11/03/2026
سرائیکی وسیب کا رانجھراں ۤـ عطاء محمد نیازی داود خیلوی
وسیع سرائیکی وسیب کی مٹی عجیب ہے۔ یہ مٹی کبھی کبھی ایسے ہیرے پیدا کرتی ہے جن کی چمک زمانے کو دکھائی تو دیتی ہے مگر قسمت کی گرد ان پر اس قدر جم جاتی ہے کہ وہ ہیرے اپنی اصل قیمت نہیں پا پاتے۔ ضلع میانوالی، داؤدخیل اور عیسیٰ خیل کی سرزمین بھی ایسے ہی فنکاروں کی جنم بھومی رہی ہے۔ اسی سرزمین نے ایک ایسا فنکار بھی پیدا کیا جسے سننے والے آج بھی حیرت سے کہتے ہیں کہ اگر بخت مہربان ہوتا تو یہ آواز پورے پاکستان کی پہچان بن سکتی تھی۔ اس فنکار کا نام ہے عطاء محمد نیازی۔
عطاء محمد نیازی کی آواز دراصل ایک خطے کی آواز ہے۔
جب وہ گاتے ہیں تو لگتا ہے جیسے:
کالاباغ کے پہاڑ بول رہے ہوں
دریائے سندھ کی لہریں گنگنا رہی ہوں
ٹرک ڈرائیور رات کے سفر میں تنہائی توڑ رہے ہوں
اور کوئی نوجوان عاشق اپنے دل کا دکھ ہلکا کر رہا ہو
یہی وجہ ہے کہ ان کے گیتوں میں مٹی کی خوشبو ہے۔
دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ وہ پاکستان کے ان چند گلوکاروں میں شمار ہوتے ہیں جو نہ صرف فنِ موسیقی سے واقف تھے بلکہ علمی اعتبار سے بھی بہت آگے تھے۔ مگر تاریخ ہمیں بار بار یہ سبق دیتی ہے کہ علم اور صلاحیت کے باوجود ہر شخص کو وہ مقام نہیں ملتا جس کا وہ مستحق ہوتا ہے۔
سرائیکی وسیب کی موسیقی میں اگر ہم بڑے ناموں کا ذکر کریں تو یقیناً عطاء اللہ عیسیٰ خیلوی کا نام سب سے نمایاں نظر آتا ہے۔ لیکن یہ بات کم لوگ جانتے ہیں کہ خود عطاء اللہ عیسیٰ خیلوی نے ایک انٹرویو میں اعتراف کیا تھا کہ اگر ان کے اندازِ گائیکی میں کوئی خوبصورت انداز میں گا سکتا ہے تو وہ عطاء محمد نیازی ہیں۔ یہ اعتراف کسی معمولی بات کی نشانی نہیں بلکہ ایک بڑے فنکار کی طرف سے دوسرے فنکار کے کمال کا اعتراف تھا۔
مگر موسیقی کی دنیا میں صرف آواز یا فن ہی کافی نہیں ہوتا۔ یہاں بخت کا بھی بڑا عمل دخل ہوتا ہے۔ کبھی کبھی ایک گلوکار ایک گیت گا کر شہرت کی بلندیوں تک پہنچ جاتا ہے جبکہ بعض لوگ عمر بھر گاتے رہتے ہیں اور شہرت ان کے دروازے تک نہیں پہنچتی۔
عطاء محمد نیازی کی زندگی بھی اسی حقیقت کی ایک مثال ہے۔
ان کے کئی ایسے گیت تھے جو بعد میں دوسرے گلوکاروں نے گائے اور وہ گیت مشہور ہو گئے۔ مثال کے طور پر معروف گیت “میڈا رانجھراں” جب شازیہ خشک کی آواز میں سامنے آیا تو اس نے پورے پاکستان میں شہرت حاصل کر لی، مگر اس گیت کے پس منظر میں عطاء محمد نیازی کا تخلیقی اور موسیقیاتی کردار بہت کم لوگوں کو معلوم ہے۔ اسی طرح کئی اور گیت بھی ایسے ہیں جنہیں دوسروں نے گا کر شہرت حاصل کی۔
میانوالی کے پرانے موسیقار بتاتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک محفل میں کسی نے عطاء محمد نیازی سے کہا:
“آپ کے گانے دوسرے لوگ گا کر مشہور ہو جاتے ہیں، آپ کو دکھ نہیں ہوتا؟”
انہوں نے مسکرا کر جواب دیا:
“گانا اگر لوگوں تک پہنچ جائے تو یہی بڑی بات ہے۔ آواز کس کی ہے، یہ اتنا ضروری نہیں۔”
یہ جواب سن کر محفل میں چند لمحوں کے لیے خاموشی چھا گئی۔
یہ جواب کسی فنکار کا نہیں بلکہ ایک درویش کا جواب تھا۔
یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیوں ہوا؟
اس کی ایک بڑی وجہ ان کی سرکاری ملازمت تھی۔ ملازمت کی پابندیوں نے انہیں موسیقی کو وہ وقت دینے نہیں دیا جو ایک فنکار کو درکار ہوتا ہے۔ مگر اس سے بھی بڑی وجہ شاید ان کی درویشانہ طبیعت تھی۔ وہ شہرت کے ان راستوں پر نہیں گئے جہاں سے بعض گلوکار ایک ہی گیت کے ذریعے راتوں رات ستارہ بن جاتے ہیں۔
میانوالی کی سرزمین پر اگر آپ سفر کریں تو آپ کو تاریخ کے کئی باب ملیں گے۔ کالاباغ کے پہاڑ، دریائے سندھ کا کنارہ، عیسیٰ خیل کی قدیم بستیاں اور داؤدخیل کے گرد و نواح یہ سب صرف جغرافیہ نہیں بلکہ ایک ثقافتی داستان ہیں۔ یہی وہ ماحول ہے جہاں لوک موسیقی نے جنم لیا، جہاں ٹرک ڈرائیوروں کے ٹیپ ریکارڈروں پر کیسٹیں چلتی تھیں، جہاں محبت کرنے والے نوجوان راتوں کو گیت سنتے اور اپنے دلوں کے دکھ ہلکے کرتے تھے۔
انیس سو اسی اور نوے کی دہائی وہ زمانہ تھا جب کیسٹوں کا دور تھا۔ بازاروں میں کیسٹ کی دکانیں ہوتی تھیں، ٹرکوں اور بسوں میں ٹیپ ریکارڈر لگے ہوتے تھے اور گلوکاروں کی شہرت انہی کیسٹوں سے بنتی تھی۔ عطاء محمد نیازی کے بھی بے شمار کیسٹ مارکیٹ میں آئے، لوگ انہیں سنتے بھی تھے مگر وہ اس شہرت کو کیش نہ کر سکے۔
اس کی ایک وجہ یہ بھی رہی کہ وہ ٹیلی وژن چینلز سے دور رہے۔ آج بھی موسیقی کی دنیا میں ٹی وی اور میڈیا شہرت کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں۔ میں نے خود کئی ایسے گلوکار دیکھے ہیں جو اپنی تشہیر کے لیے بھاری رقم خرچ کرتے ہیں تاکہ ہر وقت ٹی وی سکرین پر نظر آئیں۔ مگر عطاء محمد نیازی جیسے درویش صفت انسان نے کبھی اس دوڑ میں شامل ہونا پسند نہیں کیا۔
وہ اپنی دنیا میں مگن رہے۔ گاتے رہے، تخلیق کرتے رہے اور خاموشی سے آگے بڑھتے رہے۔
عطاء محمد نیازی کے کئی گیت ایسے ہیں جو آج بھی سرائیکی اور پنجابی موسیقی کے شوقین لوگوں میں سنے جاتے ہیں۔ ان میں خاص طور پر:
اسان میاں والی جاونا اے
چلو پھر سے اپنے گاؤں چلتے ہیں
چاندی والی ونگ
سانول سوہنیاں
اساں تے یاراں دے یار ہاں
تیڈی وسے میانوالی ڈھولنا
گہرے رنگ کے کپڑوں میں
ان کے گیتوں میں میانوالی کی مٹی کی خوشبو، محبت کی سادگی اور لوک شاعری کی روانی صاف محسوس ہوتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ آج جب ہم سرائیکی وسیب کی موسیقی کا جائزہ لیتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ اگر قسمت تھوڑی سی مہربان ہوتی تو عطاء محمد نیازی کا نام شاید عطاء اللہ عیسیٰ خیلوی کے بعد دوسرے نمبر پر لیا جاتا۔
تاریخ ہمیں صرف بادشاہوں اور جنگوں کی کہانیاں نہیں سناتی بلکہ وہ ایسے فنکاروں کی یاد بھی محفوظ رکھتی ہے جنہوں نے اپنی خاموش محنت سے ثقافت کو زندہ رکھا۔ عطاء محمد نیازی بھی انہی لوگوں میں سے ایک ہیں۔
وہ شاید ملک گیر شہرت حاصل نہ کر سکے، مگر جو لوگ موسیقی کو سمجھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ اس سرزمین کے اس درویش گلوکار نے سرائیکی وسیب کی موسیقی کو ایک خاص رنگ دیا ہے۔
اور شاید یہی کسی فنکار کی اصل کامیابی ہوتی ہے۔
کہ اس کی آواز وقت کے شور میں گم نہیں ہوتی… بلکہ خاموشی میں بھی سنائی دیتی رہتی ہے۔
#میانوالی