IsaKhel News

IsaKhel News On Isa Khel News عیسی خیل نیوز Page You can Find the latest breaking isakhel news and i IsaKhel News عیسیٰ خیل نیوز

سرائیکی وسیب کا رانجھراں ۤـ عطاء محمد نیازی داود خیلویوسیع سرائیکی وسیب کی مٹی عجیب ہے۔ یہ مٹی کبھی کبھی ایسے ہیرے پیدا ...
11/03/2026

سرائیکی وسیب کا رانجھراں ۤـ عطاء محمد نیازی داود خیلوی

وسیع سرائیکی وسیب کی مٹی عجیب ہے۔ یہ مٹی کبھی کبھی ایسے ہیرے پیدا کرتی ہے جن کی چمک زمانے کو دکھائی تو دیتی ہے مگر قسمت کی گرد ان پر اس قدر جم جاتی ہے کہ وہ ہیرے اپنی اصل قیمت نہیں پا پاتے۔ ضلع میانوالی، داؤدخیل اور عیسیٰ خیل کی سرزمین بھی ایسے ہی فنکاروں کی جنم بھومی رہی ہے۔ اسی سرزمین نے ایک ایسا فنکار بھی پیدا کیا جسے سننے والے آج بھی حیرت سے کہتے ہیں کہ اگر بخت مہربان ہوتا تو یہ آواز پورے پاکستان کی پہچان بن سکتی تھی۔ اس فنکار کا نام ہے عطاء محمد نیازی۔

عطاء محمد نیازی کی آواز دراصل ایک خطے کی آواز ہے۔

جب وہ گاتے ہیں تو لگتا ہے جیسے:
کالاباغ کے پہاڑ بول رہے ہوں
دریائے سندھ کی لہریں گنگنا رہی ہوں
ٹرک ڈرائیور رات کے سفر میں تنہائی توڑ رہے ہوں
اور کوئی نوجوان عاشق اپنے دل کا دکھ ہلکا کر رہا ہو
یہی وجہ ہے کہ ان کے گیتوں میں مٹی کی خوشبو ہے۔

دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ وہ پاکستان کے ان چند گلوکاروں میں شمار ہوتے ہیں جو نہ صرف فنِ موسیقی سے واقف تھے بلکہ علمی اعتبار سے بھی بہت آگے تھے۔ مگر تاریخ ہمیں بار بار یہ سبق دیتی ہے کہ علم اور صلاحیت کے باوجود ہر شخص کو وہ مقام نہیں ملتا جس کا وہ مستحق ہوتا ہے۔

سرائیکی وسیب کی موسیقی میں اگر ہم بڑے ناموں کا ذکر کریں تو یقیناً عطاء اللہ عیسیٰ خیلوی کا نام سب سے نمایاں نظر آتا ہے۔ لیکن یہ بات کم لوگ جانتے ہیں کہ خود عطاء اللہ عیسیٰ خیلوی نے ایک انٹرویو میں اعتراف کیا تھا کہ اگر ان کے اندازِ گائیکی میں کوئی خوبصورت انداز میں گا سکتا ہے تو وہ عطاء محمد نیازی ہیں۔ یہ اعتراف کسی معمولی بات کی نشانی نہیں بلکہ ایک بڑے فنکار کی طرف سے دوسرے فنکار کے کمال کا اعتراف تھا۔

مگر موسیقی کی دنیا میں صرف آواز یا فن ہی کافی نہیں ہوتا۔ یہاں بخت کا بھی بڑا عمل دخل ہوتا ہے۔ کبھی کبھی ایک گلوکار ایک گیت گا کر شہرت کی بلندیوں تک پہنچ جاتا ہے جبکہ بعض لوگ عمر بھر گاتے رہتے ہیں اور شہرت ان کے دروازے تک نہیں پہنچتی۔

عطاء محمد نیازی کی زندگی بھی اسی حقیقت کی ایک مثال ہے۔

ان کے کئی ایسے گیت تھے جو بعد میں دوسرے گلوکاروں نے گائے اور وہ گیت مشہور ہو گئے۔ مثال کے طور پر معروف گیت “میڈا رانجھراں” جب شازیہ خشک کی آواز میں سامنے آیا تو اس نے پورے پاکستان میں شہرت حاصل کر لی، مگر اس گیت کے پس منظر میں عطاء محمد نیازی کا تخلیقی اور موسیقیاتی کردار بہت کم لوگوں کو معلوم ہے۔ اسی طرح کئی اور گیت بھی ایسے ہیں جنہیں دوسروں نے گا کر شہرت حاصل کی۔

میانوالی کے پرانے موسیقار بتاتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک محفل میں کسی نے عطاء محمد نیازی سے کہا:

“آپ کے گانے دوسرے لوگ گا کر مشہور ہو جاتے ہیں، آپ کو دکھ نہیں ہوتا؟”

انہوں نے مسکرا کر جواب دیا:

“گانا اگر لوگوں تک پہنچ جائے تو یہی بڑی بات ہے۔ آواز کس کی ہے، یہ اتنا ضروری نہیں۔”

یہ جواب سن کر محفل میں چند لمحوں کے لیے خاموشی چھا گئی۔

یہ جواب کسی فنکار کا نہیں بلکہ ایک درویش کا جواب تھا۔

یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیوں ہوا؟

اس کی ایک بڑی وجہ ان کی سرکاری ملازمت تھی۔ ملازمت کی پابندیوں نے انہیں موسیقی کو وہ وقت دینے نہیں دیا جو ایک فنکار کو درکار ہوتا ہے۔ مگر اس سے بھی بڑی وجہ شاید ان کی درویشانہ طبیعت تھی۔ وہ شہرت کے ان راستوں پر نہیں گئے جہاں سے بعض گلوکار ایک ہی گیت کے ذریعے راتوں رات ستارہ بن جاتے ہیں۔

میانوالی کی سرزمین پر اگر آپ سفر کریں تو آپ کو تاریخ کے کئی باب ملیں گے۔ کالاباغ کے پہاڑ، دریائے سندھ کا کنارہ، عیسیٰ خیل کی قدیم بستیاں اور داؤدخیل کے گرد و نواح یہ سب صرف جغرافیہ نہیں بلکہ ایک ثقافتی داستان ہیں۔ یہی وہ ماحول ہے جہاں لوک موسیقی نے جنم لیا، جہاں ٹرک ڈرائیوروں کے ٹیپ ریکارڈروں پر کیسٹیں چلتی تھیں، جہاں محبت کرنے والے نوجوان راتوں کو گیت سنتے اور اپنے دلوں کے دکھ ہلکے کرتے تھے۔

انیس سو اسی اور نوے کی دہائی وہ زمانہ تھا جب کیسٹوں کا دور تھا۔ بازاروں میں کیسٹ کی دکانیں ہوتی تھیں، ٹرکوں اور بسوں میں ٹیپ ریکارڈر لگے ہوتے تھے اور گلوکاروں کی شہرت انہی کیسٹوں سے بنتی تھی۔ عطاء محمد نیازی کے بھی بے شمار کیسٹ مارکیٹ میں آئے، لوگ انہیں سنتے بھی تھے مگر وہ اس شہرت کو کیش نہ کر سکے۔

اس کی ایک وجہ یہ بھی رہی کہ وہ ٹیلی وژن چینلز سے دور رہے۔ آج بھی موسیقی کی دنیا میں ٹی وی اور میڈیا شہرت کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں۔ میں نے خود کئی ایسے گلوکار دیکھے ہیں جو اپنی تشہیر کے لیے بھاری رقم خرچ کرتے ہیں تاکہ ہر وقت ٹی وی سکرین پر نظر آئیں۔ مگر عطاء محمد نیازی جیسے درویش صفت انسان نے کبھی اس دوڑ میں شامل ہونا پسند نہیں کیا۔

وہ اپنی دنیا میں مگن رہے۔ گاتے رہے، تخلیق کرتے رہے اور خاموشی سے آگے بڑھتے رہے۔

عطاء محمد نیازی کے کئی گیت ایسے ہیں جو آج بھی سرائیکی اور پنجابی موسیقی کے شوقین لوگوں میں سنے جاتے ہیں۔ ان میں خاص طور پر:

اسان میاں والی جاونا اے
چلو پھر سے اپنے گاؤں چلتے ہیں
چاندی والی ونگ
سانول سوہنیاں
اساں تے یاراں دے یار ہاں
تیڈی وسے میانوالی ڈھولنا
گہرے رنگ کے کپڑوں میں

ان کے گیتوں میں میانوالی کی مٹی کی خوشبو، محبت کی سادگی اور لوک شاعری کی روانی صاف محسوس ہوتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ آج جب ہم سرائیکی وسیب کی موسیقی کا جائزہ لیتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ اگر قسمت تھوڑی سی مہربان ہوتی تو عطاء محمد نیازی کا نام شاید عطاء اللہ عیسیٰ خیلوی کے بعد دوسرے نمبر پر لیا جاتا۔

تاریخ ہمیں صرف بادشاہوں اور جنگوں کی کہانیاں نہیں سناتی بلکہ وہ ایسے فنکاروں کی یاد بھی محفوظ رکھتی ہے جنہوں نے اپنی خاموش محنت سے ثقافت کو زندہ رکھا۔ عطاء محمد نیازی بھی انہی لوگوں میں سے ایک ہیں۔

وہ شاید ملک گیر شہرت حاصل نہ کر سکے، مگر جو لوگ موسیقی کو سمجھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ اس سرزمین کے اس درویش گلوکار نے سرائیکی وسیب کی موسیقی کو ایک خاص رنگ دیا ہے۔

اور شاید یہی کسی فنکار کی اصل کامیابی ہوتی ہے۔

کہ اس کی آواز وقت کے شور میں گم نہیں ہوتی… بلکہ خاموشی میں بھی سنائی دیتی رہتی ہے۔

#میانوالی







سرائیکی وسیب کا منصور - منصور ملنگیسرائیکی بولی کا ذکر آتے ہی ذہن میں ایک عجیب سی مٹھاس گھلنے لگتی ہے۔یہ صرف زبان نہیں… ...
11/03/2026

سرائیکی وسیب کا منصور - منصور ملنگی

سرائیکی بولی کا ذکر آتے ہی ذہن میں ایک عجیب سی مٹھاس گھلنے لگتی ہے۔
یہ صرف زبان نہیں… یہ احساس ہے۔

آپ اگر تھل کی کسی شام کو دیکھیں… جب سورج ریت کے ٹیلوں کے پیچھے ڈوب رہا ہو… جب کہیں دور اونٹوں کی گھنٹیاں بج رہی ہوں… اور جب کسی چرواہے کی آواز فضا میں تیر رہی ہو… تو آپ کو سمجھ آئے گی کہ سرائیکی کیا ہے۔

یہ وہ زبان ہے جس میں محبت بھی ہے اور ہجر بھی۔
یہ وہ بولی ہے جس میں ماں کی لوری بھی ہے اور عاشق کا دکھ بھی۔

اسی لیے سرائیکی کو صرف پڑھا نہیں جاتا… سنا جاتا ہے۔

مشہور شاعر افضل عاجز نے ایک بار کہا تھا:

“برصغیر میں اس وقت دو موسیقیاں سنی جا رہی ہیں، ایک ہندوستان کی اور دوسری سرائیکی۔”

یہ بات شاید پہلی نظر میں بڑی لگے… لیکن اگر آپ نے سرائیکی وسیب کے گیتوں کو غور سے سنا ہو تو یہ بات حقیقت کے قریب محسوس ہوتی ہے۔

اور اسی سرائیکی موسیقی کو دنیا کے کونے کونے تک پہنچانے والوں میں ایک نام ہمیشہ لیا جائے گا۔

وہ نام ہے
منصور علی ملنگی۔

وہ بچہ جس کے آنگن میں ساز تھے

یکم جنوری 1947ء کو ضلع جھنگ اور ضلع لیہ کی سرحد پر واقع قصبہ گڑھ مہاراجہ ایک ایسے بچے کا گواہ بنا جسے تقدیر نے آواز کی دولت دی تھی۔

اس بچے کے والد پٹھان علی ملنگی سارنگی نواز تھے۔ وہ اس زمانے کے لوک گلوکاروں میں شمار ہوتے تھے۔ شادی بیاہ، میلے ٹھیلے اور دیہاتی چوپالیں ان کی آواز سے آباد رہتی تھیں۔

یہ وہ دور تھا جب تفریح کے ذرائع کم تھے۔ نہ ٹی وی تھا، نہ موبائل، نہ اسٹیج شو۔

لوگوں کے پاس اگر کوئی خوشی تھی تو وہ محفل تھی۔

رات کو کسی زمیندار کی چوپال میں چراغ جلتے، چارپائیاں بچھتیں، لوگ دور دور سے آتے اور پھر ایک گلوکار ساری رات گاتا۔

اس محفل کو “چوکی” کہا جاتا تھا۔

یہ وہ زمانہ تھا جب گلوکار کی اصل طاقت اس کی آواز ہوتی تھی کیونکہ وہاں مائیک نہیں ہوتا تھا۔

منصور ملنگی بچپن میں اپنے والد کے ساتھ انہی محفلوں میں جاتے تھے۔

وہ بعد میں کہا کرتے تھے:
“میرے بابا کی آواز اتنی بلند تھی کہ ہزاروں لوگ بغیر مائیک کے سن لیتے تھے۔”

اسی ماحول میں ایک بچہ سُروں کے درمیان پلنے لگا۔

استاد کا سایہ

منصور ملنگی نے موسیقی کا پہلا سبق اپنے والد سے لیا۔
بعد میں وہ مشہور موسیقار بابا جی اے چشتی کے شاگرد بن گئے۔

یہ وہ استاد تھے جنہوں نے پاکستانی فلمی موسیقی کو کئی لازوال دھنیں دیں۔

استاد کے ساتھ کام کرتے ہوئے منصور ملنگی نے صرف موسیقی نہیں سیکھی بلکہ صبر، ریاض اور فنکار کی انا بھی سیکھی۔

اٹھارہ سال کی عمر میں انہوں نے گانا شروع کر دیا۔

مگر اس زمانے میں گلوکار بننے کا ایک ہی راستہ تھا
ریڈیو پاکستان۔

ریڈیو کے دروازوں پر دستک

وہ پہلے گئے ریڈیو پاکستان ملتان۔
وہاں بتایا گیا کہ جھنگ لاہور کے دائرے میں آتا ہے۔

وہ لاہور گئے تو جواب ملا کہ سرائیکی گلوکاروں کا مرکز ملتان ہے۔

یوں ایک فنکار دروازوں کے درمیان بھٹکتا رہا۔

آخرکار ایک مہربان انسان سامنے آیا۔

یہ تھے ملک عزیزالرحمان اولکھ۔

انہوں نے یہ مسئلہ حل کیا اور منصور ملنگی کو ملتان سینٹر سے منسلک کر دیا۔

اور یوں سرائیکی موسیقی کو ایک نئی آواز مل گئی۔

ایک گیت جس نے وسیب کو جگا دیا

1975ء میں منصور ملنگی کا پہلا البم ریلیز ہوا۔

اس میں ایک گیت تھا:

“اک پھل موتیے دا مار کے جگا سوہنڑیئے”

یہ گیت صرف مقبول نہیں ہوا بلکہ سرائیکی وسیب کی پہچان بن گیا۔

اس زمانے میں کیسٹ کا دور تھا۔
چھوٹے چھوٹے ٹیپ ریکارڈر ہوتے تھے۔

چائے کے ہوٹلوں پر یہی گیت چلتا تھا۔
بسوں اور ٹرکوں میں یہی آواز گونجتی تھی۔

ٹرک ڈرائیور لمبے سفر کرتے ہوئے یہی گیت سنتے اور سڑکیں جیسے ان کے ساتھ گنگناتی رہتیں۔

یہ وہ زمانہ تھا جب موسیقی صرف سنی نہیں جاتی تھی… جی بھی جاتی تھی۔

کیسٹوں کا زمانہ اور گاؤں کی محفلیں

آج کی نسل کو شاید یقین نہ آئے کہ ایک زمانہ ایسا بھی تھا جب موسیقی موبائل میں نہیں بلکہ کیسٹوں میں رہتی تھی۔

لوگ شہر سے نئی کیسٹ خرید کر گاؤں لاتے تھے۔
پھر شام کو محفل جمتی تھی۔

ایک ٹیپ ریکارڈر رکھا جاتا، سب لوگ گرد بیٹھ جاتے اور گیت چلتا۔

جب منصور ملنگی کی آواز آتی تو لوگ خاموش ہو جاتے۔

کبھی کوئی نوجوان آہستہ سے کہتا:
“واہ ملنگی!”

اور پھر محفل میں ایک عجیب سی کیفیت چھا جاتی۔

ان کے گیت
“نکی جئی گل توں رسدئیں”
“ککڑا دھمی دیا”
اور
“کوئی روہی یاد کریندی اے”

وسیع سرائیکی وسیب میں دلوں کی آواز بن گئے۔

وہ آواز جس میں روہی بولتی تھی

منصور ملنگی کی گائیکی کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ سُروں کے مزاج کو جانتے تھے۔

وہ گیت گاتے گاتے اچانک ایک ماہیا ڈال دیتے۔
پھر دوہڑے کی لَے میں آ جاتے۔

اور پھر دوبارہ گیت شروع کر دیتے۔

سننے والے حیران رہ جاتے۔

معروف شاعر محسن نقوی ان کے قریبی دوستوں میں شامل تھے۔

محسن نقوی کی لکھی ہوئی غزل

“وہ جس کا نام بھی لیا پہیلیوں کی اوٹ میں”

جب منصور ملنگی نے گائی تو یہ غزل سرحدوں سے نکل کر دنیا تک پہنچ گئی۔

فرید کی کافیوں کی خوشبو

سرائیکی وسیب میں اگر کسی شاعر کا نام روح کی طرح زندہ ہے تو وہ ہیں

خواجہ غلام فرید۔

منصور ملنگی نے فرید کی کافیوں کو جس انداز میں گایا وہ آج بھی مثال سمجھا جاتا ہے۔

ان کی آواز میں جب فرید کا کلام گونجتا تھا تو لگتا تھا جیسے روہی کی ریت پر صوفی درویش چل رہے ہوں۔

دنیا کے سفر مگر مٹی سے محبت

منصور ملنگی نے اپنے فن کا جادو صرف پاکستان میں نہیں بلکہ دنیا کے کئی ممالک میں جگایا۔

انہوں نے ریاستہائے متحدہ امریکا، جاپان، یونان، ناروے اور دبئی میں پرفارم کیا۔

لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ شہرت کے باوجود وہ سادہ رہے۔

وہ اکثر کہا کرتے تھے:

“ہم نے اپنی زبان کی شناخت کے لیے گایا ہے، دولت کے لیے نہیں۔”

وہ آج بھی زندہ ہے

10 دسمبر 2014ء کو وہ ایک تقریب میں آئے تھے۔

لیکن قسمت کو کچھ اور منظور تھا۔

دل کی تکلیف نے اچانک انہیں ہم سے جدا کر دیا۔

مگر سچ یہ ہے کہ کچھ لوگ مرنے کے بعد بھی زندہ رہتے ہیں۔

آج بھی اگر آپ سرائیکی وسیب کے کسی گاؤں میں جائیں…
کسی ٹرک ڈرائیور کے کیبن میں جھانکیں…
یا کسی چوپال میں رات کی محفل دیکھیں…

تو کہیں نہ کہیں سے ایک آواز ضرور سنائی دے گی:

“کوئی روہی یاد کریندی اے…”

اور تب محسوس ہوگا کہ منصور ملنگی کہیں گئے نہیں۔

وہ آج بھی اس مٹی کی ہوا میں زندہ ہیں۔

کیونکہ کچھ لوگ تاریخ میں نہیں…

لوگوں کے دلوں میں زندہ رہتے ہیں۔

#میانوالی






ایک آواز جس نے عیسیٰ خیل میانوالی کو دنیا کے نقشے پر لکھ دیا : عطا اللہ عیسیٰ خیلویرات کے دو بجے تھے۔ جی ٹی روڈ پر ایک ٹ...
10/03/2026

ایک آواز جس نے عیسیٰ خیل میانوالی کو دنیا کے نقشے پر لکھ دیا : عطا اللہ عیسیٰ خیلوی

رات کے دو بجے تھے۔ جی ٹی روڈ پر ایک ٹرک آہستہ آہستہ لاہور سے راولپنڈی کی طرف بڑھ رہا تھا۔ ڈرائیور کی آنکھوں میں نیند تھی مگر ہاتھ اسٹیئرنگ پر مضبوطی سے جمے ہوئے تھے۔ سامنے سڑک سنسان تھی، اردگرد اندھیرا اور ٹرک کے کیبن میں ایک پرانا سا ٹیپ ریکارڈر رکھا تھا۔ اچانک کیسٹ گھومی اور ایک آواز ابھری

“قمیض تیری کالی تے سوہنے پھلاں والی…”

ڈرائیور نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ آواز اونچی کر دی۔ لمبا سفر تھا اور اس سفر کا سب سے وفادار ساتھی یہی آواز تھی۔
یہ صرف ایک ٹرک ڈرائیور کی کہانی نہیں تھی۔ یہ اس پورے زمانے کی کہانی تھی جب پاکستان کی سڑکوں، چائے خانوں، دیہات کی بیٹھکوں اور عاشقوں کے کمروں میں ایک ہی آواز گونجتی تھی
عطا اللہ عیسیٰ خیلوی کی آواز۔

میانوالی کی سرزمین ہمیشہ سے عجیب لوگوں کو جنم دیتی آئی ہے۔ اس مٹی میں ایک سچائی ہے، ایک خاموش درد ہے اور ایک ایسی کشش ہے جو دل کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔ اسی مٹی کے ایک سادہ سے گھر میں 19 اگست 1951 کو ایک بچہ پیدا ہوا جس کا نام عطا اللہ خان نیازی رکھا گیا۔ بعد میں دنیا نے اسے عطا اللہ عیسیٰ خیلوی کے نام سے جانا۔

یہ وہ زمانہ تھا جب عیسیٰ خیل ایک چھوٹا سا قصبہ تھا۔ نہ بڑے سٹوڈیو تھے، نہ موسیقی کے ادارے، نہ شہرت کے دروازے۔ مگر بعض لوگ اپنی قسمت خود لکھتے ہیں۔ عطا اللہ کے دل میں موسیقی کا ایسا شوق تھا جو حالات سے بڑا تھا۔

جوانی کے دنوں میں وہ کبھی بسوں کے ساتھ سفر کرتے، کبھی ٹرک ڈرائیوروں کے ساتھ بیٹھتے اور کبھی دوستوں کی محفل میں گاتے۔ اس زمانے میں کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ یہی نوجوان ایک دن پاکستان کے لاکھوں لوگوں کے دلوں کی آواز بن جائے گا۔

ستر کی دہائی کے آخر میں پاکستان میں آڈیو کیسٹ کا انقلاب آیا۔ بازاروں میں ٹیپ ریکارڈر آنے لگے۔ خلیجی ممالک سے آنے والے مزدور اپنے گھروں کے لیے کیسٹ پلیئر لاتے تھے۔ انہی دنوں کسی دوست نے عطا اللہ کی آواز کو ایک سادہ سے ٹیپ ریکارڈر پر ریکارڈ کیا۔

یہ کیسٹ بازار میں پہنچی اور پھر ایک عجیب سلسلہ شروع ہو گیا۔ دکاندار اس کی نقلیں بنانے لگے۔ لوگ اسے خریدنے لگے۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک دیہاتی نوجوان کی آواز پورے ملک میں پھیل گئی۔

یہ وہ زمانہ تھا جب پاکستان کی سڑکوں پر ٹرکوں کا سنہرا دور تھا۔ ٹرک صرف گاڑیاں نہیں ہوتے تھے، وہ ثقافت کا چلتا پھرتا میوزیم ہوتے تھے۔ ان کے پچھلے حصے پر شاعری لکھی ہوتی، رنگین تصویریں بنی ہوتیں اور کیبن میں ایک ٹیپ ریکارڈر ضرور ہوتا۔

ٹرک ڈرائیور لمبے سفر پر نکلتے تو ساتھ عطا اللہ عیسیٰ خیلوی کی کیسٹ ضرور رکھتے۔ لاہور سے کراچی، پشاور سے کوئٹہ تک ہزاروں میل کا سفر ان گانوں کے ساتھ طے ہوتا تھا۔ بعض ڈرائیور تو اپنے ٹرکوں پر ان کی تصویر بھی لگا لیتے تھے۔

اسی لیے بہت سے لوگ انہیں “جی ٹی روڈ کا سپر اسٹار” کہتے تھے۔

یہ صرف ڈرائیوروں کی آواز نہیں تھی۔ یہ عاشقوں کی بھی آواز تھی۔
کسی گاؤں کے نوجوان کو محبت میں ناکامی ہوتی تو وہ خاموشی سے ٹیپ ریکارڈر چلاتا اور عطا اللہ کا گانا سننے لگتا

“اساں جان کے میٹ لئی اکھیاں…”

یہ گانے صرف گانے نہیں تھے۔ یہ دل کی بات تھے۔ اسی لیے ایک پوری نسل نے اپنے دکھ، اپنی محبت اور اپنی تنہائی انہی گانوں میں تلاش کی۔

اسی دور میں پاکستان میں وی سی آر اور ویڈیو لائبریریوں کا زمانہ بھی آیا۔ شہروں اور قصبوں میں ویڈیو شاپس کھل گئیں۔ فلموں کے ساتھ ساتھ موسیقی کی کیسٹیں بھی رکھی جانے لگیں۔ ان شیلفوں پر اگر کسی گلوکار کی کیسٹ سب سے زیادہ نظر آتی تھی تو وہ عطا اللہ عیسیٰ خیلوی کی ہوتی تھی۔

ایک وقت ایسا آیا جب ان کے گانوں کی تعداد سینکڑوں سے بڑھ کر ہزاروں تک پہنچ گئی۔ انہوں نے اتنے زیادہ آڈیو البمز ریکارڈ کیے کہ ان کا نام دنیا کے ریکارڈز میں شامل ہونے لگا۔

مگر اس شہرت کے باوجود ایک چیز کبھی نہیں بدلی
اپنی مٹی سے محبت۔
عیسیٰ خیل اور میانوالی آج بھی ان کے دل کے قریب ہیں۔ وہ جب بھی اپنے علاقے کا ذکر کرتے ہیں تو آواز میں ایک عجیب سی اپنائیت محسوس ہوتی ہے۔

پاکستان کی ریاست نے بھی ان کی خدمات کو تسلیم کیا۔ انہیں پرائیڈ آف پرفارمنس اور بعد ازاں ستارۂ امتیاز سے نوازا گیا۔ مگر اصل اعزاز وہ محبت تھی جو عوام نے انہیں دی۔

آج دنیا بدل چکی ہے۔ موسیقی موبائل فون اور یوٹیوب میں سمٹ گئی ہے۔ ٹیپ ریکارڈر اب پرانی الماریوں میں پڑے ہیں اور آڈیو کیسٹیں ماضی کی یاد بن چکی ہیں۔

مگر جو لوگ اس زمانے کو جانتے ہیں وہ آج بھی کہتے ہیں کہ اگر کسی رات لمبے سفر پر سڑک پر نکلیں اور دور کسی ٹرک سے عطا اللہ عیسیٰ خیلوی کی آواز سنائی دے تو یوں لگتا ہے جیسے میانوالی کی مٹی خود گانے لگی ہو۔

کچھ آوازیں صرف فنکار کی نہیں ہوتیں، وہ ایک پورے زمانے کی یاد بن جاتی ہیں۔
عطا اللہ عیسیٰ خیلوی کی آواز بھی ایسی ہی آواز ہے

عیسیٰ خیل کی مٹی سے اٹھنے والی وہ صدا
جو آج بھی دلوں میں ویسے ہی گونجتی ہے
جیسے کئی دہائیاں پہلے گونجتی تھی۔

#میانوالی







#

میانوالی کی مٹی عجیب خاصیت رکھتی ہے۔ یہاں یادیں بھی مٹی کی خوشبو کی طرح دیر تک ساتھ رہتی ہیں۔ جب کبھی ماضی کے اوراق پلٹت...
10/03/2026

میانوالی کی مٹی عجیب خاصیت رکھتی ہے۔ یہاں یادیں بھی مٹی کی خوشبو کی طرح دیر تک ساتھ رہتی ہیں۔ جب کبھی ماضی کے اوراق پلٹتے ہیں تو کئی منظر آنکھوں کے سامنے یوں زندہ ہو جاتے ہیں جیسے کل کی بات ہو۔ میں گزشتہ بیس برس سے تاریخ پڑھا رہا ہوں، مگر میانوالی کی سیاسی تاریخ کا ایک منظر ایسا ہے جو آج بھی ذہن کے پردے پر بالکل تازہ ہے۔ یہ منظر سن 1996 کا ہے، جب میانوالی میں تحریک انصاف کا پہلا جلسہ منعقد ہوا۔

وہ زمانہ آج کے پاکستان سے بہت مختلف تھا۔ نہ سوشل میڈیا تھا، نہ بڑے بڑے میڈیا ہاؤسز کی براہ راست نشریات۔ سیاست زیادہ تر اخبارات کے صفحات اور جلسوں کے نعروں تک محدود ہوا کرتی تھی۔ اسی دور میں ایک نیا نام پاکستانی سیاست کے افق پر ابھر رہا تھا۔ وہ نام تھا عمران خان کا۔

میانوالی میں اس دن ایک غیر معمولی ہلچل تھی۔ لوگ جوق در جوق آ رہے تھے۔ کوئی سائیکل پر تھا، کوئی موٹر سائیکل پر اور کئی لوگ پیدل بھی پہنچ رہے تھے۔ اس زمانے میں جلسوں میں آنے والوں کو نہ کوئی مالی مفاد ہوتا تھا اور نہ ہی کوئی سیاسی عہدے کی امید۔ لوگ صرف ایک نئے خواب کی کشش میں آتے تھے۔

اس تاریخی جلسے کی ایک تصویر آج بھی محفوظ ہے۔ تصویر میں عمران خان اسٹیج پر موجود ہیں۔ چہرے پر وہی اعتماد، وہی ولولہ اور وہی انداز جو بعد میں پاکستان کی سیاست کا ایک مستقل حوالہ بن گیا۔ اسٹیج سادہ تھا، انتظامات محدود تھے، مگر امیدوں کا آسمان بہت بلند تھا۔

میانوالی ہمیشہ سے عمران خان کی سیاست کا اہم مرکز رہا ہے۔ یہ وہ سرزمین ہے جہاں کے لوگوں نے مشکل وقت میں بھی ان کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ جب پاکستان کی بڑی بڑی سیاسی جماعتیں مضبوط تنظیموں اور وسائل کے ساتھ میدان میں موجود تھیں، تب میانوالی کے عوام نے ایک ایسے شخص پر اعتماد کیا جس کے پاس اس وقت صرف ایک نظریہ اور ایک خواب تھا۔

1996 کے اس جلسے کو اگر میانوالی کی سیاسی تاریخ میں ایک سنگ میل کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ اس جلسے نے نہ صرف ایک نئی جماعت کا تعارف کروایا بلکہ یہ بھی ثابت کیا کہ پاکستان کے چھوٹے اضلاع بھی ملکی سیاست کی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

آج جب ہم ماضی کی اس تصویر کو دیکھتے ہیں تو احساس ہوتا ہے کہ تاریخ صرف بڑے فیصلوں سے نہیں بنتی، بلکہ ایسے ہی سادہ مگر معنی خیز لمحوں سے تشکیل پاتی ہے۔ فٹ بال گراؤنڈ میں منعقد ہونے والا وہ جلسہ دراصل ایک سیاسی سفر کا ابتدائی باب تھا، جس نے بعد میں پاکستان کی سیاست میں ایک نئی داستان رقم کی۔

میانوالی کی تاریخ میں یہ تصویر صرف ایک جلسے کی یاد نہیں، بلکہ اس عہد کی علامت ہے جب لوگ خواب دیکھنے کا حوصلہ رکھتے تھے اور سیاست کو امید کی آنکھ سے دیکھتے تھے۔

وقت گزرتا رہتا ہے، چہرے بدل جاتے ہیں، حالات بھی بدل جاتے ہیں، مگر تاریخ کے کچھ مناظر ایسے ہوتے ہیں جو ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ میانوالی کے فٹ بال گراؤنڈ میں 1996 کا وہ جلسہ بھی انہی مناظر میں سے ایک ہے، جو اس خطے کی سیاسی یادداشت میں ہمیشہ محفوظ رہے گا۔

#میانوالی









عطاء اللہ خان عیسیٰ خیلوی، آڈیو ٹیپ ریکارڈر اورہرانی کیسٹوں کا جنونوقت کی رفتار عجیب ہے۔ یہ صرف آگے نہیں بڑھتا بلکہ پیچھ...
09/03/2026

عطاء اللہ خان عیسیٰ خیلوی، آڈیو ٹیپ ریکارڈر اورہرانی کیسٹوں کا جنون

وقت کی رفتار عجیب ہے۔ یہ صرف آگے نہیں بڑھتا بلکہ پیچھے چھوٹ جانے والی چیزوں کو آہستہ آہستہ یادوں میں بدل دیتا ہے۔ کبھی وہ چیزیں جن کے بغیر زندگی کا تصور ممکن نہیں ہوتا تھا، ایک دن یوں غائب ہوجاتی ہیں جیسے وہ کبھی تھیں ہی نہیں۔

آج جب میں اپنے طلبہ کو ماضی کے قصے سناتا ہوں تو مجھے احساس ہوتا ہے کہ ایک پوری نسل ایسی بھی ہے جس نے ٹیپ ریکارڈر دیکھا ہی نہیں۔ ان کے لیے موسیقی کا مطلب موبائل فون، یوٹیوب اور اسٹریمنگ ایپس ہیں۔ مگر ہم نے وہ زمانہ بھی دیکھا ہے جب موسیقی صرف ایک کیسٹ میں بند ہوتی تھی اور اس کیسٹ کے اندر ایک پوری دنیا بسی ہوتی تھی۔

یہ وہ دور تھا جب جاپانی ٹیکنالوجی کا ایک عجوبہ
آڈیو ٹیپ ریکارڈر
گھروں کی شان ہوا کرتا تھا۔ اور اسی زمانے میں میانوالی کے ایک درویش صفت گلوکار کی آواز نے دنیا بھر میں اپنا جادو جگایا۔ اس گلوکار کا نام تھا عطاء اللہ خان عیسیٰ خیلوی۔

عطاء اللہ خان کی آواز صرف پاکستان تک محدود نہیں رہی۔ سرائیکی، پنجابی اور اردو سمجھنے والے لوگ دنیا کے جس کونے میں بھی آباد تھے، وہاں کسی نہ کسی الماری، صندوق یا ٹیبل دراز میں عطاء اللہ کی کوئی نہ کوئی کیسٹ ضرور رکھی ہوتی تھی۔ دبئی کے مزدور کی رہائش ہو، لندن کی ٹیکسی ہو یا کراچی کا کوئی پرانا ڈرائنگ روم
عطاء اللہ کی آواز ہر جگہ سنائی دیتی تھی۔

یہ وہ زمانہ تھا جب کیسٹ جمع کرنا ایک شوق نہیں بلکہ ایک جنون تھا۔

نوجوان لڑکے بازاروں میں نئی کیسٹ کے انتظار میں گھومتے رہتے تھے۔ کسی دوست کو اگر عطاء اللہ کی کوئی نئی یا نایاب کیسٹ مل جاتی تو محفل سج جاتی۔ لوگ ایک دوسرے سے کیسٹ مانگ کر سنتے، نقل کرواتے اور پھر بڑے فخر سے اپنی کلیکشن میں رکھتے۔

کچھ کیسٹیں ایسی ہوتی تھیں جنہیں “نایاب” کہا جاتا تھا۔ ان کی صرف ایک ماسٹر کاپی کسی کے پاس ہوتی۔ اگر وہ کیسٹ کسی کے ہاتھ لگ جاتی تو اس کی خوشی دیدنی ہوتی تھی۔ یوں محسوس ہوتا جیسے کسی خزانے پر ہاتھ لگ گیا ہو۔

یہ صرف موسیقی نہیں تھی، یہ ایک ثقافتی روایت تھی۔

پھر وقت بدلا۔ ٹیکنالوجی نے ایک اور کروٹ لی۔ ویڈیو کیسٹ آئیں، اس کے بعد سی ڈیز کا زمانہ آیا۔ مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ اس سب کے باوجود عطاء اللہ کے چاہنے والوں نے آڈیو کیسٹ سے اپنا رشتہ نہیں توڑا۔

کیونکہ کیسٹ صرف ایک آلہ نہیں تھی، یہ یادوں کا وسیلہ تھی۔

جب ٹیپ ریکارڈر میں کیسٹ ڈالی جاتی، بٹن دبایا جاتا اور ریل آہستہ آہستہ گھومتی تو ایسا لگتا جیسے وقت بھی اسی رفتار سے پیچھے کی طرف چلنے لگا ہے۔ آواز کے ساتھ ساتھ یادیں بھی چل پڑتی تھیں۔

لیکن پھر ایک دن MP3 فارمیٹ آیا اور اس نے موسیقی کی دنیا میں ایک خاموش انقلاب برپا کردیا۔

موسیقی جیب میں آگئی۔ ہزاروں گانے ایک چھوٹے سے کارڈ میں محفوظ ہونے لگے۔ سہولت بڑھ گئی، مگر کہیں نہ کہیں وہ چاشنی ختم ہوگئی جو کبھی ایک کیسٹ میں ہوا کرتی تھی۔

ٹیپ ریکارڈر آہستہ آہستہ گھروں سے غائب ہوگئے۔ کیسٹیں الماریوں اور صندوقوں میں بند ہوگئیں۔ اور پھر ایک وقت آیا جب نئی نسل نے ان کا نام تک سننا چھوڑ دیا۔

آج اگر کسی نوجوان کو بتایا جائے کہ کبھی موسیقی ایک پلاسٹک کی ڈبی میں بند ہوا کرتی تھی اور اسے سننے کے لیے ایک مشین کی ضرورت پڑتی تھی تو شاید وہ حیران ہو جائے۔

مگر جو لوگ وہ زمانہ جی چکے ہیں وہ جانتے ہیں کہ کیسٹ صرف کیسٹ نہیں تھی
وہ ایک جذبہ تھی۔

آج بھی جب کبھی پرانی الماری میں عطاء اللہ عیسیٰ خیلوی کی کوئی پرانی کیسٹ مل جاتی ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وقت کا کوئی دروازہ کھل گیا ہو۔ جیسے کسی نے ماضی کی گرد جھاڑ کر ہمیں ہماری ہی یادوں سے ملا دیا ہو۔

وقت نے واقعی بہت کچھ بدل دیا ہے۔

نہ اب وہ ٹیپ ریکارڈر رہے،
نہ وہ نایاب کیسٹوں کی تلاش رہی،
اور شاید نہ وہ دیوانے شائقین رہے۔

#میانوالی




میانوالی: ایک ضلع جو ہمیشہ انتظار میں رہاپاکستان کے نقشے پر ایک ضلع ہے میانوالی۔یہ ضلع عجیب ہے۔یہاں کے لوگ مضبوط ہیں، زم...
08/03/2026

میانوالی: ایک ضلع جو ہمیشہ انتظار میں رہا

پاکستان کے نقشے پر ایک ضلع ہے میانوالی۔
یہ ضلع عجیب ہے۔

یہاں کے لوگ مضبوط ہیں، زمین زرخیز ہے، پہاڑ بھی ہیں اور دریا بھی۔
یہاں کے نوجوان فوج میں بھی ہیں، سرحدوں پر بھی ہیں، بیرونِ ملک بھی ہیں۔

لیکن اگر آپ ایک لمحہ رک کر سوچیں تو ایک سوال سر اٹھاتا ہے۔

کیا میانوالی کو اس کے بدلے میں کچھ ملا بھی ہے؟

پاکستان کو بنے اٹھہتر سال ہو گئے۔
ان اٹھہتر سالوں میں ملک کے کئی شہر قصبوں سے میگا سٹی بن گئے۔
لاہور پھیل کر ایک جدید شہر بن گیا، اسلام آباد عالمی معیار کا دارالحکومت بن گیا، فیصل آباد صنعتوں کا شہر بن گیا۔

لیکن اگر آپ میانوالی جائیں تو محسوس ہوتا ہے جیسے وقت یہاں آہستہ چلتا ہے۔
جیسے ترقی کی ٹرین یہاں کے اسٹیشن پر کبھی رکی ہی نہیں۔

تعلیم: نوجوانوں کے خواب اور ہجرت

میانوالی کے نوجوان ذہین بھی ہیں اور محنتی بھی۔
لیکن مسئلہ یہ ہے کہ انہیں اپنے ہی ضلع میں وہ تعلیمی ماحول نہیں ملتا جو بڑے شہروں میں موجود ہے۔

اعلیٰ تعلیم کے لیے ہزاروں طلبہ کو لاہور، اسلام آباد یا دیگر شہروں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔
دیہی علاقوں کے سرکاری اسکولوں کی حالت دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ تعلیم یہاں ابھی بھی کئی بنیادی مسائل سے دوچار ہے۔

یہ صورتحال صرف تعلیمی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سماجی رکاوٹ بھی ہے۔
کیونکہ ہر گھر اپنے بچوں کو بڑے شہروں میں پڑھانے کی استطاعت نہیں رکھتا۔

صحت: علاج کے لیے سفر

صحت کے شعبے میں بھی صورتحال زیادہ مختلف نہیں۔
ضلع کے سرکاری اسپتال بنیادی علاج تو فراہم کرتے ہیں، مگر پیچیدہ بیماریوں کے مریضوں کو اکثر دوسرے شہروں کے اسپتالوں میں جانا پڑتا ہے۔

سوچئے، ایک مریض جسے فوری علاج کی ضرورت ہو، وہ اگر اپنے ضلع میں علاج نہ کرا سکے تو یہ صرف ایک مسئلہ نہیں بلکہ ایک انسانی مشکل ہے۔

سڑکیں اور بنیادی ڈھانچہ

میانوالی کے کئی دیہی علاقے آج بھی ایسی سڑکوں کے منتظر ہیں جو ہر موسم میں قابل استعمال رہیں۔
بنیادی انفراسٹرکچر کی کمی نہ صرف لوگوں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرتی ہے بلکہ معاشی ترقی کو بھی سست کر دیتی ہے۔

صنعت: روزگار کی تلاش

میانوالی کے نوجوانوں کا ایک بڑا مسئلہ روزگار ہے۔
ضلع میں بڑے صنعتی منصوبے کم ہیں، اس لیے مقامی سطح پر روزگار کے مواقع محدود ہیں۔

نتیجہ یہ ہے کہ ہزاروں نوجوان کراچی، لاہور، فیصل آباد یا بیرونِ ملک چلے جاتے ہیں۔

یہ ہجرت صرف معاشی مجبوری نہیں بلکہ اس بات کی علامت ہے کہ مقامی سطح پر مواقع کم ہیں۔

زراعت: امکانات اور مشکلات

میانوالی بنیادی طور پر زرعی ضلع ہے۔
یہاں کے کسان محنتی ہیں اور زمین بھی زرخیز ہے۔

لیکن جدید زرعی سہولیات اور بہتر آبپاشی نظام کی کمی کے باعث اس شعبے میں وہ ترقی نہیں ہو سکی جو ممکن تھی۔

اگر زراعت کو جدید بنیادوں پر فروغ دیا جائے تو میانوالی کی معیشت بہت مضبوط ہو سکتی ہے۔

سیاحت: ایک نظر انداز موقع

میانوالی کے پہاڑ، دریا اور قدرتی مناظر سیاحت کے لیے بڑی کشش رکھتے ہیں۔
اگر یہاں سیاحت کے منصوبے بنائے جائیں تو یہ ضلع نہ صرف خوبصورت سیاحتی مقام بن سکتا ہے بلکہ ہزاروں لوگوں کو روزگار بھی مل سکتا ہے۔

اصل سوال

اب اصل سوال یہ ہے کہ
میانوالی کی ترقی میں رکاوٹ کیا ہے؟

کیا یہ وسائل کی کمی ہے؟
یا منصوبہ بندی کا مسئلہ؟

حقیقت شاید دونوں کے درمیان کہیں موجود ہے۔

تاریخ کا سبق

میانوالی کے لوگ ہمیشہ صبر اور محنت کے ساتھ آگے بڑھتے رہے ہیں۔
انہوں نے اپنے بچوں کو تعلیم دی، بیرونِ ملک بھیجا اور ملک کی خدمت بھی کی۔

لیکن اگر ایک ضلع اٹھہتر سال بعد بھی بنیادی سہولیات کے لیے جدوجہد کر رہا ہو تو یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ
کیا ہم نے ترقی کو ہر جگہ یکساں انداز میں تقسیم کیا ہے؟

پاکستان کی حقیقی ترقی تب ہی ممکن ہے جب میانوالی جیسے اضلاع بھی ترقی کے سفر میں برابر کے شریک ہوں۔

کیونکہ کسی بھی ملک کی طاقت صرف اس کے بڑے شہروں سے نہیں بلکہ اس کے دور دراز علاقوں سے بھی بنتی ہے۔

#میانوالی




دادو استاد — سرائیکی موسیقی کا ایک  روشن چراغتحقیق و تحریر: ایک طالبِ علمِ تاریخِ عیسیٰ خیل و میانوالیمیانوالی اور خصوصا...
08/03/2026

دادو استاد — سرائیکی موسیقی کا ایک روشن چراغ
تحقیق و تحریر: ایک طالبِ علمِ تاریخِ عیسیٰ خیل و میانوالی

میانوالی اور خصوصاً عیسیٰ خیل کی سرزمین صرف بہادری، روایت اور دریا کے قصوں ہی کی امین نہیں بلکہ یہ خطہ فنونِ لطیفہ اور لوک موسیقی کی ایسی تابندہ روایات بھی رکھتا ہے جو صدیوں سے یہاں کی تہذیب کا حصہ رہی ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اس خطے کے کئی ایسے فنکار اور ثقافتی کردار وقت کی گرد میں گم ہوگئے جن کی خدمات نہ صرف میانوالی بلکہ پورے سرائیکی وسیب کے لیے بنیاد کی حیثیت رکھتی تھیں۔ انہی گم نام مگر عظیم شخصیات میں ایک نام امتیاز خالق المعروف “دادو استاد” کا بھی ہے۔

نئی نسل کے لیے شاید یہ نام اجنبی ہو، مگر سرائیکی لوک موسیقی کی تاریخ میں دادو استاد کی خدمات اس قدر نمایاں ہیں کہ انہیں نظر انداز کرنا دراصل اپنی ثقافتی تاریخ سے چشم پوشی کے مترادف ہے۔

ابتدائی زندگی اور فن کی بنیاد

دادو استاد کا اصل نام امتیاز خالق تھا۔ وہ سن 1911ء میں میانوالی کی تحصیل عیسیٰ خیل کے تاریخی قصبے کمر مشانی میں پیدا ہوئے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب موسیقی زیادہ تر روایت اور استاد شاگرد کی زبانی منتقل ہوتی تھی۔ دادو استاد نے اسی ماحول میں آنکھ کھولی اور بچپن ہی سے موسیقی کی طرف ان کا رجحان نمایاں تھا۔

دادو استاد صرف گلوکار ہی نہیں بلکہ ایک ہمہ جہت موسیقار تھے۔ ہارمونیم ان کا پسندیدہ ساز تھا، مگر اس کے ساتھ ساتھ وہ ستار، سارنگی، بانسری، طبلہ، ڈھولک، حتیٰ کہ گھڑا اور تھالی جیسے لوک ساز بھی مہارت سے بجاتے تھے۔ ان کی یہی ہمہ جہتی انہیں اپنے عہد کے منفرد فنکاروں میں شمار کرتی ہے۔

سرائیکی لوک گیتوں کی تلاش

برصغیر میں ریڈیو کے ابتدائی دور میں جب علاقائی موسیقی کو محفوظ کرنے کی کوششیں شروع ہوئیں تو دادو استاد بھی اس عمل کا حصہ بنے۔ اس زمانے میں ریڈیو پشاور کے منتظم سجاد سرور نیازی تھے۔ انہوں نے جب دادو استاد کی آواز اور موسیقی کی شہرت سنی تو معروف شاعر مجبور عیسیٰ خیلوی کے توسط سے ان سے رابطہ کیا۔

اس ملاقات کے بعد ایک اہم منصوبہ تشکیل پایا جس کا مقصد میانوالی اور سرائیکی وسیب کے لوک گیتوں کو جمع کرنا اور انہیں ریکارڈ کرنا تھا۔ دادو استاد اور مجبور عیسیٰ خیلوی نے اس مقصد کے لیے مختلف علاقوں کا سفر کیا اور پرانے لوک گیت جمع کیے۔

یہ گیت چونکہ صدیوں سے سینہ بہ سینہ منتقل ہوتے آئے تھے اس لیے اکثر ادھورے تھے۔ چنانچہ دادو استاد اور مجبور عیسیٰ خیلوی نے انہیں مکمل کیا، ترتیب دی اور ان کے لیے نئی دھنیں تخلیق کیں۔

ان گیتوں میں چند نمایاں لوک گیت یہ تھے:

کالا شاہ بدلہ نہ وس توں ساڈے دیس — یونس نیازی

جوڑی بٹ نہ چائی کر گھڑیاں دی — اکبر چھدروی

ڈے چا لسی شالا جُھگڑا وسی میڈا ماہی — نامعلوم

کر کر منتاں یار دیاں — یونس نیازی

ککڑا دھمی دیا سویلوں ڈتی ائی بانگ — نامعلوم

شالا رج رج مانڑیں یار میڈا — یونس نیازی

ڈھولا لمے نہ ونج وے — نامعلوم

جس ڈینہہ دا توں پنڑاں نکھڑ گئیں — یونس نیازی

لالئی تیں مندری میڈی — نامعلوم

ان گیتوں کی دلکش اور لازوال دھنیں زیادہ تر دادو استاد کی تخلیق تھیں، جبکہ چند دھنیں مجبور عیسیٰ خیلوی نے ترتیب دیں۔

ریڈیو پر مقبولیت

یہ لوک گیت “میانوالی کے لوک گیت” کے عنوان سے ریڈیو پشاور سے نشر ہونا شروع ہوئے اور بہت جلد سامعین میں مقبول ہوگئے۔ قیامِ پاکستان کے بعد یہی پروگرام ریڈیو راولپنڈی سے بھی نشر ہوتا رہا۔

دادو استاد ریڈیو پر سرائیکی، اردو اور فارسی زبانوں میں گیت گاتے رہے اور موسیقی کے پروگراموں میں شریک ہوتے رہے۔ اس دوران انہیں اپنے دور کے نامور موسیقاروں کے ساتھ کام کرنے اور سیکھنے کا موقع ملا جن میں بابا جی اے چشتی، خواجہ خورشید انور، رشید عطرے، نثار بزمی اور ماسٹر عنایت حسین بھٹی جیسے نام شامل ہیں۔

انہوں نے ایک کشمیری قومی ترانے “وطن ہمارا آزاد کشمیر” کی دھن بھی ترتیب دی جس کے کورس میں ان کی آواز شامل تھی۔ اس کے علاوہ افغانستان میں منعقد ہونے والے جشنِ نوروز میں بھی انہوں نے شرکت کی۔

عطاء اللہ عیسیٰ خیلوی پر اثر

دادو استاد کی فنی زندگی کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ ان کی مرتب کردہ دھنیں اور جمع کیے گئے لوک گیت بعد میں عطاء اللہ عیسیٰ خیلوی کے ہاتھ آئے۔ عطاء اللہ نے ان گیتوں کو اپنی منفرد آواز میں پیش کیا اور یہی گیت بعد میں ان کی شہرت اور کامیابی کی بنیاد بنے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ عطاء اللہ عیسیٰ خیلوی نے گلوکاری کے ساتھ ساتھ ہارمونیم بجانا بھی دادو استاد سے سیکھا تھا۔ یوں دادو استاد نہ صرف ایک موسیقار بلکہ ایک استاد اور رہنما بھی تھے۔

شاگرد اور ادبی سرگرمیاں

دادو استاد کے شاگردوں میں عطاء محمد زرگر المعروف عطایا سنارہ اور عطاء اللہ عیسیٰ خیلوی کے نام نمایاں ہیں۔ بعد ازاں وہ حلقہ اربابِ ذوق عیسیٰ خیل سے بھی وابستہ رہے اور اس کے سینئر نائب صدر منتخب ہوئے۔ اس پلیٹ فارم سے انہوں نے اردو اور سرائیکی مشاعروں میں بھی حصہ لیا۔

زندگی کے آخری دن

افسوس کہ جس فنکار نے اپنی پوری زندگی موسیقی اور ثقافت کے لیے وقف کردی، اس کے آخری ایام انتہائی کٹھن تھے۔ جوان بیٹے کی وفات، بڑھاپا اور مالی مشکلات نے انہیں شدید متاثر کیا۔

حالات یہاں تک پہنچ گئے کہ انہیں اپنا چالیس سالہ ساتھی ہارمونیم بھی فروخت کرنا پڑا جسے وہ اپنے جیون ساتھی کے برابر سمجھتے تھے۔ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ انہیں چند پیسوں کی خاطر عطاء اللہ عیسیٰ خیلوی کے ساتھ بطور طبلہ نواز کام کرنا پڑا۔

ان کے ناتواں ہاتھ مگر ہمت نہیں ہارے اور انہوں نے بڑی محبت سے طبلے پر سنگت کی۔ عطاء اللہ کی بعض پرانی کیسٹوں میں ان کی یہ سنگت آج بھی محفوظ ہے۔

خاموش رخصتی

زندگی کے آخری دن انہوں نے تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال عیسیٰ خیل کے بستر پر گزارے۔ افسوس کہ اس دوران نہ کسی بڑے فنکار نے ان کی خبر لی اور نہ ہی سماجی حلقوں نے ان کی دلجوئی کی۔

بالآخر 25 جنوری 1991ء کو سرائیکی موسیقی کا یہ درخشاں ستارہ خاموشی سے اس دنیا سے رخصت ہوگیا۔ یوں ایک عظیم فنکار غربت اور گمنامی کی دھند میں کھو گیا۔

تاریخ کا تقاضا

دادو استاد کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ کسی بھی معاشرے کی ثقافتی شناخت صرف بڑے ناموں سے نہیں بنتی بلکہ ان گمنام فنکاروں سے بھی تشکیل پاتی ہے جو خاموشی سے روایت کو آگے بڑھاتے ہیں۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ میانوالی اور سرائیکی وسیب کی ثقافتی تاریخ مرتب کرتے وقت دادو استاد جیسے فنکاروں کو ان کا جائز مقام دیا جائے تاکہ نئی نسل جان سکے کہ ان کی موسیقی کی جڑیں کہاں سے پھوٹتی ہیں۔

دادو استاد بلاشبہ سرائیکی لوک موسیقی کے ان چراغوں میں سے ایک تھے جن کی روشنی نے آنے والی نسلوں کے راستے روشن کیے، مگر خود وہ چراغ خاموشی سے بجھ گیا۔

#میانوالی




کرنل محمد اسلم خان نیازی -رئیسِ اعظم عیسیٰ خیل، ضلع میانوالیضلع میانوالی کے تاریخی شہر عیسیٰ خیل کی سرزمین نے بہت سی باو...
08/03/2026

کرنل محمد اسلم خان نیازی -رئیسِ اعظم عیسیٰ خیل، ضلع میانوالی

ضلع میانوالی کے تاریخی شہر عیسیٰ خیل کی سرزمین نے بہت سی باوقار اور بااثر شخصیات کو جنم دیا، انہی میں ایک نام کرنل محمد اسلم خان نیازی کا بھی ہے۔ وہ اپنے زمانے میں عیسیٰ خیل کے بڑے معزز، بااثر اور باوقار شخصیت سمجھے جاتے تھے اور انہیں علاقے میں رئیسِ اعظم عیسیٰ خیل کے لقب سے یاد کیا جاتا تھا۔ ان کی شخصیت قبائلی وقار، روایتی شرافت اور سماجی خدمت کا حسین امتزاج تھی۔

خاندانی پس منظر

کرنل محمد اسلم خان نیازی کا تعلق میانوالی کے معروف نیازی قبیلے سے تھا۔ نیازی قبیلہ صدیوں سے اس خطے میں آباد ہے اور عیسیٰ خیل اس قبیلے کا ایک اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔ اسلم خان نیازی کا خاندان علاقے میں اثر و رسوخ، عزت اور قیادت کے حوالے سے پہچانا جاتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ لوگ انہیں صرف ایک فرد نہیں بلکہ ایک قبائلی بزرگ اور رہنما کے طور پر دیکھتے تھے۔

تعلیم و تربیت

انہوں نے ابتدائی تعلیم اپنے علاقے میں حاصل کی اور بعد ازاں اعلیٰ تعلیم کے لیے لاہور کے ایک بڑے اور ممتاز تعلیمی ادارے میں تعلیم حاصل کی۔ اس زمانے میں اس ادارے میں زیادہ تر بااثر اور معزز خاندانوں کے نوجوان تعلیم حاصل کیا کرتے تھے۔ تعلیم کے ساتھ ساتھ ان میں قیادت کی صلاحیتیں بھی نمایاں تھیں۔

فوجی وابستگی

محمد اسلم خان نیازی کو اکثر کرنل کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس لقب کی وجہ ان کی فوجی خدمات یا اعزازی فوجی عہدہ بتایا جاتا ہے۔ اس زمانے میں بہت سی بااثر شخصیات کو قومی خدمات اور نظم و ضبط کی وجہ سے اعزازی فوجی عہدے بھی دیے جاتے تھے۔

سیاسی خدمات

کرنل اسلم خان نیازی نے سیاست کے میدان میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ وہ پنجاب کی صوبائی مجلس کے رکن بھی منتخب ہوئے اور اپنے علاقے کے لوگوں کی نمائندگی کی۔ ان کی سیاست کا مقصد اقتدار حاصل کرنا نہیں بلکہ اپنے علاقے کی خدمت اور عوام کے مسائل حل کرنا تھا۔

سماجی کردار

عیسیٰ خیل اور میانوالی کے بزرگ آج بھی انہیں ایک ایسے شخص کے طور پر یاد کرتے ہیں جو

مہمان نوازی میں مثال تھے

غریب اور ضرورت مند لوگوں کی مدد کرتے تھے

قبائلی تنازعات کو صلح صفائی کے ذریعے حل کرواتے تھے

علاقے کے نوجوانوں کو تعلیم کی طرف راغب کرتے تھے

ان کا گھر ہمیشہ مہمانوں اور علاقے کے لوگوں کے لیے کھلا رہتا تھا اور دور دراز سے لوگ اپنے مسائل لے کر ان کے پاس آتے تھے۔

شخصیت کے نمایاں پہلو

کرنل اسلم خان نیازی کی شخصیت میں وقار، بردباری اور شرافت نمایاں تھی۔ انہیں گھڑ سواری، شکار اور روایتی کھیلوں کا بھی شوق تھا۔ وہ روایتی قبائلی اقدار کے ساتھ ساتھ تعلیم اور شعور کی اہمیت کو بھی سمجھتے تھے۔

یادگار حیثیت

آج بھی عیسیٰ خیل اور میانوالی کے بزرگ جب اپنے ماضی کی بات کرتے ہیں تو کرنل محمد اسلم خان نیازی کا نام عزت اور احترام سے لیتے ہیں۔ ان کی شخصیت اس دور کی نمائندگی کرتی ہے جب علاقے کے رئیس اور سردار اپنے لوگوں کی فلاح کو اپنی ذمہ داری سمجھتے تھے۔

وہ صرف ایک فرد نہیں تھے بلکہ عیسیٰ خیل کی تاریخ، وقار اور روایت کی ایک علامت تھے۔ ان کا نام میانوالی اور نیازی قبیلے کی تاریخ میں ہمیشہ احترام کے ساتھ یاد رکھا جائے گا۔

#میانوالی




Address

Isa Khel
42430

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when IsaKhel News posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share