سوچ کا قیدی

سوچ کا قیدی کسی نے تمہیں نہیں چنا، اس کا مطلب یہ نہیں کہ تم چنے جانے کے قابل نہیں تھے۔🍂

وہ راتیں جو سینے پر پتھر بن کر بیٹھ جاتی ہیں، وہ کبھی مکمل نہیں گزرتیں۔ بس آدمی کے اندر کہیں دبک کر بیٹھ جاتی ہیں، اور پ...
30/08/2026

وہ راتیں جو سینے پر پتھر بن کر بیٹھ جاتی ہیں، وہ کبھی مکمل نہیں گزرتیں۔ بس آدمی کے اندر کہیں دبک کر بیٹھ جاتی ہیں، اور پھر برسوں بعد بھی، کسی خاموش لمحے میں، اچانک واپس آ جاتی ہیں۔

یاد ہے وہ رات جب سانس لینا مشکل ہو گیا تھا؟ جب دل کسی گہرے کنویں میں اترتا چلا گیا تھا؟ جب موبائل کھولا، رابطوں کی فہرست دیکھی، اور کوئی ایک نام بھی ایسا نہیں ملا جسے آدھی رات فون کیا جا سکے؟ یہ اکیلا پن نہیں تھا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب انسان کو پتا چلتا ہے کہ اُس کے ارد گرد جتنے لوگ ہیں، اُن میں سے کوئی بھی اُس کے اندر کی طوفان تک نہیں پہنچ سکتا۔

مگر عجیب بات یہ ہے کہ وہ رات ختم ہو گئی۔ صبح آئی۔ سورج نکلا، جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ اور آدمی نے چائے بنائی، دروازہ کھولا، دنیا کا سامنا کیا۔ نہ کسی نے پوچھا کہ کل رات کیا گزری، نہ کسی کو خبر ہوئی۔

جو راتیں توڑتی ہیں، وہی راتیں کسی اور کونے سے بناتی بھی ہیں۔ کیوں؟ کیونکہ جب کوئی باہر سے سہارا نہیں دیتا، تو انسان مجبوراً اندر سے سہارا ڈھونڈنا سیکھ لیتا ہے۔ جب کوئی ہاتھ نہیں تھامتا، تو اپنا ہی ہاتھ اپنی طرف بڑھانا آ جاتا ہے۔ جب کوئی آواز جواب نہیں دیتی، تو خاموشی میں بھی زندہ رہنا آ جاتا ہے۔

اُس رات میں مرا نہیں۔ نہ دنیا رکی، نہ آسمان ٹوٹا۔ بس ایک چیز بدل گئی — وہ اعتماد جو پہلے دوسروں پر ٹِکا تھا، آہستہ آہستہ اپنی طرف مڑنے لگا۔

اب جب کوئی رات دوبارہ بھاری ہونے لگتی ہے، تو خوف نہیں آتا۔ کیونکہ وہ جو ایک بار تنہا ٹوٹ کر خود کو جوڑنا سیکھ لے، وہ پھر کسی رات سے نہیں ڈرتا۔

@ عمر احمد ✍️

کسی انسان کو سمجھنا ہو تو الفاظ مت گنو، اُس کے چہرے پر ٹھہری ہوئی خاموشی گنو۔ وہ خاموشی جو بولتی نہیں، مگر سب کچھ کہہ جا...
30/08/2026

کسی انسان کو سمجھنا ہو تو الفاظ مت گنو، اُس کے چہرے پر ٹھہری ہوئی خاموشی گنو۔ وہ خاموشی جو بولتی نہیں، مگر سب کچھ کہہ جاتی ہے، بس سننے کا ہنر چاہیے ہوتا ہے۔

ایک پل کے لیے خود کو اُس کی جگہ رکھ کر دیکھو۔ اُس کے دن کا بوجھ اپنے کندھوں پر محسوس کرو، اُس کی راتوں کی بےخوابی اپنی آنکھوں میں اتارو، تب کہیں جا کر معلوم ہو گا کہ جس بات کو تم شکایت سمجھ رہے تھے، وہ دراصل تھکن تھی، اور جسے تم بےرخی سمجھ بیٹھے تھے، وہ دراصل بچاؤ تھا۔

ہر انسان کے اندر ایک کہانی چلتی رہتی ہے، مسلسل، بغیر رکے۔ ہمیں اُس کہانی کا صرف وہی حصہ نظر آتا ہے جو وہ سنبھال کر مسکراہٹ کی صورت باہر رکھ دیتا ہے۔ باقی حصے، اندر ہی اندر جلتے رہتے ہیں، کسی کو خبر ہوئے بغیر۔

اور جب تک ہم اُس مسکراہٹ کے پیچھے جھانکنے کی کوشش نہیں کرتے، ہم اُس انسان کو نہیں، بس اُس کے دکھائے ہوئے چہرے کو جانتے ہیں۔

~عمر

کچھ دن ایسے بھی آتے ہیں جو نیند سے شروع ہوتے ہیں، مگر آنکھ کھلتے ہی معلوم پڑتا ہے کہ نیند نے جسم کو آرام دیا، روح کو نہی...
30/08/2026

کچھ دن ایسے بھی آتے ہیں جو نیند سے شروع ہوتے ہیں، مگر آنکھ کھلتے ہی معلوم پڑتا ہے کہ نیند نے جسم کو آرام دیا، روح کو نہیں۔ تھکن وہیں کی وہیں کھڑی ملتی ہے، جیسے وہ سوئی ہی نہ ہو، جیسے وہ رات بھر جاگ کر میرا انتظار کرتی رہی ہو۔

پھر ایک اداسی اترتی ہے، بے نام سی، بے سبب سی۔ ایسی اداسی جس کا کوئی عنوان نہیں ہوتا، جسے میں انگلی اٹھا کر یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ فلاں وجہ سے ہے۔ وہ بس آ کر بیٹھ جاتی ہے، میرے اندر، اور مجھے سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے۔

میں سوچتا ہوں، اور سوچتا رہتا ہوں۔ خیال پیچھے جاتا ہے، پھر اور پیچھے، تہوں کے نیچے تہیں کھلتی ہیں، یہاں تک کہ بہت دیر بعد، کسی گمشدہ کونے سے، وہ اصل وجہ نکل آتی ہے۔ وہ وجہ جو شاید میں نے خود سے چھپا رکھی تھی، یا شاید وہ خود مجھ سے چھپی بیٹھی تھی۔

اور جب وجہ سامنے آ جاتی ہے، تو الجھن آہستہ آہستہ اپنی شکل بدلنے لگتی ہے۔ جو گرہ پہلے مضبوط لگتی تھی، اب انگلیوں کے نیچے ڈھیلی پڑنے لگتی ہے۔ میں اسے کھینچتا نہیں، بس تھامے رکھتا ہوں، اور دھیرے دھیرے وہ خود کھلنے لگتی ہے۔

یوں الجھن، سلجھن میں بدل جاتی ہے، اسی خاموشی میں جس میں وہ بنی تھی۔

~عمر

میرے اندر جو کچھ بھی ہے، وہ آدھا نہیں ہوتا۔ خاموشی ہو تو ایسی کہ الفاظ ڈھونڈنے سے بھی نہ ملیں، اور بولنا ہو تو ایسا کہ س...
30/08/2026

میرے اندر جو کچھ بھی ہے، وہ آدھا نہیں ہوتا۔ خاموشی ہو تو ایسی کہ الفاظ ڈھونڈنے سے بھی نہ ملیں، اور بولنا ہو تو ایسا کہ سننے والے کی سماعت جواب دے جائے۔

میں نے کبھی کسی جذبے کو تھوڑا محسوس نہیں کیا۔ غصہ آیا تو آگ بن کے آیا، ملال ہوا تو ہڈیوں تک اتر گیا، خوشی بھی آئی مگر مہمان بن کے، تھوڑی دیر ٹھہری اور چلی گئی۔ اور غم، غم تو یہاں مستقل رہائشی ہے، جسے میں نے نکالا نہیں، بس اس کے ساتھ جینا سیکھ لیا۔

یہی وجہ ہے کہ میں نے اپنے گرد ایک چھوٹا سا دائرہ کھینچ لیا ہے۔ کیونکہ جو آدمی خود کو انتہاؤں میں جیتا ہو، وہ زیادہ لوگوں کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا۔ ہر نیا چہرہ ایک نیا امتحان ہوتا ہے، اور میں تھک چکا ہوں امتحان دیتے دیتے۔

سو میں نے چند لوگوں کو چنا، انہی چند کو اپنی خاموشی بھی سونپی اور اپنا شور بھی۔ باقی دنیا کے لیے میں بس ایک دور کا سایہ ہوں، جو آتا ہے، ہلکا سا لگتا ہے، اور گزر جاتا ہے۔

میں نے یہ دائرہ خود نہیں بنایا، میری فطرت نے بنایا ہے۔

~عمر

دور رہنا بھی محبت کا ایک انداز ہوتا ہے، جسے کوئی سمجھے تو سمجھے، ورنہ اکثر یہ خاموشی کسی بیوفائی جیسی لگتی ہے۔میں جب تم ...
29/08/2026

دور رہنا بھی محبت کا ایک انداز ہوتا ہے، جسے کوئی سمجھے تو سمجھے، ورنہ اکثر یہ خاموشی کسی بیوفائی جیسی لگتی ہے۔

میں جب تم سے فاصلہ رکھتا ہوں، تو دراصل خود سے لڑ رہا ہوتا ہوں۔ میرے اندر ایک اور میں بھی رہتا ہے، جسے میں خود پوری طرح نہیں جانتا، جسے میں نے کبھی روشنی میں نہیں دیکھا۔ اور جس چیز کو میں خود نہیں سمجھ پایا، اسے تمہارے سامنے کیسے رکھ دوں۔

یہ خاموشی بے رخی نہیں، یہ ایک احتیاط ہے۔ ایک ڈر ہے کہ کہیں وہ حصہ، جسے میں چھپائے رکھتا ہوں، تمہاری آنکھوں تک نہ پہنچ جائے۔ کیونکہ کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں جو دکھانے سے نہیں، دکھائی دینے سے گہرے ہوتے ہیں۔

میں جانتا ہوں، دوری تکلیف دیتی ہے۔ مگر کچھ قربتیں ایسی بھی ہوتی ہیں جو بچانے کے بجائے ڈبو دیتی ہیں۔ اور میں نے یہ فاصلہ اس لیے رکھا ہے کہ تم اس آدمی سے کبھی نہ ملو، جسے میں خود اپنے اندر سنبھالنے کی کوشش میں ہوں۔

جب میں دور ہو جاؤں، تو یہ مت سمجھنا کہ میں چلا گیا۔ بس یہ سمجھنا کہ میں نے اپنے اندر کا وہ طوفان روکنے کی کوشش کی، جو شاید تمہیں بہا لے جاتا۔

میں نے یہ خاموشی محبت میں چنی ہے، بے پروائی میں نہیں۔

~عمر

میں اُس لمحے کو کیسے سمجھاؤں کسی کو، جس میں تھکن بولتی ہے اور لفظ بس خاموشی کی چادر اوڑھ لیتے ہیں۔ جو مجھے جانتا ہے سرسر...
29/08/2026

میں اُس لمحے کو کیسے سمجھاؤں کسی کو، جس میں تھکن بولتی ہے اور لفظ بس خاموشی کی چادر اوڑھ لیتے ہیں۔ جو مجھے جانتا ہے سرسری، وہ لہجے کو دیکھتا ہے، جو مجھے جانتا ہے گہرائی سے، وہ لہجے کے پیچھے کی رات دیکھتا ہے۔

میں نے بہت بار چاہا کہ خود کو اُس آدمی سے الگ کر کے دکھاؤں جو کبھی کبھی سخت بول دیتا ہے، لیکن ہر بار یہ کوشش ادھوری رہ گئی، کیوں کہ جو شخص اندر سے ٹوٹ کر جوڑا جا رہا ہو، وہ باہر مسکراہٹ کا بوجھ زیادہ دیر نہیں اٹھا سکتا۔

جو لوگ بدلتے موسموں کو دیکھ کر شکایت نہیں کرتے، وہی لوگ میرے بدلتے لہجے کو دیکھ کر فیصلہ سنا دیتے ہیں۔ جیسے موسم کا حق ہو بدلنا، اور میرا حق صرف یہ ہو کہ میں ہمیشہ ایک جیسا، ہمیشہ نرم، ہمیشہ ہشاش بشاش رہوں۔

جو دن مجھے اندر سے چیرتا ہے، اُسی دن میری آواز میں یا انداز میں وہ تلخ لمحہ آ جاتا ہے جسے لوگ بدگمانی سمجھ لیتے ہیں۔ حالانکہ وہ بدگمانی نہیں، وہ صرف اُس آدمی کی سانس ہے جو دن بھر خود کو سنبھالے رکھنے کی مشقت کے بعد شام ڈھلتے ڈھلتے ہار جاتا ہے۔

میں نے بہت دیر تک یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ لہجہ بدلنا رشتہ بدلنا نہیں ہوتا، کہ لہجہ بدلنا صرف اُس تھکن کا اظہار ہوتا ہے جسے میں الفاظ میں بیان نہیں کر پاتا۔ لیکن جس نے کبھی ٹوٹنے کو محسوس نہیں کیا، وہ ٹوٹے ہوئے کے لہجے کو کیسے پہچانے۔

اب میں نے سمجھانا چھوڑ دیا ہے۔ اب جو لہجہ آتا ہے، آنے دیتا ہوں، جو خاموشی اترتی ہے، اترنے دیتا ہوں۔

~عمر

Address

24
Islamabad
48000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when سوچ کا قیدی posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to سوچ کا قیدی:

Shortcuts

Share