23/11/2025
میٹا اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے خلاف دائر کیے گئے امریکی تعلیمی اداروں کے ایک مقدمے میں جو دستاویزات سامنے آئیں، اُن سے معلوم ہوا کہ میٹا نے فیس بک اور انسٹاگرام کے ذہنی صحت پر اثرات سے متعلق اپنی اندرونی تحقیق اس وقت روک دی جب نتائج کمپنی کے لیے خطرناک ثابت ہونے لگے۔پروجیکٹ مرکری‘‘ کے عنوان سے ہونے والی اندرونی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا تھا کہ جو صارفین ایک ہفتے تک فیس بک استعمال نہیں کرتے تھے، وہ افسردگی، اضطراب اور تنہائی میں واضح کمی محسوس کرنے لگتے تھے۔کمپنی کے خلاف ان منفی نتائج کو شائع کرنے یا مزید تحقیق کرنے کی بجائے میٹا نے یہ پروجیکٹ ہی منسوخ کر دیا اور کہا کہ نتائج میڈیا بیانیے کے ساتھ ’’الجھ‘‘ گئے ہیں۔ جب کہ کمپنی کے سائنس دانوں نے اپنی قیادت، خصوصاً میٹا کے عالمی پالیسی چیف نِک کَلیگ کو یہ یقین دلایا تھا کہ یہ نتائج بالکل درست ہیں، یعنی نتائج میں ان سے کوئی غلطی نہیں ہوئی ہے۔یہ تحقیق میٹا کے سائنس دانوں نے نیلسن کمپنی کے ساتھ 2020 میں کی تھی، تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ فیس بک اور انسٹاگرام کا استعمال اگر روک دیا جائے تو اس کے اثرات کیا مرتب ہوں گے۔ لیکن دستاویزات سے پتا چلتا ہے کہ کمپنی اس وقت مایوس ہوئی جب اسے یہ معلوم ہوا کہ جن لوگوں نے ایک ہفتے تک فیس بک استعمال نہیں کی، انھوں نے افسردگی، اضطراب، تنہائی اور کمتری کے جذبات میں کمی کی رپورٹ دی۔