Ansar Abbasi

Ansar Abbasi Official page of Ansar Abbasi, Editor Investigation, The News.

20/06/2026
مری سے ایک اور شکایت۔حکمرانوں کی فوری توجہ کے لیے
19/06/2026

مری سے ایک اور شکایت۔
حکمرانوں کی فوری توجہ کے لیے

اللہ تعالی کا شکر ہے کہ آپ لوگوں کا کام ہو گیا۔ اگر اس کام میں اللہ تعالیٰ نے مجھے وسیلہ بنایا تو مجھے نہ اس کا کریڈٹ چا...
18/06/2026

اللہ تعالی کا شکر ہے کہ آپ لوگوں کا کام ہو گیا۔ اگر اس کام میں اللہ تعالیٰ نے مجھے وسیلہ بنایا تو مجھے نہ اس کا کریڈٹ چاہیے، نہ شکریہ کی ضرورت ہے اور نہ ہی میں نے سیاست کرنی ہے۔ مجھے صرف دعاووں کی ضرورت ہے۔ شکر تو میں اپنے رب کا ادا کرتا ہوں کہ مجھے کسی کی مدد کی توفیق دی۔ الحمدللہ

16/06/2026
Shehbaz, Asim Munir architects of historic global peace
16/06/2026

Shehbaz, Asim Munir architects of historic global peace

ISLAMABAD: With Iran and the United States set to formally sign their peace agreement next Friday in Geneva, bringing an end to a conflict, which besides threatening to plunge the Middle East into...

شہباز شریف اور عاصم منیر عالمی امن کے تاریخی معمار، پاکستان کی کامیابی بے مثال
16/06/2026

شہباز شریف اور عاصم منیر عالمی امن کے تاریخی معمار، پاکستان کی کامیابی بے مثال

نقطہء نظر: انصار عباسی اسلام آباد :…ایران...

سود کے 8 ہزار ارب بچانے کا نسخہ!انصار عباسی وفاقی حکومت نے مالی سال 27-2026 کا بجٹ پیش کر دیا ہے۔ بجٹ کا مجموعی حجم 18ہز...
16/06/2026

سود کے 8 ہزار ارب بچانے کا نسخہ!

انصار عباسی


وفاقی حکومت نے مالی سال 27-2026 کا بجٹ پیش کر دیا ہے۔ بجٹ کا مجموعی حجم 18ہزار 771 ارب روپے ہے لیکن اس بجٹ کا سب سے تشویشناک پہلو وہی ہے جو گزشتہ کئی برسوں سے پاکستان کی معیشت کا سب سے بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے۔ قرضوں پر سود کی ادائیگی کیلئے تقریباً 8ہزار ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جو وفاقی بجٹ کا 42.9فیصد بنتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں ملک کے وسائل کا تقریباً نصف حصہ صرف قرضوں پر سود کی ادائیگی پر خرچ ہو جائے گا۔ یہ صورتحال صرف ایک مذہبی اور مالی مسئلہ نہیں بلکہ قومی سلامتی، معاشی خودمختاری اور آئندہ نسلوں کے مستقبل کا سوال بن چکی ہے۔ جب ایک ملک کی آمدن کا اتنا بڑا حصہ سود کی ادائیگی میں صرف ہو جائے تو پھر تعلیم، صحت، پینے کے پانی، انفراسٹرکچر، روزگار اور سماجی بہبود جیسے شعبوں کیلئے وسائل کہاں سے آئیں گے؟ دو سال قبل میں نے اپنے ایک کالم میں چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ قانت خلیل اللہ کی ایک تجویز قارئین کے سامنے رکھی تھی۔ اس تجویز کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ پاکستان کے اندرونی قرضوں اور سود کے بڑھتے ہوئے بوجھ سے نکلنے کیلئے روایتی فریکشنل ریزرو بینکنگ نظام پر نظرثانی کی جائے اور 100فیصد ریزرو بینکنگ جیسے متبادل ماڈل پر سنجیدگی سے غور کیا جائے۔ اس تجویز پر ماہرین معاشیات کی مختلف آراء موجود ہوں گی، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم موجودہ راستے پر چلتے ہوئے اس بحران سے نکل سکتے ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں قرض بڑھتے ہیں، پھر ان قرضوں پر سود ادا کرنے کیلئے مزید قرض لیے جاتے ہیں اور یوں ایک ایسا چکر شروع ہو جاتا

ہے جس کا کوئی اختتام نظر نہیں آتا۔ ہر سال حکومت ٹیکس بڑھاتی ہے، نئے محصولات عائد کرتی ہے، ترقیاتی اخراجات کم کرتی ہے، لیکن قرض اور سود کا بوجھ کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ جاتا ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان کا بڑا قرض اندرونی ہے اور اس کا بڑا حصہ کمرشل بینکوں کے پاس ہے۔ بینک حکومت کو قرض دیتے ہیں، حکومت سود ادا کرتی ہے اور پھر سود کی ادائیگی کیلئے مزید قرض لیتی ہے۔ نتیجتاً معیشت کا ایک بڑا حصہ پیداواری سرگرمیوں کے بجائے قرضوں کے گرد گھومنے لگتا ہے۔ ایسے میں یہ سوال اٹھانا بالکل جائز ہے کہ کیا دنیا میں موجود متبادل مالیاتی ماڈلز، جن میں مکمل ریزرو بینکنگ، اسلامی مالیاتی نظام یا دیگر اصلاحات شامل ہیں، ان کا سنجیدگی سے جائزہ نہیں لیا جانا چاہیے؟ اگر بعض ماہرین کا دعویٰ ہے کہ اندرونی قرضوں کے بوجھ کو کم یا ختم کرنے کیلئے کوئی قابلِ عمل راستہ موجود ہے تو حکومت، اسٹیٹ بینک اور اقتصادی ماہرین کو کم از کم ان تجاویز کا غیر جانبدارانہ مطالعہ ضرور کرنا چاہیے۔ یہ ضروری نہیں کہ قانت خلیل اللہ یا کسی دوسرے ماہر کی تجویز حرفِ آخر ہو، لیکن یہ بھی درست نہیں کہ ایسے خیالات کو سنے بغیر رد کر دیا جائے۔ پاکستان اس وقت ایک غیر معمولی معاشی بحران سے گزر رہا ہے اور غیر معمولی مسائل بعض اوقات غیر روایتی حل طلب کرتے ہیں۔ آج جب ہم دیکھتے ہیں کہ بجٹ کا تقریباً 43 فیصد حصہ قرضوں پر سود کی ادائیگی کی نذر ہو رہا ہے تو ہمیں صرف اگلے بجٹ کی نہیں بلکہ اگلی نسل کی فکر بھی کرنی چاہیے۔ اگر یہی رجحان جاری رہا تو وہ وقت دور نہیں جب حکومت کی پوری کی پوری آمدن صرف سود کی ادائیگی میں صرف ہوگا اور ریاست کے پاس عوامی فلاح و بہبود کیلئے وسائل مزید محدود ہو جائیں گے۔ پاکستان کو فوری طور پر کسی معاشی جادو کی نہیں بلکہ ایک سنجیدہ قومی مکالمے کی ضرورت ہے۔ اس مکالمے میں یہ سوال ضرور شامل ہونا چاہیے کہ کیا ہمارا موجودہ مالیاتی اور بینکاری نظام ملک کو پائیدار ترقی کی طرف لے جا رہا ہے یا ہمیں متبادل راستوں پر غور کرنا چاہیے۔ جب تک ہم اس بنیادی سوال کا جواب تلاش نہیں کرتے، قرض اور سود کا یہ بوجھ بڑھتا رہے گا اور ہر نیا بجٹ اسی پرانے مسئلے کی نئی اور مزید تشویش ناک داستان سناتا رہے گا۔

وفاقی حکومت نے مالی سال 27-2026 کا بجٹ پیش کر دیا ہے۔ بجٹ...

Address

Islamabad

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ansar Abbasi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Ansar Abbasi:

Share

Category