08/08/2026
گوجرانوالہ کے رہائشی عثمان علی نے بچوں کے تین دن کے فاقوں اور مجبوری سے تنگ آکر ڈکیتی کی کوشش کی. وہ پہلے گلی محلوں میں دہی بھلوں کی ریڑھی لگا کر گزر بسر کرتا تھا، لیکن حکومتی پابندیوں کی وجہ سے روزگار چھن جانے اور جمع پونجی ختم ہونے پر نوبت فاقوں تک پہنچ گئی.
واقعہ: برقع پہن کر واردات کی کوشش کے دوران وہ لاک کرنا بھول گیا، جس پر اہل خانہ کے شور مچانے پر عوام نے اسے پکڑ کر تشدد کا نشانہ بنایا اور پولیس کے حوالے کر دیا.
ڈی ایس پی کا اقدام: جب یہ معاملہ ڈی ایس پی عمران عباس تک پہنچا، تو انہوں نے ملزم کو مجرم سمجھنے کے بجائے ایک ٹوٹا ہوا، مجبور اور بھوکا باپ دیکھا. انہوں نے عثمان کے بچوں کے لیے راشن کا انتظام کیا، کرائے میں مدد دی، مدعیان سے قانونی کارروائی واپس لینے کی درخواست کی اور عثمان کے لیے روزگار کا بندوبست کرنے کی بھی کوشش کی."ایسے درد دل رکھنے والے پولیس افسران اس معاشرے کی اصل خوبصورتی ہیں، جو قانون کی پاسداری کے ساتھ ساتھ انسانیت کا درس بھی زندہ رکھتے ہیں!"
"ڈی ایس پی عمران عباس نے یہ ثابت کر دیا کہ وردی صرف طاقت کا نشان نہیں، بلکہ اگر عزم سچا ہو تو یہ غریبوں کے لیے مسیحا بھی بن سکتی ہے!"