JUI Answers Back

JUI Answers Back Fan Page

09/05/2026

( مولانا سے آپ ہزار اختلاف رکھیں ، لیکن دو منٹ نکال کر یہ تحریر ضرور پڑھیں۔۔۔!! )

مولانا فضل الرحمن کیلئے دعا

تحریر ! خورشید ندیم

مولانا فضل الرحمن کی جرأتِ رندانہ حیران کن ہے۔ سچ پوچھئے تو پریشان کن بھی۔
مولانا محمد ادریس شہید کے تعزیتی جلسے سے ان کا خطاب سن کر یہ احساس ہوا کہ یہ ایک ایسے حق گو مذہبی راہنما کا نعرۂ مستانہ تھا جو جذبات‘ دور اندیشی اور جرأت کا مرقع ہے۔ دل کا درد اُن کی آنکھوں سے عیاں تھا۔ انہیں اندازہ تھا کہ علمائے حق کی صف میں ایک ایساخلا واقع ہو گیا ہے جو تادیر باقی رہے گا۔ دور اندیشی الفاظ میں ڈھل کر متنبہ کر رہی تھی کہ ایک ایسی دینی تعبیر مسلم معاشروں میں سرایت کر چکی جو ہمارے اجتماعی وجود اور شعور کے لیے زہرِ قاتل ہے۔ یہ تعبیر مسلم علما اور عوام کی تکفیر کرتی اور ان کو مباح الدم قرار دیتی ہے۔ جرأت اس لہجے سے نمایاں تھی جو باطل کو للکارنے کا حوصلہ رکھتا ہے۔
اقتدار کی سیاست کے ساتھ‘ مولانا نے مذہب کے سماجی کردار کو بھی اپنا ہدف بنایا ہے۔ اس وقت ان کا یہی کردار میرے پیشِ نظر ہے۔ انہیں ایک طرف اپنے مسلک کا دفاع کرنا ہے اور دوسری طرف مذہبی تنوع اور مذہب کو درپیش چیلنجوں کا بھی لحاظ رکھنا ہے۔ ان پر مستزاد عالمی سیاست کی الجھنیں ہیں۔ ہمار ی مذہبی قیادت میں شاید ہی کوئی ہو جو اُن کی طرح اس سیاست کو سمجھتا اور تاریخ کا شعور رکھتا ہو۔ ان پہلوئوں کا ادراک رکھتے ہوئے معاشرے میں مذہب کی نمائندگی کرنا آسان نہیں۔ ہم گواہ ہیں کہ مولانا نے پاکستان کو بارہا انتشار سے بچایا‘ بالخصوص جب فرقہ واریت کا عفریت ہمارے وجود سے لپٹ گیا یا تشدد اور انتہا پسندی نے معاشرے کو فساد سے بھر دیا۔ یہ واقعات زیادہ پرانے نہیں۔ میں نے اور میرے بعد آنے والی نسل نے ان کو بچشمِ سر دیکھا ہے۔ یہ واقعات ہم پر بیتے ہیں۔
1980ء کی دہائی میں بطورِ خاص اور اس کے بعد بھی‘ شیعہ سنی تنازع ہمارے سماجی امن کے لیے سب سے بڑا مسئلہ بن گیا۔ کوئی مسجد محفوظ رہی نہ کوئی امام بارگاہ۔ جذبات تھے کہ قابو میں نہ آتے تھے۔ علما قتل ہو رہے تھے اور عوام بھی۔ اس فضا میں جب ایک دِیا سلائی دکھانے سے کراچی سے خیبر تک آگ بھڑک سکتی تھی‘ جھنگ میں جمعیت علمائے اسلام سے وابستہ پانچ علما کو شہید کر دیا گیا۔ یہ معمولی واقعہ نہیں تھا‘ بالخصوص جمعیت کے لیے۔ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اُس وقت جمعیت کے کارکنوں کے جذبات کیا ہوں گے۔ اعلان ہوا کہ نمازِ جمعہ کے بعد راجہ بازار راولپنڈی میں احتجاجی جلسہ ہو گا‘ جس سے مولانا فضل الرحمن خطاب کریں گے۔ میں نے جمعہ کی نماز 'دارالعلوم تعلیم القرآن‘ میں پڑھی‘ جو شہر میں دیوبندی مسلک کا سب سے معتبر ادارہ اور راجہ بازار میں واقع ہے۔ یہ شیخ القرآن مولانا غلام اللہ خان کی یادگار ہے۔ مسجد میں اندازہ ہو گیا کہ اس احتجاج کی نوعیت کیا ہو سکتی ہے۔ کارکن توقع کر رہے تھے کہ قائد ایک خاص مسلک کے خلاف اعلانِ جہاد کر سکتے ہیں۔
مولانا جلسے میں تشریف لائے اور ان کی تقریر نے جذبات کی آگ پر پانی ڈال دیا۔ وہ اجتماع جو اس واقعے کو جھنگ کی خاص فضا اور فرقہ وارانہ کشیدگی کے تناظر میں دیکھ رہا تھا‘ اسے مولانا نے بتایا کہ اس واقعے کا تعلق شیعہ سنی اختلاف سے نہیں ہے۔ حاضرین کے ایک بڑے طبقے میں مایوسی پھیل گئی لیکن مولانا کی تقریر نے اس فساد کے سامنے بند باندھ دیا جو ملک بھر میں پھیل سکتا تھا۔ انہوں نے غم وغصے کا رخ بدل دیا اور اپنے ہم مسلکوں کو پیغام دیا کہ یہ شیعوں اور سنیوں کو لڑانے کی کوئی سازش ہو سکتی ہے۔ میں ان دنوں ایک نوجوان طالب علم تھا اور یہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا۔ آج جب بال سفید ہو رہے ہیں‘ میں اندازہ کر سکتا ہوں کہ مولانا کی فراست نے پاکستان کو فرقہ واریت کی کوکھ سے جنم لینے والے فساد سے کیسے محفوظ رکھا جس کے مسلح علمبردار ملک بھر میں پھیلے ہوئے تھے۔
لاہور کا واقعہ بھی سب کو یاد ہو گا جب داتا دربار میں بم دھماکہ ہوا اور بہت سی قیمتی جانیں اس کی نذر ہو گئیں۔کچھ شرپسندوں نے اسے دیوبندی بریلوی جھگڑے میں بدلنا چاہا۔ مولانا اس وقت بھی سامنے آئے اور یہ اعلان کیا کہ سید علی ہجویریؒ ہمارے بزرگوں میں سے ہیں۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ کوئی دیوبندی ان کے مزار کو ہدف بنائے۔ پھر حال ہی میں ہم نے دیکھا کہ وہ سید علی خامنہ ای کی شہادت پر تعزیت کے لیے ایرانی سفارتخانے گئے۔ فرقہ وارانہ اور مسلکی تعصبات کے اس غلبے میں‘ یہ کوئی آسان کام نہ تھا۔ مولانا کو معلوم تھا کہ انہیں اپنوں کی تنقید کا بھی ہدف بننا پڑے گا۔ اس کے باوصف انہوں نے وہی کیا جو مسلمانوں اور پاکستان کے مفاد میں تھا۔
سب سے بڑا معرکہ انہوں نے جہاد کے نام پر اٹھنے والی تحریکوں کے خلاف لڑا۔ یہ تحریکیں مسلکِ دیوبند کو اپنا یرغمال بنا لیتیں اگر مولانا آگے بڑھ کر ان کا راستہ نہ روکتے۔ برصغیر میں علمائے دیوبند نے انگریزی استعمار کے خلاف جہاد کیا ہے‘ یہ تلوار کے ساتھ تھا اور قلم سے بھی۔ انگریزوں کے اقتدار اور ان کے ساتھ تعاون کے خلاف فتوے بھی دیے گئے۔ کچھ گروہوں نے اس روایت کو مسلم حکمرانوں اور عوام کے خلاف بھی استعمال کرنا چاہا جب افغانستان میں سوویت یونین نے حملہ کیا یا طالبان نے مسلح اقدام کیا۔ اس دوران میں کچھ لوگوں نے غیر ملکی استعمار اور مسلم اقتدار کے ساتھ‘ پاکستان اور افغانستان کے حالات کے فرق کو بھی نظر انداز کیا اور پاکستان میں مسلح جنگ کو جائز کہا۔ یہ چونکہ اپنا تعلق دیوبند کی روایت سے جوڑتے تھے‘ اس لیے اس کے سب سے زیادہ اثرات بھی اس مسلک کے وابستگان پر مرتب ہوئے۔ مولانا کو معاملے کی سنگینی کاا ندازہ ہو گیا اور انہوں نے اس کے خلاف میدان میں نکلنے کا فیصلہ کیا۔
یہ آسان کام نہیں تھا۔ اس میں جان کا خطرہ تھا۔ مولانا نے یہ خطرہ مول لیا۔ ان پر کم از کم تین قاتلانہ حملے ہوئے۔ اگر ان کی گاڑی بلٹ پروف نہ ہوتی تو جان کا بچنا مشکل تھا۔ ان کے بیٹے پر بھی حملہ ہوا۔ وہ جس خطے میں رہتے ہیں وہاں اس انتہا پسندانہ تعبیرِ دین کو ماننے والوں کا غلبہ ہے‘ مولانا جن کو للکار رہے ہیں۔ مولانا محمد ادریس کی شہادت پر مولانا کی تقریر جس جرأت مندی سے عبارت ہے‘ کوئی مصلحت پسند دنیادار اس کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اسی وجہ سے ان کی بہادری کی تحسین کے ساتھ‘ مجھے اس خطاب سے پریشانی بھی ہوئی۔ میں مولانا محمد ادریس کے حوالے سے یہ بات پہلے بھی لکھ چکا کہ ایسے علما کی حفاظت ریاست کی ذمہ داری ہے جو انتہا پسندانہ مذہبی تعبیرات کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ان لوگوں کے لیے بھی ہدایت کی دعا ہے جو انسانی جان کی حرمت سے واقف نہیں اور یہ نہیں جانتے کہ قتل کے مجرم کے لیے اللہ تعالیٰ نے کیسی سخت وعید سنائی ہے۔
ہم جب کسی فرد کے بارے میں رائے قائم کرتے ہیں تو ہمیں اس کی مجموعی شخصیت کو پیشِ نظر رکھنا چاہیے۔ حکم کُل پر لگایا جاتا ہے‘ جزو پر نہیں۔ عصمت کا باب نبوت کے ساتھ بند ہو گیا۔ مولانا فضل الرحمن سمیت سب شخصیات کا معاملہ یہی ہے۔ مولانا نے سماج میں فرقہ واریت اور مذہبی انتہا پسندی کے خلاف جو کردار فی الجملہ ادا کیا ہے‘ اس پر وہ تحسین کے مستحق ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ مولانا سمیت ہر اس شخص کی حفاظت فرمائے جو معاشرے میں امن کے لیے کام کرتا اور انسانوں کو فساد سے بچانا چاہتا ہے۔

09/05/2026

یہ باجوڑ میں 1985 سے قائم بغیر بیلڈنگ کا سکول ہے
سیاست سے ہٹ کر اس ویڈو کو حکام پہنچائے

09/05/2026

کچھ کرنے کی چیزیں

حضرت شیخ ادریس صاحب کی سانحے کی خبر سن کر ذہن مکمل طور پر مفلوج ہو کر رہ گیا اور سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا لکھوں۔ شیخ صاحب کو کیوں اور کس نے مارا؟ یہ بتانا ریاست کی ذمہ داری ہے اور ہمیں قاتلوں کا سراغ چاہیے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوں۔
دل زخمی اور افسردہ ہے، لیکن آج ہمیں کچھ کڑوے گھونٹ پی کر حقائق کا سامنا کرنا ہوگا۔ ہمیں اپنے شہداء کو بھولنا نہیں ہے اور اس مقصد کے لیے ایک مستقل تحریک کا آغاز کرنا ہوگا۔
جن لوگوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے شیخ صاحب کے کیس میں اشتعال انگیزی کی ہے، ان کے خلاف فوری طور پر سائبر کرائم کے تحت مقدمات درج کیے جائیں۔
علمائے کرام سافٹ ٹارگٹ بن چکے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ریاست سے اپنے اکابرین کے لیے مکمل "فول پروف سیکیورٹی" کا مطالبہ کریں، بصورتِ دیگر ہمیں اپنی حفاظت کا خود بندوبست کرنا ہوگا۔
اپنے اردگرد موجود افراد کی مکمل سکروٹنی کریں۔ اپنی لوکیشن، آمد و رفت کے اوقات اور راستے کسی سے شیئر نہ کریں۔ اپنی گاڑی اور اس کا نمبر پبلک کرنے سے گریز کریں اور سفر کے لیے متبادل انتظامات رکھیں۔
بڑے مدارس کی انتظامیہ، طلبہ، اساتذہ اور خدام کی کڑی نگرانی اور سکروٹنی کی جائے تاکہ معلوم ہو سکے کہ کوئی مخبر طالب علم یا ملازم کے روپ میں موجود تو نہیں ہے۔
جامعات کے اندر ایک ایسا اندرونی نظام مرتب کریں جس کے ذریعے آپ کو ہر سرگرمی کی بروقت اطلاع ملتی رہے۔

اس بات کا تہیہ کریں کہ مدارس میں فرقہ واریت، فروعی ابحاث اور کسی بھی کالعدم تنظیم کے لٹریچر، کتب یا تقاریر کی کوئی جگہ نہ ہو۔
مدرسے میں آنے والے ہر فرد کا مکمل ایڈریس، شناختی کارڈ نمبر اور موبائل نمبر رجسٹر میں درج کیا جائے۔

گفتگو میں میانہ روی اختیار کریں اور اشتعال انگیز تقاریر کی حوصلہ شکنی کریں۔ اپنی گفتگو کی بنیاد صرف قرآن و سنت کو بنائیں۔
عوامی اجتماعات میں غیر مستند باتوں اور خصوصا
خوابوں اور کرامات کے بیان سے پرہیز کریں۔

اپنی گفتگو کو براہِ راست (Live) نشر کرنے سے گریز کریں۔ کسی کو بلا اجازت ریکارڈنگ نہ کرنے دیں؛ اپنی تقاریر خود ریکارڈ کریں اور نشر کرنے سے پہلے اسے سن کر غیر مناسب الفاظ کو حذف (Edit) کریں۔

مدارس اور مساجد کے اندر اور اردگرد سی سی ٹی وی (CCTV) کیمرے لگائیں اور داخلی راستوں پر سیکیورٹی کے لیے "واک تھرو گیٹ" نصب کریں۔

عوام کے ساتھ اپنا ربط قائم رکھیں اور سماجی برتاؤ میں نرمی اور شفقت اختیار کریں۔

اپنے اعصاب کو مضبوط رکھیں اور خصوصی طور پر ذکر و اذکار اور دعاؤں کا اہتمام کریں۔

آج کا احتجاج تاریخی تھا ، یہ صرف ایک  ضلع لوئر دیر کے آٹھ تحصیلوں کے احتجاج کے فوٹیجز ہیں ریاست و حکومت حضرت شیخ کے قاتل...
08/05/2026

آج کا احتجاج تاریخی تھا ، یہ صرف ایک ضلع لوئر دیر کے آٹھ تحصیلوں کے احتجاج کے فوٹیجز ہیں
ریاست و حکومت حضرت شیخ کے قاتلوں کو کیفرِ کردار تک پہنچائے ،انہیں قوم کے سامنے لائیے
ورنہ عوام قائد جمعیت کے دوسری کال منتظر ہیں
ڈپٹی جنرل سیکرٹری مولانا محمد رحیم حق۔انی

08/05/2026

آئیے۔ ایکس/ ٹویٹر پر

آپ کا تعلق کسی بھی جماعت کے ساتھ ہو ،کسی بھی مسلک سے ، کسی بھی خطے سے ، علمائے کرام کے حق میں آواز بلند کرنا ہے ، اس ٹرینڈ میں حصہ لیں

شـ ـہید مولانا شیخ ادریس صاحب کی بہیمانہ شہادت اور بڑھتی بدامنی کے خلاف مردان میں جاری احتجاجی مظاہرے کے  مناظر ۔
08/05/2026

شـ ـہید مولانا شیخ ادریس صاحب کی بہیمانہ شہادت اور بڑھتی بدامنی کے خلاف مردان میں جاری احتجاجی مظاہرے کے مناظر ۔

تلاش جمعیت علماء اسلام تلاش دیر کے زیر اہتمام سانحہ حضرت شیخ ادریس رح کے خلاف عظیم الشان احتجاجی ریلی سے جمعیت علماء اسل...
08/05/2026

تلاش
جمعیت علماء اسلام تلاش دیر کے زیر اہتمام سانحہ حضرت شیخ ادریس رح کے خلاف عظیم الشان احتجاجی ریلی سے جمعیت علماء اسلام خیبرپختونخوا کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری مولانا محمد رحیم حقانی سابقہ وزیر مظفر سید اور مفتی عرفان الدین خطاب کررہے ہیں

08/05/2026

شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس شہید رحمہ اللہ
(آصف محمود)

علما معاشرے کا حسن ہوتے ہیں ۔ سفید ریش نورانی چہرے ، دیکھ کر وجود پر سکینت اترتی ہے۔ بچپن اورا س کی یادیں، ہمیشہ انسان کے ساتھ جڑی رہتی ہیں ، میں نے بچپن اور لڑکپن میں سب سے باوقار لوگ یہی دیکھے۔ سفید ریش ، سنجیدہ ، متین ، شفیق ، پیار کرنے والے ۔ مولانا غلام نقشبند ، مولانا عبد الغٖفور وجھوکوی ، صفرر علی چودھری ، حضرت مولانا قاری شہاب الدین سرگودھوی ۔۔۔ خود میرے نانا چودھری ظہیر الدین سفید ریش تھے ، سرد دنوں میں حویلی میں دھوپ میں چارپائی ڈال کر وہ قرآن کی تلاوت میں ہی زیادہ وقت گزارتے تو حویلی میں جیسے خدا کی رحمت اترنے لگتی ۔ والد محترم جب سے سفید ریش ہوئے ، مزاج بدلتا گیا ، ان کا وہ غصہ بھی جاتا رہا جو میرے جیسوں پر ، میری ہی حرکتوں کی وجہ سے ، نازل ہوا کرتا تھا۔

انتہا پسندی اور فرقہ واریت کا سیلاب بھی آیا ، لیکن سب اہل علم اس کا حصہ نہیں تھے ۔ نمودونمائش بھی آئی اور تصنع بھرے خطبےا ور کارپوریٹ دعاؤں والے کارپوریٹ خطیب بھی آئے ، لیکن یہ محدود تھے۔ علما پر عمومی طور پر خیر ہی غالب رہا ۔ ان کی اکثریت گاؤں ، دیہاتوں کی خاموش مساجد کے صحنوں میں قرآن و حدیث پڑھتی پڑھاتی رہی ۔ کبھی کسی گاؤں ، دیہات سے گزرتے سادہ سے کپڑوں میں ملبوس ، کسی سفید ریش بزرگ پر نظر پڑ جائے تو بے اختیار پیار آتا ہے۔ یہ ہماری تہذیب و ثقافت کے وہ رنگ ہیں جن کے دیکھنے سے روح کو تازگی ملتی ہے۔

جب کوئی سسفید ریش بزرگ لہو میں نہا دیا جائے تو دل لہو ہو جاتا ہے۔ ناحق قتل تو کسی انسان کا بھی ہو ، ظلم ہے۔ اتنا کہ گویا کسی نے پوری انسانیت کو قتل کر دیا ۔ لیکن قتل جب کسی سفید ریش بزرگ کا ہوتا ہے تو ایسے لگتا ہے جیسے پوری تہذیب سسکیاں لے رہی ہے ۔۔

مولانا ادریس شہید ہوئے ، میڈیا بالعموم لاتعلق سا رہا ۔ بھارت کے دوسرے اور تیسرے درجے کی گلوکاراؤں اور اداکاراؤں کی موت پر جو ٹی وی چینل پچاس پچاس بار سوگواری کے پیکج چلاتے رہے انہیں مولانا ادریس کے لیے ایک پیکج چلانے کی توفیق نہ ہوئی۔ ٹوئٹر پر کوئی ٹرینڈ نہ بنا ، سوگواری کی کوئی کیفیت معاشرے کو گرفت میں نہ لے سکی۔ صرف اہل علم کا ایک طبقہ سوگوار تھا ، باقی کا سماج لاتعلق تھا۔

یہ کوئی واحد مثال نہیں ، ہپر مکتب فکر کے جید عملماء اس دیا سے رخصت ہوئے ، مولانا سرفراز نعیمی بہت یاد آتے ہیں۔ لاہور ایک نجی ٹی وی کے سٹوڈیو میں انہیں ٹاک شو کے لیے دعوت دی ، وہ تشریف لائے ، تب تک ان سے میری ملاقات یا تعارف نہیں تھا۔ پروگرام میں کچھ تاخیر ہو گئی ۔ میں نے دیکھا کہ ایک بزرگ اس تاخیر سے پریشان ہوئے بغیر ایک کونے میں بیٹھ کر بڑے انہماک سے تلاوت کر رہے ہیں ۔ پوچھا یہ کون ہیں ؟ پروڈیوسر صاحب نے بتایا سرفراز نعیمی صاحب ہیں ۔ گفتگو ہوئی تو معلوم ہوا صاحب علم بھی ہیں ۔ علم اورحسن سے تو میں کھڑے کھڑے مرعوب ہو جاتا ہوں ۔ وہ تو دونوں کا امتزاج تھے ، وہیں ایک تعلق خاطر قائم ہو گیا۔ پھر بہت دفعہ وہ تشریف لائے ، کچھ سیکولر دوستوں نے دوران گفتگو بد تہذیبی بھی کی لیکن ان کی شائستگی پر فرق نہ آیا ، میں ان کے حسن اخلاق کا بھی قائل ہو گیا۔

کتنی مثالیں ہیں ، سوچتا ہوں تو یادیں خوشبو ہو جاتی ہیں۔ حضرت قاری شہاب الدین ہوا کرتے تھے ، شہر ان کے آگے مودب کھڑا ہوتا تھا کہ کوئی غلط یا غیر ضروری بات نہ ہو جائےا ور وہ مجھ سے کرکٹ میچ کی صورت حال پوچھ رہے ہوتے تھے۔ میں غیر ضروری تفصیل بتاتا تھا اور وہ ایسے سنتے تھے جیسے کرکٹ ہی ان کی دلچسپی کا میدان ہو۔ ان کی جانے بلا کہ کرکٹ کیا ہوتی تھی وہ تو مذہبی گھرانے کے ایک غیر مذہبی سے لڑکے کو دین کی طرف لانے کے لیے میری فضولیات میں بھی دلچسپی لینے لگ گئے تھے ۔

ایک دن پوچھنے لگے: تم صبح کی نماز میں نظر نہیں آئے؟ مجھے فورا یہ جھوٹ سوجھا کہ میں صبح واک پر نہر کی طرف چلا جاتا ہوں اور وہیں نماز پڑھ لیتا ہوں ۔ کہنے لگے : یہ تو اچھی بات ہے ، کچھ دن مجھے بھی ساتھ لے جایا کرو ادھر ہی نماز پڑھ لوں گا۔ میں نے سوچا اگر صبح اٹھوں بھی ، پھر حضرت جی کو ساتھ لے کر نہر پر بھی جاؤں اور وہاں نماز بھی پڑھنی پڑے تو اس سے بہتر نہیں سیدھا مسجد جا کر نماز پڑھ لی جائے ۔

انتہا پسندی ا ور فرقہ واریت سے خدا محفوظ رکھے ، وہ ایک الگ معاملہ ہے لیکن قرآن و سنت کی تدریس سے وابستہ علما معاشرے کا حسن ہوتے ہیں ۔

ہمارے ہاں ، مگر سماج پر عجیب حادثہ گزر گیا ہے کہ یہاں اب کوئی سفید ریش قتل ہو تو صرف سفید ریش اس کو رو رہے ہوتے ہیں یا ان کے شاگرد۔ باقی کا معاشرہ لاتعلق سا ہو تا جا رہا ہے، کوئی پرسہ تک نہیں دیتا ، کوئی ظاہری سوگواری کا تکلف بھی نہیں کرتا ۔ یہ رویہ بہت تکلیف دہ ہے۔

شیخ الحدیث مولانا ادریس کے سوگواروں میں مولانا فضل الرحمن کو اکیلے کھڑا دیکھا تو دل کٹ گیا۔ یہ مولانا قومی سیاست کے ہر دکھ سکھ میں اہل سیاست کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے لیکن اپنے دکھوں میں یہ مولانا اکیلا ہوتا ہے ۔ کوئی اس کا غم بانٹنے نہیں آتا ۔ کوئی پرسہ نہیں دیتا۔ ایمل ولی کا ایک ٹویٹ دیکھا ہے ، دل کو ڈھارس سی بندھی ہے کہ ولی باغ کی روایات ابھی زندہ ہیں ۔ یہی ہمارے معاشرے کا اصل رنگ ہوا کرتا تھا ۔

لیکن باقی سماج کو کیا ہو گیا ہے۔ تہذیبی قدریں کیا ہو گئیں ؟

کیا کسی کو معلوم بھی ہے کہ کتبا بڑا آدمی اس جہان سے اٹھ گیا ؟ یہ کوئی عام سا مولوی نہیں تھا ، یہ شیخ الحدیث تھے ، تدریس حدیث میں وہ اپنی مثال آپ تھے ، اب ان جیسا کوئی باقی نہیں ہے ۔ کوئی ہے تو بتائیے ۔ کیسی شاندار اور وسیع شخصیت تھی ، پشاور یونیورسٹی سے عربی اوراسلامیات میں ماسٹرز بھی کر رکھا تھا ، ہزاروں علما کو حدیث کا درس بھی دیا ، سیاست بھی کی ، ایم پی اے بھی رہے ، ڈپٹی سپیکر بھی رہے ۔ استاذ الاساتذہ ۔ زمین کا نمک ۔

معاشرے کو مگر خبر ہی نہیں ، کیسا حادثہ ہو گیا۔ سمجھ نہیں آ رہی جانے والے کو روئیں یا معاشرے کو روئیں؟

جمعیت علماء اسلام تحصیل مٹہ کے زیر اہتمام شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد ادریس صاحب کی المناک شہادت اور صوبے میں بڑھتی ہوئی...
07/05/2026

جمعیت علماء اسلام تحصیل مٹہ کے زیر اہتمام شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد ادریس صاحب کی المناک شہادت اور صوبے میں بڑھتی ہوئی بدامنی کے خلاف منعقدہ احتجاجی مظاہرے سے تحصیل مٹہ کے امیرمولانا رحیم اللہ صاحب،کبل امیر مولانا عارف اللہ صاحب،ڈاکٹر امجد علی ودیگرخطاب کر رہے ہیں۔

محترم حاضرینِ کرام!آج ہم یہاں کسی معمولی مقصد کے لیے جمع نہیں ہوئے ہیںآج  ہم سراپا احتجاج ہیں!یہ احتجاج کسی ذاتی مفاد کے...
06/05/2026

محترم حاضرینِ کرام!
آج ہم یہاں کسی معمولی مقصد کے لیے جمع نہیں ہوئے ہیں
آج ہم سراپا احتجاج ہیں!
یہ احتجاج کسی ذاتی مفاد کے لیے نہیں،
یہ احتجاج شہداء کے خون کی حرمت کے لیے ہے!یہ احتجاج شیخ ادریس شھید رح کے خون کی حرمت کے لیے ہے
قائدِ ملتِ اسلامیہ، حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب نے حکم دیا ہے،اور ہم کہتے ہیں:
لبیک! لبیک قائدِ محترم! ہم حاضر ہیں!
ہم آج حاضر ہیں،
اور جمعہ تک مسلسل تین دن سڑکوں پر رہیں گے ،
جب تک ہمارے شہید، شیخ ادریسؒ کے قاتلوں کو گرفتار نہیں کیا جاتا،یہ احتجاج جاری رہے گا!حاضرینِ کرام!
یہ کوئی نئی تاریخ نہیں۔۔۔
یہ اس امت کی روایت ہے!
یہ وہی امت ہے:
جس نے حضرت عمر بن خطاب کی شہادت دیکھی،
حضرت عثمان بن عفان کی شہادت دیکھی،
حضرت علی بن ابی طالب کی شہادت دیکھی،
اور حضرت حسین بن علی کی عظیم قربانی دیکھی!
میدانِ کربلا میں اہلِ بیت کے 17 شہداء—
یہ سب اس امت کا فخر ہیں، اس امت کا سرمایہ ہیں!
اور پھر وہ ائمۂ حق—
جنہوں نے قید و بند سہے، کوڑے کھائے، مگر جھکے نہیں:
امام ابو حنیفہ،
امام مالک بن انس،
امام شافعی،
اور امام احمد بن حنبل—
یہ سب ہمیں سکھاتے ہیں کہ
ظلم کے سامنے جھکنا نہیں، ڈٹ جانا ہے!
اور تاریخ آگے بڑھتی ہے—
سید احمد شہید
اور شاہ اسماعیل شہید
نے اپنی جانیں دے دیں مگر باطل کے سامنے سر نہ جھکایا!
محترم سامعین!
یہ ملک، یہ پاکستان—
یہ کسی ایک طبقے کی میراث نہیں،
یہ علماء کے خون سے بنا ہے،
یہ شہداء کی قربانیوں سے بنا ہے!
لیکن آج افسوس—
انہی علماء کو نشانہ بنایا جا رہا ہے،
انہی کو دیوار سے لگایا جا رہا ہے!
میں آپ سے پوچھتا ہوں:
کیا ہم خاموش رہیں گے؟
کیا ہم ظلم کو برداشت کریں گے ، یاد رکھو—
یہ آواز رکے گی نہیں،
یہ قافلہ جھکے گا نہیں،
یہ جدوجہد تھکے گی نہیں—
جب تک حق کو انصاف نہیں ملتا! والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

شکریہ ایمل خان
06/05/2026

شکریہ ایمل خان

Address

Islamabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when JUI Answers Back posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share