30/08/2026
وہ راتیں جو سینے پر پتھر بن کر بیٹھ جاتی ہیں، وہ کبھی مکمل نہیں گزرتیں۔ بس آدمی کے اندر کہیں دبک کر بیٹھ جاتی ہیں، اور پھر برسوں بعد بھی، کسی خاموش لمحے میں، اچانک واپس آ جاتی ہیں۔
یاد ہے وہ رات جب سانس لینا مشکل ہو گیا تھا؟ جب دل کسی گہرے کنویں میں اترتا چلا گیا تھا؟ جب موبائل کھولا، رابطوں کی فہرست دیکھی، اور کوئی ایک نام بھی ایسا نہیں ملا جسے آدھی رات فون کیا جا سکے؟ یہ اکیلا پن نہیں تھا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب انسان کو پتا چلتا ہے کہ اُس کے ارد گرد جتنے لوگ ہیں، اُن میں سے کوئی بھی اُس کے اندر کی طوفان تک نہیں پہنچ سکتا۔
مگر عجیب بات یہ ہے کہ وہ رات ختم ہو گئی۔ صبح آئی۔ سورج نکلا، جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ اور آدمی نے چائے بنائی، دروازہ کھولا، دنیا کا سامنا کیا۔ نہ کسی نے پوچھا کہ کل رات کیا گزری، نہ کسی کو خبر ہوئی۔
جو راتیں توڑتی ہیں، وہی راتیں کسی اور کونے سے بناتی بھی ہیں۔ کیوں؟ کیونکہ جب کوئی باہر سے سہارا نہیں دیتا، تو انسان مجبوراً اندر سے سہارا ڈھونڈنا سیکھ لیتا ہے۔ جب کوئی ہاتھ نہیں تھامتا، تو اپنا ہی ہاتھ اپنی طرف بڑھانا آ جاتا ہے۔ جب کوئی آواز جواب نہیں دیتی، تو خاموشی میں بھی زندہ رہنا آ جاتا ہے۔
اُس رات میں مرا نہیں۔ نہ دنیا رکی، نہ آسمان ٹوٹا۔ بس ایک چیز بدل گئی — وہ اعتماد جو پہلے دوسروں پر ٹِکا تھا، آہستہ آہستہ اپنی طرف مڑنے لگا۔
اب جب کوئی رات دوبارہ بھاری ہونے لگتی ہے، تو خوف نہیں آتا۔ کیونکہ وہ جو ایک بار تنہا ٹوٹ کر خود کو جوڑنا سیکھ لے، وہ پھر کسی رات سے نہیں ڈرتا۔
@ عمر احمد ✍️