ایک روزن aik Rozan

ایک روزن aik Rozan آپ اس وقت ایک روزن ڈاٹ کام کے فیس بک پیج پر ہیں۔
تحریری?

مکالمہ زندہ معاشرے کی پہچان ہے۔ اپنی بات کہنا اور دوسرے کی بات سننا انسانی رویّوں کے ارتقاء اور مہذب معاشرتی تشکیل کے لیئے ازحد ضروری ہے۔ بقول جون ایلیا
ایک ہی حادثہ تو ہے، اور وہ یہ کہ آج تک
بات نہیں کہی گئی۔ بات نہیں سُنی گئی
زبان بندی گھُٹن کا باعث بنتی ہے۔ جس سے عدم تحفظ اور غیر رواداری کو جنم ملتا ہے۔ اور پھر انسان اپنی پہچان کھو دیتا ہے۔ برداشت ختم ہو جاتی ہے۔ انسانیت دب جاتی ہے اور وحشت عیاں ہو جاتی ہے۔ جو مُکّمل تہذیبی شکست و ریخت پر مُنتج ہوتی ہے۔ انسان ، انسانی خُون کا پیاسا ہو جاتا ہے۔ مُحبت نا پید ہو جاتی ہے۔ لالچ، ہوس، حرص ، خود غرضی اور بے حسّی کا راج ہو جاتا ہے۔ اور یہ راج انسانی تاریخ کی کئی صدیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ گھُٹن اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ روح جسم کے اندر ہی کہیں مر جاتی ہے۔ اور زندہ لاشیں گلیوں، بازاروں اور شہروں میں چلتی پھرتی نظر آتی ہیں۔جس معاشرے میں ہم زندہ ہیں یہ اوپر پیش کیے گیئے منظر نامے سے مختلف نہیں ہے۔ آج انسانی خون جس قدرارزاں ہے، انسانی عزت و توقیر جس طرح پائمال ہے، انسانی روح جس قدر محبوس ہے یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ۔
بات نہیں کہی گئی۔ بات نہیں سُنی گئی
مکالمے کا یہ سلسلہ اسی گھُٹن میں ایک روزن مُہیا کرنے کی ادنیٰ سی کوشش ہے۔ تاکہ انسان، انسان کو سمجھ سکے۔ نفرتوں کو اپنے اندر سے باہر پھینک سکے، اپنے بوجھل پن کو ہلکا کرے اور محبت کرنا سیکھے

"مارکس کا مطالعہ کرتا چنگیز خان" — کیا یہ محض ایک طنزیہ جملہ ہے؟نصیر احمد کی نئی تحریر چنگیز خان، صوفی روایت، تیموری سیا...
03/09/2026

"مارکس کا مطالعہ کرتا چنگیز خان" — کیا یہ محض ایک طنزیہ جملہ ہے؟

نصیر احمد کی نئی تحریر چنگیز خان، صوفی روایت، تیموری سیاست، اشتراکیت اور فاش ازم کے درمیان ایک غیر معمولی مگر اہم مماثلت کی طرف اشارہ کرتی ہے:

کامل مقصد کا دعویٰ،

مطلق اطاعت کا تقاضا،

اور اس مقصد کے نام پر انسانوں کی بربادی سے بے نیازی۔

جب روحانی اقتدار اور سیاسی اقتدار ایک دوسرے کو جواز فراہم کرنے لگیں تو "مقدس مقصد" اور "مکمل طاقت" کا امتزاج کتنا خطرناک ہو سکتا ہے؟

اور پھر بکارن کا وہ طنزیہ فقرہ یاد آتا ہے:

"سٹالن، مارکس کا مطالعہ کرتا چنگیز خان۔"

یہ تحریر اسی مشابہت کے پیچھے چھپی نفسیات اور کاملیت پسندی کے سیاسی نتائج کو کھنگالتی ہے۔

📖 مکمل تحریر، ایک #روزن پر:

"سٹالن، مارکس کا مطالعہ کرتا چنگیز خان — نصیر احمد"


خاقانِ اعظم بھی سمجھتے تھے کہ انھیں افلاک سے مِشن عطا ہوا ہے کہ وہ دنیا فتح کریں۔ اور صوفی بھی حقائق اُولیٰ سے انتہائی قربتوں کے دعوے دار ہوتے ہیں۔

12/08/2026

حفیظ تبسم کی اردو کی افسانوی دنیا میں دوسری پیش کش ، مگر پہلے ناول پر…
#روزن
#یاسرچٹھہ

سیاست جب جمہوری مکالمے اور منطق کے بجائے مقدس تمثیلوں اور التجائے الٰہی کا لبادہ اوڑھ لے، تو اختلاف محض سیاسی نظریہ نہیں...
11/08/2026

سیاست جب جمہوری مکالمے اور منطق کے بجائے مقدس تمثیلوں اور التجائے الٰہی کا لبادہ اوڑھ لے، تو اختلاف محض سیاسی نظریہ نہیں رہتا، بَل کہ وہ گناہ، گُم راہی اور وجودی خیانت بن جاتا ہے۔

قدیم اکدی شہزادی اینہیدوانا کی دعائیہ تحریروں سے لے کر رومن خطابت، ابراہام لنکن کی اخلاقی اپیلوں، اور جدید عہد کی قومی ریاستوں تک... ذیل کی سطروں میں درج یہ مکالماتی تجزیہ تاریخ اور سیاسی سماجیات (political sociology) کی روشنی میں اُس مؤثر ’سماجی ٹیکنالوجی‘ کی جرّاحی کرتا ہے جس کے ذریعے اقتدار اپنے دُنیَوی مفادات کو 'خدائی ارادے' کے سانچے میں ڈھالتا ہے۔

جب حکم ران طبقہ مقدس الفاظ کو بَہ طورِ 'قبائلی نشانی' (tribal marker) استعمال کرنے لگے، تو جمہوری دائرے کی وسعت کس طرح دَم توڑنے لگتی ہے؟

یہ تحریر اسی زوال پذیر فکر کا فکری محاکمہ کرتی ہے۔

#روزن #یاسرچٹھہ

مکمل تحریر پڑھنے کے لیے ملاحظہ کیجیے:

یہیں سے سیاست اور مذہب کی وہ سرحد دُھندلی ہونا شروع ہوتی ہے جہاں اقتدار صرف دلائل نہیں دیتا؛ اقتدار اپنے لَبوں پر مقدس زبان کی کَیسِٹ چلا دیتا ہے۔ تاریخ پر نظر ڈالیں ت...

تاریخ محض فاتحین کا قصیدہ نہیں، بَل کہ اُس تباہی کا خاموش مرثیہ ہے جو 'نجات دہندوں' کے روپ میں آتی ہے۔میر تقی میر کی ’ذک...
11/08/2026

تاریخ محض فاتحین کا قصیدہ نہیں، بَل کہ اُس تباہی کا خاموش مرثیہ ہے جو 'نجات دہندوں' کے روپ میں آتی ہے۔
میر تقی میر کی ’ذکرِ میر‘ اٹھارویں صدی کے اُس برباد ہندوستان کا آئینہ ہے جہاں احمد شاہ ابدالی کی وحشت ہو یا سکھوں اور مرہٹوں کی یلغار، ہر نجات دہِندے کے پیچھے صرف قتل، لوٹ مار، اور نامُوس کی بربادی کی داستانیں ملتی ہیں۔ جب تاریخ پر تعصب اور ہیرو سازی کے پردے گرائے جاتے ہیں، تو میر کی یہ آفت زدہ آپ بیتی ہمیں بتاتی ہے کہ گروہی طور پر کوئی بھی بے گناہ نہیں تھا۔
نصیر احمد کا یہ تجزیہ ہندُوتوا اور خطے کی مجموعی سیاسی نرگسیت کے موجودہ تناظر میں تاریخ کی اُن بھیانک سچائیوں کا احاطہ کرتا ہے جنھیں ہم فلموں اور پروپیگنڈے کے دُھندلکے میں بھول چکے ہیں۔

مکمل تحریر پڑھنے کے لیے لنک پر کلک کریں:

https://www.aikrozan.com/meer-taqi-meer-autobiography-zikr-meer/

#روزن

آپ بیتی بھی ہے، لیکن جگ بیتی بھی ہے۔ میر صاحب اپنے زمانے کا حال بھی بھی بتاتے ہیں۔ اور حال کیا ہے مغل سلطنت کی ابتری کے بعد نراجیت، انتشار، قتل و غارت، لوٹ مار، چوری چ....

Digital safety is a leadership infrastructure issue — not an optional add-on.Developed collectively by women journalists...
02/03/2026

Digital safety is a leadership infrastructure issue — not an optional add-on.

Developed collectively by women journalists across Pakistan’s regions under the Women’s Participation & Inclusion Charter.



Leadership must include decision-making authority, not token visibility.Developed collectively by women journalists acro...
02/03/2026

Leadership must include decision-making authority, not token visibility.

Developed collectively by women journalists across Pakistan’s regions under the Women’s Participation & Inclusion Charter.



Economic sustainability is central to women’s long-term newsroom influence.Developed collectively by women journalists a...
02/03/2026

Economic sustainability is central to women’s long-term newsroom influence.

Developed collectively by women journalists across Pakistan’s regions under the Women’s Participation & Inclusion Charter.



اسلام آباد —1 مارچ 2026ڈیجیٹل میڈیا الائنس آف پاکستان (DigiMAP) نے، انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس (IFJ) اور نیشنل اِنڈاؤم...
01/03/2026

اسلام آباد —1 مارچ 2026

ڈیجیٹل میڈیا الائنس آف پاکستان (DigiMAP) نے، انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس (IFJ) اور نیشنل اِنڈاؤمنٹ فار ڈیموکریسی (NED) کے تعاون سے، خواتین قیادت سازی کے پائلٹ منصوبے "From Presence to Power: Building Women’s Leadership in DigiMAP" کے اشاعتی مرحلے کی تکمیل کا اعلان کر دیا ہے۔

یہ پائلٹ منصوبہ بلوچستان، خیبر پختونخوا، سندھ، پنجاب/اسلام آباد اور گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والی دس خواتین ڈیجیٹل میڈیا پروفیشنلز کو ایک جگہ جمع کیا۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد محض تربیت فراہم کرنا نہیں تھا، بَلکہ خواتین کی پیشہ ورانہ موجودگی کو ادارہ جاتی اثر و رُسوخ میں تبدیل کرنے کے لیے با ضابطہ قیادت سازی کا ڈھانچا تشکیل دینا تھا۔

منصوبے کے دوران شُرَکاء نے منظم قیادتی نشستوں اور سینئر خواتین میڈیا لیڈرز کے ساتھ باقاعدہ مینٹورشپ کے عمل میں حصہ لیا۔ ان نشستوں میں نیوز روم کی درجہ بندی، فیصلہ سازی تک رسائی، ڈیجیٹل سلامتی، معاشی پائیداری اور اداریاتی اختیار جیسے بنیادی موضوعات پر سنجیدہ مکالمہ اور گُفت و شُنید ہوئی۔

اس پائلٹ پراجیکٹ کا مرکزی حاصل "وِیمِنز پارٹِیسِپیشن اینڈ اِنکلوژن چارٹر" کی مشترکہ تیاری ہے، جس میں دس مرکزی پیغامات کے ذریعے خواتین کی میڈیا اداروں کے اندر اداریاتی قیادت کو محض نمائندگی کے بجائے ساختی اصلاح سے جوڑا گیا ہے۔ چارٹر اس امر پر زور دیتا ہے کہ قیادت کا مطلب صرف موجودگی نہیں، بلکہ فیصلہ سازی کا اختیار، محفوظ پیشہ ورانہ ماحول، معاشی استحکام اور پالیسی سطح پر شمولیت ہے۔

یہ پروگرام جغرافیائی تنوع کی نمایاں مثال ہے۔ بلوچستان کی تحقیقاتی صحافت سے لے کر خیبر پختونخوا کی اداریاتی خدمات، سندھ کی کہانی نویسی، پنجاب/اسلام آباد کی نیوز روم مینجمنٹ اور گلگت بلتستان کی آڈِیئنس انگیجمنٹ تک، اس منصوبے نے علاقائی ڈیجیٹل میڈیا اِیکو سِسٹم میں ابھرتی قیادت کو منظرِ عام پر لایا۔

منصوبے کے اشاعتی مرحلے میں ڈیجی میپ نے سوشل میڈیا پر چارٹر کے دس پیغامات اور دس خواتین قیادتی پروفائلز جاری کیے، جن کا مقصد قومی سطح پر یہ پیغام دینا تھا کہ علاقائی خواتین صحافی محض حصہ دار نہیں، بل کہ فیصلہ ساز قیادت بننے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

شرَکاء نے محفوظ پیشہ ورانہ نیٹ ورکس، ڈیجیٹل سکیورٹی تربیت، طویلُ المُدتی م٘ینٹَورشپ اور معاشی خود مختاری کو خواتین کی پائیدار قیادت کے لیے نا گُزِیر عناصِر قرار دیا۔

ڈیجی میپ کے مطابق یہ پائلٹ ایک قابلِ توسیع ماڈل فراہم کرتا ہے جسے مستقبل میں مزید خواتین صحافیوں تک وُسعت دی جا سکتی ہے۔ انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس (IFJ) اور نیشنل اِنڈاؤمنٹ فار ڈیموکریسی (NED) کی مُعاونت سے یہ اقدام اس عزم کی توثیق کرتا ہے کہ پاکستان کے ڈیجیٹل میڈیا منظر نامے میں خواتین کی قیادت کو ساختی بنیادوں پر مضبوط کیا جائے گا۔

یہ منصوبہ اس بنیادی مؤقف کو مستحکم کرتا ہے کہ پائیدار نیوز روم اصلاح کے لیے خواتین کی قیادت کو تحفظ، اختیار اور معاشی استحکام کے ساتھ مربوط کرنا نا گُزِیر ہے۔



Address

Islamabad

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when ایک روزن aik Rozan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to ایک روزن aik Rozan:

Shortcuts

Share

Category