتا ہے وہاں محبت بڑھتی ہے، اور جہاں محبت اور اعتماد دونوں موجود ہوں وہاں خاندان جنت کا نمونہ بن جاتا ہے۔

اسی لیے ازدواجی زندگی میں دوستی صرف ایک اچھا وصف نہیں بلکہ خوشگوار ازدواجی زندگی کی بنیادی ضرورت ہے۔

---

قرآن مجید کی روشنی میں ازدواجی دوستی

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:

> "وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً."

"اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے بیویاں پیدا کیں تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو، اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور رحمت رکھ دی۔"

(سورۃ الروم: 21)

اس آیت میں تین عظیم نعمتوں کا ذکر کیا گیا ہے:

سکون

محبت

رحمت

یہ تینوں نعمتیں اس وقت مکمل ہوتی ہیں جب میاں بیوی کے درمیان دوستی بھی موجود ہو، کیونکہ حقیقی دوست ہی انسان کو سکون دیتا ہے، اس کی غلطیوں کو برداشت کرتا ہے اور ہر حال میں اس کا ساتھ دیتا ہے۔

---

رسول اللہ ﷺ کی ازدواجی زندگی؛ دوستی کا بہترین نمونہ

رسول اللہ ﷺ پوری انسانیت کے لیے بہترین نمونہ ہیں۔

آپ ﷺ صرف ایک عظیم شوہر ہی نہیں بلکہ اپنی ازواجِ مطہرات کے بہترین دوست بھی تھے۔

آپ ﷺ حضرت عائشہؓ کے ساتھ گفتگو فرماتے، ان کی باتیں توجہ سے سنتے، ان کے ساتھ خوش مزاجی کرتے، ان کے ساتھ دوڑ کا مقابلہ کرتے، سفر میں ان کی دلجوئی فرماتے، حتیٰ کہ ایک ہی برتن سے پانی پیتے تھے۔

یہ تمام واقعات ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ ازدواجی زندگی صرف ذمہ داریوں کا نام نہیں بلکہ دوستانہ تعلق کا بھی نام ہے۔

---

دوستی کیا ہے؟

دوستی صرف ہنسنے بولنے کا نام نہیں۔

حقیقی دوستی یہ ہے کہ:

ایک دوسرے کی بات کو توجہ سے سننا۔

رازوں کی حفاظت کرنا۔

خوشی اور غم میں ساتھ دینا۔

خامیوں پر پردہ ڈالنا۔

کامیابی پر خوش ہونا۔

ناکامی میں سہارا دینا۔

ایک دوسرے کی عزت کرنا۔

اعتماد کو کبھی مجروح نہ کرنا۔

اگر یہی اوصاف میاں بیوی کے درمیان پیدا ہو جائیں تو گھر جنت بن جاتا ہے۔

---

ازدواجی دوستی کیوں ضروری ہے؟

آج دنیا میں بے شمار ایسے گھر ہیں جہاں سہولیات کی کوئی کمی نہیں، دولت بھی موجود ہے، تعلیم بھی ہے، لیکن دلوں میں فاصلے ہیں۔

اس کی وجہ صرف ایک ہے کہ میاں بیوی ایک دوسرے کے دوست نہیں بن سکے۔

دوستی کے بغیر رشتہ صرف ذمہ داری بن جاتا ہے۔

دوستی کے ساتھ رشتہ خوشی بن جاتا ہے۔

دوستی کے بغیر گفتگو رسمی رہتی ہے۔

دوستی کے ساتھ ہر بات دل سے نکلتی ہے۔

دوستی کے بغیر غلطیاں جرم محسوس ہوتی ہیں۔

دوستی کے ساتھ غلطیاں اصلاح کا ذریعہ بن جاتی ہیں۔

---

بہترین دوست کی صفات

ہر انسان چاہتا ہے کہ اسے ایسا دوست ملے جو:

اسے سمجھے۔

اس کی عزت کرے۔

اس کی کمزوریوں پر پردہ ڈالے۔

اس کی بات توجہ سے سنے۔

اس کی غیر موجودگی میں بھی اس کا خیر خواہ رہے۔

اس کی کامیابی پر خوش ہو۔

اس کی ناکامی میں اس کا سہارا بنے۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ تمام صفات سب سے پہلے میاں بیوی کے تعلق میں ہونی چاہئیں۔

اگر شوہر اپنی بیوی کا بہترین دوست بن جائے اور بیوی اپنے شوہر کی بہترین دوست بن جائے تو بیرونی دوستیوں کی ضرورت بہت حد تک کم ہو جاتی ہے۔

---

دوستی اعتماد پیدا کرتی ہے

ازدواجی زندگی کی بنیاد اعتماد ہے۔

اور اعتماد کی بنیاد دوستی ہے۔

جب میاں بیوی ایک دوسرے سے ہر بات بلا جھجھک کہہ سکیں...

جب انہیں یہ یقین ہو کہ میری بات کا مذاق نہیں اڑایا جائے گا...

مجھے ڈانٹا نہیں جائے گا...

میری کمزوری کو میرے خلاف استعمال نہیں کیا جائے گا...

تب دلوں میں اعتماد پیدا ہوتا ہے۔

اور اعتماد وہ سرمایہ ہے جس کے بغیر کوئی ازدواجی زندگی کامیاب نہیں ہو سکتی۔

---

سبق

آج کے سبق سے ہمیں یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ:

نکاح صرف قانونی تعلق نہیں بلکہ قلبی رفاقت ہے۔

محبت کو قائم رکھنے کے لیے دوستی ضروری ہے۔

بہترین میاں بیوی وہ ہیں جو بہترین دوست بھی ہوں۔

دوستی اعتماد، سکون اور خوشیوں کی بنیاد ہے۔

---

(جاری ہے...)

اگلے حصے میں صفحہ 3 تا 4 پیش کیے جائیں گے، جن میں میاں بیوی کے درمیان دوستی کی علامات، نبی کریم ﷺ کا اسوہ، اور دوستی کو مضبوط بنانے کے عملی اصول تفصیل سے بیان کیے جائیں گے۔
اچھی بات پھیلانا صدقہ ہے
✍️ عبدالصمد نعیمی
اللّٰہ سبحانہ و تعالیٰ میری اور آپ کی اصلاح آسان فرمائے
اور ہمیں نیک اعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے
آمین یا رب العالمین







30 روزہ تربیتی کورس برائے زوجینبارہواں دنمحبت کے اظہار کے مؤثر طریقےالحمد للہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علی سید الانب...
02/07/2026

30 روزہ تربیتی کورس برائے زوجین

بارہواں دن

محبت کے اظہار کے مؤثر طریقے

الحمد للہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علی سید الانبیاء والمرسلین۔

تمہید

اللہ تعالیٰ نے میاں بیوی کے تعلق کو صرف ایک سماجی معاہدہ نہیں بلکہ محبت، رحمت اور سکون کا رشتہ قرار دیا ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے:

> "وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً" "اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کر دی۔" (سورۃ الروم: 21)

یہ آیت بتاتی ہے کہ ازدواجی زندگی کی بنیاد صرف ذمہ داریوں پر نہیں بلکہ محبت کے عملی اظہار پر بھی قائم ہے۔ محبت دل میں موجود ہونا یقیناً بہت بڑی نعمت ہے، لیکن اگر اس محبت کا اظہار نہ کیا جائے تو رفتہ رفتہ غلط فہمیاں، دوریاں اور احساسِ محرومی جنم لینے لگتے ہیں۔

اکثر گھروں میں مسئلہ محبت کی کمی نہیں بلکہ محبت کے اظہار کی کمی ہوتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ زوجین ایک دوسرے کو صرف محبت کریں ہی نہیں بلکہ محبت کا احساس بھی دلائیں۔

---

محبت کے اظہار کی اہمیت

محبت کا اظہار ازدواجی زندگی کو تازگی، اعتماد اور خوشیوں سے بھر دیتا ہے۔

اس کے فوائد یہ ہیں:

دلوں میں قربت پیدا ہوتی ہے۔

اعتماد مضبوط ہوتا ہے۔

شکایتیں کم ہوتی ہیں۔

بچوں کے لیے بہترین خاندانی ماحول بنتا ہے۔

گھریلو تنازعات میں نمایاں کمی آتی ہے۔

میاں بیوی ایک دوسرے کی جذباتی ضرورت پوری کرتے ہیں۔

---

رسول اللہ ﷺ کی ازدواجی زندگی بہترین نمونہ

نبی کریم ﷺ محبت کے اظہار میں بہترین نمونہ تھے۔

آپ ﷺ نے کبھی محبت کو صرف دل تک محدود نہیں رکھا بلکہ عملی انداز میں اس کا اظہار فرمایا۔

1۔ محبت بھرے الفاظ

حضرت عائشہؓ کو پیار سے "عائش" کہہ کر بلاتے تھے۔

یہ اس بات کی دلیل ہے کہ محبت بھرے الفاظ رشتوں میں مٹھاس پیدا کرتے ہیں۔

---

2۔ کھانے میں شریک ہونا

حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں:

میں جس جگہ سے پانی پیتی، رسول اللہ ﷺ بھی اسی جگہ سے پانی نوش فرماتے۔

یہ چھوٹا سا عمل محبت کی گہرائی ظاہر کرتا ہے۔

---

3۔ خوشی میں شریک ہونا

حبشی نوجوان مسجد نبوی میں کھیل رہے تھے۔

رسول اللہ ﷺ نے حضرت عائشہؓ کو اپنے کندھے کے پیچھے کھڑا کرکے وہ کھیل دکھایا۔

یہ محبت، توجہ اور احترام کی اعلیٰ مثال ہے۔

---

محبت صرف احساس نہیں، عمل بھی ہے

بعض لوگ کہتے ہیں:

"دل میں محبت موجود ہے، اظہار کی کیا ضرورت؟"

یہ سوچ درست نہیں۔

اگر پودے کو پانی نہ دیا جائے تو وہ سوکھ جاتا ہے۔

اسی طرح اظہار کے بغیر محبت بھی کمزور محسوس ہونے لگتی ہے۔

---

محبت کے اظہار کے دس مؤثر طریقے

1۔ اچھے الفاظ استعمال کریں

الفاظ انسان کے دل میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔

اپنے شریک حیات سے کہیں:

میں آپ کی قدر کرتا ہوں۔

آپ میرے لیے بہت اہم ہیں۔

اللہ نے آپ کو میری زندگی کی نعمت بنایا۔

آپ کا شکریہ۔

کبھی کبھی صرف ایک جملہ پورا دن خوشگوار بنا دیتا ہے۔

---

2۔ تعریف کرنا سیکھیں

ہر انسان تعریف پسند کرتا ہے۔

اگر شریک حیات نے:

اچھا کھانا بنایا

اچھا لباس پہنا

بچوں کی اچھی تربیت کی

گھر سنبھالا

تو اس کی تعریف ضرور کریں۔

تنقید کم، تعریف زیادہ کریں۔

---

3۔ وقت دینا

آج کی مصروف زندگی میں سب سے قیمتی تحفہ "وقت" ہے۔

روزانہ کم از کم 20 سے 30 منٹ صرف ایک دوسرے کے لیے مخصوص کریں۔

اس دوران:

موبائل بند رکھیں۔

ٹی وی نہ دیکھیں۔

صرف گفتگو کریں۔

---

4۔ غور سے سننا

محبت صرف بولنے کا نام نہیں۔

محبت سننے کا بھی نام ہے۔

جب شریک حیات بات کرے تو:

درمیان میں نہ ٹوکیں۔

آنکھوں میں دیکھ کر سنیں۔

توجہ دیں۔

یہ احساس محبت کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔

---

5۔ چھوٹے چھوٹے تحفے دینا

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"تحفے دیا کرو، محبت بڑھے گی۔"

تحفہ مہنگا ہونا ضروری نہیں۔

ایک کتاب

پسندیدہ چاکلیٹ

پھول

قلم

پسندیدہ کھانا

یہ سب محبت بڑھاتے ہیں۔

---

6۔ جسمانی محبت کا اظہار

اسلام نے جائز حدود میں محبت کے اظہار کی بھرپور ترغیب دی ہے۔

مثلاً:

مسکرا کر دیکھنا

ہاتھ پکڑنا

خوش اخلاقی

شفقت سے پیش آنا

یہ سب محبت کی زبان ہیں۔

---

7۔ ایک دوسرے کی مدد کرنا

گھر صرف عورت کی ذمہ داری نہیں۔

رسول اللہ ﷺ گھر کے کاموں میں مدد فرمایا کرتے تھے۔

اگر شوہر:

برتن اٹھا دے

بچوں کو سنبھال لے

بازار سے سامان لے آئے

تو بیوی کے دل میں محبت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔

اسی طرح بیوی شوہر کی ضروریات اور آرام کا خیال رکھے۔

---

8۔ معاف کرنا

ہر انسان غلطی کرتا ہے۔

کامیاب ازدواجی زندگی میں معافی کا کردار بہت بڑا ہے۔

بار بار پرانی باتیں دہرانا محبت ختم کر دیتا ہے۔

معاف کرنا دلوں کو جوڑ دیتا ہے۔

---

9۔ دعا کرنا

اپنے شریک حیات کے لیے دعا کرنا محبت کی اعلیٰ علامت ہے۔

مثلاً:

> اے اللہ! ہمارے درمیان محبت، رحمت اور سکون قائم فرما۔ ہمیں ایک دوسرے کے لیے بہترین ساتھی بنا۔

---

10۔ احترام

محبت احترام کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی۔

اختلاف ہو تب بھی:

آواز بلند نہ کریں۔

تذلیل نہ کریں۔

دوسروں کے سامنے شرمندہ نہ کریں۔

احترام محبت کی حفاظت کرتا ہے۔

---

محبت کے اظہار میں رکاوٹیں

بعض چیزیں محبت کو کمزور کر دیتی ہیں۔

مثلاً:

تکبر

غصہ

انا

بدگمانی

بے توجہی

مصروفیت

موبائل کا حد سے زیادہ استعمال

دوسروں سے موازنہ

اگر ان عادات کو ختم کر دیا جائے تو محبت خود بخود بڑھنے لگتی ہے۔

---

شوہر کے لیے خصوصی ہدایات

بیوی کی عزت کریں۔

اس کی محنت کو سراہیں۔

اس کی بات سنیں۔

وقت دیں۔

خوش اخلاق رہیں۔

چھوٹی چھوٹی خوشیاں بانٹیں۔

بچوں کے سامنے اس کا احترام کریں۔

---

بیوی کے لیے خصوصی ہدایات

شوہر کی عزت کریں۔

اس کی تھکن کو سمجھیں۔

حوصلہ افزائی کریں۔

گھر کو سکون کا مرکز بنائیں۔

شکر گزاری اختیار کریں۔

نرم لہجہ اپنائیں۔

اس کی کامیابی پر خوش ہوں۔

---

روزانہ کی عملی مشق

آج کے دن ہر زوجین یہ پانچ کام ضرور کریں:

1. شریک حیات کو کم از کم تین اچھے جملے کہیں۔

2. اس کی ایک خوبی کی تعریف کریں۔

3. دس منٹ بغیر موبائل گفتگو کریں۔

4. ایک دوسرے کے لیے دعا کریں۔

5. دن کے اختتام پر "جزاک اللہ خیراً" یا "آپ کا شکریہ" ضرور کہیں۔

---

خود احتسابی

اپنے آپ سے یہ سوالات پوچھیں:

کیا میں محبت کا اظہار کرتا/کرتی ہوں؟

کیا میرے شریک حیات کو میری محبت محسوس ہوتی ہے؟

کیا میری گفتگو محبت بڑھاتی ہے یا کم کرتی ہے؟

کیا میں تعریف زیادہ کرتا ہوں یا تنقید؟

کیا میں اپنے شریک حیات کے لیے وقت نکالتا ہوں؟

---

نتیجہ

کامیاب ازدواجی زندگی کا راز صرف محبت کرنے میں نہیں بلکہ محبت کو محسوس کرانے میں ہے۔ جب میاں بیوی ایک دوسرے کے جذبات کا احترام کرتے ہیں، اچھے الفاظ استعمال کرتے ہیں، وقت دیتے ہیں، ایک دوسرے کی تعریف کرتے ہیں اور معمولی معمولی مواقع پر بھی محبت کا اظہار کرتے ہیں تو گھر جنت کا نمونہ بن جاتا ہے۔

آئیے عہد کریں کہ آج سے ہم اپنے شریکِ حیات کو صرف یہ نہیں کہیں گے کہ "ہم آپ سے محبت کرتے ہیں"، بلکہ اپنے اخلاق، گفتگو، رویّے، تعاون، احترام اور دعا کے ذریعے ہر روز اس محبت کو محسوس بھی کرائیں گے۔ یہی وہ طرزِ عمل ہے جو مضبوط، پُرسکون اور خوشحال خاندان کی بنیاد بنتا ہے۔

دعا:
اللہ تعالیٰ تمام میاں بیویوں کے درمیان دائمی محبت، رحمت، باہمی اعتماد، حسنِ معاشرت اور سکون عطا فرمائے، ان کے گھروں کو خیر و برکت کا گہوارہ بنائے، اور انہیں رسول اللہ ﷺ کی سنت کے مطابق ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
اچھی بات پھیلانا صدقہ ہے
✍️ عبدالصمد نعیمی
اللّٰہ سبحانہ و تعالیٰ میری اور آپ کی اصلاح آسان فرمائے
اور ہمیں نیک اعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے
آمین یا رب العالمین







Address

Ghotki
Hyderabad

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when TRUST ME MY FRIENDs posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share