JUI Answers Back

JUI Answers Back Fan Page

25/12/2025

جب ’پراجیکٹ عمران‘ کو تیار کیا جا رہا تھا تو ایسے انٹرویوز کے ذریعے انہیں مسیحا اور بقراط بنانے کی کوشش کی جا رہی تھی۔ عمران بہار کے جس وزیرِ اعلٰی کی کتاب پڑھ کر اور ان کا مینی فیسٹو یہاں لاگو کر رہے تھے، یہ وہی نتیش کمار ہیں جنہوں نے پچھلے دنوں ایک مسلمان خاتون ڈاکٹر کا حجاب کھینچ کر سرعام ان کی تضحیک کی اور آج پوری دنیا ان کے خلاف احتجاج کر رہی ہے۔

تف

24/12/2025

قانونی استثناء کے مسئلے پر شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہ کی رائے پر قلبی اطمینان ہو رہا ہے

دنیا میں کہیں بھی حق خود احتسابی کا آئیڈیل استعمال نہیں رہا ، یہ ضروری ہے کہ تیسرے فریق سے اپنے معاملات پر رائے ، مشورے ، تنقید ، تحسین کا معمول بنا لیا جائے ، کوئی استاذ ، کوئی مرشد ، کوئی پیر ، کوئی میںنٹور بنا لیا جائے

ریاستوں کے معاملات اس سے کہیں پیچیدہ ہوا کرتے ہیں ، جمہوری نظام حکومت کے تصوّر میں چیکس اینڈ بیلنس کا تصور اسی سے پیدا ہوا ، کوئی ایک ریاستی عضو نہ انتظامی طور پر اتنا بالادست ہو کہ اس کی پالیسیوں پر احتساب کا امکان ہو ، اور نہ اتنا تہی دست ہو کہ اس کے لئے اپنا فریضہ انجام دینے میں رکاوٹیں پیدا ہوں

ذاتی رائے یہی ہے کہ موجودہ پاکستانی جمہوریت میں عہدے داروں کے لئے متعین اسپیس مناسب ہے ، کام کا مینڈیٹ طئے ہے ، مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے کہ جب ذاتی خواہشات کو پالیسی بنا لیا جائے

جنرل فیض کے کیس میں پاکستان یہی بھگت رہا ہے ، کوئی عہدے دار اتنا طاقتور ہو جائے کہ وہ نظام سیاست و عدالت و صحافت کو مفلوج کر دے ، جمہور کی رائے کی نوک پلک اپنے خواہش کی مطابق سنوارے

اک اور فیض کا امکان بہرحال موجود ہے ، وہ کسی بھی شکل میں ، کسی بھی ادارے سے کھڑا ہو سکتا ہے ، اس امکان کا خاتمہ ایک صورت میں ہو سکتا ہے کہ عہدے داروں پر نظام احتساب مضبوط کیا جائے ، وہ جو متعین دائرے سے نکل گئے ہیں ، انہیں واپس لایا جائے ، اور بلا تفریق میرٹ و گریڈ سب کو قانونی کٹہرے میں اپنی شخصی و ادارتی کارکردگی پیش کرنے کا پابند بنایا جائے



شکریہ قبلہ شیخ الاسلام! سلامت باکرامت رہیں ❤️

صبغت اللہ لغاری

شکریہ سکھر
24/12/2025

شکریہ سکھر


24/12/2025

خدا کی قسم ہم مدح سرا مولوی نہیں ہے سرعام آپ کے خلاف بات کرینگے۔
ہم وہ مولوی نہیں ہے کہ آپ سامنے بٹھائینگے اور ہم آپ کی مدح سرائی کرے۔

24/12/2025

مفتی شمائل اور جاوید اختر کی مباحثے سے مستفاد دروس ۔

1: مناظرہ اسی وقت مفید اور بامقصد ہوتا ہے جب توہین، طنز اور مکابرہ سے پاک ہو، اور خلوصِ نیت و للّٰہیت پر قائم ہو۔

2: دلیل کو جب احترام کے ساتھ پیش کیا جائے تو وہ اثر رکھتی ہے، حتیٰ کہ غیر جانبدار اور مخالف بھی داد دینے پر مجبور ہو جاتا ہے۔

3: کافر، گمراہ، فاسق اور زندیق جیسے فتوے لگانے سے مخاطَب داعی کو حریف سمجھنے لگتا ہے؛ جبکہ خیرخواہ داعی مدعو کے دل میں جگہ بناتا ہے، اور دعوت اسی صورت مؤثر ہوتی ہے۔

4: درسِ نظامی جب تک معاصر علوم، جدید فہم اور زندہ زبانوں سے مزین نہ ہو، وہ اپنے محدود حلقۂ احباب سے آگے مؤثر کردار ادا نہیں کر سکتا۔

5: محض فضائل اور حکایات اقوام کی فکری سمت تبدیل نہیں کر سکتیں؛ قرآن و حدیث کو معقول، مہذب اور فکری انداز میں پیش کرنے سے ہی دلوں میں انقلاب آتا ہے۔

6: دینِ اسلام کو مسلکی عینک سے پیش کرنا دراصل دین کی جڑوں کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔

7: انسانی علوم کی ترقی کے بعد عصرِ حاضر کی نسل دین کو خوابوں اور روایتی مناظرانہ اسلوب میں قبول کرنے کے لیے آمادہ نہیں۔

8: کمیونیکیشن گیپ ختم کرنے کے لیے درسی کتب کے ساتھ ساتھ غیر نصابی، فکری اور عصری مطالعہ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

9: سوشل میڈیا کی طاقت اور اثر کو نظر انداز کرنا فکری خودکشی کے مترادف ہے؛ یہ آج کا سب سے مؤثر دعوتی میدان ہے۔

10: حاصل شدہ علم پر اکتفا کر کے کمفرٹ زون میں رہنا فکری جمود بلکہ سفاہت ہے؛ مسلسل سیکھنا ہی زندہ اقوام کی علامت ہے۔

تحریر اسجد محمود

مفتی یاسر ندیم الواجدی  کا جاوید اختر سے وہ سوال جو نہ جاوید اختر کی سمجھ میں آیا اور نہ بہت سے اپنوں کی سمجھ میں آیا۔۔۔...
23/12/2025

مفتی یاسر ندیم الواجدی کا جاوید اختر سے وہ سوال جو نہ جاوید اختر کی سمجھ میں آیا اور نہ بہت سے اپنوں کی سمجھ میں آیا۔۔۔۔۔ اس کا مطلب حضرت نانوتوی رحمہ اللہ کی ایک عبارت سے پیش کر رہا ہوں۔ ان شاءاللہ اب سب کی سمجھ آجائے گا کہ وجودِ خدا پر کتنی مضبوط دلیل دی تھی مفتی یاسر ندیم صاحب نے سوالیہ انداز میں۔۔۔۔۔دور اور تسلسل جنھوں نے پڑھا ہے منطق میں ، ان کے لیے تو بہت آسان ہے سمجھنا

( انس بجنوری انڈیا )
گزارش ہے کہ بانی دارالعلوم دیوبند قاسم نانوتوی رح کے کتابیں نصاب میں شامل کرکے تشریح کے ساتھ ،

صحافی فیض  اللہ خان   کے قلم سے مفتی محمد تقی العثمانی صاحب عمر کے جس حصے میں ہیں عالم اسلام میں جس حیثیت کے حامل ہیں ما...
23/12/2025

صحافی فیض اللہ خان کے قلم سے

مفتی محمد تقی العثمانی صاحب عمر کے جس حصے میں ہیں عالم اسلام میں جس حیثیت کے حامل ہیں مالی طور پہ جس قدر آسودہ ہیں اسکے بعد لازمی ہے کہ خاموش رہ کر باقی ماندہ زندگی بھی یونہی سکون کیساتھ گزار دیتے مگر انہوں نے ایک مشکل اور بڑا فیصلہ کیا اور وہ یہ کہ ملک بھر میں موجود تمام مکاتب و مسالک اور فرقوں کے قابل ذکر علماء اور مولانا فضل الرحمان صاحب کو ایک چھت تلے جمع کیا شیخ شجاع الدین سے لیکر ابتسام الہٰی ظہیر صاحبان اور مفتی منیب الرحمان سے لیکر شاہ اویس نورانی صاحبان اور صاحبزادہ ابو الخیر زبیر تا شیعہ علماء تک کم و بیش ہر ایک کو دعوت دی مجلس میں گفتگو کا موقع دیا دس نکات پیش کئیے اور متفقہ اعلامیہ بھی جاری کیا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب نے جہاں پاکستان میں مسلح جدوجہد کو غیر شرعی قرار دیا وہیں نفاذ شریعت کےمطالبے کیساتھ صدر مملکت اور فیلڈ مارشل کے استثنیٰ پہ دوک ٹوک رائے کا اظہار کرتے ہوئے اسے اسلامی تعلیمات سے صریح متصادم قرار دیا مزید بھی نکات تھے جیسا کہ مدارس کی رجسٹریشن وفاقی شرعی عدالت میں میرٹ پہ علماء ججوں کی تقرری ٹرانس جینڈر کے معاملات یونہی پاک افغان جنگ کے بجائے مذاکرات پہ زور دیا مولانا فضل الرحمان نے بھی ہمیشہ کیطرح اس موضوع پہ بہت کھل کی بات کی اور پاک افغان قضئیہ میں جنگ کی مخالفت اور مذاکرات کی وکالت کرتے دکھائی دئیے مولانا نے پاکستانی فوج کو غ ز ہ بھجوانے کی بھی مخالفت کی اور کہا کہ امن کے نام پہ پیش ہونے والے منصوبوں کے مقاصد قبضے کی توسیع ہی ہوتی ہے
مفتی محمد تقی العثمانی صاحب پہ سوشل میڈیا پہ مخالفین اکثر تنقید کرتے ہیں تنقید سے مبراء تو خیر سے کوئی نہیں مگر انکے ایسے جرآت آمیز بیانات پہ وہی لوگ نہ صرف خاموش رھتے ہیں بلکہ اس پہ بھی نکتہ چینی کرتے دکھائی دینگے اور سازش تلاش کرینگے کہ اس اجتماع کا بھی دراصل کوئی اور مقصد تھا اسی طرح مفتی منیب الرحمان نے تو استثنیٰ کے معاملے پہ بہت دبنگ بات کی عموماً وہ ایسے دینی موضوعات پہ بہت کھل کر اظہار خیال کرتے ہیں اور سلف کی یاد تازہ کراتے رھتے ہیں ، اس مجلس میں شریک تمام علماء مبارکباد کے مستحق ہیں کہ اس مشکل دور میں جب طاقتور کی خوشنودی بہت سے علماء کا وطیرہ بن چکا انہوں نے ایسے حالات میں ایسی مجلس میں شرکت اور بیان کا فیصلہ کیا جو دنیاوی اعتبار سراسر خسارے مگر آخرت کیلئے بہت نفع کا سودا ہے ، جس درجے میں بھی یہ علماء حق کی بات کر رہے ہیں انہیں سر پہ بٹھائیں کہ کلمہ حق بہت بڑی بات ہے جو کہے اسکا ساتھ دیں رنگ نسل فرقے جنس اور مذھب کی تفریق کے بغیر

22/12/2025

مفتی
شمائل بمقابلہ جاوید اختر, ایک عظیم علمیاتی آپریشن! -

از قلم: بلال شوکت آزاد

میں پچھلے کئی دنوں سے جس ”تہذیبی اور علمی تبدیلی“ کا ڈھنڈورا پیٹ رہا ہوں، جس میں میں نے بار بار کہا کہ ”مناظرے کے اکھاڑے“ کو چھوڑ کر ”مکالمے کی میز“ پر آؤ، آج قدرت نے میری اس بات پر ایک عملی مہر ثبت کر دی ہے۔ سرزمینِ ہند میں ہونے والا یہ ”گریٹ ڈائیلاگ“ (Great Dialogue) دراصل دو شخصیات کا ٹکراؤ نہیں تھا، یہ دو ”نظریاتی کائناتوں“ (Worldviews) کا ٹکراؤ تھا۔

ایک طرف بالی وڈ کی چکا چوند، 60 سالہ فنی ریاضت اور الفاظ کی جادوگری کا بادشاہ جاوید اختر تھا، اور دوسری طرف قرآن، منطق اور فلسفے کے ہتھیاروں سے لیس، دھیمے لہجے والا ایک مردِ قلندر، مفتی شمائل ندوی۔

اس مکالمے نے ثابت کر دیا کہ جب ”حق“ مکمل تیاری اور ”علمی وقار“ کے ساتھ باطل کے سامنے آتا ہے، تو باطل کی چرب زبانی، اس کا اورا (Aura) اور اس کی شہرت سب دھری کی دھری رہ جاتی ہے۔

آئیے!

اس تاریخی نشست کا ایک ”علمیاتی پوسٹ مارٹم“ (Epistemological Post-mortem) کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ کیسے ایک مسلمان اسکالر نے بغیر آواز اونچی کیے، الحاد کے غبارے سے ہوا نکالی۔

1۔ نفسیاتی جنگ: توحید بمقابلہ سلیبریٹی اورا (The Psychology of Aura):

سب سے پہلے اس منظر نامے کی نفسیات کو سمجھیں۔

جاوید اختر کوئی عام ملحد نہیں ہے۔ وہ برصغیر کا وہ ”دانشور“ ہے جس کے لکھے ہوئے مکالموں پر کروڑوں لوگ تالیاں بجاتے ہیں۔

وہ میڈیا کا ”گاڈ فادر“ ہے۔

ایسے لوگ جب بات کرتے ہیں تو ان کے پاس دلائل ہوں نہ ہوں، ان کا ”پریشر“ اور ”شخصیت کا رعب“ (Charisma) اگلے کو نگل لیتا ہے۔

عام مولوی ایسے لوگوں کے سامنے یا تو مرعوب ہو کر ”معذرت خواہانہ“ (Apologetic) ہو جاتا ہے یا پھر غصے میں آ کر بدتمیزی کر بیٹھتا ہے (جو دراصل خوف کا ردعمل ہوتا ہے)۔

لیکن مفتی شمائل ندوی یہاں ایک چٹان کی طرح نظر آئے۔

کیوں؟

یہ ہے ”توحید کی طاقت“۔

جب آپ کے دل میں یہ یقین راسخ ہو جائے کہ عزت، ذلت، موت اور حیات صرف اس ”رب“ کے ہاتھ میں ہے جس کا مقدمہ آپ لڑ رہے ہیں، تو پھر سامنے جاوید اختر ہو یا وقت کا فرعون، وہ آپ کو ایک ”عام انسان“ سے زیادہ کچھ نہیں لگتا۔

مفتی صاحب نے جاوید اختر کے ”سلیبریٹی سٹیٹس“ کو یکسر نظر انداز کر کے ان سے ایسے بات کی جیسے وہ ایک عام طالب علم سے مخاطب ہوں۔

انہوں نے جاوید اختر کی ”انا“ (Ego) کو چیلنج نہیں کیا، بلکہ ان کی ”عقل“ کو کٹہرے میں کھڑا کیا۔

یہ پہلی نفسیاتی فتح تھی!

2۔ سقراطی طریقہِ واردات: جواب دینے کے بجائے سوال اٹھانا:

میں نے ہمیشہ کہا ہے کہ ملحد کو ڈیفنس (Defense) پر مت کھیلو، اسے ڈیفنس پر لاؤ۔

مفتی شمائل نے یہاں کمال مہارت سے ”Socratic Method“ (سقراطی طریقہ) استعمال کیا۔

جاوید اختر کی پوری گفتگو کا لبِ لباب یہ تھا:

"میں خدا کو نہیں مانتا کیونکہ مجھے سمجھ نہیں آتا یا نظر نہیں آتا۔"

عام مناظر یہاں ”خدا کے وجود کے ثبوت“ دینے لگتا۔ مگر مفتی صاحب نے ”علمیات“ (Epistemology) کا وار کیا۔

انہوں نے بنیادی سوال اٹھایا:

”کیا کسی چیز کا آپ کے علم میں نہ ہونا، اس کے وجود نہ ہونے کی دلیل بن سکتا ہے؟“

(Absence of Evidence is not Evidence of Absence).

یہ وہ منطقی پھندا ہے جس میں جاوید اختر جیسا زیرک انسان بھی پھنس گیا۔

مفتی صاحب نے بڑے پیار سے یہ سمجھایا کہ جاوید صاحب!

آپ کا ”نہ جاننا“ (Ignorance) صرف آپ کی لاعلمی کا ثبوت ہے، کائنات کے خالی ہونے کا ثبوت نہیں۔

اگر ایک اندھا کہے کہ

”سورج نہیں ہے کیونکہ مجھے نظر نہیں آتا“،

تو اس سے سورج غائب نہیں ہو جاتا، صرف اندھے کی بینائی کا نقص ثابت ہوتا ہے۔

مفتی صاحب نے جاوید اختر کو یہ آئینہ دکھایا کہ آپ

”سائنس“ پر نہیں، اپنی ”ذاتی سمجھ“ کی بنیاد پر خدا کا انکار کر رہے ہیں، جو کہ بذاتِ خود ایک غیر سائنسی رویہ ہے۔

3۔ مسئلہ خیر و شر اور بالی وڈ کی ”فکشن“:

جاوید اختر نے، ہر روایتی ملحد کی طرح، آخر میں اپنے ترکش کا سب سے گھسا پٹا تیر نکالا:

”مسئلہ خیر و شر“ (Problem of Evil)۔

انہوں نے خدا پر طنز کیا کہ اگر وہ ہے تو دنیا میں اتنا دکھ کیوں ہے؟

یہ دلیل جذباتیت پر مبنی تھی، منطق پر نہیں۔

مفتی شمائل کا جواب یہاں ”فلسفیانہ شاہکار“ تھا۔

انہوں نے سمجھایا کہ ”شر“ (Evil) کا وجود ”خدا کے نہ ہونے“ کی دلیل نہیں، بلکہ ”انسان کے بااختیار ہونے“ (Free Will) کی دلیل ہے۔

اگر دنیا میں دکھ نہ ہوتا، تو یہ دنیا ”امتحان گاہ“ نہ ہوتی، جنت ہوتی۔

اور فلمی دنیا کے بادشاہ کو یہ سمجھنا چاہیے تھا کہ اگر کہانی میں ”ولن“ (Villain) نہ ہو اور ہیرو کے لیے مشکلات نہ ہوں، تو کہانی کا ”مقصد“ فوت ہو جاتا ہے۔

مفتی صاحب نے جاوید اختر کو انھی کے میدان (کہانی اور اسکرپٹ) کی منطق سے سمجھایا کہ اللہ نے یہ کائنات ”Comfort Zone“ کے طور پر نہیں، بلکہ ”Testing Zone“ کے طور پر بنائی ہے۔ مشین کی خرابی اور مشین کے امتحان میں فرق ہوتا ہے۔

4۔ طنز کا جواب مسکراہٹ: اخلاقی فتح:

جاوید اختر کی گفتگو میں جگہ جگہ ”طنز“ (Sarcasm)، ”استہزاء“ اور مذہب کو دقیانوسی ثابت کرنے کی کوشش تھی۔

وہ بار بار موضوع سے ہٹ کر ادھر ادھر کی باتیں (Red Herrings) کر رہے تھے تاکہ مفتی صاحب کو الجھا سکیں۔

لیکن سلام ہے مفتی شمائل کے اعصاب پر!

انہوں نے بدتمیزی کا جواب دلیل سے اور طنز کا جواب مسکراہٹ سے دیا۔

یہی وہ ”مکالمے کی طاقت“ ہے جس کا میں پرچارک ہوں۔

جب آپ گالی کا جواب گالی سے دیتے ہیں، تو تماشائیوں کو ”دنگل“ نظر آتا ہے۔

لیکن جب آپ طنز کا جواب سنجیدہ دلیل سے دیتے ہیں، تو تماشائیوں کو ”حق اور باطل کا فرق“ نظر آتا ہے۔

مفتی صاحب نے ثابت کیا کہ مسلمان ”جذباتی جنونی“ نہیں ہوتا، بلکہ مسلمان وہ ہوتا ہے جس کے پاس ”حقیقت کا اطمینان“ (Tranquility of Truth) ہوتا ہے۔ جو سچا ہوتا ہے، وہ چیختا نہیں ہے۔

خلاصہ کلام اور ہمارا لائحہ عمل:

میرے نوجوانو!

میرے دوستو!

مفتی شمائل ندوی اور جاوید اختر کا یہ مکالمہ ہمارے لیے ایک ”کیس اسٹڈی“ ہے۔

یہ ثابت کرتا ہے کہ:

علم ہی اصل طاقت ہے: اگر آپ کے پاس منطق اور فلسفے کا علم ہے علاوہ توحید، تو آپ بڑے سے بڑے ملحد کو چاروں شانے چت کر سکتے ہیں۔

اسلوب (Style) اہمیت رکھتا ہے: آپ کیا کہہ رہے ہیں، اس سے زیادہ اہم یہ ہے کہ آپ ”کیسے“ کہہ رہے ہیں۔ شائستگی کمزوری نہیں، سب سے بڑا ہتھیار ہے۔

مرعوبیت سے نجات: جاوید اختر ہو یا رچرڈ ڈاکنز، یہ سب انسان ہیں۔ ان کے پاس صرف ”الفاظ کی بازی گری“ ہے، جبکہ آپ کے پاس ”کائنات کی حتمی سچائی“ ہے۔

میں مفتی شمائل ندوی کو سلام پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے میرے نظریے کی عملی تفسیر پیش کر دی۔

انہوں نے جاوید اختر کو ہرایا نہیں، بلکہ اسے ”بے نقاب“ (Expose) کیا۔

انہوں نے دکھا دیا کہ جب اسکرین کا اسکرپٹ رائٹر، کائنات کے اسکرپٹ رائٹر (اللہ) کے وکیل کے سامنے بیٹھتا ہے، تو اس کے پاس ”لا علمی“ کے سوا کوئی دلیل نہیں بچتی۔

یہی ہمارا راستہ ہے۔

مناظرے چھوڑیں، مکالمے اپنائیں۔
گالیاں چھوڑیں، دلیل اپنائیں۔

اور یاد رکھیں، فتح ہمیشہ ”حق“ کی ہوتی ہے، بشرطیکہ حق کو پیش کرنے والا ”حق شناس“ ہو۔

قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن
22/12/2025

قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو اعزازی ڈگری دینے کی تقریب گورنر ہاؤس کراچی میں ہوئی

گورنر کامران ٹیسوری نے فضل الرحمان کو پی ایچ ڈی کی اعزازی ڈگری دی

اس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھاکہ شکر گزار ہوں کہ مجھے پی ایچ ڈی کی اعزازی ڈگری دی لیکن اس کے باوجود میں مولانا کہلانا زیادہ پسند کرونگا

انہوں نے کہا کہ ایک دوسرے کو عزت دنیا ہماری روایات کا حصہ ہیں جس کو بچانے کی ہم آج کوشش کررہے ہیں

22/12/2025

“Does God Exist” ڈیبیٹ میں سائنسی و انگریزی اصطلاحات کی وضاحت و تشریح

مفتی شمائل اور جاوید اختر کے بحث میں واضح طور پر جذبات یا نعرہ بازی سے ہٹ کر ایک علمی گفتگو ہوئی۔ اس میں کئی سائنسی، فلسفیانہ اور عقلی اصطلاحات استعمال ہوئیں، جنہیں سمجھے بغیر بحث کی اصل روح تک پہنچنا ممکن نہیں۔

دو طرح کی اصطلاحات زیرِ بحث آئیں:
1. سائنسی اصطلاحات
2. انگریزی اصطلاحات
سائنسی اصطلاحات

١۔ ہائپوتھیٹیکل / مفروضاتی (Hypothetical)
مطلب: ایسا تصور جسے وقتی طور پر مان لیا جائے، مگر اس کے حق میں کوئی قطعی، تجرباتی یا عقلی ثبوت موجود نہ ہو۔
یعنی: اگر ایسا مان لیا جائے تو پھر کیا ہوگا؟

٢۔ امکان / احتمال (Probability)
مطلب: کسی چیز کے ہونے یا نہ ہونے کا محض امکان ہو، نہ کہ یقینی حقیقت۔
امکان دلیل نہیں ہوتا۔
الاحْتِمَالُ لَا يَنْهَضُ دَلِيلًا
مثال کے طور پر کائنات کا خود بخود وجود میں آ جانا صرف ایک امکان ہو سکتا ہے، عقلی ثبوت نہیں۔ جیسا کہ ملحدین اس پر بگ بینگ کا نظریہ پیش کرتے ہیں۔

٣۔ بگ بینگ نظریہ (Big Bang Theory)
مطلب: کائنات کے آغاز سے متعلق ایک سائنسی نظریہ۔ بگ بینگ کائنات کے کیسے (How) بننے کی وضاحت تو کر سکتا ہے، لیکن کیوں (Why) اور کس نے (Who) بنایا—اس کا جواب سائنس کے پاس صرف “احتمالات” کی صورت میں ہے، جبکہ ٹھوس عقلی دلیل ایک خالق کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

٤۔ اتفاق / بے ترتیبی (Randomness)
مطلب: کوئی ایسا عمل جو بغیر کسی منصوبہ بندی، قانون یا شعوری نظم کے ہو۔
نوٹ: انتہائی منظم اور متوازن کائنات محض اتفاقی عمل کا نتیجہ نہیں ہو سکتی۔

٥۔ انتہائی دقیق ہم آہنگی (Fine-Tuning)
مطلب: کائنات کے قوانین، قوتوں اور پیمانوں کا اس حد تک ناپ تول کر ہونا کہ ان میں معمولی سا فرق بھی زندگی کے خاتمے کا سبب بن سکتا تھا۔
یہ دقیق ہم آہنگی اور منظم نظام کسی شعوری منصوبہ بندی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

٦۔ سبب اور مسبب (Cause & Effect)
مطلب: ہر اثر کے پیچھے کسی نہ کسی سبب کا ہونا۔ اگر کائنات ایک اثر ہے تو اس کا کوئی سبب بھی ضرور ہوگا۔ بغیر سبب کے مسبب ماننا عقل کے خلاف ہے۔

٧۔ انحصاری وجود / وجودِ عارضی (Contingency)
یہ وہ نکتہ ہے جس کا مفہوم جاوید اختر صاحب کو آخر تک سمجھ میں نہیں آیا؛ وہ ادھر سمجھ سکتے ہیں۔
مطلب: ایسی چیز جو اپنے وجود میں خود کفیل نہ ہو بلکہ کسی اور پر منحصر ہو۔
جیسے کائنات کا وجود—وہ خود قائم نہیں بلکہ کسی قائم کرنے والے کا محتاج ہے۔
مزید آسان مثال: کائنات کی ہر چیز محتاج ہے—ستارے ایٹموں کے محتاج ہیں، ایٹم توانائی کے محتاج ہیں، اور انسان آکسیجن اور روشنی کا محتاج ہے۔ کائنات کی کوئی بھی چیز ایسی نہیں جو یہ کہہ سکے کہ “میں اپنے وجود کے لیے کسی کی محتاج نہیں ہوں۔”
عقلی نتیجہ: اگر کائنات کی ہر اکائی (Unit) کسی دوسری چیز کی محتاج ہے تو پوری کائنات مجموعی طور پر بھی محتاج (Contingent) ہے۔ جب پوری کائنات محتاج ثابت ہو گئی تو منطقی طور پر ایک ایسی ہستی کا ہونا لازم ہے جو:

خود محتاج نہ ہو (واجب الوجود)

جس نے اس محتاج کائنات کو وجود بخشا ہو
كُلُّ مُمْكِنٍ لَا بُدَّ لَهُ مِنْ مُوجِدٍ

٨۔ واجب الوجود / لازم ہستی (Necessary Being)
مطلب: ایسی ہستی جس کا ہونا لازمی ہو، جو کسی پر منحصر نہ ہو، اور جو سب کو وجود عطا کرے۔

٩۔ کائنات کی ابتدا (Universe Began to Exist)
مطلب: کائنات ہمیشہ سے موجود نہیں تھی بلکہ ایک مخصوص لمحے میں وجود میں آئی۔
جدید سائنس بھی کائنات کے ازلی ہونے کی نفی کرتی ہے۔

١٠۔ قانون اور قانون بنانے والا (Law vs Law Maker)
مطلب: قانون خود بخود وجود میں نہیں آتا بلکہ اس کے پیچھے قانون ساز ہوتا ہے۔
مثال: کائناتی قوانین بھی کسی بااختیار اور باشعور قانون ساز ہستی کی طرف رہنمائی کرتے ہیں۔

١١۔ تجرباتی ثبوت (Empirical Evidence)
مطلب: وہ ثبوت جو مشاہدہ، تجربہ یا تجربہ گاہ (Laboratory) میں ثابت کیا جا سکے۔
ملحدین اکثر ہر چیز کے لیے تجرباتی ثبوت کا مطالبہ کرتے ہیں، حالانکہ ہر حقیقت کا تجربہ ممکن نہیں۔

١٢۔ عقلیت / معقولیت (Rationality)
مطلب: بات کو عقل، منطق اور درست استدلال کی بنیاد پر پرکھنا۔
خدا کا تصور عقلیت کے خلاف نہیں بلکہ اس کا تقاضا ہے۔

١٣۔ ماورائے طبعیات حقیقت (Metaphysical Reality)
مطلب: وہ حقائق جو مادّی دنیا اور طبعی قوانین سے ماورا ہوں؛ یعنی وہ سچائیاں جو نظر نہ آئیں مگر عقل انہیں مانے۔
جیسے خدا اور روح—یہ حقائق ہیں مگر نظر سے ماورا۔

١٤۔ لامتناہی تسلسل (Infinite Regress)
مطلب: ہر سبب کے پیچھے ایک اور سبب مانتے چلے جانا بغیر کسی آخری نقطے کے۔
عقل اسے قبول نہیں کرتی؛ اسی لیے ایک پہلے سبب کو ماننا لازم ہوتا ہے۔
غیر متناہی سلسلہ عقل میں ناممکن ہے، اس لیے ایک خالقِ اول (First Cause) کا ہونا ضروری ہے۔

١٥۔ اوّل سبب (First Cause)
مطلب: وہ بنیادی سبب جس کے پیچھے کوئی اور سبب نہ ہو۔

١٦۔ خود قائم بالذات (Self-Existing)
مطلب: ایسی ہستی جو اپنے وجود میں کسی کی محتاج نہ ہو؛ واجب الوجود، قائم بالذات۔

١٧۔ دلیلِ نظم (Design Argument)
مطلب: نظم، ترتیب اور مقصدیت سے خالق کے وجود پر استدلال۔
جہاں ڈیزائن ہو، وہاں ڈیزائنر بھی ہوتا ہے۔
مثال: اگر آپ ریگستان میں چلتے ہوئے ایک قیمتی گھڑی پائیں تو کیا یہ مانیں گے کہ ریت کے ذرات خود بخود جڑ کر یہ گھڑی بن گئے؟
جواب: ہرگز نہیں! گھڑی کی پیچیدہ ترتیب بتاتی ہے کہ اسے کسی گھڑی ساز نے بنایا ہے۔

١٨۔ شعور (Consciousness)
مطلب: سوچنے، سمجھنے، فیصلہ کرنے اور ادراک کی صلاحیت۔

١٩۔ معروضی حقیقت (Objective Truth)
مطلب: ایسی حقیقت جو انسان کے ماننے یا نہ ماننے سے تبدیل نہ ہو۔
جیسے خدا کا وجود—یہ رائے کا نہیں بلکہ حقیقت کا مسئلہ ہے۔

٢٠۔ ثبوت کی ذمہ داری (Burden of Proof)
مطلب: دعویٰ کرنے والے پر دلیل پیش کرنے کی ذمہ داری۔
خدا کا انکار بھی ایک دعویٰ ہے، جس کے لیے دلیل درکار ہے۔

٢١۔ الحادی پیش مفروضہ (Atheistic Presupposition)
مطلب: بحث شروع ہونے سے پہلے ہی خدا کے نہ ہونے کو مان لینا۔
یہ سائنسی نہیں بلکہ نظریاتی تعصب ہے۔

٢٢۔ فطرت پرستی (Naturalism)
مطلب: یہ مان لینا کہ حقیقت صرف وہی ہے جو مادّی اور طبعی ہو۔
یہ خود ایک فلسفیانہ نظریہ ہے، سائنسی حقیقت نہیں۔

٢٣۔ فلسفیانہ استدلال (Philosophical Argument)
مطلب: ایسا استدلال جو تجربے کے بجائے عقل و منطق پر قائم ہو۔
خدا کا وجود اسی دائرے میں زیرِ بحث آتا ہے۔

٢٤۔ علمیات (Epistemology)
مطلب: ہم کسی چیز کو جانتے کیسے ہیں؟ علم کے ذرائع کیا ہیں؟
صرف سائنس کو واحد ذریعہ ماننا خود غیر سائنسی دعویٰ ہے۔

انگریزی کی اصطلاحات

Assumption — بغیر دلیل کے مان لیا گیا قیاس
Claim — دعویٰ، جسے ثابت کرنا ضروری ہو
Evidence — واضح اور قابلِ قبول ثبوت
Logical Fallacy — ایسی منطقی غلطی جو بظاہر درست لگے مگر حقیقت میں فاسد ہو
Scientific Limitation — سائنس کی وہ حد جہاں وہ خاموش ہو جاتی ہے
Observable — جو تجربے یا آلات سے ثابت ہو سکے
Unobservable — جو براہِ راست مشاہدے میں نہ آ سکے
Metaphysics — طبعی دنیا سے ماورا حقائق کا مطالعہ
Rational Argument — عقل و منطق پر قائم استدلال

Inference — دلیل سے نکالا گیا منطقی نتیجہ
Premise — استدلال کی بنیاد، وہ بات جس پر پوری دلیل کھڑی ہو
Conclusion — دلائل کے بعد سامنے آنے والا حتمی نتیجہ
Hypothesis — ابتدائی مفروضہ جسے جانچ کے لیے پیش کیا جائے
Theory — شواہد پر مبنی منظم توضیح (محض خیال نہیں)
Fact — ثابت شدہ حقیقت جس سے انکار ممکن نہ ہو
Correlation — دو چیزوں کا باہم تعلق؛ لازمی نہیں کہ سبب ہو
Causation — ایک چیز کا دوسری کا سبب ہونا
Verification — کسی بات کی تصدیق یا جانچ
Falsification — کسی دعوے کو غلط ثابت کرنے کی صلاحیت
Assumption بغیر دلیل کے مانا جاتا ہے۔
Empiricism — علم کو صرف تجربے تک محدود ماننے کا نظریہ
Materialism — حقیقت کو صرف مادّے تک محدود سمجھنا
Determinism — ہر چیز کو لازمی اسباب کے تحت ماننا
Free Will — انسان کی اختیار و ارادہ رکھنے کی صلاحیت
Objective Reality — ایسی حقیقت جو انسانی رائے سے متاثر نہ ہو
Subjective Opinion — ذاتی رائے جو فرد کے احساس پر مبنی ہو
Ontology — وجود اور حقیقت کی ماہیت کا مطالعہ
Teleology — کائنات میں مقصدیت کا تصور
Cosmology — کائنات کے آغاز، ساخت اور انجام کا مطالعہ
Explanatory Power — کسی نظریے کی وضاحتی قوت
Consistency — کسی موقف کا باہم متضاد نہ ہونا
Burden of Proof — دعویٰ کرنے والے پر دلیل کی ذمہ داری
Reductionism — پیچیدہ حقیقت کو صرف ایک پہلو تک محدود کر دینا
Holistic View — حقیقت کو مجموعی انداز میں دیکھنا
Agnosticism — خدا کے وجود پر قطعی رائے نہ رکھنا
Skepticism — ہر دعوے پر تنقیدی نظر رکھنا
Natural Law — کائنات میں جاری مستقل قوانین
Law Giver — قانون بنانے والی ہستی
Necessary vs Contingent — جو لازمی ہو بمقابلہ جو محتاج ہو

تحریر ڈاکٹر حیات قاسمی

22/12/2025

جاوید اختر سے مناظرہ کے بعد مفتی شمائل صاحب کا
مولانا یاسر ندیم واجدی کے ساتھ پوڈ کاسٹ
انتہائی مفید ہے ۔سنئے

Address

Islamabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when JUI Answers Back posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share