13/12/2025
پنجاب گوجرہ کی عدالت میں آج جو منظر دیکھنے کو ملا، وہ صرف ایک مقدمہ نہیں تھا یہ ٹوٹتے گھروں کا نوحہ تھا۔
عمر نامی ننھا بچہ، جسے عدالت نے فیصلہ کے مطابق والدہ کے حوالے کر دیا—جو کہ سمندری کی رہائشی ہیں—
اس وقت پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔
بچہ باپ کی ٹانگوں سے لپٹ کر چیخ رہا تھا:
“پاپا مجھے اپنے ساتھ لے جائیں…
ورنہ میں اپنا سر پھاڑ لوں گا!”
عدالت کی دیواریں سنبھل گئیں، مگر یہ آواز سن کر انسان کا دل بھی پگھل جائے…
مگر افسوس! والدین کے غصے، انا اور ضد کے سامنے اکثر بچوں کی آہیں دب جاتی ہیں۔
اسلام نے طلاق کو سخت ناپسندیدہ قرار دیا ہے۔
رسولِ اکرم ﷺ کا فرمان ہے:
"حلال چیزوں میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ اللہ کے نزدیک طلاق ہے"
کیوں؟
کیوں کہ طلاق صرف دو افراد کو نہیں توڑتی…
ان معصوم بچوں کی دنیا برباد کر دیتی ہے جن کا کوئی قصور نہیں ہوتا۔
والدین جب طلاق دیتے یا لیتے ہیں تو ایک بار یہ ضرور سوچ لیں:
عمر جیسے کتنے بچے عدالتوں کے باہر روتے ہیں…
اپنے ہی والدین کے فیصلوں کی آگ میں جلتے ہیں…
نہ ماں کو چھوڑ سکتے ہیں، نہ باپ کو…
بس خاموشی سے ٹوٹتے رہتے ہیں۔
خدارا!
طلاق آخری حل ہے، پہلا نہیں۔
اگر کبھی ناگزیر ہو بھی جائے تو
بچوں کے دل، ذہن، مستقبل اور جذبات کو مت روندیں۔
یہ چھوٹے جسم رکھتے ہیں، لیکن ان کا درد بہت بڑا ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمارے گھروں میں محبت، سکون اور برداشت عطا فرمائے۔
آمین۔