16/10/2026
شربنئی کے تعلیمی مستقبل پر خطرے کے بادل، سرکاری سکول کی عمارت کی فوری جانچ کا مطالبہ
ثمرباغ (عمران خان شاہیخیل سے ) شربنئی، ثمرباغ میں قائم سرکاری پرائمری سکول کی عمارت کی بگڑتی ہوئی حالت نے بچوں کی سلامتی کے حوالے سے تشویش پیدا کر دی ہے۔ مقامی سطح پر سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق سکول کی عمارت کو مرمت یا ازسرنو تعمیر کی ضرورت ہے، جبکہ اس میں زیرتعلیم کم عمر طلبہ کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے متعلقہ حکام کی فوری توجہ ناگزیر ہو گئی ہے۔
علاقے کے مکینوں کے مطابق عمارت کے مختلف حصوں میں شکست و ریخت کے آثار نمایاں ہیں اور چھتوں سمیت دیواروں کی موجودہ کیفیت کے پیش نظر کسی ناخوشگوار واقعے کے خدشے کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ والدین کو اندیشہ ہے کہ اگر عمارت کی فنی حالت کا بروقت جائزہ نہ لیا گیا تو بچوں کو دورانِ تعلیم خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
مقامی حلقوں نے نشاندہی کی ہے کہ تعلیمی ادارے میں بچوں کی موجودگی محض تدریسی انتظامات کی ذمہ داری نہیں، بلکہ ان کے لیے محفوظ ماحول فراہم کرنا بھی متعلقہ محکموں کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ ان کے مطابق عمارت کی ظاہری حالت پر اکتفا کرنے کے بجائے ماہرین کے ذریعے اس کی مضبوطی، چھتوں، دیواروں اور بنیادوں کا باقاعدہ معائنہ کرایا جانا چاہیے، تاکہ کسی ممکنہ حادثے سے پہلے ضروری اقدامات کیے جا سکیں۔
شہریوں اور والدین نے ضلعی انتظامیہ لوئر دیر، محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم اور ضلعی تعلیمی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ سکول کا فوری تکنیکی معائنہ کرایا جائے، عمارت کے قابلِ استعمال ہونے یا نہ ہونے کا واضح تعین کیا جائے اور ضرورت کے مطابق مرمت، تعمیرِ نو یا متبادل تدریسی انتظامات کیے جائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بچوں کی حفاظت کو کسی انتظامی تاخیر یا مالی منظوری کے انتظار میں خطرے سے دوچار نہیں ہونا چاہیے۔
یہ مطالبہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پشاور میں ایک تعلیمی ادارے کی چھت گرنے کے المناک واقعے کے بعد صوبائی سطح پر تعلیمی عمارتوں کی حفاظت کا جائزہ لینے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ متعلقہ حکام نے صوبے کے تعلیمی اداروں کی عمارتوں کا سروے کرنے اور حفاظتی انتظامات کا جائزہ لینے کی ہدایت بھی دی ہے۔
علاقہ مکینوں نے زور دیا ہے کہ شربنئی کے اس سکول کو بھی حفاظتی جانچ کے عمل میں شامل کرکے عمارت کی حقیقی صورتِ حال سامنے لائی جائے اور نتائج کی بنیاد پر عملی اقدامات کیے جائیں۔ ان کے مطابق بروقت معائنہ اور ضروری تعمیراتی کام نہ صرف طلبہ بلکہ تدریسی عملے کو بھی ممکنہ خطرات سے محفوظ رکھنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔