Banda e khuda14

Banda e khuda14 Let me be me..Because once I change, you will miss the ‘me’ in me.

یہ تصویر چکوال شہر کے محلہ زمرد ٹاؤن کے رہائشی خورشید بابر کی ہے جن کی عمر چونسٹھ برس تھی۔ خورشید بابر ایئر فورس سے ریٹا...
29/10/2025

یہ تصویر چکوال شہر کے محلہ زمرد ٹاؤن کے رہائشی خورشید بابر کی ہے جن کی عمر چونسٹھ برس تھی۔ خورشید بابر ایئر فورس سے ریٹارڈ تھے۔ قدرت نے انہیں چار بیٹیوں اور ایک بیٹے سے نوازا۔ بیٹیاں چکوال ہی شادی شدہ ہیں جبکہ بیٹا روزگار کی خاطر بیرونِ ملک مقیم ہے۔

گزشتہ پندرہ برس سے خورشید بابر اور ان کی اہلیہ کے درمیان ناراضگی چل رہی تھی اور ناراضگی ایسی تھی کہ پچھلے پندرہ سال سے آپس میں بول چال بند تھی۔ گراؤنڈ فلور پر بیوی اکیلی رہتی تھیں اور فرسٹ فلور پر خورشید بابر اکیلے رہتے تھے۔ گھر کے مین گیٹ کے ساتھ چھوٹا دروازہ لگا ہوا ہے جو پہلی منزل کی سیڑھیوں کے آگے ہے۔ خورشید بابر اسی چھوٹے دروازے سے سیڑھیاں چڑھ کر اپنے کمرے میں آتے تھے۔

پولیس کے ایک افسر نے کہا کہ پچھلے کئی دنوں سے خورشید بابر کا ایک داماد ان سے فون پر رابطہ کرنے کی کوشش کر رہا تھا لیکن رابطہ نہیں ہو رہا تھا۔ اس داماد نے خورشید بابر کے ایک نواسے کو انہیں دیکھنے کے لیے بھیجا۔ نواسہ کل شام جب اپنے نانا کو دیکھنے گیا تو سیڑھیوں کے ساتھ لگا دروازہ اندر سے بند تھا۔ وہ پڑوسیوں کے گھر کی چھت سے اپنے نانا کے گھر کی پہلی منزل پر پہنچا۔ پہلی منزل کو بدبو نے لپیٹ رکھا تھا۔ بچے نے شور مچایا۔ پولیس کو بلایا گیا۔ پولیس کے ایک افسر کے مطابق خورشید بابر کے کمرے کا دروازہ اندر سے بند تھا۔ جب وہ دروازہ توڑ کر اندر داخل ہوئے تو پنکھا چل رہا تھا جبکہ کمرے کی لائٹ بھی جل رہی تھی۔ خورشید بابر کی مسخ شدہ لاش چار پائی پر پڑی تھی۔ جسم پر قمیض نہیں تھی۔ پیٹ سوجا ہوا تھا۔ لاش کو دیکھ کر لگتا تھا کہ خورشید بابر چار پائی پر ٹانگیں لٹکا کر بیٹھے ہوئے تھے اور اسی حالت میں پیچھے گرے اور فوت ہو گئے۔ شوگر اور بلڈ پریشر کے عارضے میں وہ مبتلا تھے۔ پولیس کے ایک افسر نے چونکا دینے والا انکشاف یہ کیا کہ خورشید بابر کی لاش لگ بھگ پندرہ دن پرانی تھی۔

کراچی میں اداکارہ حمیرا اسلم کی لاش ملی تھی جو سات آٹھ ماہ پرانی تھی۔ پھر کراچی سے مشہور اداکارہ عائشہ خان کی لاش بھی سات آٹھ دن پرانی ملی۔ فروری میں چکوال کے گاؤں گھگھ میں جبین بی بی کی لاش بھی ملی تھی جو سات آٹھ دن پرانی تھی۔

معاشرہ بے حسی، بیگانگی اور لاپرواہی کی دلدل میں کس سرعت کے ساتھ دھنستا جا رہا ہے اس کا اندازہ ہمیں مندرجہ بالا واقعات سے ہو جانا چاہیے۔ تنہائی کا زہر تو بھرے گھر میں ذرا سی مختلف سوچ رکھنے والے کو چاٹ جاتا یے، بڑھاپے میں تو یہ زہر اور بھی مہلک بن جاتا ہے۔ اوپر سے معاشرتی قدغنوں کا بوجھ پچھلی عمر میں لوگوں کو اپنے لیے کوئی فیصلہ کرنے کے قابل نہیں چھوڑتا۔ خورشید بابر اور ان کی اہلیہ پندرہ سال تک ایک دوسرے سے ناراض تھے لیکن علیحدگی بھی نہیں تھی۔ یہ ایک مثال وہ ہے جو سامنے آئی ہے، اس طرح کی کہانیاں اب ہمارے معاشرے میں عام ہوتی جا رہی ہیں۔

یونیورسٹی میں آپکے جمع کروائے گئے مقالے /  تھیسز کہاں جاتے ہیں۔
27/11/2024

یونیورسٹی میں آپکے جمع کروائے گئے مقالے / تھیسز کہاں جاتے ہیں۔

آپ زندگی میں کبھی نہ کبھی وہ دروازے بھی بند دیکھیں گے، جو کبھی صرف آپ کے قدموں کی آہٹ سے کھل جاتے تھے
07/11/2024

آپ زندگی میں کبھی نہ کبھی وہ دروازے بھی بند دیکھیں گے، جو کبھی صرف آپ کے قدموں کی آہٹ سے کھل جاتے تھے

03/11/2024
میں صبح 4 بجے دوڑتا ہوں کیونکہ میں جانتا ہوں کہ میرا مخالف ابھی تک سو رہا ہے۔ یہ مجھے ایک کنارہ دیتا ہے۔" یہ مائیک ٹائسن...
27/10/2024

میں صبح 4 بجے دوڑتا ہوں کیونکہ میں جانتا ہوں کہ میرا مخالف ابھی تک سو رہا ہے۔ یہ مجھے ایک کنارہ دیتا ہے۔" یہ مائیک ٹائسن کا جواب تھا جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ واقعی ہر روز فجر کے وقت تربیت کرتے ہیں۔ ٹائسن نے مزید کہا، "اگر مجھے پتہ چلے کہ میرا ایک مخالف صبح 4 بجے دوڑتا ہے، تو میں 2 بجے دوڑنا شروع کر دوں گا اور اگر کوئی 2 بجے ٹریننگ کرتا ہے، تو میں ٹریننگ جاری رکھنے کے لیے مکمل طور پر سونا چھوڑ دوں گا۔"

"ضبط کے بغیر، چاہے آپ کتنے ہی باصلاحیت ہوں، آپ کچھ بھی نہیں ہیں۔" - مائیک ٹائسن

تصویر میں، ہیوی ویٹ چیمپیئن مائیک ٹائسن اپنے روزانہ 5-8 کلومیٹر کے معمولات چلاتے ہوئے پکڑے گئے ہیں، رپورٹرز 1987 میں اس کی شدید تربیت کی دستاویز کر رہے ہیں۔__________

20/10/2024

اگر آپ کی بیوی نوکری پیشہ ہے یا آپ اس سے شادی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، تو ذرا غور سے پڑھیں:
اگر آپ کی بیوی گھر کی ذمہ داریاں سنبھالتی ہے، یا کوئی ہنر، چھوٹا کاروبار یا گھریلو کام کرتی ہے، تو آپ بہت خوش نصیب ہیں۔ یہ ایک مضبوط سہارا ہے، اور آپ کو اسے یہ احساس دلانا چاہیے کہ وہ آپ کی زندگی کی ملکہ ہے۔ ایسی عورت کو کسی غیر مرد سے واسطہ نہیں پڑتا، اور وہ اپنی توجہ صرف اپنے شوہر اور بچوں کی پرورش پر مرکوز رکھتی ہے، تاکہ وہ بچوں کو بہتر انسان بنا سکے۔

مگر اگر آپ کی بیوی ملازمت کرتی ہے، تو صورتحال تھوڑی مختلف ہو سکتی ہے کیونکہ ملازمت کے ماحول میں وہ دیگر لوگوں سے رابطے میں رہتی ہے (کارخانہ، دفتر، ادارہ وغیرہ)۔

• دفتر کا زمیلے: وہ ایک ایسا شخص ہے جو روزانہ آٹھ گھنٹے آپ کی بیوی کے ساتھ گزارے گا، اور یہ سلسلہ تقریباً تیس سال تک چل سکتا ہے۔ اس دوران وہ آپ کی بیوی سے کام کے حوالے سے یا کبھی کبھار زندگی کے معاملات پر بات کرے گا، اور بعض اوقات بوریت کو ختم کرنے کے لیے بھی گفتگو ہوگی۔

• دفتر کا باس: یہ ایک ایسا شخص ہوتا ہے جس کے پاس اتنی طاقت ہوتی ہے کہ وہ سب کو ڈانٹ سکتا ہے، اور اس میں آپ کی بیوی بھی شامل ہوتی ہے۔ اگر آپ کی بیوی کام میں کوئی غلطی کرتی ہے، تو اسے سرعام یا پرائیویٹ طور پر ڈانٹا جا سکتا ہے، اور اسے سر جھکا کر معافی مانگنی پڑے گی تاکہ نوکری نہ جائے۔ اب ذرا سوچیں، اگر آپ نے گھر میں کھانا ٹھیک نہ بننے پر بیوی کو ڈانٹا، تو وہ فوراً ناراض ہو جائے گی یا طلاق کی بات کر سکتی ہے۔

• کام کا شوہر: یہ ایک مغربی تحقیق کا تصور ہے۔ یہ ایک ایسا زمیلے ہوتا ہے جو آپ کی بیوی کے سب سے قریب ہوتا ہے۔ وہ اس کی زندگی کے بارے میں سب کچھ جانتا ہے اور اس کے دکھ درد کو سنتا ہے، اس کی مدد کرتا ہے، اور اکثر اس کی حمایت میں بات کرتا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ، وہ اس کے لیے ایک سہارا بن جاتا ہے، اور بیوی کو لگتا ہے کہ وہی وہ شخص ہے جو اسے بہتر طریقے سے سمجھتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ آپ دونوں کے درمیان فاصلے پیدا ہونے لگتے ہیں۔

• تحقیق کے مطابق، 80 فیصد بے وفائی کے واقعات کام کی جگہ پر ہوتے ہیں، اور خواتین کو اکثر دفتر میں مختلف قسم کی ہراسگی کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔

آخری بات: یہ سب کچھ ہر نوکری پیشہ عورت کے ساتھ نہیں ہوتا، لیکن ان میں سے کچھ یا اس سے بھی بدتر حالات پیش آ سکتے ہیں۔ لہٰذا، آپ اپنی مرضی سے نوکری پیشہ عورت سے شادی کر سکتے ہیں، لیکن ان باتوں کا خیال ضرور رکھیں۔

یہ حقیقت ہے اور آج کل کے حالات میں عام ہے، اور اس پوسٹ کا مقصد سب مردوں کو خبردار کرنا ہے کہ یہ صورتحال اکثر نوکری پیشہ عورتوں کے ساتھ دیکھنے میں آتی ہے۔

نوٹ: اس مضمون میں کسی پر الزام تراشی نہیں کی گئی، بلکہ یہ مرد حضرات کو ممکنہ مسائل سے آگاہ کرنے کے لیے لکھا گیا ہے۔

24/08/2024

Change your mind

17 جون 2024 کو اسلام آباد کی نمل یونیورسٹی میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جس نے ہمارے معاشرے میں موجود جبری مذہبی تبدیلی...
22/06/2024

17 جون 2024 کو اسلام آباد کی نمل یونیورسٹی میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جس نے ہمارے معاشرے میں موجود جبری مذہبی تبدیلی کے مسئلے کو اجاگر کیا۔

نوشاد مل، جو تھرپارکر سندھ سے تعلق رکھتا ہے، اس پریشان کن واقعے کا مرکزی کردار بنا۔ یہ واقعہ عید کے موقع پر پیش آیا، جو خوشی اور ہم آہنگی کا وقت ہوتا ہے۔ لیکن نوشاد، جو ہندو ہے، کے لیے یہ جشن خوفناک بن گیا جب ایک ملا محمد طاہر نے اسے گائے کا گوشت کھانے اور اسلام قبول کرنے کے لیے دباؤ ڈالا۔

یہ واقعہ نمل یونیورسٹی کے ہاسٹل میں پیش آیا، جہاں ملا طاہر نے ایک چوکیدار کی مدد سے نوشاد پر اپنے مذہبی عقائد تھوپنے کی کوشش کی۔ یہ مذہبی دباؤ صرف گائے کا گوشت کھانے کی حد تک محدود نہیں تھا بلکہ نوشاد کے ایمان، ذاتی عقائد اور مذہبی آزادی پر حملہ تھا۔

خوش قسمتی سے، اسلام آباد پولیس کی بروقت مداخلت سے نوشاد کو اس اذیت ناک صورت حال سے بچا لیا گیا۔ ملا طاہر کو گرفتار کیا گیا اور بعد میں اپنے عمل پر تحریری معافی نامہ دیا۔

اگرچہ یہ واقعہ بغیر کسی بڑے نقصان کے ختم ہوگیا، لیکن یہ پاکستان کے مختلف حصوں میں مذہبی اقلیتوں کو درپیش چیلنجز کی یاد دہانی ہے۔ نوشاد کی کہانی ہمیں مذہبی عدم برداشت کے خلاف کھڑے ہونے اور آزادی اور باہمی احترام کے بنیادی اصولوں کو برقرار رکھنے کی ضرورت کا احساس دلاتی ہے۔

یہ 63 سالہ سعودی خاتون ام عبد اللہ ہیں۔۔کل انھوں نے سعودی عرب کی حائل یونیورسٹی سے گریجویشن کی ڈگری حاصل کی ہے۔۔ یہ 17 س...
25/05/2024

یہ 63 سالہ سعودی خاتون ام عبد اللہ ہیں۔۔
کل انھوں نے سعودی عرب کی حائل یونیورسٹی سے گریجویشن کی ڈگری حاصل کی ہے۔۔
یہ 17 سال کی تھیں جب ان کی شادی ہو گئی۔۔ شادی سے پہلے میٹرک تک تعلیم حاصل کر رکھی تھی۔۔شادی کےبعد، 42 سال تک تعلیم ترک کیے رکھی۔۔11 بچے پال پوس کر جوان کیے، ان کی شادیاں کیں۔۔
پھر 59 برس کی عمر میں دوبارہ تعلیم حاصل کرنا شروع کردی ، کل جب یہ حائل یونیورسٹی کے کانووکیشن میں اپنے۔ بچوں کی عمر کے کلاس فیلوز کےہمراہ موجودتھیں توسعودی ٹی وی چینل العربیہ کے نمائندے نے پوچھا،

آپ نےکیا سوچ کر دوبارہ تعلیم حاصل کرنا شروع کی؟
کہنے لگیں:
"میں چاہتی ہوں جب میں اپنے اللہ تعالیٰ سےملوں تو ایک جاہل عورت کے طور پر نہ ملوں بلکہ میرا شمار اللہ کے ہاں ، علم والوں میں ہونا چاہیے" ___
خاتون کا عربی زبان میں مکمل انٹرویو العربیہ چینل کی ویب سائٹ پر موجود ہے ۔۔
سبق یہ ہے
کہ جستجو کرتے رہیں۔۔آگے بڑھتے رہیں۔۔ زندگی کو رکنے نہ دیں۔۔
#الادب

Address

Islamabad

Telephone

+923334779772

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Banda e khuda14 posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share