16/02/2026
کویت ہاسٹل کی بریکنگ نیوز
کویت ہاسٹل میں اگر کسی کو تازہ ترین خبریں جاننی ہوتیں تو نہ کوئی نیوز چینل کھولنے کی ضرورت تھی اور نہ ہی سوشل میڈیا اسکرول کرنے کی۔ بس سیدھا رخ کیا جاتا تھا خٹک جنرل سٹور کی طرف، جہاں موجود ہوتے تھے ہمارے اپنے "ظہیر خبری" صاحب۔
ظہیر بھائی کی خاص بات یہ تھی کہ وہ چینی، چائے اور بسکٹ کے ساتھ ساتھ خبریں بھی تول کر دیتے تھے۔ کوئی نیا مہمان آیا ہو، کسی کا رزلٹ آیا ہو، یا کسی کا دل ٹوٹا ہو — خبر ظہیر بھائی تک پہلے پہنچتی تھی اور پھر پورے ہاسٹل تک۔
لوگ انہیں پیار سے "خبری" کہتے تھے، کیونکہ ان کی سپیڈ کسی نیوز چینل سے کم نہ تھی۔ فرق صرف یہ تھا کہ ان کی بریکنگ نیوز کے ساتھ سموسے فری نہیں ملتے تھے۔
چار مہینے ہو گئے ہیں ظہیر بھائی کو ہاسٹل چھوڑے ہوئے، مگر آج بھی خٹک جنرل سٹور کے سامنے سے گزرتے ہوئے ایسا لگتا ہے جیسے ابھی آواز آئے گی: "بھائی، ایک منٹ رُکیں، آپ کو ایک تازہ خبر سناؤں!"
اللہ ظہیر بھائی کو جہاں بھی رکھے خوش رکھے۔ کویت ہاسٹل کی رونق اور ہماری یادوں کا اہم حصہ ہمیشہ رہیں گے۔