APNA AROOJ

APNA AROOJ روزنامہ اپنا عروج گلگت بلتستان، اسلام آباد اور کراچی سے بیک وقت اشاعت

07/09/2026

اینٹی کرپشن والے بھائیو
تھانیداروں کی تنخواہ آئی فون کی قیمت سے کم ہوتی ہے
ذرا چیک کریں کتنے تھانیداروں کے پاس آئی فون ہیں

اس کے بعد ایک چکر سرکاری ہسپتالوں کے میٹرنٹی وارڈ کے لگا لیں ۔ لکھا ہوتا ہے بخشش دینا منع ہے اور وہیں کوئی ایک بندہ تلاش کر کے بتائیں جو کیمرے کے نیچے کھڑے سٹاف کو "مٹھائی " کے پیسے دیے بنا اپنا کاکا لے کر جا سکے

پھر ہسپتال کی پارکنگ کا چکر لگائیں خاص طور پر جناح ہسپتال جہاں پارکنگ مافیا موٹرسائل سواروں سے کار اور کار والوں سے ویگن والوں کے پیسے وصول کرتا ملے گا

اس کے بعد عدالتوں میں جائیں اور دیکھیں جج صاحب کے بالکل سامنے بیٹھا معصوم ریڈر سائلین اور وکلا سے کیسے ملتا ہے

یہ معاملہ نمٹ جائے تو اے جی آفس کا چکر لگانے والوں سے ملیں ۔ سرکاری کلرکوں سے ملیں ۔ ریٹائر بزرگوں سے ملیں بلکہ اپنے ڈی جی صاحب کے محکمہ کے کلرکوں سے ملیں اور چیک کریں کہ شہدا اور معذوروں کے واجبات کیسے کلیئر ہوتے ہیں
آخر میں وقت ہو تو یہ چیک کر لیں کہ کس کس سرکاری افسر نے غیر قانونی طور پر ایک سے زیادہ سرکاری گاڑیاں رکھی ہوئی ہیں ۔ ہے تو یہ بھی کرپشن

اللہ بھلا کرے ۔ کرپٹ سرکاری ملازمین کا بھی نیفہ ہوتا ہے
اللہ حیاتی دے

سید بدر سعید

06/09/2026
26/08/2026

وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں آزاد کشمیر حکومت سازی کے حوالے سے بیرسٹر افتخار گیلانی کا نام وزیراعظم کیلئے فائنل کیا گیا ہے،بیرسٹر افتخار گیلانی آزاد کشمیر کی سیاست میں مسلم لیگ ن کے تجربہ کار رہنما ہیں۔وہ اس سے قبل 2011 اور 2016 میں آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہو چکے ہیں اور بعد ازاں تقریباً پانچ سال تک وزیر تعلیم آزاد کشمیر کے منصب پر فائز رہے۔

سیاسی سفر

افتخار گیلانی نے 2011 میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کی حیثیت سے مظفرآباد کی نشست سے کامیابی حاصل کی۔ اُس وقت کی ایک رپورٹ کے مطابق انہوں نے LA-26 (مظفرآباد-III) کے ضمنی انتخاب میں کامیابی حاصل کی تھی۔بعد ازاں 2016 کے عام انتخابات میں بھی مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کی حیثیت سے کامیاب ہوئے،انہوں نے 2016 میں مظفرآباد کی LA-26 نشست پر 20,506 ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی تھی۔

2016 کے بعد وہ آزاد کشمیر کابینہ میں شامل ہوئے اور وزیر تعلیم کی ذمہ داری سنبھالی۔ان کے دور میں محکمہ تعلیم میں اساتذہ کی بھرتی کے لیے نیشنل ٹیسٹنگ سروس (NTS) کے ذریعے بھرتیوں کا فیصلہ بھی کیا گیا تھا۔

2016 میں کابینہ میں شمولیت کے وقت انہیں موجودہ کابینہ کے کم عمر ترین وزرا میں شمار کیا گیا تھا۔اس وقت ان کی عمر تقریباً 36 سال بتائی گئی تھی۔

2026 کےحالیہ عام انتخابات میں بیرسٹر افتخار گیلانی نے مظفرآباد سٹی کی نشست سے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کے طور پر حصہ لیا، تاہم وہ پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار مختار احمد عباسی سے تقریباً تین ہزار ووٹوں کے فرق سے شکست کھا گئے۔

اس شکست کے باوجود مسلم لیگ (ن) نے انہیں نظر انداز نہیں کیا بلکہ ٹیکنوکریٹس اور دیگر پروفیشنلز کے لیے مخصوص نشست کے لیے پارٹی ٹکٹ دیا۔ 24اگست 2026 کو مخصوص نشستوں کے انتخابات میں بیرسٹر سید افتخار گیلانی نے 26 ووٹ حاصل کیے اور ٹیکنوکریٹس و دیگر پروفیشنلز کی نشست جیت لی،انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار صاحبزادہ ذوالفقار علی کو شکست دی جنہیں 12 ووٹ ملے۔ کامیابی کے بعد آزاد کشمیر الیکشن کمیشن نے ان کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کیا۔

بیرسٹر افتخار گیلانی لندن میں مسلم لیگ ن کے مشاورتی اجلاسوں میں شریک ہوتے رہے ہیں،انہیں ن لیگ کی اعلی قیادت کی قربت حاصل رہی ہے

واضح رہے کہ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں وزیراعظم کا انتخاب 28 اگست کو ہوگا

26/08/2026

پمز اسپتال اسلام آباد کے گائنی وارڈ میں اے سی کمپریسر پھٹنے کے باعث آگ لگنے اور اس کے نتیجے میں 15 نومولود بچوں کے جاں بحق ہونے کی المناک خبر نے دل دہلا کر رکھ دیا ہے۔ یہ ایک ایسا سانحہ ہے جس کا دکھ الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔

معصوم پھولوں کی جدائی پر غمزدہ خاندانوں کے ساتھ دلی ہمدردی اور تعزیت ۔ اللہ تعالیٰ ان معصوم بچوں کو اپنی جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور والدین و لواحقین کو یہ ناقابلِ تلافی صدمہ برداشت کرنے کے لیے صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔

اس افسوسناک واقعے کی مکمل تحقیقات کے ساتھ ساتھ ہسپتالوں میں فائر سیفٹی اور ہنگامی حفاظتی انتظامات کو مزید مؤثر بنانا ناگزیر ہے تاکہ مستقبل میں ایسے سانحات سے قیمتی انسانی جانوں کو محفوظ رکھا جا سکے۔

پی آئی اے کا  لاپتہ فوکر سرورحسین  گلگتی25 اگست 1989ء  کی  ایک  بدقسمت صبح پی آئی اے کا فوکر پی کے 404 گلگت سے اسلام آبا...
25/08/2026

پی آئی اے کا لاپتہ فوکر

سرورحسین گلگتی

25 اگست 1989ء کی ایک بدقسمت صبح پی آئی اے کا فوکر پی کے 404 گلگت سے اسلام آباد آتے ہوے لاپتہ ہو گیا تھا ۔ جس کا آج تک پتہ نہیں چلا ۔ بدقسمت طیارے میرے اسکول کے کلاس فیلو شجاع عالم کے چھوٹے بھائی اور H/9 کالج اسلام آباد میں ایف ایس سی فسٹ ائیر کے طالب علم اعجاز احمد ، پنجاب یونیورسٹی کے ساتھی عزیز دوست محمد عبداللہ کے بھائی غیاث الدین، ہمارے عزیز دوست مسعود ملک کی مسز اور بچے سمیت بہت سے جاننے والے سوار تھے ۔ ابتداء میں طیارے کی گمشدگی کے حوالے سے بہت کہانیاں مشہور ہوئیں ۔ کہا گیا کہ طیارہ افغانستان کے کسی علاقے میں کھڑا ہے ۔ پھر سنا گیا کہ فضائی حدود کراس کرنے پر انڈیا نے مار گرایا ہے ۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ پہاڑوں میں گر کر برف میں دب گیا ہے ۔۔ ان دنوں ہم پنجاب یونیورسٹی میں جرنلزم کے اسٹوڈنٹ تھے ۔ الیکٹرانک میڈیا اور انٹرنیٹ کا دور نہیں تھا ۔ لوگ اخبار کی خبروں پر ہی انحصار کرتے تھے ۔ ھم بھی اخباری معلومات اور ذرائع سے ملنے والی اطلاعات کی بنیاد پر طیارے کی تلاش اور لواحقین کے اطمننان کے لیئے اقدامات کے لیئے اخبارات میں آرٹیکل لکھتے رہے ۔۔۔۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ زخم شائد کچھ مندمل ہوگئے ہیں ۔ لیکن لوگ اپنے پیاروں کو بھولے نہیں ہیں ۔

24/08/2026

سرحد یونیورسٹی کا معاملہ | ذمہ دار کون؟ بپھرے ہوئے ہجومی طلبہ؟ایک غیور فوجی افسر؟ معطل شدہ ایچ او ڈی ڈاکٹر جدون خان؟
نویدعارف_بٹ
سرحد یونیورسٹی کا معاملہ اس وقت شروع ہوا جب الائیڈ ہیلتھ سائنسز ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ ڈاکٹر جدون خان نے اخلاقی حدود کو پامال کرتے ہوئے شعبہ اسٹوڈنٹ افیئرز کی سربراہ ڈاکٹر آئینہ کو ہراساں کیا۔ ڈاکٹر آئینہ نے اس ناانصافی پر خاموش رہنے کے بجائے قانون اور اصول کا راستہ چنا اور انتظامیہ کے پاس باقاعدہ شکایت درج کرائی۔ یونیورسٹی نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ایچ او ڈی کو معطل کر دیا اور واقعے کی شفاف تحقیقات کے لیے ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی۔

لیکن کہانی کا دوسرا اور تلخ رخ اس وقت سامنے آیا جب معطل شدہ ایچ او ڈی کی بحالی کے لیے طلبہ کی ایک بڑی تعداد نے یونیورسٹی میں احتجاج شروع کر دیا۔ ڈاکٹر آئینہ، جو کہ ایک ذمہ دار عہدیدار ہیں ، مظاہرین سے بات چیت کرنے اور صورتحال کو سنبھالنے کے لیے خود ان کے پاس گئیں۔ مگر وہاں قانون اور احترام کی دھجیاں اڑا دی گئیں۔

بات چیت تلخ کلامی میں بدلی اور بپھرے ہوئے ہجوم میں سے ایک لڑکے نے تمام حدیں پار کرتے ہوئے ڈاکٹر آئینہ کے گریبان پر ہاتھ ڈال دیا اور سرِعام دھمکی دی کہ "آج ہم تمہاری عزت خراب کر دیں گے۔" ڈاکٹر آئینہ نے اس ہجوم سے، جہاں یونیورسٹی کے گارڈز بے بس اور ناکافی ثابت ہو رہے تھے، بمشکل اپنی جان اور عزت بچائی۔

پھر ڈاکٹر آئینہ نے اپنے شوہر کو فون کیا، جو پاک فوج میں ایک افسر ہیں۔ جب ایک غیرت مند شوہر اور فوجی افسر کے کانوں میں یہ الفاظ پڑے کہ اس کی شریکِ حیات کے گریبان پر ہاتھ ڈالا گیا ہے، تو اس کا دماغ گھوم گیا۔ غصے اور غیرت کی اس شدید لہر میں وہ یہ بھی بھول گئے کہ وہ ایک فوجی افسر ہیں انہوں نے نہ تو پولیس کو اطلاع دی اور نہ ہی اپنے ساتھ کوئی دستہ یا جوان لیے۔

وہ یہ سوچے بغیر کہ وہاں درجنوں بپھرے ہوئے طلبہ ان پر حملہ کر سکتے ہیں، تنِ تنہا یونیورسٹی کی طرف روانہ ہو گئے۔ ایسے حالات میں ایک غیور انسان کا دماغ نہیں، بلکہ اس کا دل اور جذبات فیصلہ کرتے ہیں۔

جیسے ہی یہ فوجی افسر یونیورسٹی پہنچے، ڈاکٹر آئینہ نے روتے ہوئے اس نوجوان کی طرف اشارہ کیا جس نے ان کی عزت پر ہاتھ ڈالا تھا۔ فوجی افسر سیدھے اس لڑکے کی طرف بڑھے اور اسے جھنجھوڑتے ہوئے کہا: "تمہیں شرم نہیں آتی؟" اور ایک بڑے بزرگ کی طرح، جو کسی چھوٹے کو غلطی پر تنبیہ کرتا ہے، انہوں نے اپنی اسٹک سے اسے ایک دو بار ہلکا سا مارا۔

مگر وہ ہجوم تو پہلے ہی سے کسی اشتعال کے انتظار میں تھا۔ طلبہ نے فوری طور پر اس فوجی افسر کو چاروں طرف سے گھیر لیا۔ افسر نے انہیں سمجھانے اور بات کرنے کی کوشش کی، لیکن نوجوان مار پیٹ پر اترے ہوئے تھے۔ اسی دھکم پیل میں کسی نے ڈاکٹر آئینہ کو زور دار دھکا دیا اور دو لڑکوں نے آگے بڑھ کر ان کے بازو پکڑنے کی کوشش کی۔ اپنی بیوی کو اس حال میں دیکھ کر وہ افسر ان کے سامنے ڈھال بن گیا، لیکن اس کوشش میں ڈاکٹر آئینہ زمین پر گر گئیں۔

بیوی کو زمین پر گرا دیکھ کر اور دانستہ طور پر اپنی فوجی وردی کو پھٹتا دیکھ کر افسر کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔ اپنی اور اپنی زوجہ کی جان کو شدید خطرے میں پا کر، انہوں نے دفاعی طور پر اپنی پستول نکالی، ہجوم کو پیچھے دھکیلا اور انہیں ڈرانے کے لیے ہوائی فائرنگ کی تاکہ بپھرا ہوا ہجوم پیچھے ہٹ سکے۔ یہ ہے پوری اور اصل کہانی ۔

سوچنے کی بات یہ ہے کہ فوجی افسر اکیلا کیوں گیا !! اگر فوجی افسر پلاننگ سے یہ سب کرنے جاتا تو ساتھ درجن بھر جوان لے جاتا ۔

فوجی افسرغلط نہیں ہے بلکہ اس نے اپنی عزت کا دفاع کیا ہے ۔ اگر وہ پولیس کو اطلاع کرتا وہ تاخیر سے پہنچتی تو کیا ہوتا ۔ اگر اس کی نیت طلبہ پر تشدد کی ہوتی تو وہ اپنے ساتھ آٹھ دس فوجی جوان لاسکتا تھا لیکن اس کی نیت تو صرف نوجوان کی سرزنش کی تھی کہ تمہارے گھر میں ماں بہن نہیں ہیں ۔ لیکن بات کو کیا سے کیا بنادیا گیا

زیرِ نظر تصویر کے حوالے سے یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ رات گئے سیدپور ولیج میں ’’شیر‘‘ نکل آیا۔ واضح کر دوں کہ یہ اطلاع در...
23/08/2026

زیرِ نظر تصویر کے حوالے سے یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ رات گئے سیدپور ولیج میں ’’شیر‘‘ نکل آیا۔ واضح کر دوں کہ یہ اطلاع درست نہیں۔
پاکستان اور بھارت کے جنگلات میں Lion (شیر) قدرتی طور پرپایا ہی نہیں پایا جاتا۔ اس خطے میں عام طور پر Leopard (تیندوا) پایا جاتا ہے، جسے ماضی میں متعدد بار سیدپور ولیج اور مارگلہ کے اطراف دیکھا جا چکا ہے۔
لہٰذا یا تو یہ تصویر غلط ہے یا اے آئی کی مدد سے بنائی گئی ہے یا یہ مبینہ طور پر کسی اور ملک کی تصویر ہے۔
شیر اگر پاکستان میں کہیں موجود ہیں تو عموماً چڑیا گھروں، نجی مراکز یا شوقین افراد کے پاس قید حالت میں رکھے جاتے ہیں. درخواست ہے کہ کم از کم آپ تو کسی واقع کی تصدیق کرلیا کریں۔۔۔
اسلام آباد وائلڈ کائف منیجمنٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ سید پور گاؤں میں شیر کی موجودگی کی اطلاع، آئی ڈبلیو ایم بی ریسکیو ٹیم کا علاقے کا دورہ ..آئی ڈبلیو ایم بی ٹیم کو شیر کی موجودگی کے کوئی شواہد، پگ مارک(Foot print) یا دیگر علامات نہیں ملیں ..مبینہ طور پر شیر کے ہاتھوں مارے گئے پالتو کتے کی لاش بھی برآمد نہیں ہوئی،
اسلام آباد وائلڈ لائف منیجمنٹ بورڈ کے مطاںق ریسکیو ٹیم صورتحال پر نظر رکھے ہوئے، کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے ۔۔۔مارگلہ ہلز نیشنل پارک عام تیندوے کا قدرتی مسکن ہے، ۔۔جنگلی جانور کی موجودگی کی صورت میں آئی ڈبلیو ایم بی ہیلپ لائن 0309-5302425 پر اطلاع دیں۔۔

20/08/2026

‏اڈیالہ جیل پولیس نے شفاء اسپتال کے E4 وارڈ کا کنٹرول سنبھال لیا۔ عمران خان کو اب سے کچھ دیر بعد شفاء اسپتال منتقل کیا جائے گا۔

Address

Daily APNA AROOJ Office 5A Mehmood Plaza Fazal E Haq Roar Blue Area Islamabad
Islamabad

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when APNA AROOJ posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to APNA AROOJ:

Shortcuts

Share