Fayaz Ali Noor Journalist

Fayaz Ali Noor Journalist Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Fayaz Ali Noor Journalist, News & Media Website, Islamabad.

Fayaz Ali Noor is an accomplished investigative reporter active on both national and international platforms.


02/04/2026

MONAL View ( Memories with SPO )

بریکنگ نیوز | تحصیل شاہ عالم میں جعلی سرکاری رسیدوں کا بڑا اسکینڈل بے نقاب** تحصیل شاہ عالم میں جعلی رسیدوں کے ذریعے عوا...
26/03/2026

بریکنگ نیوز | تحصیل شاہ عالم میں جعلی سرکاری رسیدوں کا بڑا اسکینڈل بے نقاب**

تحصیل شاہ عالم میں جعلی رسیدوں کے ذریعے عوام سے لوٹ مار کا انکشاف ! داودزئی پریس کلب کے صدر کو موصول رسید نے کرپشن کا پول کھول دیا

سرکاری مہر اور مختلف علاقوں کے نام، جعلسازی کا منظم نیٹ ورک سامنے آگیا! ای فائن سسٹم کا نفاذ ناگزیر مینول کرپشن؟ انتظامیہ پر سنگین سوالات

ای فائن سسٹم پر عملدرآمد نہ ہونے کا نتیجہ، تحصیل شاہ عالم میں جعلی رسیدوں کا دھندہ جاری، سابقہ ڈپٹی کمشنرسرمد سلیم اکرم کی انقلابی اصلاحات نظر انداز

پشاور (فیاض علی نور فری لانس انوسٹیگیشن جرنلسٹ )تحصیل شاہ عالم میں سرکاری رسیدوں کی آڑ میں مبینہ کرپشن اور عوام سے لوٹ مار کا ایک سنگین اسکینڈل سامنے آگیا ہے، جس نے نہ صرف مقامی انتظامیہ بلکہ پورے نظامِ گورننس پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔یہ انکشاف اس وقت سامنے آیا جب سینئر صحافی اور داودزئی پریس کلب کے صدر فیاض علی نور کو ایک مشکوک رسید موصول ہوئی، جس نے اس گھناؤنے کھیل کا پردہ چاک کر دیا۔موصول ہونے والی معلومات کے مطابق چارسدہ روڈ پر واقع “مہمند طورے کبابی” نزد پریس کلب سے مبینہ طور پر 2000 روپے جرمانہ وصول کیا گیا، جس کے بدلے ایک ایسی رسید جاری کی گئی جو بظاہر تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن (TMA) کی معلوم ہوتی تھی، تاہم اس میں کئی سنگین تضادات پائے گئے۔رسید میں بیک وقت تحصیل شاہ عالم اور پشتہ خرہ کے نام درج تھے، جبکہ اس پر “کیپیٹل میٹرو پولیٹین ویسٹرن زون” کی سرکاری مہر بھی ثبت تھی، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ ایک منظم جعلسازی کا نیٹ ورک ہے۔معاملے کی تصدیق کے لیے مذکورہ رسید تحصیل شاہ عالم کے ٹی ایم او سید اظہر علی شاہ، تحصیل آفیسر ریگولیشن تکلیم، اسسٹنٹ تحصیل آفیسر سلیمان اور ڈائریکٹر جنرل کیپیٹل میٹرو پولیٹین پشاور قادر نصیر کو ارسال کی گئی۔تاہم کہنہ مشق اور پورے نظام کا ماہر ڈائریکٹر جنرل قادر نصیر کی جانب سے فوری ردعمل میں طنزیہ انداز اپناتے ہوئے سینئر صحافی فیاض علی نور سے کہا۔اگر رسید تحصیل شاہ عالم کی ہے اور مہر کیپیٹل میٹرو پولیٹین ویسٹرن زون کی ہے، تو یہ خود ہی ثابت ہے کہ رسید جعلی ہے، اس میں شک کی کیا گنجائش ہے؟یہ انکشاف نہ صرف ایک فرد یا ایک واقعہ تک محدود نہیں بلکہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ تحصیل شاہ عالم میں مبینہ طور پر جعلی رسیدوں کے ذریعے ایک منظم کرپشن مافیا سرگرم ہے، جو عوام کو سرکاری اہلکار بن کر لوٹ رہا ہے۔یاد رہے کہ ماضی میں سابق ڈپٹی کمشنر پشاورسرمد سلیم اکرم نے ای فائن (ڈیجیٹل جرمانہ) سسٹم متعارف کروا کر ایک انقلابی قدم اٹھایا تھا، جس کے بعد ماہانہ جرمانوں کی رقم اندازتقریبا20 لاکھ سے بڑھ کر 40 لاکھ تک جا پہنچی۔اس ضمن میں سرمد سلیم اکرم سابقہ ڈپٹی کمشنر نے انکشاف کیا تھا کہ اس اضافے نے یہ واضح کر دیا تھا کہ ماضی میں لاکھوں روپے کی رقم کرپشن اور اہلکاروں کی مبینہ بندر بانٹ کی نذر ہو رہی تھی۔جو کہ اب ای فائن کی وجہ سے مافیا کہ جیبوں سے نکل کر قومی خزانے میں جمع ہو رہا ہے جو کہ این انقلابی قدم تھا۔ اور یہی عوام دوست پالیسی سرمد سلیم کی اچانک تبادلے کی وجہ بنی۔ تاہم حیران کن طور پر اس شفاف نظام کو آگے بڑھانے کے بجائے موجودہ تحصیل انتظامیہ نے اسے مؤثر طریقے سے نافذ نہیں کیا، جس سے جعلی رسیدوں اور مینول سسٹم کے ذریعے کرپشن کے دروازے کھل گئے ہیں۔ جس کو مافیا کبھی بھی نافذ نہیں کرنے دے گی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ موجودہ ڈپٹی کمشنر پشاور ثناء اللہ، کمشنر پشاور ریاض محسود اور چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ اس کھلی لوٹ مار پر کیا کارروائی کرتے ہیں؟کیا اینٹی کرپشن اور دیگر متعلقہ ادارے اس ناقابلِ تردید ثبوت پر حرکت میں آئیں گے یا حسبِ روایت خاموشی اختیار کر لی جائے گی؟یہ واقعہ حکومت کی گڈ گورننس کے دعووں پر ایک کاری ضرب ہے۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو عوام کا اعتماد نہ صرف تحصیل شاہ عالم بلکہ دیگر سرکاری اداروں سے بھی اٹھ جائے گا، اور خدشہ ہے کہ صوبے میں قانون کی عملداری کے بجائے “جنگل کا قانون” نافذ ہو جائے۔اب گیند حکومت کے کورٹ میں ہے۔ کیا وہ اس کرپشن مافیا کے خلاف عملی کارروائی کرے گی یا یہ اسکینڈل بھی ماضی کی طرح فائلوں میں دفن ہو جائے گا؟مذید انکشافات بہت جلد متوقع ہیں ۔ جس میں جن افراد کے پاس ایسی جعلی رسیدیں ہونگی داودزی پریس کلب سے رابطہ کر سکتے ہیں

02/03/2026

یہ پولیس کو بدنام کرنے کی سازش ہے! خزانہ پولیس ایس ایچ او کا موقف، ثبوت لاؤ یا الزام واپس لو!

رشوت یا روایت؟ افغان مہاجرین کو ضمانت پر نہ چھوڑنے پر چیئرمین ناراض، پولیس اور منتخب نمائندے آمنے سامنے

زبانی گولہ باری عروج پر! ایک طرف افغان مہاجرین کی حمایت، دوسری طرف روزانہ گرفتاریوں کا ٹارگٹ اگلے 24 گھنٹے فیصلہ کن!

پشاور (فری لانس صحافی / کرائم رپورٹ)شاہ عالم شیخانو کلے میں ابابیل اسکواڈ کی مبینہ رشوت خوری پر خبروں کے بعد معاملہ مزید گھمبیر صورت اختیار کر گیا ہے۔ تازہ ردِعمل میں خزانہ پولیس کےایس ایچ او طارق روغانی نے الزام عائد کیا ہے کہ یہ سب پولیس کو بدنام کرنے کی سازش ہے۔ طارق روغانی کے مطابق اگر کسی کے پاس رشوت لینے یا دینے کے ٹھوس شواہد موجود ہیں تو وہ سامنے لائے جائیں، محض الزامات سے محکمہ پولیس کو بدنام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ اگر افغان مہاجرین پولیس کے خلاف براہِ راست سامنے آنے سے خوفزدہ ہیں اور انہیں انتقامی کارروائی کا خدشہ ہے تو وہ فری لانس صحافی سے داودزئی پریس کلب میں ملاقات کر کے رشوت خور اہلکاروں کے بارے میں معلومات فراہم کریں، تاکہ صحافتی ذرائع کے ذریعے متعلقہ حکام تک یہ معلومات پہنچائی جا سکیں۔ ان کے بقول بغیر ثبوت کے الزامات نہ صرف پولیس مورال کو متاثر کرتے ہیں بلکہ امن و امان کی صورتحال کو بھی پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔دوسری جانب پولیس عہدیدار نے بعض چیئرمین اور سابقہ ناظمین پر الزام عائد کیا کہ افغان مہاجرین کو ضمانت پر نہ چھوڑے جانے پر وہ ناراض ہیں اور اسی ناراضی کی بنیاد پر پولیس کے خلاف مہم چلائی جا رہی ہے۔ پولیس موقف کے مطابق قانون کے مطابق کارروائی کی جا رہی ہے اور کسی سیاسی یا مقامی دباؤ کو خاطر میں نہیں لایا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ناظم یا چیئرمین کی بات نہ ماننے پر پولیس کو ہدفِ تنقید بنایا جا رہا ہے، جو قانون کی عملداری کیلئے خطرناک رجحان ہے۔ذرائع کے مطابق پولیس اور ابابیل اسکواڈ جبکہ دوسری جانب علاقہ کے منتخب نمائندوں کے درمیان زبانی گولہ باری جاری ہے۔ ایک فریق افغان مہاجرین کے حق میں آواز بلند کر رہا ہے جبکہ دوسری جانب پولیس پر روزانہ کی بنیاد پر افغان مہاجرین کو پکڑ کر عدالت میں پیش کرنے کے اہداف پورے کرنے کا دباؤ ہے۔ اس کشیدگی نے علاقے میں فضا کو مزید تلخ بنا دیا ہے اور شہری تذبذب کا شکار ہیں کہ سچ کس کے ساتھ ہے۔تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ معاملہ اب صرف ایک واقعے تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ پولیس کی ساکھ، عوامی اعتماد اور قانون کی بالادستی کا سوال بن چکا ہے۔ اگلے 24 گھنٹے نہایت اہم ہیں، کیونکہ اسی دوران یہ واضح ہو سکتا ہے کہ آیا الزامات کی آزادانہ تحقیقات ہوتی ہیں یا پھر یہ تنازع محض بیانات کی جنگ میں دب کر رہ جائے گا۔ عوام مطالبہ کر رہے ہیں کہ معاملے کی غیر جانبدارانہ چھان بین ہو تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو سکے۔


Facebook
What is going on in Peshawar

سینئر صحافی نے خیبر پختونخوا میں اشتہاری فنڈز کی پچھلے   4 سالہ ادائیگیوں کا ریکارڈ مانگ لیا وزیر اعلی ٰخیبر پختون خوا خ...
26/02/2026

سینئر صحافی نے خیبر پختونخوا میں اشتہاری فنڈز کی پچھلے 4 سالہ ادائیگیوں کا ریکارڈ مانگ لیا

وزیر اعلی ٰخیبر پختون خوا خصوصی ترجیح فنڈ کہاں خرچ ہوا؟ ایڈورٹائزنگ ایجنسی سمیت تمام میڈیا ادائیگیوں پرمعلومات تک رسائی کی درخواست دائر

سرکاری اشتہارات میں عدم شفافیت کا خدشہ ؟ منظور نظر ایڈورٹائزنگ ایجنسیز اور ڈمی میڈیا کو دی گئی رقوم کے حقائق سامنے لانے کی کوشش ؟

پشاور (فری لانس صحافی ) خیبر پختونخوا حکومت کے وزیر اعلیٰ کی جانب سے خصوصی ترجیح فنڈ سے سال 2020 تا 2024 کے دوران جاری ہونے والی میڈیا مہم کے لیے اشتہاری رقوم کی تفصیلات منظرِ عام پر لانے کے لیے معلومات تک رسائی کے قانون کے تحت باقاعدہ درخواست دائر کر دی گئی ہے۔ درخواست میں وزیر اعلیٰ کے احکامات کی روشنی میں محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ خیبر پختون خوا کے ذریعے ایڈورٹائزنگ ایجنسیز کو دی گئی رقوم، ان ایجنسیز کے ذریعے پرنٹ، الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا کو کی گئی ادائیگیوں اور سال وار مجموعی اخراجات کی مکمل تفصیل مانگی گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق درخواست میں ایڈورٹائزنگ ایجنسیز کے انتخاب کے طریقۂ کار، منظوری کے ایس او پیز اور ممکنہ آڈٹ رپورٹس کی نقول بھی طلب کی گئی ہیں۔ شفافیت کے علمبردار نے مطالبہ کیا ہے کہ عوامی پیسے کے استعمال کی مکمل تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں تاکہ میڈیا اشتہارات میں مبینہ بے ضابطگیوں اور بدعنوانیوں کا واضح جواب مل سکے۔تاہم اگر فراہم کی گئی معلومات میں بڑے اخراجات یا غیر معمولی تقسیم سامنے آئی تو اس پر سیاسی و سماجی حلقوں میں شدید ردعمل متوقع ہے۔ تاہم اہم ذرائع کے مطابق معلومات تک رسائی کے تحت آنے والی تفصیلات نہ صرف اس دور کی حکومتی اخراجات کی شفاف تصویر پیش کرے گا بلکہ مستقبل میں اشتہاری فنڈز کی تقسیم کے لیے پالیسی سازی میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔دوسری جانب اس بات کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ مبینہ طور پر کچھ ایسے شواہد سینئر صحافی کو موصول ہوئے ہیں ۔ جس کی تصدیق اور جانچ پڑتال متوقع معلومات تک رسائی کے تحت حاصل تفصیلات کی روشنی میں ممکن ہے ۔ جس کا ابھی شدت سے انتظار ہے ۔


Facebook
WhatsApp
What is going on in Peshawar

ایوارڈ یافتہ دستک ایپ سے ایک سال کی آمدن؟ 507 دن گزر گئے، شہری کو معلومات نہ مل سکیں۔ دال میں کچھ کالا ہے جدید دور میں گ...
14/02/2026

ایوارڈ یافتہ دستک ایپ سے ایک سال کی آمدن؟ 507 دن گزر گئے، شہری کو معلومات نہ مل سکیں۔ دال میں کچھ کالا ہے

جدید دور میں گڈ گورننس کے دعوےدار ایک کلک کی معلومات، 17 ماہ کی فائل بازی؟ ہوم ڈیپارٹمنٹ اور انفارمیشن کمیشن کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت

حقِ معلومات یا حقِ انتظار؟ صحافی کی درخواست 507 دن بعد بھی التوا کا شکار۔ مطلوبہ معلومات کی دستیابی ایک نئے سکینڈل کا پیش خیمہ بن سکتا ہے ؟

پشاور (فری لانس صحافی ) خیبر پختون خوا میں شفافیت اور ڈیجیٹل گورننس کے دعوؤں کی حقیقتفری لانس صحافی کی حقِ معلومات کی درخواست نے بے نقاب کر دی ہے۔ جس نے 26 ستمبر 2024 کو ہوم اینڈ ٹرائبل افیئرز ڈیپارٹمنٹ سے حقِ معلومات قانون کے تحت اسلحہ لائسنس برانچ میں **دستک ایپ** کے ذریعے یکم ستمبر 2023 سے 31 اگست 2024 تک ایک سال کے دوران حاصل ہونے والی آن لائن آمدن، فیس اور ریونیو کی مکمل تفصیلات طلب کیں تھی۔یہ معلومات بظاہر “ایک کلک” پر دستیاب ہونی چاہئیں تھیں، مگر یہ درخواست محکمہ ہوم کے پبلک انفارمیشن آفیسرز رفاقت خان اور حماد احمد کی میزوں پر فائلوں کی زینت بنی رہی۔ معلومات فراہم نہ ہونے پر شہری نے خیبر پختون خوا انفارمیشن کمیشن سے رجوع کیا۔26 ستمبر 2024 صحافی کی جانب سے معلومات کی درخواستجس پر 28 نومبر 2024 کوخیبر پختون خوا انفارمیشن کمیشن نے ڈپٹی ڈائریکٹر کو 7 دن میں جواب دینے کا مراسلہ جاری کیا۔ لیکن 26 ستمبر سے 28 نومبر تک 63 دن گزر چکے تھے۔ پھر 6 مارچ 2025 کمیشن نے سیکریٹری ہوم اینڈ ٹرائبل آفئیرز کو 10 دن میں معلومات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ اس سے کچھ نہ ملا تو 28 نومبر سے 6 مارچ تک 98 دن مزید گزرے۔15 اکتوبر 2025انفارمیشن کمیشن نے تاخیر پر سمن جاری کیے۔ 6 مارچ سے 15 اکتوبر تک 223 دن مزید گزرے۔آخر کار 21 اکتوبر 2025 ڈپٹی ڈائریکٹر (پی آئی او) کو کمیشن کے سامنے پیش ہونے کا حکم موصول ہوا۔ 28 اکتوبر 2025کو مزید معلومات کے حصول سے متعلق 7 شکایات یکجا کر کے 7 دن میں معلومات فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی۔ اس دوران سابقہ ڈپٹی ڈائریکٹر کمیشن کے سامنے پیش ہی نہ ہوئےاور پھر تاریخ پر تاریخ دینے کی روایت قائم کر کے 13 جنوری 2026 سیکشن آفیسر (آرمز) کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا گیا۔ لیکن کہانی ابھی باقی ہے آج 14 فروری 2026 اب تک معلومات فراہم نہ کی جا سکیں۔ یوں 26 ستمبر 2024 سے 14 فروری 2026 تک 507 دن یعنی 1 سال 4 ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود شہری کو وہ معلومات نہ مل سکیں جو ڈیجیٹل نظام میں محض چند سیکنڈ میں نکالی جا سکتی تھیں۔حقِ معلومات قانون کے مطابق خیبر پختون خوا انفارمیشن کمیشن کا بنیادی کام 60 دن کے اندر شہری کو معلومات کی فراہمی یقینی بنانا ہے، مگر یہاں 507 دن گزرنے کے باوجود نہ ہوم ڈیپارٹمنٹ معلومات دینے میں کامیاب ہوا اور نہ ہی انفارمیشن کمیشن اپنے آئینی مینڈیٹ پر مؤثر عملدرآمد کرا سکا۔یوں یہ پورا معاملہ ایک “ٹوپی ڈرامہ” بن کر رہ گیا جہاں فائلیں چلتی رہیں، مراسلے جاری ہوتے رہے، سمن بھیجے جاتے رہے، مگر شہری کو معلومات دینے کا اصل مقصد کہیں گم ہو گیا۔واضح رہے کہ اسلحہ لائسنس کا میگا سکینڈل فاش کرنے والے فری لانس صحافی کو یہ معلومات فراہم ہی نہٰن کی جارہی کیونکہ اس سے ایک اور سکینڈل بے نقاب ہونے کا خدشہ موجود ہیں۔ جو کہ نہایت بااثر مافیا معمالے کو دبانے اور چھپانے کی کوشش میں ہیں ۔ ایک جانب حکومت خیبر پختون خوا کی جانب سے دستک ایپ کو ڈیجیٹل گورننس اور شفافیت کی علامت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، مگر اسی ایپ سے اسلحہ لائسنس برانچ میں ایک سال کے دوران حاصل ہونے والی آمدن کی تفصیلات فراہم نہ کرنا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔اگر دستک ایپ واقعی شفاف اور خودکار نظام ہے تو پھر اس کے ذریعے حاصل ہونے والی آن لائن فیس اور ریونیو کی تفصیلات فراہم کرنے میں 507 دن کیوں لگ گئے؟ کیا یہ محض انتظامی نااہلی ہے یا مالی معاملات کو چھپانے کی کوشش؟شفافیت کے دعوؤں کے برعکس یہ کیس ثابت کرتا ہے کہ ڈیجیٹل نظام کے پیچھے معلومات اب بھی “فائلوں اور میزوں” کے قید میں ہیں، جہاںمعلومات کا حق صرف انتظار تک محدود ہو کر رہ جاتا ہے۔

ایوارڈ یافتہ دستک ایپ سے ایک سال کی آمدن؟ 507 دن گزر گئے، شہری کو معلومات نہ مل سکیں۔ دال میں کچھ کالا ہے جدید دور میں گ...
14/02/2026

ایوارڈ یافتہ دستک ایپ سے ایک سال کی آمدن؟ 507 دن گزر گئے، شہری کو معلومات نہ مل سکیں۔ دال میں کچھ کالا ہے

جدید دور میں گڈ گورننس کے دعوےدار ایک کلک کی معلومات، 17 ماہ کی فائل بازی؟ ہوم ڈیپارٹمنٹ اور انفارمیشن کمیشن کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت

حقِ معلومات یا حقِ انتظار؟ صحافی کی درخواست 507 دن بعد بھی التوا کا شکار۔ مطلوبہ معلومات کی دستیابی ایک نئے سکینڈل کا پیش خیمہ بن سکتا ہے ؟

پشاور (فری لانس صحافی ) خیبر پختون خوا میں شفافیت اور ڈیجیٹل گورننس کے دعوؤں کی حقیقتفری لانس صحافی کی حقِ معلومات کی درخواست نے بے نقاب کر دی ہے۔ جس نے 26 ستمبر 2024 کو ہوم اینڈ ٹرائبل افیئرز ڈیپارٹمنٹ سے حقِ معلومات قانون کے تحت اسلحہ لائسنس برانچ میں **دستک ایپ** کے ذریعے یکم ستمبر 2023 سے 31 اگست 2024 تک ایک سال کے دوران حاصل ہونے والی آن لائن آمدن، فیس اور ریونیو کی مکمل تفصیلات طلب کیں تھی۔یہ معلومات بظاہر “ایک کلک” پر دستیاب ہونی چاہئیں تھیں، مگر یہ درخواست محکمہ ہوم کے پبلک انفارمیشن آفیسرز رفاقت خان اور حماد احمد کی میزوں پر فائلوں کی زینت بنی رہی۔ معلومات فراہم نہ ہونے پر شہری نے خیبر پختون خوا انفارمیشن کمیشن سے رجوع کیا۔26 ستمبر 2024 صحافی کی جانب سے معلومات کی درخواستجس پر 28 نومبر 2024 کوخیبر پختون خوا انفارمیشن کمیشن نے ڈپٹی ڈائریکٹر کو 7 دن میں جواب دینے کا مراسلہ جاری کیا۔ لیکن 26 ستمبر سے 28 نومبر تک 63 دن گزر چکے تھے۔ پھر 6 مارچ 2025 کمیشن نے سیکریٹری ہوم اینڈ ٹرائبل آفئیرز کو 10 دن میں معلومات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ اس سے کچھ نہ ملا تو 28 نومبر سے 6 مارچ تک 98 دن مزید گزرے۔15 اکتوبر 2025انفارمیشن کمیشن نے تاخیر پر سمن جاری کیے۔ 6 مارچ سے 15 اکتوبر تک 223 دن مزید گزرے۔آخر کار 21 اکتوبر 2025 ڈپٹی ڈائریکٹر (پی آئی او) کو کمیشن کے سامنے پیش ہونے کا حکم موصول ہوا۔ 28 اکتوبر 2025کو مزید معلومات کے حصول سے متعلق 7 شکایات یکجا کر کے 7 دن میں معلومات فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی۔ اس دوران سابقہ ڈپٹی ڈائریکٹر کمیشن کے سامنے پیش ہی نہ ہوئےاور پھر تاریخ پر تاریخ دینے کی روایت قائم کر کے 13 جنوری 2026 سیکشن آفیسر (آرمز) کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا گیا۔ لیکن کہانی ابھی باقی ہے آج 14 فروری 2026 اب تک معلومات فراہم نہ کی جا سکیں۔ یوں 26 ستمبر 2024 سے 14 فروری 2026 تک 507 دن یعنی 1 سال 4 ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود شہری کو وہ معلومات نہ مل سکیں جو ڈیجیٹل نظام میں محض چند سیکنڈ میں نکالی جا سکتی تھیں۔حقِ معلومات قانون کے مطابق خیبر پختون خوا انفارمیشن کمیشن کا بنیادی کام 60 دن کے اندر شہری کو معلومات کی فراہمی یقینی بنانا ہے، مگر یہاں 507 دن گزرنے کے باوجود نہ ہوم ڈیپارٹمنٹ معلومات دینے میں کامیاب ہوا اور نہ ہی انفارمیشن کمیشن اپنے آئینی مینڈیٹ پر مؤثر عملدرآمد کرا سکا۔یوں یہ پورا معاملہ ایک “ٹوپی ڈرامہ” بن کر رہ گیا جہاں فائلیں چلتی رہیں، مراسلے جاری ہوتے رہے، سمن بھیجے جاتے رہے، مگر شہری کو معلومات دینے کا اصل مقصد کہیں گم ہو گیا۔واضح رہے کہ اسلحہ لائسنس کا میگا سکینڈل فاش کرنے والے فری لانس صحافی کو یہ معلومات فراہم ہی نہٰن کی جارہی کیونکہ اس سے ایک اور سکینڈل بے نقاب ہونے کا خدشہ موجود ہیں۔ جو کہ نہایت بااثر مافیا معمالے کو دبانے اور چھپانے کی کوشش میں ہیں ۔ ایک جانب حکومت خیبر پختون خوا کی جانب سے دستک ایپ کو ڈیجیٹل گورننس اور شفافیت کی علامت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، مگر اسی ایپ سے اسلحہ لائسنس برانچ میں ایک سال کے دوران حاصل ہونے والی آمدن کی تفصیلات فراہم نہ کرنا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔اگر دستک ایپ واقعی شفاف اور خودکار نظام ہے تو پھر اس کے ذریعے حاصل ہونے والی آن لائن فیس اور ریونیو کی تفصیلات فراہم کرنے میں 507 دن کیوں لگ گئے؟ کیا یہ محض انتظامی نااہلی ہے یا مالی معاملات کو چھپانے کی کوشش؟شفافیت کے دعوؤں کے برعکس یہ کیس ثابت کرتا ہے کہ ڈیجیٹل نظام کے پیچھے معلومات اب بھی “فائلوں اور میزوں” کے قید میں ہیں، جہاںمعلومات کا حق صرف انتظار تک محدود ہو کر رہ جاتا ہے۔


Facebook
What is going on in Peshawar
WhatsApp
Chief Minister Khyber Pakhtunkhwa
Chief Secretary Khyber Pakhtunkhwa
Kpk media
Government of Khyber Pakhtunkhwa

14/02/2026
14/02/2026

ضلعی انتظامیہ پشاورکے نرخنامے میں گوشت نہیں “کوشت” بکتا ہے، آفسروں کی نا اہلیت عیاں

75سال سے جاری روش ! سرکاری طور پر جاری مہنگائی کو قانونی تحفظ، قصائی مجرم، عوام مجبورو لاچار ، انتظامیہ فاتح، فائلیں مکمل، ضمیر خاموش

سرکاری نرخ عوام کے زخموں پر نمک، انصاف کاغذ پر، بازار میں استحصال جاری رمضان میں بھی عوام کی جیب پر لوٹ سیل ، ریاستی نظام روزے دار، عملدرآمد بے وضو

پشاور(فیاض علی نور فری لانس جرنلسٹ ) صوبائی دارالحکومت میں مہنگائی کے مارے عوام کے لیے “ریلیف” کے نام پر جاری ہونے والا سرکاری نرخنامہ دراصل ایک اور انتظامی مذاق بن کر سامنے آیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے گوشت کی قیمتیں مقرر کی گئیں، مگر عوامی اذیت کا پہلو صرف نرخ نہیں بلکہ وہ غیر سنجیدگی ہے جس سے یہ دستاویز تیار کی گئی۔سرکاری کاغذ میں “گوشت” کو “کوشت” لکھ کر جاری کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ ضلعی انتظامیہ پشاور عوامی مسائل کو سنجیدگی سے نہیں بلکہ فائل پوری کرنے کی مشق سمجھتی ہے۔ دوسری طرف صوبائی حکومت حکومت خیبر پختونخوا کی خاموشی اس نظام کی سرپرستی کے مترادف ہے جو عوام کو ریلیف کے نام پر تضحیک فراہم کرتا ہے۔نرخنامے میں بھینس اور بکرے کے گوشت کی وہ قیمتیں درج ہیں جو زمینی حقائق سے کوسوں دور ہیں۔ بازار میں عام شہری جب ان “سرکاری نرخوں” کا حوالہ دیتا ہے تو قصائی بے بسی سے مسکرا دیتا ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس کاغذ کا بازار سے وہی تعلق ہے جو وعدوں کا انتخابات کے بعد عوام سے رہ جاتا ہے۔انتظامیہ کی جانب سے گرانفروشی پر جرمانوں کا نظام بظاہر قانون کی عملداری دکھاتا ہے، مگر حقیقت میں یہ ایک ریاستی کاروباری ماڈل بن چکا ہے۔ عوام سے اضافی رقم لی جاتی ہے، قصائی پر جرمانہ عائد ہوتا ہے، مگر لوٹی گئی رقم عوام کو واپس نہیں ملتی۔ یوں متاثرہ فریق ہی ریاستی خزانے کو جرمانے کی صورت میں “ بھتہ ” دیتا ہے۔ نتیجہ یہ کہ عوام لُٹتے ہیں، قصائی بدنام ہوتے ہیں اور افسران کی کارکردگی رپورٹس مکمل ہو جاتی ہیں۔نرخنامے میں کم عمر جانور کے گوشت کی فروخت پر پابندی کا نکتہ بھی انتظامی نااہلی کی واضح مثال ہے۔ قانون کی زبان میں ایسا ابہام رکھا گیا ہے کہ اس کی بنیاد پر عدالتوں میں موشگافیاں کی جا سکتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر کم عمر جانور ذبح ہو کر قیمہ بن جائے تو کیا وہ قانون کی گرفت سے نکل جائے گا؟ کیا قانون عوام کے تحفظ کے لیے ہے یا قصوروار کو راستہ دینے کے لیے؟دلچسپ امر یہ ہے کہ قیمہ گاہک کے سامنے تیار کرنے اور دکان پر نرخنامہ نمایاں طور پر لگانے جیسی شقیں برسوں سے کاغذوں میں گردش کر رہی ہیں، مگر عملی زندگی میں ان پر عملدرآمد کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ یہ شقیں عوام کے لیے نہیں بلکہ فائلوں کی زینت اور افسران کی کارکردگی رپورٹ کے لیے ہوتی ہیں۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کا موجودہ نظام عوام کو ریلیف دینے کے بجائے ان کی عزتِ نفس کو مجروح کرنے کا ذریعہ بن چکا ہے۔ ریاستی اہلکار لاکھوں روپے تنخواہیں لے کر بھی ایسا نظام تشکیل دینے میں ناکام ہیں جو استحصال روکے، قیمتوں کو حقیقت کے قریب لائے اور متاثرہ شہری کو انصاف دلائے۔رمضان جیسے مقدس مہینے میں بھی مہنگائی اور گرانفروشی پر قابو نہ پانا اس بات کی علامت ہے کہ ریاستی نظام عبادات میں تو سرگرم دکھائی دیتا ہے، مگر عوامی حقوق کی ادائیگی میں غافل ہے۔ شہریوں کا مطالبہ ہے کہ گرانفروشی کی مد میں وصول کی گئی زائد رقم عوام کو واپس کی جائے اور قصورواروں کو صرف جرمانے نہیں بلکہ مؤثر قانونی سزائیں دی جائیں۔یہ سوال اب صرف گوشت یا “کوشت” کا نہیں رہا۔بلکہ یہ سوال اس نظام کا ہے جو 75 برس سے عوام کو ریلیف دینے کے نام پر صبر کی تلقین اور خود کو تنخواہ و مراعات دینے کا جواز فراہم کرتا آ رہا ہے۔ عوام پوچھ رہے ہیں !کیا ریاست کا کام فائلیں مکمل کرنا ہے یا شہریوں کے زخموں پر مرہم رکھنا؟


Facebook
WhatsApp

Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard! Ibrahim Mohamed Abu, Kadrdad Bugti
13/02/2026

Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard! Ibrahim Mohamed Abu, Kadrdad Bugti

With What is going on in Peshawar – I just got recognized as one of their top fans! 🎉
04/02/2026

With What is going on in Peshawar – I just got recognized as one of their top fans! 🎉

With WhatsApp – I just got recognized as one of their top fans! 🎉
04/02/2026

With WhatsApp – I just got recognized as one of their top fans! 🎉

Address

Islamabad
25000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Fayaz Ali Noor Journalist posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share