Arze Muqaddas

Arze Muqaddas Sharing stories, analysis, awareness and Change From the political landscape to social issues and the beauty of Pakistan’s landscapes, we cover it all.

انسانیت | حسینیت | پاکستانیت
Humanity | Hussainiyat | Pakistaniyat

Arze Muqaddas is an independent platform for commentary, awareness, and stories that highlight humanity, history, society, and Pakistan. Page Description for .official:
Welcome to Arze Muqaddas, a Page/channel dedicated to sharing the beauty, resilience, and spirit of Pakistan. We aim to inspire love and unity through thoughtful discussions on politics, current affairs, and national issues. Our content is crafted to reflect the true essence of Pakistan — its rich culture, history, and unwavering pride. At Arze Muqaddas, we believe in upholding the truth and shedding light on important matters that shape our country. We stand by the values of honesty, compassion, and a deep love for our homeland. Our mission is to inform, educate, and unite Pakistanis, both locally and globally. Through our videos, we also showcase Pakistan’s natural wonders, heroes, and cultural richness, ensuring that our love for Pakistan shines through every piece of content we create. We believe that by sharing these stories, we can inspire a sense of patriotism and encourage others to take pride in our beautiful nation. Join us on this journey as we promote unity, hope, and a stronger future for Pakistan. Whether it’s through political analysis, heart-touching stories, or showcasing our country's unmatched beauty, our goal is to bring you content that truly resonates with the spirit of Pakistan. For the love of Pakistan, stay connected! Subscribe to support our mission of spreading truth and positivity about our beloved nation.

05/09/2026

چھ بار نا قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری ہونے کے بعد بھی ایک بندہ پورے پاکستان گھوم رہا ہے
اور دھمکیاں پارٹی سپورٹرز کو مل رہی ہیں

04/09/2026

جو خود کو باشعور کہتے تھے
وہ آج ٹکے کے دو ملتے ہیں

03/09/2026

🐜 محنتی چیونٹی

ایک مشہور انتظامی تمثیلی کہانی — مصنف نامعلوم

ایک جنگل میں ایک چیونٹی رہتی تھی۔

وہ بہت محنتی تھی۔
ہر روز صبح وقت پر اپنے کام پر پہنچتی، بغیر کسی شور شرابے کے اپنا کام شروع کرتی اور دن بھر پوری توجہ سے کام کرتی۔ نہ اسے کسی نگران کی ضرورت تھی، نہ بار بار یاد دہانی کی۔

نتیجہ یہ تھا کہ اس کی کارکردگی بہترین تھی اور وہ اپنے کام سے مطمئن بھی تھی۔

جنگل کا سربراہ شیر ایک دن اس کے کام کا جائزہ لینے پہنچا۔ وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ ایک چھوٹی سی چیونٹی بغیر کسی نگرانی کے اتنی زیادہ پیداوار دے رہی ہے۔

شیر نے سوچا:

“اگر یہ چیونٹی بغیر نگرانی کے اتنا اچھا کام کر رہی ہے تو کسی تجربہ کار افسر کو اس کا نگران بنا دیا جائے، شاید اس کی کارکردگی اور بھی بڑھ جائے!”

چنانچہ شیر نے ایک لال بیگ کو چیونٹی کا سپروائزر مقرر کر دیا۔

لال بیگ نے عہدہ سنبھالتے ہی پہلا حکم جاری کیا:

“سب سے پہلے حاضری کا باقاعدہ نظام ہونا چاہیے۔ معلوم ہونا چاہیے کون کتنے بجے آتا ہے اور کتنے بجے جاتا ہے۔”

حاضری کا نظام بن گیا۔

پھر اسے خیال آیا کہ اتنی نگرانی اور رپورٹنگ اکیلے کیسے ہوگی؟

لہٰذا ایک مکڑی کو سیکرٹری مقرر کر دیا گیا، جس کی ذمہ داری تھی کہ ریکارڈ محفوظ کرے، رپورٹس لکھے، فون کالز نوٹ کرے اور دفتری کاغذات سنبھالے۔

اب شیر کو روزانہ باقاعدہ رپورٹس ملنے لگیں۔

شیر ان رپورٹس سے بہت خوش ہوا۔

اس نے کہا:

“رپورٹ اچھی ہے، لیکن اگلی بار صرف اعداد و شمار نہ لانا۔ گراف بناؤ، پچھلے مہینوں سے موازنہ کرو، پیداوار کا رجحان دکھاؤ اور یہ سب انتظامی کمیٹی کے اجلاس میں پیش کرو۔”

لال بیگ نے سوچا کہ یہ سب کام عام کاغذ پر تو ممکن نہیں۔

چنانچہ ایک نیا کمپیوٹر خریدا گیا، لیزر پرنٹر آیا اور کمپیوٹر سنبھالنے کے لیے ایک مکھی کو آئی ٹی ماہر مقرر کر دیا گیا۔

اب چیونٹی کا اصل کام کہاں رہ گیا تھا؟

جس وقت وہ پہلے خاموشی سے اپنا کام کیا کرتی تھی، اب اسی وقت کا ایک بڑا حصہ حاضری، فارم، رپورٹس، اجلاسوں اور وضاحتوں میں گزرنے لگا۔

چیونٹی پریشان ہونے لگی۔

اسے محسوس ہوا کہ وہ کام کرنے سے زیادہ اپنے کام کے بارے میں بتانے میں وقت گزار رہی ہے۔

کچھ عرصے بعد شیر نے محسوس کیا کہ چیونٹی کی کارکردگی پہلے جیسی نہیں رہی۔

اس نے فوراً نتیجہ نکالا:

“شاید مسئلہ نگرانی کا نہیں، انتظامی ڈھانچے کا ہے۔ اس شعبے کو ایک سربراہ کی ضرورت ہے۔”

چنانچہ ایک نئے افسر کو پورے شعبے کا انچارج بنا دیا گیا۔

نئے سربراہ نے پہلے دن دفتر کا معائنہ کیا اور فیصلہ دیا:

“دفتر کا ماحول پروفیشنل ہونا چاہیے۔”

چنانچہ نیا فرنیچر خریدا گیا، دفتر میں خوبصورت قالین بچھائے گئے، آرام دہ کرسی منگوائی گئی اور سربراہ کے لیے الگ کمپیوٹر بھی خریدا گیا۔

پھر اس نے اپنی مدد کے لیے ایک ذاتی سیکرٹری بھی مقرر کر لیا۔

اب دفتر میں ملازمین سے زیادہ افسر، معاون، نگران اور رپورٹیں نظر آنے لگیں۔

چیونٹی کا کام مزید متاثر ہوا۔

اسے کبھی ایک اجلاس میں بلایا جاتا، کبھی دوسری میٹنگ میں۔ کبھی فارم بھرنے ہوتے، کبھی وضاحت دینی ہوتی اور کبھی نئی پالیسی کے مطابق رپورٹ تیار کرنا ہوتی۔

رفتہ رفتہ وہی چیونٹی جو کبھی خوشی سے کام کرتی تھی، اب تھکی ہوئی اور بے دل دکھائی دینے لگی۔

شیر نے ایک بار پھر اعداد و شمار دیکھے تو حیران رہ گیا۔

اخراجات بڑھ چکے تھے، ملازمین کی تعداد بڑھ چکی تھی، میٹنگیں بڑھ چکی تھیں، رپورٹس کئی گنا بڑھ چکی تھیں… مگر پیداوار کم ہو گئی تھی۔

شیر نے کہا:

“اس مسئلے کی اصل وجہ ہمیں کسی ماہر سے معلوم کرانی چاہیے۔”

چنانچہ ایک معروف اور مہنگے مشیر، الو، کو بلایا گیا۔

الو نے دفتر کا تفصیلی جائزہ لینے کے لیے کئی ماہ گزار دیے۔

اس نے درجنوں فائلیں دیکھیں، ملازمین سے ملاقاتیں کیں، اعداد و شمار جمع کیے، کئی صفحات پر مشتمل تجزیہ تیار کیا اور آخرکار ایک ضخیم رپورٹ شیر کے سامنے پیش کر دی۔

رپورٹ کا مرکزی نتیجہ تھا:

“اس شعبے میں ضرورت سے زیادہ افراد کام کر رہے ہیں۔ اخراجات کم کرنے اور کارکردگی بہتر بنانے کے لیے افرادی قوت میں کمی ضروری ہے۔”

شیر نے رپورٹ پڑھی۔

کافی دیر سوچا۔

پھر اس نے فیصلہ سنایا:

“سب سے پہلے چیونٹی کو فارغ کر دیا جائے۔”

کیوں؟

کیونکہ اب وہ پہلے جیسی محنت نہیں کرتی تھی۔

اس کی کارکردگی گر گئی تھی۔

وہ میٹنگز اور کاغذی کارروائی سے تنگ آ چکی تھی۔

اور سب سے بڑھ کر…

وہ اپنے کام کے اس نئے نظام سے خوش نہیں تھی۔

یوں وہ چیونٹی، جس نے کبھی اس پورے نظام کو اپنی محنت سے چلایا تھا، آخرکار اسی نظام کی ناکامی کی ذمہ دار قرار دے کر نکال دی گئی۔

اور باقی سب؟

نگران موجود رہے۔

سیکرٹری موجود رہی۔

آئی ٹی موجود رہی۔

افسر موجود رہے۔

مشیر بھی موجود رہا۔

صرف وہ شخص نکالا گیا جو حقیقت میں کام کرتا تھا۔

خاموش پیغام

یہ کہانی صرف چیونٹی، لال بیگ اور شیر کی نہیں۔

یہ ہر اُس ادارے کے لیے ایک سوال ہے جہاں:

کام کرنے والوں سے زیادہ کام کی نگرانی کرنے والے بڑھ جائیں،
نتائج سے زیادہ رپورٹس اہم ہو جائیں،
فیصلوں سے زیادہ میٹنگیں ہونے لگیں،
اور مسائل حل کرنے کے بجائے نئے عہدے پیدا کیے جانے لگیں۔

آخرکار ادارہ یہ بھول جاتا ہے کہ اسے چلانے والا کون تھا۔

اور جب نظام ناکام ہوتا ہے تو اکثر سب سے پہلے اسی شخص سے پوچھا جاتا ہے:

“تم پہلے جیسے محنتی کیوں نہیں رہے؟”

حالانکہ شاید سوال یہ ہونا چاہیے:

“ہم نے ایسا کیا بدل دیا کہ محنتی چیونٹی پہلے جیسی محنت نہ کر سکی؟”

پس کہانی:
صفائی ٹیکس وصولی کے لیئے ایک نئی فورس بنانے کی تیاری جن کو مزید گاڑیاں اور موٹرسائیکلز دی جائیں گی
مزید سٹاف بنایا جائے گا اور مزید افسران کی ضرورت ہوگی

03/09/2026

جن کو ایف اے پاس کہتے ہیں
وہ جمہوریت کو آپس میں لڑا کر
اپنا کام نکالے جا رہے ہیں
اور باشعور انصافی ہر ترمیم سے پہلے
حکومت کی ہوا ٹائٹ کرنے کا کام کرتے ہیں
مطلب بے وقوف اور باشعور مل کر غریبوں کی بینڈ بجا رہے ہیں

02/09/2026

پیڈ پروموشن والے
کبھی تنقید نہیں کر سکتے
خوشامدی چاپلوس ہی رہتے ہیں
یہ فارمولا ہر شعبے پر لگتا ہے

01/09/2026

آئی ایس ایف اپنی پروموشن میں لگی ہے یوتھ ونگ اپنی پروموشن میں لگی ہے وکیل اپنی پروموشن میں لگے ہیں قائدین اپنی پروموشن میں لگے ہیں کسی کو ملکی حالات عمران خان اور پاکستان کی فکر نہیں

01/09/2026

ہرکسی کو غدار کہنا غلط بات ہے
لیکن مومن ایک ہی سوراخ سے بار بار ڈسا بھی نہیں جاتا۔۔۔ اور جو یہ بات سمجھائے وہ غدار نہیں مخلص ہوتا ہے

01/09/2026

تحریک انصاف والے تو
نون لیگ سے بھی زیادہ فرمانبردار نکلے
بغیر حکومت کے ہی ساڑھے چار سال سے
لالی پاپس پہ چل رہے ہیں

01/09/2026

27 ستمبر کو کچھ بھی نہیں ہوگا
وہی پرانا لولی پاپ ملے گا تحریک انصاف کو
اور اس میں قصور ان سب لوگوں کا ہے
جو خواب بیچ رہے ہیں

31/08/2026

Narrow minded 🤪

Address

Islamabad
44000

Telephone

+923009796951

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Arze Muqaddas posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Arze Muqaddas:

Shortcuts

Share