30/05/2026
اسلام آباد ایئرپورٹ روڈ کی بندش ایک بار پھر عوام کے لیے عذاب بن گئی۔
مرکزی رہنما پی ٹی آئی Asad Qaiser نے پنجاب پولیس اہلکاروں سے مکالمے میں کہا کہ "روڈ آپ لوگوں نے ہماری وجہ سے بلاک کیا ہے، عام لوگوں اور مسافروں کو کیوں تکلیف دیتے ہو؟ ہمیں سائیڈ پر کھڑا کر دو، لیکن لوگوں کو جانے دو۔"
سوال یہ ہے کہ سیاسی اختلافات، گرفتاریوں اور حکومتی و اپوزیشن معاملات کی قیمت ہمیشہ عام شہری کیوں ادا کرے؟ ایئرپورٹ جانے والے مسافر گھنٹوں ٹریفک میں پھنسے رہے، کئی افراد کی فلائٹس لیٹ ہوئیں اور بعض کی منسوخ ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔
آپ لوگ آپس میں جو مرضی کریں، لیکن عوام کو خجل خوار تو نہ کریں۔
جو مسافر اپنی منزل تک نہ پہنچ سکے، جن کے ٹکٹ ضائع ہوئے، جن کی اہم میٹنگز، روزگار اور سفری منصوبے متاثر ہوئے، ان کا ذمہ دار کون ہے؟
عوام کا وقت بھی قیمتی ہے، ان کا پیسہ بھی قیمتی ہے اور ان کی عزتِ نفس بھی۔ سیاسی اور انتظامی فیصلے ایسے ہونے چاہئیں جن سے شہریوں کو کم سے کم تکلیف پہنچے، نہ کہ ہر بار عوام ہی سزا بھگتیں۔
عوام کو ریلیف چاہیے، راستوں کی بندش اور مشکلات نہیں۔