07/11/2025
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان صاحب نے آج اسلام آباد میں پارٹی پارلیمانی اجلاس کے بعد ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "ستائیسویں آئینی ترمیم" کے حوالے سے اب تک حکومت کی جانب سے کوئی مسودہ منظرِ عام پر نہیں آیا، اس لیے اس کی جزیات پر بحث قبل از وقت ہے۔ تاہم جمعیت علماء اسلام نے بعض اصولی فیصلے طے کیے ہیں جن سے انحراف قابلِ قبول نہیں ہوگا۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ چھبیسویں آئینی ترمیم کے دوران حکومت پینتیس شقوں سے دستبردار ہوئی تھی۔ اگر وہی شقیں دوبارہ ستائیسویں ترمیم میں شامل کی گئیں تو یہ پارلیمنٹ اور آئین دونوں کی توہین ہوگی۔
انہوں نے واضح کیا کہ "پارلیمنٹ ربڑ اسٹیمپ نہیں بن سکتی۔ دو تہائی اکثریت سے ہونے والے فیصلے کو ایک سال بعد ازسرِنو بدلنے کی کوشش عوامی اعتماد کے منافی ہے۔"
قائد جمعیت نے کہا کہ حکومت نے اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پر نہ کوئی بحث کی اور نہ انہیں ایوان میں پیش کیا، جبکہ ترمیم میں اس کی باقاعدہ ضمانت دی گئی تھی۔ اسی طرح سود کے خاتمے کے لیے یکم جنوری 2028 کی حد مقرر ہونے کے باوجود کوئی عملی پیشرفت نہیں ہوئی۔
انہوں نے مدارس کے حوالے سے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ مدارس کو 1860 سوسائٹیز ایکٹ کے تحت رجسٹریشن سے روکنا اور وزارتِ تعلیم کے تحت زبردستی رجسٹریشن پر مجبور کرنا قانون اور اسمبلی دونوں کی توہین ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو جو اختیارات ملے ہیں ان میں کسی قسم کی کمی برداشت نہیں کی جائے گی۔
"جمعیت علماء اسلام صوبائی خودمختاری کے دفاع کے لیے ہر سطح پر آواز بلند کرے گی، صوبوں کا حق آئین میں اضافہ کی صورت میں ہوسکتا ہے، کمی کسی صورت نہیں۔"
اسی طرح انہوں نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کے مالی حقوق پر ڈاکا ڈالنے کی کسی بھی کوشش کی مزاحمت کی جائے گی۔
---
آرٹیکل 243
سوال و جواب کے دوران مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اگر آرٹیکل 243 میں ہونے والی ممکنہ ترمیم ملک کی سیاست، آئین اور جمہوریت پر منفی اثر ڈالے گی تو جمعیت اسے قبول نہیں کرے گی۔
"انتظامی نوعیت کی تبدیلیاں اور آئینی نوعیت کی ترامیم دو مختلف چیزیں ہیں، اس کا فیصلہ اس کی تفصیلات دیکھنے کے بعد کیا جائے گا۔"
انہوں نے واضح کیا کہ ملکی فیصلے صرف کسی ایک ادارے کی سوچ پر نہیں ہونے چاہئیں، بلکہ پارلیمنٹ کی سیکیورٹی کمیٹی اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر اجتماعی قومی موقف تشکیل دیا جائے۔
---
افغانستان سے مذاکرات
افغانستان کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر مولانا نے کہا کہ انہیں مذاکرات کی کامیابی کی امید ہے:
"ہم دو پڑوسی ملک ہیں، باہمی بہتر تعلقات ہی خطے کے استحکام کی ضمانت ہیں۔ میری دعائیں ہیں کہ مذاکرات کامیاب ہوں۔"
---
بلاول بھٹو کے موقف اور سیاسی رابطے
بلاول بھٹو کی حالیہ پریس کانفرنس پر تبصرہ کرتے ہوئے مولانا نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کے درمیان رابطے اور افہام و تفہیم کا تسلسل جمہوری عمل کا حصہ ہے۔
"انہوں نے کچھ چیزیں مسترد اور کچھ قبول کی ہیں، ہمیں بیٹھ کر موقف سمجھنا ہوگا تاکہ مشترکہ حکمتِ عملی تشکیل دی جا سکے۔"
---
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جمہوریت میں جلد بازی اور غیر مشاورتی قانون سازی خطرناک ہے۔
"اٹھارویں ترمیم کی طرح قومی اتفاقِ رائے کے ساتھ طویل مشاورت کے بغیر کسی بھی آئینی ترمیم کا عمل جمہوری روایت کے منافی ہوگا۔"
آخر میں قائد جمعیت نے واضح کیا کہ جمعیت علماء اسلام آئین، جمہوریت، صوبائی خودمختاری، اور دینی اداروں کے وقار کے تحفظ کے لیے ہر محاذ پر اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔