28/09/2026
زندگی کے ہجوم میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ دوسروں کے الجھے ہوئے دھاگوں کو سلجھاتے سلجھاتے، انسان اپنی ہی ذات کی گرہوں میں گم ہو جاتا ہے۔ عمر بھر لوگوں کے دکھ سمیٹتے رہے، ان کے راستوں سے کانٹے چنتے رہے، مگر تعجب ہے کہ جب اپنی باری آئی تو ہر سمت ایک دیوار کھڑی نظر آئی۔
کتنا عجیب تضاد ہے یہ زندگی کا،
ہم نے جانے کتنی ڈوبتی کشتیوں کو کنارے لگایا،
مگر جب خود پر طوفان آیا، تو کوئی ناخدا نہ ملا…!