23/04/2026
سنجیدگی کی ضرورت
سندھ کے تعلیمی نظام میں ہر سال جب نویں، دسویں، گیارہویں اور بارہویں جماعت کے امتحانات قریب آتے ہیں تو تعلیمی بورڈز کی تیاریوں کا شور بڑھ جاتا ہے۔ شیڈول جاری کیے جاتے ہیں، امتحانی مراکز قائم کیے جاتے ہیں اور نقل کی روک تھام کے لیے مختلف حکمت عملیاں بنائی جاتی ہیں۔ بظاہر یہ سب ایک منظم اور ذمہ دار نظام کا حصہ لگتا ہے، مگر اس پورے عمل کے دوران ایک بنیادی سوال مسلسل نظر انداز کیا جاتا ہے: کیا واقعی طلبہ کو وہ مکمل نصاب پڑھایا گیا ہے جس سے امتحان لیا جا رہا ہے؟
سندھ کے اکثر سرکاری اسکولوں اور کالجوں کی زمینی حقیقت کچھ اور کہانی بیان کرتی ہے۔ تعلیمی سال کے دوران بار بار سرکاری تعطیلات، مختلف تنظیموں کے احتجاج، اور بعض اوقات انتظامی وجوہات کی بنا پر تعلیمی اداروں کا بند رہنا ایک عام بات بن چکا ہے۔ اس صورتحال میں تدریسی دن کم ہو جاتے ہیں، جس کا براہِ راست اثر طلبہ کی تعلیم پر پڑتا ہے۔ جب کلاسز باقاعدگی سے نہ ہوں تو نصاب کی تکمیل محض ایک دعویٰ بن کر رہ جاتی ہے، جبکہ حقیقت میں کورس نامکمل ہوتا ہے۔
اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات کلاس رومز کی حالت ہے۔ کئی اسکولوں میں ایک ہی کلاس میں 100 سے 150 طلبہ بیٹھے ہوتے ہیں، جہاں استاد کے لیے ہر طالب علم تک پہنچنا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔ ایسے ہجوم والے ماحول میں نہ طلبہ کو سوال کرنے کا موقع ملتا ہے اور نہ ہی استاد ان کی کمزوریوں کو پہچان پاتا ہے۔ نتیجتاً تعلیم ایک رسمی عمل بن کر رہ جاتی ہے، جس میں حقیقی سمجھ اور سیکھنے کی شدید کمی محسوس ہوتی ہے۔
اساتذہ کی کمی، خاص طور پر سائنسی مضامین میں، ایک سنگین مسئلہ ہے۔ کئی اداروں میں فزکس، کیمسٹری اور ریاضی کے ماہر اساتذہ موجود ہی نہیں ہوتے۔ بعض اوقات غیر متعلقہ اساتذہ یہ مضامین پڑھاتے ہیں، جبکہ کہیں طلبہ کو خود ہی پڑھنے پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ ایسے حالات میں جب بنیادی علم ہی درست طریقے سے منتقل نہ ہو، تو امتحان میں بہتر کارکردگی کی توقع رکھنا طلبہ کے ساتھ ناانصافی ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب تعلیمی بورڈز امتحانات لینے کا فیصلہ کرتے ہیں، تو کیا وہ اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ نصاب مکمل ہو چکا ہے؟ کیا یہ دیکھا جاتا ہے کہ طلبہ کو پڑھایا گیا مواد واقعی سمجھ میں آیا ہے یا نہیں؟ اگر ان سوالات کا جواب نفی میں ہے، تو پھر امتحانات محض ایک رسمی کارروائی بن جاتے ہیں، جن کا مقصد صرف نتائج جاری کرنا رہ جاتا ہے۔
اس نظام میں سب سے زیادہ نقصان طلبہ کو اٹھانا پڑتا ہے، جو اپنے مستقبل کے لیے انہی امتحانات پر انحصار کرتے ہیں۔ اگر انہیں مناسب تعلیم ہی نہ ملے، تو ان کی ناکامی دراصل پورے نظام کی ناکامی ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ امتحانات سے پہلے ایک جامع جائزہ لیا جائے، جس میں تدریسی دنوں، اساتذہ کی دستیابی، اور نصاب کی تکمیل کو یقینی بنایا جائے۔ تعلیم صرف امتحان لینے کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک ذمہ داری ہے، جس میں طلبہ کی ذہنی اور تعلیمی نشوونما کو اولین ترجیح دی جاتی ہے۔
جب تک سندھ کا تعلیمی نظام اس بنیادی اصول کو نہیں سمجھے گا، تب تک امتحانات کا یہ سلسلہ جاری رہے گا، مگر اس کے نتائج طلبہ کے لیے فائدہ مند ثابت نہیں ہوں گے۔ وقت آ چکا ہے کہ ہم امتحانات کی روایت سے آگے بڑھ کر تعلیم کی اصل روح کو سمجھیں، کیونکہ مضبوط مستقبل کی بنیاد بھی مضبوط تعلیم پر ہی قائم ہوتی ہے۔