03/09/2026
"مارکس کا مطالعہ کرتا چنگیز خان" — کیا یہ محض ایک طنزیہ جملہ ہے؟
نصیر احمد کی نئی تحریر چنگیز خان، صوفی روایت، تیموری سیاست، اشتراکیت اور فاش ازم کے درمیان ایک غیر معمولی مگر اہم مماثلت کی طرف اشارہ کرتی ہے:
کامل مقصد کا دعویٰ،
مطلق اطاعت کا تقاضا،
اور اس مقصد کے نام پر انسانوں کی بربادی سے بے نیازی۔
جب روحانی اقتدار اور سیاسی اقتدار ایک دوسرے کو جواز فراہم کرنے لگیں تو "مقدس مقصد" اور "مکمل طاقت" کا امتزاج کتنا خطرناک ہو سکتا ہے؟
اور پھر بکارن کا وہ طنزیہ فقرہ یاد آتا ہے:
"سٹالن، مارکس کا مطالعہ کرتا چنگیز خان۔"
یہ تحریر اسی مشابہت کے پیچھے چھپی نفسیات اور کاملیت پسندی کے سیاسی نتائج کو کھنگالتی ہے۔
📖 مکمل تحریر، ایک #روزن پر:
"سٹالن، مارکس کا مطالعہ کرتا چنگیز خان — نصیر احمد"
خاقانِ اعظم بھی سمجھتے تھے کہ انھیں افلاک سے مِشن عطا ہوا ہے کہ وہ دنیا فتح کریں۔ اور صوفی بھی حقائق اُولیٰ سے انتہائی قربتوں کے دعوے دار ہوتے ہیں۔