Daily Burki Time

Daily Burki Time Highlights The Voice of people in world forams

سراروغہ ہسپتال پر مبینہ پولیس قبضہ، ہزاروں شہری بنیادی طبی سہولیات سے محروممقامی آبادی کا ہسپتال فوری واگزار کرانے، طبی ...
22/07/2026

سراروغہ ہسپتال پر مبینہ پولیس قبضہ، ہزاروں شہری بنیادی طبی سہولیات سے محروم

مقامی آبادی کا ہسپتال فوری واگزار کرانے، طبی خدمات کی بحالی اور حکومتی مداخلت کا مطالبہ

سراروغہ (نمائندہ خصوصی): ضلع جنوبی وزیرستان اپر کے صدر مقام سراروغہ میں واقع سرکاری ہسپتال گزشتہ تین سے چار برس سے مبینہ طور پر پولیس فورس کے زیرِ استعمال ہونے کے باعث اپنی اصل حیثیت کھو بیٹھا ہے، جس کے نتیجے میں علاقے کے ہزاروں شہری بنیادی طبی سہولیات سے محروم ہو چکے ہیں۔ مقامی آبادی کے مطابق ہسپتال کی عمارت کو پولیس لائن، ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) کے دفتر اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹس آف پولیس (ڈی ایس پیز) کی رہائش گاہوں میں تبدیل کر دیا گیا ہے، جبکہ علاج و معالجے کی سرگرمیاں عملاً معطل ہیں۔

علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ ایک ایسے خطے میں، جہاں صحت کی سہولیات پہلے ہی محدود ہیں، واحد سرکاری ہسپتال کی غیر فعالیت نے عوام کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے۔ مریض، بالخصوص خواتین، نومولود بچے، بزرگ اور ہنگامی طبی امداد کے محتاج افراد کو علاج کی غرض سے ضلع ٹانک اور دیگر دور دراز اضلاع کے ہسپتالوں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ ان کے مطابق اس طویل اور دشوار سفر کے باعث نہ صرف قیمتی وقت ضائع ہوتا ہے بلکہ بعض اوقات مریضوں کی جانیں بھی خطرے سے دوچار ہو جاتی ہیں۔

مقامی شہریوں نے محکمہ صحت خیبر پختونخوا پر مبینہ غفلت اور عدم توجہی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسلسل عوامی شکایات کے باوجود ہسپتال کو فعال بنانے یا متبادل انتظامات یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کیے گئے، جس کے باعث عوام صحت جیسی بنیادی آئینی سہولت سے محروم ہیں۔

اب کانیگرم کی عوام کیلیے سہولت اور آسانی ھو ہر ایک ڈرایور اور اسکا نمبر اس بورڈ میں درج ھے
15/07/2026

اب کانیگرم کی عوام کیلیے سہولت اور آسانی ھو ہر ایک ڈرایور اور اسکا نمبر اس بورڈ میں درج ھے

جنوبی وزیرستان: جنوبی وزیرستان (اپر) میں یونیسیف کے تعاون سے پولیو ویکسینیشن پر کام کرنے والی این جی او کام نیٹ کی حالیہ...
01/05/2026

جنوبی وزیرستان: جنوبی وزیرستان (اپر) میں یونیسیف کے تعاون سے پولیو ویکسینیشن پر کام کرنے والی این جی او کام نیٹ کی حالیہ بھرتیوں پر شفافیت کے حوالے سے سنگین سوالات اٹھنے لگے ہیں، جہاں امیدواروں نے من مانی اور اقربا پروری کے الزامات عائد کر دیے ہیں۔
یونیسیف کے مالی تعاون سے چلنے والی اس تنظیم میں حالیہ بھرتیوں کے دوران خاص طور پر CIBO (Community Influencer Block Officer) اور CIM (Community Influencer Mobilizer) کی خالی آسامیوں پر تقرریاں کی گئیں، جن کے حوالے سے امیدواروں نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ذرائع کے مطابق کام نیٹ کی جانب سے 35 سے زائد امیدواروں کو “انٹیلیجنس ویریفیکیشن” کا جواز پیش کرتے ہوئے مسترد کر دیا گیا، جبکہ مبینہ طور پر من پسند افراد کو میرٹ کے برعکس منتخب کر لیا گیا۔متاثرہ امیدواروں کا کہنا ہے کہ بھرتی کے عمل میں نہ صرف شفافیت کا فقدان رہا بلکہ اہل اور مستحق افراد کو نظر انداز کیا گیا۔امیدواروں نے الزام لگایا کہ انٹیلیجنس ویریفیکیشن کو بطور بہانہ استعمال کرتے ہوئے متعدد افراد کو بغیر واضح وجوہات کے ریجیکٹ کیا گیا، جس سے نوجوانوں میں شدید مایوسی پھیل گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر بھرتی کا عمل صاف اور میرٹ پر مبنی ہوتا تو اس قسم کے تحفظات جنم نہ لیتے۔
متاثرہ امیدواروں نے ڈپٹی کمیشنر جنوبی وزیرستان اپر اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی شفاف تحقیقات کر کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے اور مستحق امیدواروں کو ان کا حق دیا جائے۔دوسری جانب کام نیٹ کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال ان الزامات پر کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا، جس کے باعث امیدواروں میں مایوسی مزید بڑھ گئی ہے۔
UNICEF UNICEF Pakistan Deputy Commissioner South Waziristan Upper Home & Tribal Affairs Department Khyber Pakhtunkhwa PMRU Khyber Pakhtunkhwa Chief Minister Khyber Pakhtunkhwa Chief Secretary Khyber Pakhtunkhwa Government of Pakistan Pakistan Polio Eradication Initiative

میڈیا قوانین کے خلاف صوبائی کنونشن کا اعلامیہ جاری، پیکا ترامیم مسترد، کالے قانون کے خلاف سیاسی قیادت اور صوبہ بھر کے صح...
17/04/2026

میڈیا قوانین کے خلاف صوبائی کنونشن کا اعلامیہ جاری، پیکا ترامیم مسترد، کالے قانون کے خلاف سیاسی قیادت اور صوبہ بھر کے صحافی ایک، پارلیمنٹ ہاؤس کے گھیراؤ کا اعلان

پشاور (نمائندہ خصوصی ) پشاور پریس کلب اور خیبر یونین آف جرنلسٹس کی میزبانی اور پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (PFUJ) کے تعاون سے منعقدہ میڈیا لاز، ریگولیشن اینڈ ایتھکس کے عنوان سے ایک بڑے صوبائی کنونشن نے وفاقی حکومت کی جانب سے پیکا قوانین میں کی گئی حالیہ ترامیم کو ظالمانہ کالا قانون قرار دے کر باضابطہ طور پر مسترد کر دیا ہے۔

پشاور پریس کلب میں منعقدہ اس کنونشن کے دوران صدر خیبر یونین آف جرنلسٹس کاشف الدین سید نے ایک جامع قرارداد پیش کی، جسے خیبر پختونخوا کے تمام اضلاع سے آئے ہوئے سینکڑوں صحافیوں نے بھاری اکثریت سے منظور کیا۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ صحافیوں کے خلاف پیکا کے تحت قائم تمام مقدمات فوری واپس لیے جائیں اور ریاستی چوتھے ستون کے خلاف سیاسی انتقام بند کیا جائے۔ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے پی ایف یو جے کے صدر افضل بٹ، سینئر صحافی مظہر عباس، ناصر زیدی، ارشد انصاری، شہزادہ ذوالفقار، فوزیہ شاہد اور دیگر صحافتی رہنماؤں نے وفاقی حکومت کی وعدہ خلافیوں کی شدید مذمت کی اور کہا کہ صحافیوں کو پروازوں سے اتارنا اور عدالتی ہراسانی ناقابلِ برداشت ہے۔

سیاسی قائدین میں عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر میاں افتخار حسین، جماعت اسلامی خیبر پختونخوا شمالی کے امیر عنایت اللہ خان اور جے یو آئی کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات مولوی جلیل جان نے صحافیوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے کا عہد کیا اور آزادیِ صحافت کو جمہوریت کی بقا قرار دیا۔

مقررین نے واضح کیا کہ معاشی دباؤ کے ذریعے میڈیا کا گلا گھونٹنا بند کیا جائے اور اشتہارات کے واجبات کی ادائیگی کو کارکنوں کی تنخواہوں سے مشروط کیا جائے۔

کنونشن کے آخری حصے میں وزیرِ اعلیٰ کے مشیر برائے اطلاعات شفیع اللہ جان نے حکومتی نمائندگی کرتے ہوئے پشاور پریس کلب اور کے یو جے کے قائدین کو یقین دلایا کہ خیبر پختونخوا حکومت جرنلسٹ پروٹیکشن کمیشن کے قیام اور کارکنوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے تمام رکاوٹیں دور کرے گی۔

اس موقع پر یہ عزم دہرایا گیا کہ اگر کالے قوانین واپس نہ لیے گئے تو 3 مئی کو اسلام آباد دھرنے کا باقاعدہ اعلان کیا جائیگا ایک قومی تحریک شروع کی جائے گی، کیونکہ حق اور سچ کی یہ جدوجہد آنے والی نسلوں کے مستقبل کے لیے ناگزیر ہے۔

08/04/2026

🎥 ڈی آر سی (Dispute Resolution Council) – عوامی خدمت کی ایک شاندار مثال

عوام کی سہولت اور فوری انصاف کی فراہمی کے لیے ڈی آر سی ایک مؤثر اور کامیاب اقدام ہے۔ اس ویڈیو میں آپ دیکھ سکتے ہیں:

✅ ڈی آر سی میں درخواست دینے کا مکمل طریقہ کار
✅ جدید ایپلیکیشن سسٹم کا استعمال
✅ ہماری نمایاں کامیابیاں (Milestones & Achievements)
✅ علاقے کے لوگوں کے لیے اس کے مثبت اثرات

ڈی آر سی نہ صرف تنازعات کو جلد اور خوش اسلوبی سے حل کرتا ہے بلکہ عدالتوں پر بوجھ کم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

📌 آئیں، اس جدید اور عوام دوست نظام سے فائدہ اٹھائیں اور اپنے مسائل کو پرامن طریقے سے حل کریں۔

▶️ مکمل ویڈیو دیکھیں اور اپنی رائے ضرور دیں۔

05/04/2026

جنوبی وزیرستان میں حالیہ شدید بارشوں کے باعث کوٹ کائی، کڑمہ کانیگرم روڈ کئی مقامات پر کیچڑ اور پھسلن کا شکار ہوگئی، جس کے نتیجے میں مسافروں اور مقامی آبادی کو آمد و رفت میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

بارشوں کے بعد متعدد گاڑیاں سڑک پر پھنس گئیں، جبکہ بعض علاقوں میں ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہوئی۔ ندی نالوں میں آنے والی سیلابی ریلوں کے باعث بھی کئی گاڑیاں راستے میں پھنس گئیں، جنہیں ٹریکٹروں کی مدد سے نکالا گیا۔

صورتحال کے پیش نظر ایف سی 223 ونگ نے امدادی سرگرمیاں تیز کرتے ہوئے متاثرہ مقامات پر اہلکار تعینات کر دیے ہیں۔ ایف سی اہلکار سڑکوں اور ندی نالوں میں پھنسنے والی گاڑیوں کو ٹریکٹروں کی مدد سے نکال رہے ہیں تاکہ مسافروں کو بروقت سہولت فراہم کی جا سکے اور آمد و رفت بحال رہے۔

مقامی افراد نے امدادی کارروائیوں کو سراہتے ہوئے متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ سڑک کی مستقل مرمت اور نکاسی آب کے مؤثر انتظامات کئے جائیں تاکہ مستقبل میں ایسے مسائل سے بچا جا سکے۔

جنوبی وزیرستان : جنوبی وزیرستان اپر کے علاقے سراروغہ میں قائم گورنمنٹ ہائی سکول کا امتحانی مرکز انتظامی مسائل اور بنیادی...
01/04/2026

جنوبی وزیرستان : جنوبی وزیرستان اپر کے علاقے سراروغہ میں قائم گورنمنٹ ہائی سکول کا امتحانی مرکز انتظامی مسائل اور بنیادی سہولیات کی کمی کے باعث شدید تنقید کی زد میں آ گیا ہے، جس پر طلباء اور ان کے والدین نے فوری اقدامات کا مطالبہ کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق سکول انتظامیہ نے پہلے ہی 25 مارچ 2026 کو ایک باضابطہ خط کے ذریعے امتحانی ہال (B) کی سراروغہ میں الاٹمنٹ پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے انفراسٹرکچر کی کمزوری، محدود جگہ اور بنیادی سہولیات کی کمی کی نشاندہی کی تھی، جبکہ 29 مارچ کو ایک اور مراسلے میں تقریباً 50 کلومیٹر دور سے امتحانی پرچوں کی ترسیل کے باعث پیدا ہونے والے مسائل، تاخیر اور انتظامی دباؤ کو اجاگر کیا گیا تھا۔
حالیہ میڈیا وزٹ کے دوران بھی ان خدشات کی تصدیق ہوئی، جہاں امتحانی مرکز میں فرنیچر، رہائش اور دیگر سہولیات کے فقدان کی نشاندہی کی گئی، جبکہ امتحانی عملے کو درپیش سفری مشکلات اور اضافی اخراجات بھی سامنے آئے۔ طلباء نے امتحانات کے اوقات میں تاخیر اور رہائش کے مسائل پر تحفظات کا اظہار کیا، جو ان کی کارکردگی پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ جنوبی وزیرستان جیسے جغرافیائی اور سیکیورٹی کے لحاظ سے حساس علاقے میں امتحانات کا انعقاد ایک بڑا انتظامی چیلنج ہے، جہاں محدود وسائل اور رسائی کے مسائل انتظامیہ کے لیے مشکلات پیدا کرتے ہیں، تاہم اس کے باوجود مقامی سطح پر مسائل کا بروقت حل ناگزیر ہے۔
اس بارے جب بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ڈیرہ اسماعیل خان کے کنٹرولر سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اس حوالے سے موقف دینے سے گریز کیا۔
ادھر طلباء اور ان کے والدین نے مطالبہ کیا ہے کہ امتحانی مرکز میں فوری طور پر بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں یا اسے کسی موزوں مقام پر منتقل کیا جائے، جبکہ بعض حلقوں نے معاملے کی شفاف تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطحی انکوائری کمیشن کے قیام کی تجویز بھی پیش کی ہے۔ تعلیمی ماہرین کے مطابق سراروغہ کا معاملہ اداروں کے لیے ایک اہم موقع ہے کہ وہ زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی حکمت عملی کو بہتر بنائیں تاکہ طلباء کو سہولت، تحفظ اور معیاری تعلیمی ماحول فراہم کیا جا سکے۔

ڈپٹی کمشنر جنوبی وزیرستان اپر عصمت اللہ وزیر نے دوران ڈیوٹی آپنے فرائض کو احسن طریقے سے سر انجام کے پاداش میں محمد شعیب ...
27/02/2026

ڈپٹی کمشنر جنوبی وزیرستان اپر عصمت اللہ وزیر نے دوران ڈیوٹی آپنے فرائض کو احسن طریقے سے سر انجام کے پاداش میں محمد شعیب سب انسپکٹر جنوبی وزیرستان اپر پولیس کو تعریفی سرٹیفکیٹ سے نوازا گیاہے،

جنوبی وزیرستان اپر: ڈپٹی کمشنر جنوبی وزیرستان اپر، عصمت اللہ وزیر نے دورانِ ڈیوٹی اپنے فرائض نہایت ذمہ داری اور پیشہ ورانہ مہارت سے سرانجام دینے پر سب انسپکٹر محمد شعیب کو تعریفی سرٹیفکیٹ سے نواز دیا۔
سب انسپکٹر محمد شعیب کی بہترین کارکردگی، فرض شناسی اور عوامی خدمت کے جذبے کو سراہتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ایسے افسران محکمہ پولیس کا فخر ہیں اور دوسروں کے لئے قابلِ تقلید مثال ہیں۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اعزاز کو محکمہ پولیس کی مجموعی کارکردگی اور عوامی خدمت کے عزم کی علامت قرار دیا گیا۔

ضم شدہ قبائلی اضلاع کے 16 طلبہ کا سوات، گلیات اور کاغان کا مطالعاتی دورہ مکملجنوبی وزیرستان : سابقہ فاٹا یعنی ضم شدہ قبا...
08/02/2026

ضم شدہ قبائلی اضلاع کے 16 طلبہ کا سوات، گلیات اور کاغان کا مطالعاتی دورہ مکمل

جنوبی وزیرستان : سابقہ فاٹا یعنی ضم شدہ قبائلی اضلاع سے تعلق رکھنے والے 16 طلبہ نے شمالی علاقہ جات سوات، گلیات اور کاغان کا تین روزہ مطالعاتی دورہ مکمل کر لیا۔ اس دورے کا مقصد نوجوانوں کو ملک کے خوبصورت علاقوں سے روشناس کرانا، تعلیمی و ثقافتی آگاہی فراہم کرنا اور انہیں مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب کرنا تھا۔

اس مطالعاتی دورے میں باجوڑ سے لے کر جنوبی وزیرستان لوئر (وانا) تک مختلف ضم شدہ اضلاع کے طلبہ نے شرکت کی۔ طلبہ نے اس موقع پر ڈائریکٹر یوتھ افیئرز ڈاکٹر نعمان اور ان کی ٹیم کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کاوشوں سے قبائلی اضلاع کے نوجوانوں کو تعمیری اور مثبت مواقع میسر آ رہے ہیں۔

طلبہ کا کہنا تھا کہ ایسے مطالعاتی دورے نہ صرف ان کے تعلیمی تجربات میں اضافہ کرتے ہیں بلکہ مختلف ثقافتوں اور علاقوں کو قریب سے دیکھنے کا موقع بھی فراہم کرتے ہیں، جس سے ان کی سوچ میں وسعت پیدا ہوتی ہے اور قومی ہم آہنگی کو فروغ ملتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ڈائریکٹر یوتھ افیئرز ڈاکٹر نعمان اور ان کی ٹیم نوجوانوں کی فلاح و بہبود، صلاحیتوں کے فروغ اور ترقی کے لیے مسلسل عملی اقدامات کر رہی ہے، جو قابلِ تحسین ہیں۔ طلبہ نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں بھی اس نوعیت کی سرگرمیاں جاری رہیں گی تاکہ قبائلی نوجوان ملکی ترقی میں مزید مؤثر کردار ادا کر سکیں۔

قبائلی عمائدین نے بھی ڈائریکٹر یوتھ افیئرز ڈاکٹر نعمان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام قبائلی اضلاع کے لیے مثبت اثرات مرتب کرے گا۔ انہوں نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سے مطالبہ کیا کہ ڈائریکٹر یوتھ افیئرز کو مزید فنڈز فراہم کیے جائیں تاکہ قبائلی اضلاع میں اس طرح کی سرگرمیاں تسلسل کے ساتھ جاری رہ سکیں۔

ایم پی اے اصف خان محسود کا ڈسٹرکٹ پریس کلب جنوبی وزیرستان اپر کا دورہ، نو منتخب کابینہ کو مبارکبادجنوبی وزیرستان اپر: تف...
29/01/2026

ایم پی اے اصف خان محسود کا ڈسٹرکٹ پریس کلب جنوبی وزیرستان اپر کا دورہ، نو منتخب کابینہ کو مبارکباد
جنوبی وزیرستان اپر: تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف وزیرستان اپر سے منتخب نمائندہ ایم پی اے اصف خان محسود نے ڈسٹرکٹ پریس کلب جنوبی وزیرستان اپر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے پریس کلب کی نو منتخب کابینہ کو مبارکباد پیش کی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
ایم پی اے اصف خان محسود کے ہمراہ اس موقع پر آئی ایس ایف کے صدر بلال درویش، ایم پی اے کے پرسنل سیکرٹری عبداللہ محسود، پی ٹی آئی رہنما عبدالجبار خان محسود اور دیگر پارٹی اراکین بھی موجود تھے، جبکہ چیئرمین امیر محمد نے بھی شرکت کی۔ وفد کی موجودگی نے دورے کو سیاسی اور تنظیمی طور پر اہم بنا دیا، جہاں تمام رہنماؤں نے پریس کلب کے عہدیداران سے ملاقات کی اور باہمی امور پر تبادلہ خیال کیا۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے اصف خان محسود نے کہا کہ صحافی کسی بھی معاشرے کی آنکھ اور کان ہوتے ہیں اور ریاست کا چوتھا ستون تصور کیے جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنقید برائے اصلاح کسی بھی معاشرے کو درست سمت میں لانے کے لیے نہایت اہم کردار ادا کرتی ہے، اور پاکستان تحریک انصاف سمیت وہ خود بھی تنقید برائے اصلاح کے حامی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مثبت تنقید کا ہمیشہ خیر مقدم کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ڈسٹرکٹ پریس کلب جنوبی وزیرستان اپر میں آزادیِ رائے کے اظہار کا علم بلند رکھا گیا ہے، جس پر انہیں فخر ہے۔ یہاں ایسے صحافی موجود ہیں جو علاقائی مسائل کو وقتاً فوقتاً اجاگر کرتے رہتے ہیں اور علاقے کی آواز کو مجھ سمیت ہر متعلقہ فرد تک پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔
بعد ازاں پریس کلب کے عہدیداران کی جانب سے ایم پی اے اصف خان محسود اور ان کے ہمراہ آنے والے وفد کا شکریہ ادا کیا گیا۔ انہیں "دے لغاری غوڑہ" کے اسٹوڈیو کا بھی دورہ کرایا گیا، جہاں انہوں نے اس پروگرام کو سراہتے ہوئے اسے صحافتی تاریخ میں ایک مثبت اضافہ قرار دیا۔

Address

Islamabad

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Daily Burki Time posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share