13/10/2025
حدیث کے راویوں کے درمیان توازن اور ان کے مراتب | سبق نمبر 10
مولانا عبید اللہ عبد الرزاق صاحب (مدرس جامعہ سلفیہ، اسلام آباد)
سبق نمبر 10 میں ہم حدیث کے راویوں کے درمیان توازن اور انصاف کے اصول پر گفتگو کرتے ہیں۔ امام مسلم رحمہ اللہ بتاتے ہیں کہ اگر ہم ہم عصر راویوں کا تقابل کریں جیسے ابن عون، ایوب السختیانی، عوف بن ابی جمیلہ، اور اشعث الحمرانی — تو اگرچہ سب سچے اور امانت دار ہیں، لیکن ان کے علم اور اتقان کے درجات میں فرق ہے۔ اس سبق میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ہر عالم اور راوی کو اس کے علم و مقام کے مطابق درجہ دیا جائے، جیسا کہ قرآن و سنت نے ہمیں حکم دیا ہے۔
آج کے سبق کی عبارت جس کی تشریح کی گئی:
وفي مثل مجرى هؤلاء إذا وازنت بين الأقران كابن عون وأيوب السختياني مع عوف بن أبي جميلة وأشعث الحمراني وهما صاحبا الحسن وابن سيرين كما أن ابن عون وأيوب صاحباهما إلا أن البون بينهما وبين هذين بعيد في كمال الفضل وصحة النقل وإن كان عوف وأشعث غير مدفوعين عن صدق وأمانة عند أهل العلم ولكن الحال ما وصفنا من المنزلة عند أهل العلم وإنما مثلنا هؤلاء في التسمية ليكون تمثيلهم سمة يصدر عن فهمها من غبي عليه طريق أهل العلم في ترتيب أهله فيه فلا يقصر بالرجل العالي القدر عن درجته ولا يرفع متضع القدر في العلم فوق منزلته ويعطى كل ذي حق فيه حقه وينزل منزلته وقد ذكر عن عائشة رضي الله عنها أنها قالت أمرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم أن ننزل الناس منازلهم مع ما نطق به القرآن من قول الله تعالى وفوق كل ذي علم عليم فعلى نحو ما ذكرنا من الوجوه نؤلف ما سألت من الأخبار عن رسول الله صلى الله عليه وسلم.
📜اردو ترجمہ:
جہاں تک ان جیسے راویوں کا تعلق ہے، جب ہم ہم عصر راویوں کا موازنہ کرتے ہیں جیسے ابن عون اور ایوب السختیانی کا، عوف بن ابی جمیلہ اور اشعث الحمرانی کے ساتھ — جو دونوں حسن بصری اور ابن سیرین کے شاگرد ہیں — بالکل اسی طرح جیسے ابن عون اور ایوب بھی انہی کے شاگرد ہیں،
تو ہم دیکھتے ہیں کہ ان دونوں گروہوں کے درمیان فضیلت اور صحتِ نقل میں نمایاں فرق ہے۔
اگرچہ عوف اور اشعث بھی اہلِ علم کے نزدیک صدق اور امانت کے حامل ہیں، مگر ان کی علمی حیثیت اور درجہ ابن عون اور ایوب کے برابر نہیں۔
ہم نے ان کا ذکر صرف اس لیے کیا کہ جو لوگ علمِ حدیث میں تمییز کے طریقے سے ناواقف ہیں، وہ سمجھ سکیں کہ اہلِ علم کس بنیاد پر راویوں کے مراتب طے کرتے ہیں — تاکہ کسی بلند مرتبہ شخص کا درجہ کم نہ کیا جائے، اور کسی کم درجے والے کو اس کے مقام سے اوپر نہ اٹھایا جائے، بلکہ ہر شخص کو اس کے حق اور مرتبے کے مطابق مقام دیا جائے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"لوگوں کو ان کے درجے کے مطابق مقام دو۔"
اور قرآنِ کریم نے فرمایا: “اور ہر علم والے سے اوپر ایک علم والا ہے” (سورۃ یوسف: 76)۔
اسی اصول کے مطابق ہم نے رسول اللہ ﷺ کی احادیث کو جمع کرنے اور مرتب کرنے کا کام انجام دیا۔
Hadith ke Rawiyon ke Darmiyan Tawazun aur Unke Maratib | Sabaq No. 10:
Sabaq No. 10 mein hum Hadith ke rawiyon ke darmiyan insaf aur tawazun ka usool samajhte hain. Imam Muslim (rh) batate hain ke agar hum hum asar rawiyon ka muqabla karein jaise Ibn Aun, Ayyub al-Sakhtiyani, Auf bin Abi Jameela aur Ash’ath al-Himrani — to sab sachay aur amanatdar hain magar ilm aur etqan ke martabay mukhtalif hain. Is sabaq mein yeh bat samjhayi gayi hai ke har aalim aur rawi ko uske maqam ke mutabiq rutba diya jaye, jaisa ke Quran o Sunnat ka hukm hai.
The Balance Between Hadith Narrators and Their Ranks | Lesson 10:
In Lesson No. 10, we explore the balance and fairness in evaluating Hadith narrators. Imam Muslim highlights the difference between narrators of similar eras (Aqran), such as Ibn ‘Awn, Ayyub al-Sakhtiyani, ‘Awf ibn Abi Jameela, and Ash‘ath al-Himrani — explaining that though all were truthful, their levels of precision and knowledge varied. The lesson emphasizes the principle of giving every scholar and narrator their due rank as guided by the Quran and Sunnah.
Hadith Science, Lesson 10, Narrator Comparison, Imam Muslim, Islamic Knowledge, Authentic Narrations, Hadith Scholars, سبق نمبر 10, علم الحدیث, راویوں کا موازنہ, امام مسلم, اسلامی علم, معتبر احادیث, محدثین, Sabaq No. 10, Ilm ul Hadith, Rawiyon ka Muqabla, Imam Muslim, Islami Ilm, Moatabar Ahadith, Muhaddiseen
#سبق10 #محدثین #احادیث