Muntazir-e-Mehdi

Muntazir-e-Mehdi السلام عليك يا لثارات الحسين عليه السلام
Peaceful Ansar

Peaceful Ansar is a community dedicated to promoting harmony and support.

We aim to create a peaceful environment by uniting individuals who value kindness, understanding, and respect.

https://www.facebook.com/share/p/14dXJsKAAme/
11/03/2026

https://www.facebook.com/share/p/14dXJsKAAme/

آیت اللہ مرعشی نجفی فرماتے ہیں : ایک رات میں نے خواب میں دیکھا میں مسجد کوفہ کے کونے میں بیٹھا ہوا ہوں اور مولا امیر المومنین علیؑ ایک جماعت کے ساتھ حاضر ہوئے حضرت نے فرمایا : ہمارے اہل بیتؑ کی مدح بیان کریں والے شاعروں کو لاوٴ عرب شاعروں کو لایا گیا پھر فرمایا : فارسی زبان کے شعر بھی لے آؤ پھر محتشم اور کئی فارسی شاعر آئے پھر فرمایا ہمارا شہریار کہاں ہے ؟ شہریار آیا حضرت نے شہریار کو مخاطب کر کے فرمایا : نظم پڑھو ! شہریار نے یہ شعر سنایا :
" علیؑ ای همای رحمت تو چه آیتی خدارا که به ما سوا فکندی همه سایه ی هما را "
" اے علیؑ اے ہمائے رحمت تو خدا کی کیسی نشانی ہے کہ تیرے ہما کے سائے نے پوری کائنات کو ڈھکا ہوا ہے "
" اگلے دن میں نے پوچھا شہریار شاعر کون ہے ؟ پتا چلا تبریز میں ایک شاعر ہے میں نے شہریار کو قم آنے کی دعوت دی "
کچھ دنوں بعد جب شہریار آیا میں نے وہی شخص دیکھا جو میں نے خواب میں دیکھا تھا میں نے پوچھا : یہ نظم آپ نے کب لکھی ؟ شہریار نے حیرانگی سے پوچھا : آپ کو کیسے پتا ؟ میں نے یہ نظم کسی کو نہیں دی اور نہ ہی کسی سے اس پر بحث کی ہے "
شہریار نے جب آیت اللہ مرعشی کا خواب سنا تو وہ پریشان ہو گیا اور جب شہریار نے نظم لکھنے کی تاریخ اور وقت بتایا تو پتہ چلا کہ خواب اسی وقت آیا تھا جب آخری بند کی تکمیل ہو رہی تھی "
آیت اللہ مرعشی نے فرمایا : یقیناٙٙ شہریار کو اس غزل کی تالیف کی ترغیب ملی جو ان عظیم موضوعات کے ساتھ ایسی غزل لکھنے پر قادر ہے بلاشبہ وہ حضرت فاطمہ زہراؑ کی اولاد میں سے بھی ہیں "
" حوالہ : مجتهدی، مهدی/ امام علی (ع) در نگاه شهریار.- مشهد:کتابخانه تخصصی امیرالمومنین علی (ع)، 1380.ص 9و10.
" محمد حسین شہریار کی غزل
علی اے ہمائے رحمت تو چہ آیتی خدا را​
کہ بہ ماسوا فکندی ہمہ سایۂ ہما را​
اے علیؑ اے ہمائے رحمت تو خدا کی کیسی نشانی ہے کہ تیرے ہما کے سائے نے پوری کائنات کو ڈھکا ہوا ہے
​
دل اگر خدا شناسی ہمہ در رخِ علی بیں​
بہ علی شناختم من بہ خدا قسم خدا را​
اے دل اگر تو خدا شناس ہے تو ہر چیز کا رخِ علیؑ میں مشاہدہ کر کیونکہ خدا کی قسم میں نے خدا کو بھی علیؑ سے ہی پہچانا ہے
​
بہ خدا کہ در دو عالم اثر از فنا نمانَد​
چو علی گرفتہ باشد سرچشمۂ بقا را​
خدا کی قسم ! اگر علیؑ سرچشمۂ بقا کو ہاتھوں میں تھام لے تو دونوں جہانوں میں فنا کا ذرہ بھی باقی نہ رہے
​
مگر اے سحابِ رحمت تو بباری ارنہ دوزخ​
بہ شرارِ قہر سوزد ہمہ جانِ ماسوا را​
اے سحاب رحمت ! امید ہے کہ تو اپنی رحمت کو ہم پر برساتا رہے گا کیونکہ اگر تو نے ایسا نہ کیا تو دوزخ اپنے قہر کی چنگاری سے ماسوا کو جلا کر خاکستر کر دے گی
​
برو اے گدائے مسکیں درِ خانۂ علی زن​
کہ نگینِ پادشاہی دہد از کرم گدا را​
اے گدائے مسکیں ! جاؤ اور علیؑ کا گھر کا دروازہ کھٹکٹاؤ کیونکہ وہ اپنے کرم سے گدا کو بادشاہی انگوٹھی سونپ دیتا ہے یہاں شاید اس روایت کی طرف تلمیح ہے جس میں حضرت علیؑ نے رکوع کے بیچ اپنی انگوٹھی اتار کر سائل کو سونپ دی تھی
​
بجز از علی کہ گوید بہ پسر کہ قاتلِ من​
چو اسیرِ تست اکنوں، بہ اسیر کن مدارا​
اس عالم میں علیؑ کے سوا ایسا کون گزرا ہے کہ جو اپنے بیٹے کو یہ کہے کہ چونکہ میرا قاتل اب تمہارا اسیر ہے اُس سے نیک برتاؤ کرو حضرت علیؑ نے امام حسن کو اپنے آخری وقت وصیتؑ کی تھی کہ ابنِ ملجم کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے
​
بجز از علی کہ آرد پسرے ابوالعجائب​
کہ عَلَم کند بہ عالم شہدائے کربلا را​
علیؑ کے علاوہ کس نے ایسا بیٹا جنا ہے کہ جو دنیا کے سامنے شہدائے کربلا جیسوں کا نام درخشاں کرے ؟
​
چو بہ دوست عہد بندد زِ میانِ پاکبازاں​
چو علی کہ می تواند کہ بسر بُرَد وفا را​
جملہ پاکبازوں میں ایسا کون علیؑ کی طرح ہے کہ جب اپنے دوست سے وہ عہد باندھے تو اُس کو انتہا تک لے جا کر وفا کرے ؟ یہ شبِ ہجرت کی طرف تلمیح ہے جب رسول اللہؐ نے حضرت علیؑ کو اپنے بستر پر سونے کا حکم دیا تھا بہ سر بُردن کا محاورتاً مطلب تو وعدہ پورا کرنا انتہا تک لے جانا ہے لیکن اس کے لفظی مطلب یعنی سر تک لے جانا سے بھی ایک لطیف اشارہ ملتا ہے کیونکہ حضرت علیؑ کو ابنِ ملجم نے پیشانی پر ضرب ماری تھی
​
نہ خدا توانمش خواند، نہ بشر توانمش گفت​
متحیرم چہ نامم شہِ ملکِ لافتیٰ را​
نہ انہیں خدا پکار سکتا ہوں نہ ہی بشر کہہ سکتا ہوں میں حیراں ہوں کہ پھر میں ملکِ لافتیٰ کے بادشاہ حضرت علیؑ کو کیا نام دوں ؟​
​
بدو چشمِ خوں فشانم، ہلہ اے نسیمِ رحمت​
کہ زِ کوئے او غبارے بہ من آر توتیا را​
ہاں اے نسیم رحمت میری دو خوں فشاں آنکھوں کی جانب توجہ کرو اور اُس کی گلی کی خاک سے میری اِن آنکھوں کے لیے بھی سرما لے آؤ

​بہ امیدِ آں کہ شاید برسد بہ خاکِ پایت​
چہ پیامہا سپردم ہمہ سوزِ دل صبا را​
میں نے کتنے ہی اپنے جلتے دل سے کہے پیغامات صرف اس امید پر صبا کے سپرد کر دیے ہیں کہ شاید وہ کسی روز آپ کے قدموں کی خاک پر پہنچ کر پذیرائی کا شرف پا جائیں
​
چو توئی قضاے گرداں، بہ دعائے مستمنداں​
کہ زِ جانِ ما بگرداں رہِ آفتِ قضا را​
اے علیؑ چونکہ تو ہی قضا کو پلٹانے والا ہے اس لیے تجھے دردمندوں کی دعا کا واسطہ دیتا ہوں کہ میری جان پر سے بھی قضا کی آفت کو پلٹا دے
​
چہ زنم چو نائے ہر دم زِ نوائے شوقِ او دم​
کہ لسانِ غیب خوشتر بنوازد ایں نوا را​
میں ہر وقت بجنے والی بانسری کی طرح کیسے اُس کے اشتیاق میں حرف زنی کروں؟ کہ لسان الغیب حافظ شیرازی اس نغمہ سرائی میں مجھے سے بڑھ کر قادر ہے یعنی اس طرح کے مطالب کی حافظ شیرازی زیادہ بہتر ادائیگی کر سکتے ہیں
​
"ہمہ شب در ایں امیدم کہ نسیمِ صبحگاہی​
بہ پیامِ آشناے بنوازد آشنا را "​
میں پوری رات اسی امید میں گزارتا ہوں کہ شاید صبح کی ہوا مجھ آشنا شاعر کو محبوب حضرت علیؑ کے پیام سے نواز دے یہ شعر حافظ شیرازی کا ہے
​
زِ نوائے مرغِ یا حق بشنو کہ در دلِ شب​
غمِ دل بہ دوست گفتن چہ خوشست شہریارا​
اے شہریار ! خدا کا ذکر کرنے والے مرغ کی نوا سنو اور توجہ کرو کہ محبوبِ ازلی کو رات کی تاریکی میں غمِ دل سنانا کتنا مسرور کن ہوتا ہے

01/03/2026

😭😭😭😭

عالمِ ارواح میں شہید ملک عون کی شہید اعتزاز حسن کے ساتھ ملاقاتیہ قوم کا ہی نہیں اسلام کا بھی ہیرو ہے۔شہید عون عباس۔۔ حکو...
08/02/2026

عالمِ ارواح میں شہید ملک عون کی شہید اعتزاز حسن کے ساتھ ملاقات

یہ قوم کا ہی نہیں اسلام کا بھی ہیرو ہے۔
شہید عون عباس۔۔ حکومت وقت سے مطالبہ ہے کہ شہید عون عباس کو قومی ہیرو کا درجہ دیا جائے ۔۔ یہ وہ ہیرو ہے جس نے دہ ش ت گ رد کو دروازے تک محدود کیا روکا
اور وہ اس جگہ داخل نا ہو سکا جہاں نماز ہو رہی تھی۔ اگر دہ ش ت گ رد نمازیوں کے درمیان جا کر ح--ملہ کرتا تو شہادتیں اس سے بھی زیادہ ہوتیں ۔۔

04/02/2026

🌙 ولادت باسعادت امامِ زمانہؑ مبارک 🌙

۱۵ شعبان المعظم، وہ بابرکت دن ہے جب اللہ نے انسانیت کو امید کا تحفہ عطا کیا۔
امام محمد بن حسن المہدیؑ کی ولادت اس بات کی ضمانت ہے کہ ظلم جتنا بھی طاقتور ہو، انجامِ کار حق ہی غالب آتا ہے۔

امام مہدیؑ عدل، صبر اور الٰہی وعدے کی زندہ مثال ہیں۔
آپؑ کی غیبت ہمیں صبر سکھاتی ہے، اور آپؑ کا انتظار ہمیں خود کو بہتر بنانے کا درس دیتا ہے۔
منتظر ہونا صرف انتظار نہیں، بلکہ حق کے ساتھ کھڑے رہنا، ظلم سے نفرت کرنا اور اپنے کردار کو پاکیزہ بنانا ہے۔

شبِ برات کی اس مقدس رات میں، جب رحمت کے دروازے کھلے ہوتے ہیں اور تقدیریں لکھی جاتی ہیں،
ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ ہمیں سچے منتظرین میں شامل فرمائے،
ہمارے گناہ معاف فرمائے،
اور ہمیں امامِ زمانہؑ کے ظہور کے لیے تیار کرے۔

🤲 یا صاحب الزماںؑ، ہم آپ کے منتظر ہیں
اللہ ہمیں آپؑ کے ظہور کے وقت آپؑ کا ساتھ دینے کی توفیق عطا فرمائے۔

✨ ولادتِ امامِ مہدیؑ اور شبِ برات مبارک ہو ✨










ؑ
ؑ


#منتظر
ؑ







15/12/2024

شدید سردی اور میڈیسن کی عدم دستیابی سے ڈسٹرکٹ ہسپتال پاراچنار نرسری وارڈ میں مزید 2 بچے جان کی بازی ہار گئے
صرف دو دنوں میں جانبحق بچوں کی تعداد 21 ہوگئی

پارہ چنار سے تعلق رکھنے والی ایک اور معصوم بچی بروقت علاج نہ پہنچنے کی وجہ سے اور راستے کی بندش کی وجہ سے اج ایک اور معص...
13/12/2024

پارہ چنار سے تعلق رکھنے والی ایک اور معصوم بچی بروقت علاج نہ پہنچنے کی وجہ سے اور راستے کی بندش کی وجہ سے اج ایک اور معصوم بچی اپنی حقیقی رب سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جا ملے
😥😥😥😥😥

22/11/2024

The situation in is worsening as violent clashes erupt after the horrific attack on passengers. Sectarian strife has once again gripped the region, with thousands of lives lost over the years. Terrorist elements have turned the Thall-Parachinar road into a death trap for the Shia community. We appeal the Federal & Provincial Governments to prioritize human lives over politics, take decisive action, restore peace, and protect the people before more innocent lives are lost. Feel pity on Pakistan 🇵🇰

Address

Islamabad
26400

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Muntazir-e-Mehdi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category