Sada e Thal News

Call Directions

Sada e Thal News ہمارے پیج کا مقصد علاقہ تھل کی صحیح معنوں میں ترجمانی کرنا اور عوام کی آواز کو ایوانِ بالا تک پہنچانا

🩺 پاکستان میں شوگر ایک بڑھتا ہوا صحت کا مسئلہ ہے—کیا آپ نے اپنی شوگر چیک کرائی؟ذیابیطس بعض اوقات واضح علامات کے بغیر بھی...
23/09/2026

🩺 پاکستان میں شوگر ایک بڑھتا ہوا صحت کا مسئلہ ہے—کیا آپ نے اپنی شوگر چیک کرائی؟

ذیابیطس بعض اوقات واضح علامات کے بغیر بھی بڑھتی رہتی ہے۔ HbA1c ٹیسٹ گزشتہ تقریباً 2–3 ماہ کے اوسط بلڈ شوگر لیول کا اندازہ دینے میں مدد کرتا ہے اور ذیابیطس کی تشخیص و مانیٹرنگ میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

اپنی صحت کو ترجیح دیں، بروقت اسکریننگ کروائیں اور نتائج کے مطابق ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔

ڈاکٹر محمد نعمان سعید خٹک
Biotechnologist | CEO
Saeed International Hospital

📍 Near Save Mart, G-11 Markaz, Islamabad
📞 0331-1110675 | 0332-5410055
Quality with Economy

14/09/2026
04/06/2026

ہومیوپیتھی کی حدود یا معالج کی ذمہ داری؟

✍️ ڈاکٹر محمد نعمان سعید خٹک
PhD Biotechnology

ہومیوپیتھی کے حلقوں میں ایک بحث عرصہ دراز سے جاری ہے کہ آیا ہومیوپیتھی کی حدود ہیں یا نہیں؟ کچھ معالجین کا مؤقف ہے کہ ہر طریقۂ علاج کی طرح ہومیوپیتھی کی بھی اپنی حدود ہیں، جبکہ بعض ہومیوپیتھس اس خیال کو ہومیوپیتھی کے خلاف ایک معذرت خواہانہ رویہ قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک اگر ہومیوپیتھی کے بانیوں، کلاسیکل مصنفین اور کامیاب معالجین کی تحریروں کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ہومیوپیتھی میں ایسی غیر معمولی صلاحیت موجود ہے جو بظاہر ناممکن نظر آنے والی حالتوں میں بھی حیران کن نتائج پیدا کر سکتی ہے۔

جب ایک طالب علم ہومیوپیتھی کی تعلیم شروع کرتا ہے تو اسے سب سے پہلے جن ادویات سے متعارف کروایا جاتا ہے ان میں ایکونائٹ، بیلاڈونا، آرنیکا، برائی اونیا، کیموملا، آئیپیکاک اور دیگر ایکیوٹ ریمیڈیز شامل ہوتی ہیں۔ ان ادویات کے بارے میں یہ تعلیم دی جاتی ہے کہ اگر بیماری کی صحیح تصویر پہچان لی جائے تو مریض کی حالت چند منٹوں یا چند گھنٹوں میں بدل سکتی ہے۔ بخار، سوزش، درد، چوٹ، نمونیا، کھانسی، قے، دست اور بے شمار ایکیوٹ امراض میں ان ادویات کے نتائج نے لاکھوں معالجین کو متاثر کیا ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ انیسویں صدی میں جب ہیضہ، اسکارلٹ فیور، ٹائیفائیڈ اور دیگر وبائی امراض نے دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا تو ہومیوپیتھک معالجین نے ایسے نتائج پیش کیے جنہوں نے دنیا بھر میں ہومیوپیتھی کو شہرت بخشی۔ اس دور کے متعدد ریکارڈ اور رپورٹس اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض وباؤں میں ہومیوپیتھک مراکز میں شرحِ اموات روایتی علاج کے مقابلے میں کم دیکھی گئی۔ اگرچہ ان اعداد و شمار پر جدید سائنسی حلقوں میں بحث موجود ہے، لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ قائم ہے کہ ہومیوپیتھی کی مقبولیت صرف نظری مباحث کی وجہ سے نہیں بلکہ عملی نتائج کی بنیاد پر قائم ہوئی۔

اسی طرح ہومیوپیتھک میٹیریا میڈیکا میں آرسینکم البم، نکس وامیکا، رس ٹاکس، ناجا، اوپیم اور دیگر ادویات کو مختلف زہریلے اثرات اور مخصوص بیماریوں کے تریاقی تعلقات کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ لائسینم کے بارے میں بھی کلاسیکل لٹریچر میں تفصیلی مباحث موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے ہومیوپیتھس یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر یہ تمام ادویات اتنی طاقتور ہیں تو پھر ہم ہر موقع پر ہومیوپیتھی کی حدود کا ذکر کیوں کرتے ہیں؟

لیکن یہاں ایک نہایت اہم فرق کو سمجھنا ضروری ہے۔ ہومیوپیتھی کی صلاحیت اور معالج کی ذمہ داری دو الگ چیزیں ہیں۔ ایک معالج ہومیوپیتھی کی طاقت پر مکمل یقین رکھ سکتا ہے اور اس کے باوجود مریض کو مناسب وقت پر ایمرجنسی سہولت، سرجری یا دیگر طبی امداد کی طرف بھیج سکتا ہے۔ یہ ہومیوپیتھی پر عدم اعتماد نہیں بلکہ طبی ذمہ داری کا تقاضا ہے۔

مثال کے طور پر اگر کسی مریض کو شدید خون بہہ رہا ہو، دماغی فالج کا حملہ ہو، دل کا دورہ پڑا ہو، زہریلے سانپ نے کاٹا ہو، شدید حادثہ پیش آیا ہو یا سانس رکنے کی کیفیت پیدا ہو گئی ہو تو ایسی صورت میں فوری طبی امداد فراہم کرنا اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ اگر ہومیوپیتھک دوا مددگار ثابت ہو سکتی ہے تو اسے ساتھ استعمال کیا جا سکتا ہے، لیکن مریض کو ثابت شدہ اور فوری طبی سہولت سے محروم رکھنا اخلاقی اور قانونی دونوں اعتبار سے درست نہیں۔

اصل مسئلہ ہومیوپیتھی کی حدود کا نہیں بلکہ معالج کے علم، تجربے اور اعتماد کا ہے۔ ایک کمزور معالج ہر مشکل کیس میں ہومیوپیتھی کی حدود تلاش کرتا ہے جبکہ ایک ماہر معالج ہر کیس میں علامات کی گہرائی تک جا کر مناسب دوا تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض معالجین کے نتائج غیر معمولی ہوتے ہیں جبکہ دوسرے معالجین معمولی نتائج پر اکتفا کرتے ہیں۔

ہومیوپیتھی کو دفاعی انداز میں پیش کرنے کے بجائے اس کی حقیقی قوت، اس کے فلسفے، اس کے تاریخی ریکارڈ اور اس کے کامیاب کلینیکل نتائج کو علمی انداز میں پیش کرنے کی ضرورت ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ تحقیق، مشاہدہ اور جدید سائنسی تقاضوں کو نظر انداز نہ کیا جائے۔ ایک ذمہ دار ہومیوپیتھ نہ تو اپنی سائنس سے شرمندہ ہوتا ہے اور نہ ہی غیر ضروری دعوے کرتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اعتماد اور احتیاط دونوں ایک اچھے معالج کی پہچان ہیں۔

ہومیوپیتھی کی اصل طاقت اس کے اصولِ مشابہت، انفرادی علاج، گہری مشاہدہ نگاری اور مریض کو مکمل انسان کے طور پر دیکھنے میں پوشیدہ ہے۔ جب معالج ان اصولوں کو سمجھ کر کام کرتا ہے تو بہت سی ایسی بیماریاں بھی اس کے سامنے سر جھکا دیتی ہیں جنہیں لوگ لاعلاج سمجھتے ہیں۔ تاہم یہی معالج اس حقیقت کو بھی سمجھتا ہے کہ مریض کی جان ہر نظریے سے زیادہ قیمتی ہے، اور جہاں فوری طبی امداد کی ضرورت ہو وہاں مناسب اقدام کرنا ہی اصل طب اور اصل انسانیت ہے۔

داستانِ ابراہیم خلیل اللہ — پشتو ادب، ایمان، روحانیت اور فکری شعور کا ایک عظیم شاہکار✍️ تحریر: ڈاکٹر محمد نعمان سعید خٹک...
14/05/2026

داستانِ ابراہیم خلیل اللہ — پشتو ادب، ایمان، روحانیت اور فکری شعور کا ایک عظیم شاہکار

✍️ تحریر: ڈاکٹر محمد نعمان سعید خٹک

پشتو زبان و ادب کی تاریخ میں بعض خاندان ایسے ہوتے ہیں جو صرف خاندانی نسبت تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے معاشرے کے علمی، ادبی، فکری اور تہذیبی شعور کی علامت بن جاتے ہیں۔ ان خاندانوں سے وابستہ شخصیات اپنی زندگی، قلم، کردار، تدریس اور فکر کے ذریعے آنے والی نسلوں کے لیے روشنی کے مینار ثابت ہوتی ہیں۔ ضلع کرک کی تحصیل تختِ نصرتی کا تاریخی اور علمی گاؤں جتان بانڈہ بھی ایک ایسی سرزمین ہے جہاں علم، ادب، شعور، روایت اور تہذیب نے کئی نامور شخصیات کو جنم دیا۔ انہی عظیم علمی و ادبی خانوادوں میں ایک ممتاز اور باوقار نام محترم گل فراز خان صاحب کے خاندان کا ہے، جس نے پشتو زبان، ادب، شاعری، تعلیم اور فکری شعور کی خدمت میں ناقابلِ فراموش کردار ادا کیا۔

اسی علمی، ادبی اور مذہبی ماحول میں 1935ء میں محترم محمد عارف عارف صاحب پیدا ہوئے۔ وہ پشتو زبان کے معروف شاعر، ادیب، معلم، مفکر اور نہایت باوقار شخصیت ہیں، جنہوں نے اپنی پوری زندگی علم، ادب، تعلیم، اخلاق اور تربیت کے لیے وقف کیے رکھی۔ جٹان بانڈہ کا یہ گھرانہ پورے علاقے میں علم، تہذیب، دینی شعور، ادبی ذوق اور فکری وقار کی علامت سمجھا جاتا رہا ہے۔ محترم گل فراز خان صاحب ایک نہایت باوقار، صاحبِ علم اور صاحبِ فکر شخصیت تھے۔ ان کے گھر میں ادب، مطالعہ، شاعری، دینی گفتگو، اخلاقی تربیت اور علمی شعور کو بنیادی اہمیت حاصل تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اس خاندان سے کئی نامور شعراء، ادباء، اساتذہ اور اہلِ قلم شخصیات نے جنم لیا۔

اسی علمی خانوادے سے پشتو زبان کے معروف شاعر محمد ایاز خٹک المعروف “شاعر نیکہ” کا تعلق بھی ہے، جن کی شاعری پشتون تہذیب، قومی شعور، روحانی احساسات اور فکری گہرائی کی خوبصورت ترجمان سمجھی جاتی ہے۔ گل فراز خان صاحب کے بھائی سرفراز خان بھی علمی اور ادبی حلقوں میں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ اس خاندان کی علمی روایت محض اتفاق نہیں بلکہ ایک فکری اور تہذیبی تسلسل ہے، جو نسل در نسل منتقل ہوتا رہا۔

محترم محمد عارف عارف صاحب کا تعلق ایک ایسے وسیع خاندان سے ہے جہاں قلم، شاعری، علم اور شعور ایک ورثے کی صورت میں موجود رہا۔ ان کے بھائیوں میں شاہ جہان، فرید خان، منصور خان، جمشید علی، اور راقم کے والد محترم محمد سعید شامل ہیں، جبکہ ان کی تین بہنیں بھی اس علمی، تہذیبی اور خاندانی ماحول کا اہم حصہ رہی ہیں۔ یہ خاندان صرف خونی رشتوں کا مجموعہ نہیں بلکہ علم، ادب، روایت، اخلاق اور فکری شعور کا ایک مکمل دبستان دکھائی دیتا ہے۔

اس خاندان میں متعدد شعراء اور اہلِ قلم شخصیات پیدا ہوئیں جنہوں نے پشتو ادب، شاعری اور فکری روایت میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ان میں انعام اللہ انعام، محمد اصغر خان، محمد نعیم اور دیگر اہلِ قلم شامل ہیں، جن کی شاعری میں محبت، تہذیب، قومی شعور، روحانیت، انسانی جذبات اور پشتون معاشرت کی خوبصورت عکاسی ملتی ہے۔

اسی خاندان کی ایک نہایت عظیم، حساس اور قابلِ فخر شخصیت مرحوم فیض اللہ فیض تھے، جو محترم محمد عارف عارف صاحب کے چچا زاد بھائی تھے۔ فیض اللہ فیض پشتو زبان کے ایک غیر معمولی صلاحیت رکھنے والے شاعر تھے، جنہوں نے نہایت کم عمری میں ادب کی دنیا میں اپنی منفرد پہچان بنا لی تھی۔ انہوں نے پشتو شاعری کی تین کتابیں تصنیف کیں، جو ان کی فکری وسعت، شعری مہارت، حساس طبیعت اور ادبی عظمت کا واضح ثبوت ہیں۔ افسوس کہ یہ روشن چراغ صرف چوبیس برس کی عمر میں بجھ گیا اور ان کا انتقال ہو گیا، مگر مختصر زندگی کے باوجود انہوں نے پشتو ادب کو جو ادبی سرمایہ دیا، وہ آج بھی محبت، عزت اور عقیدت کے ساتھ یاد کیا جاتا ہے۔ ان کی شاعری میں درد، محبت، احساس، انسان دوستی، روحانی کیفیت اور فکری گہرائی کا ایک منفرد امتزاج پایا جاتا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ وہ مختصر عمر میں بھی پشتو ادب میں ایک بلند مقام حاصل کر گئے۔

محترم محمد عارف عارف صاحب نے اپنی پوری زندگی محکمہ تعلیم میں خدمات انجام دیں اور ایک مثالی استاد کے طور پر شہرت حاصل کی۔ انہیں بجا طور پر “استادوں کے استاد” کہا جاتا ہے، کیونکہ انہوں نے صرف طلبہ ہی نہیں بلکہ اساتذہ کی بھی تربیت کی۔ ان کے ہزاروں شاگرد آج مختلف شعبہ ہائے زندگی میں خدمات انجام دے رہے ہیں اور اپنے استاد کا ذکر محبت، عقیدت اور فخر کے ساتھ کرتے ہیں۔ ان کی تدریس محض نصابی تعلیم تک محدود نہ تھی بلکہ وہ اخلاق، تہذیب، انسان دوستی، کردار سازی، فکری شعور اور دینی تربیت کو بھی تعلیم کا لازمی حصہ سمجھتے تھے۔ وہ اپنے شاگردوں کے لیے صرف استاد نہیں بلکہ ایک مربی، مشفق بزرگ اور رہنما کی حیثیت رکھتے تھے۔

ادبی میدان میں بھی محمد عارف عارف صاحب کی خدمات نہایت اہم اور قابلِ قدر ہیں۔ ان کا پہلا شعری مجموعہ “دَ فکر ټال” علمی و ادبی حلقوں میں بے حد سراہا گیا۔ اس مجموعے میں زندگی، معاشرت، انسان، روحانیت، فکر، شعور، اخلاق اور انسانی احساسات کو نہایت خوبصورت انداز میں پیش کیا گیا۔ ان کی شاعری میں محض الفاظ کی خوبصورتی نہیں بلکہ حکمت، مشاہدہ، تجربہ، فکری پختگی اور شعور کی گہرائی بھی نمایاں نظر آتی ہے۔

اب ان کی دوسری عظیم علمی، ادبی اور دینی تصنیف “داستانِ ابراہیم خلیل اللہ” منظرِ عام پر آ رہی ہے، جو پشتو ادب، روحانی فکر، دینی شعور اور شعری روایت کا ایک عظیم شاہکار ہے۔ یہ کتاب حضرت اسحاق دہلویؒ کی اردو نثری تصنیف “ ملت ابراہیم” سے ماخوذ مواد کو پشتو شاعری کے قالب میں پیش کرتی ہے۔ نثر کو شاعری میں منتقل کرنا بذاتِ خود ایک نہایت مشکل، نازک اور محنت طلب فن ہے، مگر جب موضوع حضرت ابراہیم علیہ السلام جیسے عظیم پیغمبر کی مبارک زندگی، قربانیوں، آزمائشوں، ہجرت، توحید، صبر اور اللہ تعالیٰ پر یقین کے پیغام پر مشتمل ہو تو یہ ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ محمد عارف عارف صاحب نے یہ عظیم کام نہایت محبت، عقیدت، تحقیق، ادبی مہارت اور دینی احتیاط کے ساتھ انجام دیا ہے۔

“داستانِ ابراہیم خلیل اللہ” دراصل حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پوری مبارک زندگی کی ایک ایمان افروز، روحانی، فکری اور ادبی داستان ہے۔ اس میں ان کی پیدائش، بچپن، حق کی تلاش، قوم کی بت پرستی، ستاروں، چاند اور سورج کے ذریعے توحید کا شعور، اپنے والد اور قوم کے ساتھ مکالمہ، بت شکنی، آگ میں ڈالے جانے، ہجرت، اللہ تعالیٰ پر کامل یقین، حضرت اسماعیل علیہ السلام اور حضرت اسحاق علیہ السلام کی ولادت، قربانی کے عظیم واقعے، بیت المقدس اور خانہ کعبہ کی تعمیر جیسے عظیم واقعات کو نہایت خوبصورت اور دلنشین شعری انداز میں بیان کیا گیا ہے۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی دراصل پوری انسانیت کے لیے صبر، قربانی، وفاداری، توحید اور اللہ تعالیٰ پر یقین کی سب سے بڑی مثال ہے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے وقف کر دی۔ انہوں نے قوم کے باطل معبودوں کے سامنے کلمۂ حق بلند کیا، اپنی قوم کو توحید کی دعوت دی، آگ میں ڈالے گئے مگر اللہ تعالیٰ نے آگ کو ان کے لیے سلامتی والا بنا دیا۔ پھر اللہ تعالیٰ کے حکم پر اپنے محبوب بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کے لیے بھی تیار ہو گئے۔ یہی وہ عظیم قربانی تھی جس نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو “خلیل اللہ” کے بلند مقام تک پہنچایا۔

اسی طرح خانہ کعبہ کی تعمیر بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی ایک عظیم خدمت تھی۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے گھر کی بنیادیں اٹھائیں اور دعا کی کہ اے اللہ! ہماری اس خدمت کو قبول فرما اور ہماری نسل میں ایک عظیم امت پیدا فرما۔ یہی دعا بعد میں حضرت محمد ﷺ کی بعثت کی صورت میں قبول ہوئی۔

محمد عارف عارف صاحب نے ان تمام عظیم واقعات کو پشتو شاعری میں اس انداز سے منتقل کیا ہے کہ قاری صرف تاریخ نہیں پڑھتا بلکہ روحانی کیفیت محسوس کرتا ہے۔ ان کی شاعری میں عقیدت، ادب، تحقیق، فکری گہرائی، روحانی تاثیر اور شعری حسن ایک ساتھ نظر آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ “داستانِ ابراہیم خلیل اللہ” پشتو ادب میں ایک منفرد، عظیم اور تاریخی مقام حاصل کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔

آج کے دور میں جب نئی نسل اپنی زبان، اپنی دینی تاریخ، اپنی تہذیبی شناخت اور اپنے فکری ورثے سے دور ہوتی جا رہی ہے، ایسے وقت میں اس قسم کی کتابیں ایک عظیم نعمت کی حیثیت رکھتی ہیں۔ یہ کتاب نہ صرف پشتو زبان کی خدمت ہے بلکہ نئی نسل کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانیوں، توحید، صبر، ہجرت اور اللہ تعالیٰ سے تعلق کے عظیم پیغام سے بھی روشناس کراتی ہے۔

مجھے ذاتی طور پر اس بات پر فخر ہے کہ میرا تعلق ایک ایسے علمی، ادبی اور مذہبی خاندان سے ہے جس نے ہمیشہ علم، ادب، تربیت اور شعور کی خدمت کو اپنی پہچان بنایا۔ محترم محمد عارف عارف صاحب میرے تایا ابو ہیں جبکہ میرے والد محترم محمد سعید ان کے چھوٹے بھائی ہیں۔ یہ پورا خاندان آج بھی علم، ادب، شاعری، تہذیب اور فکری شعور کی ایک خوبصورت روایت کو آگے بڑھا رہا ہے۔

“داستانِ ابراہیم خلیل اللہ” کی اشاعت میں راقم، Saeed International Hospital اور سعید انٹرنیشنل ٹرسٹ کو تعاون کا شرف حاصل ہو رہا ہے۔ ہمارا یقین ہے کہ ادب، علم اور شعور کی خدمت دراصل انسانیت کی خدمت ہے۔ جس طرح ہسپتال جسمانی بیماریوں کے علاج کا ذریعہ بنتا ہے، اسی طرح علم و ادب روح، فکر اور معاشرتی شعور کی اصلاح کا ذریعہ بنتے ہیں۔ اسی جذبے کے تحت اس کتاب کی اشاعت میں تعاون ہمارے لیے اعزاز بھی ہے اور سعادت بھی۔

مجھے یقین ہے کہ “داستانِ ابراہیم خلیل اللہ” پشتو ادب، دینی شعور، فکری تربیت اور روحانی آگہی کے میدان میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگی۔ یہ کتاب نہ صرف آج کے قارئین بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی ایک عظیم علمی و روحانی سرمایہ بنے گی۔ یہ قاری کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی سے جوڑتی ہے، توحید کی حقیقت سمجھاتی ہے، قربانی کا مفہوم واضح کرتی ہے، اور انسان کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ اپنے تعلق پر غور کرنے کی دعوت دیتی ہے۔

اللہ تعالیٰ محترم محمد عارف عارف صاحب کو صحت، عزت، برکت اور اجرِ عظیم عطا فرمائے، ان کے قلم کو مزید تاثیر دے، اور ان کی اس عظیم علمی، ادبی اور دین

دمت کو ہمیشہ زندہ رکھے۔ آمین۔
:::

14/05/2026

بچوں کی صحت اور خوشی ہماری اولین ترجیح ہے 👶💙
سعید انٹرنیشنل ہسپتال میں بچوں کی دیکھ بھال، معائنہ، علاج اور مکمل معاونت کی جدید سہولیات ماہر ڈاکٹرز کی نگرانی میں فراہم کی جاتی ہیں تاکہ آپ کے ننھے فرشتے صحت مند اور محفوظ رہیں۔
✔ بچوں کے امراض کا معائنہ
✔ نوزائیدہ بچوں کی خصوصی نگہداشت
✔ ویکسینیشن اور روٹین چیک اپ
✔ جدید طبی سہولیات اور تجربہ کار اسٹاف
🏥 Saeed International Hospital Islamabad
📍 G-11 Markaz Islamabad
📞 0331-111-0675

علاقہ تھل کے مشہور شخصیات قسط نمبر ۱پشتو عوامی شاعر آیاز خٹک المعروف “شاعر نیکہ”سوانح، ادبی خدمات، سماجی کردار اور علمی ...
13/05/2026

علاقہ تھل کے مشہور شخصیات
قسط نمبر ۱

پشتو عوامی شاعر آیاز خٹک المعروف “شاعر نیکہ”

سوانح، ادبی خدمات، سماجی کردار اور علمی ورثہ

پشتو زبان کی عوامی شاعری میں اگر چند ایسے نام تلاش کیے جائیں جنہوں نے بغیر کسی بڑی شہرت یا سرکاری سرپرستی کے عوام کے دلوں میں مستقل جگہ بنائی، تو ان میں آیاز خٹک المعروف “شاعر نیکہ” کا نام نمایاں نظر آتا ہے۔ وہ نہ صرف ایک شاعر تھے بلکہ ایک عوامی دانشور، اصلاح پسند شخصیت، سماجی کارکن اور اپنے علاقے کے حقیقی ترجمان بھی تھے۔

آیاز خٹک سن 1905ء میں ضلع کرک کی تحصیل تختِ نصرتی کے علاقہ تھل کے معروف گاؤں جتان بانڈہ میں مرحوم جمعہ خان کے گھر پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق خٹک قوم کے مشہور قبیلہ بارک خٹک اور تاریخی شاخ نصرتی خٹک کے جلی خیل خاندان سے تھا۔ یہ خاندان پشتون روایات، علم، ادب، مہمان نوازی اور غیرت کے حوالے سے پورے علاقے میں ایک نمایاں مقام رکھتا ہے۔

ان کے بڑے بھائی گلفراز خٹک جبکہ دوسرے بھائی سرفراز خٹک تھے، اور آیاز خٹک تیسرے نمبر پر تھے۔ ان کے خاندان میں دینی، علمی اور ادبی ماحول موجود تھا، جس نے ان کی شخصیت اور فکر پر گہرا اثر ڈالا۔

---

ابتدائی زندگی اور تعلیم

یہ وہ دور تھا جب برصغیر پر انگریز حکومت قائم تھی۔ دیہی علاقوں میں تعلیم نہ ہونے کے برابر تھی، غربت عام تھی، اور لوگوں کی اکثریت بنیادی سہولیات سے محروم تھی۔ ایسے مشکل حالات میں آیاز خٹک نے تعلیم حاصل کی۔

انہوں نے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ پرائمری اسکول، جہانگیری بانڈہ سے حاصل کی۔ اُس زمانے میں فارسی زبان کو علمی اور سرکاری حیثیت حاصل تھی، اس لیے انہوں نے فارسی میں تعلیم حاصل کی اور سن 1932ء میں تختِ نصرتی کے مڈل اسکول سے آٹھویں جماعت فارسی میں پاس کی۔

سن 1934ء میں پٹواری کا امتحان کامیابی سے پاس کرنے کے بعد آیاز خٹک کی تقرری بطور پٹواری عمل میں آئی۔ بعد ازاں سن 1941ء میں ان کا تبادلہ ضلع کرم کے علاقے پاراچنار میں کر دیا گیا۔ وہاں اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے انجام دینے کے بعد انہیں ترقی دے کر پہلے گرداور اور پھر قانون گو کے عہدے پر فائز کیا گیا۔ انہوں نے طویل عرصے تک دیانت داری اور محنت کے ساتھ سرکاری خدمات انجام دیں اور بالآخر سن 1980ء میں سرکاری ملازمت سے باعزت طور پر پنشن پر ریٹائر ہو گئے۔

---

عوامی شاعر اور عوامی ترجمان

آیاز خٹک ایک حساس دل رکھنے والے شاعر تھے۔ وہ اپنے اردگرد کے ماحول، عوامی محرومیوں، غربت اور ناانصافیوں کو شدت سے محسوس کرتے تھے، اور یہی احساس ان کی شاعری میں نمایاں طور پر جھلکتا ہے۔

انہوں نے شاعری کو صرف عشق و محبت تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے عوامی شعور بیدار کرنے کا ذریعہ بنایا۔ ان کی شاعری کے اہم موضوعات یہ تھے:

بجلی اور پانی کے مسائل

سڑکوں اور ہسپتالوں کی کمی

غربت اور پسماندگی

پشتون معاشرے کی اخلاقی اصلاح

دینی و روحانی فکر

نوجوان نسل کی تربیت

علاقائی محرومی اور قومی حقوق

امن، اتحاد اور بھائی چارہ

ان کی زبان سادہ، عوامی اور دل میں اتر جانے والی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ ان کے اشعار حجروں، دیہاتی محفلوں، میلوں اور عوامی اجتماعات میں بڑے شوق سے پڑھے اور گائے جاتے تھے۔

---

سیاسی و سماجی شعور

آیاز خٹک اپنے علاقے کے مسائل اُس وقت کے علاقائی اور قومی رہنماؤں تک پہنچاتے تھے۔ اسلم خٹک، نوابزادہ محسن علی خان اور ظفر اعظم خٹک جیسی شخصیات تک انہوں نے شاعری کے ذریعے عوام کی آواز پہنچائی۔

وہ صرف تنقید نہیں کرتے تھے بلکہ اصلاح اور ترقی کی بات بھی کرتے تھے۔ ان کا یقین تھا کہ تعلیم، شعور اور اتحاد ہی قوم کی کامیابی کا راستہ ہیں۔

---

تختِ نصرتی کے نام میں کردار

آیاز خٹک کا ایک اہم تاریخی کردار “تختِ نصرتی” کے نام سے بھی جڑا ہوا ہے۔ چونکہ یہ علاقہ تاریخی طور پر نصرتی خٹک خاندان سے منسلک تھا، اس لیے انہوں نے اس تاریخی شناخت کو محفوظ رکھنے کی کوشش کی۔ روایت کے مطابق انہوں نے اس حوالے سے سفارشات اور سپاس نامہ پیش کیا، جس کے بعد “تختِ نصرتی” کا نام زیادہ معروف اور مستحکم ہوا۔

---

جتان بانڈہ کی ترقی میں خدمات

آیاز خٹک صرف شاعر ہی نہیں بلکہ عملی خدمت کرنے والی شخصیت بھی تھے۔ انہوں نے اپنے گاؤں جتان بانڈہ کی ترقی کے لیے بھرپور کوششیں کیں۔

ان کی جدوجہد سے علاقے میں:

گورنمنٹ پرائمری اسکول

گورنمنٹ مڈل اسکول

گرلز پرائمری اسکول

ٹیوب ویل

جیسی بنیادی سہولیات قائم ہوئیں۔ خصوصاً نوّے کی دہائی میں لگنے والا پہلا ٹیوب ویل علاقے کے لیے ایک بڑی نعمت سمجھا جاتا تھا۔

اسی وجہ سے آج بھی جتان بانڈہ کے لوگ انہیں عزت، محبت اور فخر سے یاد کرتے ہیں۔

---

علمی و ادبی خاندان

آیاز خٹک کا خاندان پورے علاقے میں “شاعروں کی فیملی” کے نام سے جانا جاتا ہے۔

ان کے بیٹوں کے نام:

احمد نواز خٹک

سیف اللہ خٹک

زرملوک خٹک

ہیں۔

ان کے بھتیجوں میں معروف پشتو شاعر عارف محمد عارف شامل ہیں، جن کی مشہور کتاب “دَ فکر ټال” شائع ہو چکی ہے، جبکہ ان کی ایک اور تصنیف “داستانِ ابراہیم خلیل اللہ” اشاعت کے مراحل میں ہے۔

پشتو زبان کے عظیم عوامی شاعر فیض اللہ فیض مرحوم بھی آیاز خٹک کے بھتیجے تھے۔

اسی علمی خاندان سے تعلق رکھنے والے:

ریٹائرڈ ہیڈ ماسٹر محمد سعید خٹک

ڈاکٹر محمد نعمان سعید خٹک

انعام اللہ انعام

اصغر خان خٹک

بھی ادب، شاعری اور علمی سرگرمیوں سے وابستہ رہے ہیں۔

---

ادبی مقام اور اندازِ شاعری

آیاز خٹک کی شاعری میں سادگی، اخلاص، درد، اصلاح اور عوامی رنگ نمایاں ہے۔ ان کے کلام میں کہیں رحمان بابا جیسی نصیحت ملتی ہے، کہیں خوشحال خان خٹک جیسا قومی شعور، اور کہیں عوامی پشتو شاعری کی سادہ مگر دلنشین مٹھاس۔

وہ ایسے شاعر تھے جنہوں نے بغیر کسی ادبی دعوے کے عوام کے دل جیت لیے۔ ان کی شاعری آج بھی کرک، تختِ نصرتی، کوہاٹ اور آس پاس کے علاقوں میں محبت سے پڑھی اور سنی جاتی ہے۔

---

ادبی خدمات اور ادبی تنظیموں سے وابستگی

آیاز خٹک ادب دوست اور ادیبوں کی قدر کرنے والی شخصیت تھے۔ وہ مختلف ادبی اور سماجی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔ اپنی زندگی کے آخری ایام تک وہ صدر ٹھل ادبی کاروان برمڑنی کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے۔ ان کی قیادت میں ادبی محفلیں، شعری نشستیں اور عوامی مشاعرے منعقد ہوتے رہے، جنہوں نے علاقے میں پشتو ادب اور عوامی شاعری کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔

---

وفات

پشتو زبان کے یہ عظیم عوامی شاعر 19 جولائی 2004ء کو وفات پا گئے، مگر ان کا نام، شاعری، خدمات اور عوامی ورثہ آج بھی زندہ ہے۔

آج بھی جب جتان بانڈہ، تختِ نصرتی یا ضلع کرک میں عوامی شاعری کا ذکر ہوتا ہے تو آیاز خٹک المعروف “شاعر نیکہ” کو عزت، محبت اور فخر کے ساتھ یاد کیا جاتا ہے۔

چیف ٹریفک آفیسر کیپٹن (ر) حمزہ ہمایوں نے فیلڈ میں شہریوں کی خدمت، حفاظت اور سہولت کے فرائض انجام دینے والے ٹریفک افسران ...
09/03/2026

چیف ٹریفک آفیسر کیپٹن (ر) حمزہ ہمایوں نے فیلڈ میں شہریوں کی خدمت، حفاظت اور سہولت کے فرائض انجام دینے والے ٹریفک افسران کے ہمراہ روزہ افطار کیا۔ تمام آفیسرز کی لگن، ذمہ دارانہ رویے اور خدمات کو سراہتے ہوئے ان کے حوصلے کو بڑھایا۔


09/03/2026

*اسرائیل کا ایران سے جنگ ختم کرنے کے طریقے پر غور، واشنگٹن پوسٹ کا دعویٰ*

ایران سرنڈر نہیں کرے گا۔،اسرائیلی حکام نے لامتناہی حملوں پر تشویش کا اظہار کردیا

عالمی معیشت کو مزید نقصان سے بچانے کیلئے ایگزٹ سٹریٹجی پر غور جاری ہے، رپورٹ

گومل ایلومنائی گیدرنگ اور عید ملن پارٹی کے انعقاد کی تیاریاںاسلام آباد (نمائندہ خصوصی) — گومل یونیورسٹی کے سابقہ اور موج...
09/03/2026

گومل ایلومنائی گیدرنگ اور عید ملن پارٹی کے انعقاد کی تیاریاں

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) — گومل یونیورسٹی کے سابقہ اور موجودہ طلبہ کے درمیان باہمی روابط کو فروغ دینے اور پرانی یادوں کو تازہ کرنے کے لیے عید کے موقع پر ایک گرینڈ گومل ایلومنائی گیدرنگ اور عید ملن پارٹی کے انعقاد کی تیاریاں جاری ہیں۔

اس سلسلے میں گومل ایلومنائی کے ایک وفد نے صدر خٹک ویلفیئر آرگنائزیشن اسلام آباد اور سی ای او سعید انٹرنیشنل ہسپتال جی-11 اسلام آباد، سینئر موسٹ گوملین ڈاکٹر محمد نعمان سعید خٹک سے ملاقات کی۔ وفد میں عاقب حیات خٹک (فارماسسٹ) اور عمیر خٹک (فارماسسٹ) شامل تھے، جنہوں نے گومل ایلومنائی گیدرنگ کے انتظامات اور پروگرام کے حوالے سے تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔

ملاقات کے دوران ڈاکٹر محمد نعمان سعید خٹک نے گومل یونیورسٹی کے سینئر اور جونیئر طلبہ کی اس کاوش کو سراہتے ہوئے اسے ایک مثبت اور قابلِ تحسین اقدام قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ گومل یونیورسٹی کے تمام سابقہ اور موجودہ طلبہ ایک خاندان کی مانند ہیں اور ان کی خدمت و رہنمائی کے لیے وہ ہر وقت حاضر ہیں۔

ڈاکٹر نعمان سعید خٹک نے پروگرام کے انعقاد کے حوالے سے مفید تجاویز بھی پیش کیں اور اس میگا ایونٹ کے لیے خصوصی مالی تعاون (ڈونیشن) کا اعلان بھی کیا۔ اس موقع پر گوملین وفد نے ڈاکٹر صاحب کی مہمان نوازی اور تعاون پر ان کا شکریہ ادا کیا۔

گومل ایلومنائی گیدرنگ کے انتظامات میں عاقب حیات خٹک اور عمیر خٹک بطور آرگنائزر اہم کردار ادا کر رہے ہیں اور اس میگا ایونٹ کو کامیاب بنانے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔

گومل ایلومنائی کی جانب سے تمام سینئرز اور جونیئرز کو کھلے دل سے دعوت دی گئی ہے کہ وہ اس پروگرام میں شرکت کریں اور اس کو کامیاب بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ انتظامیہ کے مطابق جلد ہی پروگرام کی تاریخ اور دیگر تفصیلات کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔

Address

اسلام آباد
Islamabad
44000

Telephone

+3219217887

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sada e Thal News posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share