بے باک

بے باک نا انصافی کے خلاف ایک آواز بنیں... بے باک بنیں!
(1)

12/08/2026

‏پنجاب پولیس ایک بدترین غنڈا پولیس ہے اس پولیس کو مکمل ختم کر کے نئے سرے سے کوئی مہذب پڑھی لکھی پولیس فورس بنائیں
بچہ جرم کر رہا ہو گا مگر اس کا مارنا اس سے بڑا جرم ہے
یہ پولیس نہی غنڈے بدمعاش ہیں

لاہور میں ASI کی ذہنی مریض لڑکی سے مبینہ زیادتی وہ بھی تھانہ میں۔ معاملہ دبانے پر DIG آپریشن نے SHO سمیت 78 اہلکاروں پر ...
04/08/2026

لاہور میں ASI کی ذہنی مریض لڑکی سے مبینہ زیادتی وہ بھی تھانہ میں۔ معاملہ دبانے پر DIG آپریشن نے SHO سمیت 78 اہلکاروں پر مشتمل پورا تھانہ غازی آباد معطل کردیا۔ پہلے سی سی ڈی CCD کے نیفے میں رضا ڈار چل گیا تھا اب دیکھتے ہیں کہ اس نکے تھانیدار کا کیا بنتا ہے۔

لاہور کے تھانہ غازی آباد میں ذہنی معذور لڑکی سے مبینہ زیادتی کے مقدمے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ڈی آئی جی آپریشنز نے واقعے پر سخت کارروائی کرتے ہوئے ایس ایچ او سمیت تھانے کے تمام 78 اہلکاروں اور افسران کو معطل کردیا جب کہ ملزم اے ایس آئی عمران کو مقدمہ درج کرکے گرفتار کرلیا گیا ہے۔

یہ افسوسناک واقعہ 2 اگست کو تھانہ غازی آباد میں پیش آیا، جہاں قانون کا رکھوالا اے ایس آئی عمران سڑکوں پر بھیک مانگنے والی ایک 19 سالہ لڑکی کو موٹرسائیکل پر بٹھا کر لے تھانے لے گیا۔

پولیس ذرائع کے مطابق تھانے کے گیٹ پر موجود کانسٹیبل نے پوچھا تو اسے بتایا کہ تفتیش کے لیے لے کر آیا ہوں۔ انوسسٹی گیشن ونگ سے تعلق رکھنے والا عمران اسے کمرے میں لے گیا اور زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔

نوکریوں اور بیرونِ ملک ویزا کے جھوٹے وعدوں کے ذریعے فراڈ کر رہے ہیں۔ کسی بھی شخص کو رقم دینے یا دستاویزات جمع کرانے سے پ...
04/08/2026

نوکریوں اور بیرونِ ملک ویزا کے جھوٹے وعدوں کے ذریعے فراڈ کر رہے ہیں۔ کسی بھی شخص کو رقم دینے یا دستاویزات جمع کرانے سے پہلے متعلقہ اداروں سے مکمل تصدیق ضرور کریں۔

محتاط رہیں، دوسروں کو بھی آگاہ کریں، اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی فوری اطلاع متعلقہ حکام کو دیں۔

بےباک نیوز — The Truth Without Fear

. . ..  حمزہ خان کی رپورٹ  ۔  . .  سمبڑیال: نائب تحصیلدار سرفراز چیمہ کرپشن کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں اپنے آفس سے  گرفتار ۔س...
30/07/2026

. . .. حمزہ خان کی رپورٹ ۔ . . سمبڑیال: نائب تحصیلدار سرفراز چیمہ کرپشن کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں اپنے آفس سے گرفتار ۔

سمبڑیال تفصیلات کے مطابق تحصیل سمبڑیال کے نواحی موضع کوٹ خدا یار کے شہری ڈاکٹر منظور کی مدعیت میں تھانہ انٹی کرپشن رینج گوجرانولہ نے ملزم نائب تحصیلدار سرفراز چیمہ کے خلاف مقدمہ نمبر 34/26 مورخہ 28/7/26 بجرم 161 ت پ 5/2/47 PCA درج کرکے تفتیش شروع کردی ہے ۔مدعی مقدمہ ڈاکٹر منظور نے اے جی این نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملزم نائب تحصیلدار سرفراز چیمہ ہماری قیمتی اراضی کے خسرہ جات میں ردوبدل کرکے ہمیں اربوں روپے کا نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے اور ریکارڈ کی جانچ پڑتال اور درستگی کے نام پر اب تک لاکھوں روپے رشوت وصول کر چکا ہے گزشتہ روز بھی ملزم نے مجھ سے رشوت مبلغ ایک لاکھ روپے ڈیمانڈ کی جو میں نے پانچ ہزار والے نوٹ مبلغ ایک لاکھ روپے ملزم کو دیئے جوکہ محکمہ انٹی کرپشن اور علاقہ مجسٹریٹ نے رنگے ہاتھوں ملزم کو گرفتار کرکے محکمانہ کارروائی شروع کردی

28/07/2026
18/07/2026

اسے گھر میں گھسنے کی جرات اس لیے ہوئی کہ برسوں سے اسے دوسروں کی گھریلو زندگیوں میں مداخلت کی مشق کراتے کراتے یہ بھلا دیا گیا کہ اس کی اپنی "حدود" کہاں ختم ہوتی ہیں۔

یہ وہی جرات ہے جو اس وقت پیدا ہوتی ہے جب ایک پولیس والے کو پتہ ہو کہ پورا نظام اس کی ڈھال بن کر کھڑا ہے، مگر جونہی ایک شوہر کی غیرت نے اکیلے ہی پورے نظام کا مقابلہ کر لیا، وہی جرات کپکپی میں بدل گئی۔

ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک انسان اور دوسرا حیوان کا آپس میں ڈی این اے ٹیسٹ متوقع  تفصیلات کے مطابق ضلع بہاول پور کے...
18/07/2026

ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک انسان اور دوسرا حیوان کا آپس میں ڈی این اے ٹیسٹ متوقع تفصیلات کے مطابق ضلع بہاول پور کے تھانہ چنی گوٹھ کی حدود میں ہارون نامی نوجوان کی کتیا سے غیر فطری فعل کی ویڈیو وائرل ھوتے ھی امام بخش سب انسپیکٹر کی مدعیت میں مقدمہ نمبر 318/2026/ بجرم 377 درج کرکے کتیا کو ڈھونڈ کر اس کا میڈیکل کرایا جاۓ گا تفتیشی صاحب زرہ عوام کو یہ تو بتا دیں کھ کتیا اور ہارون نامی نوجوان کو ڈی این اے کے لیے لاھور بھی جانا پڑے گا ،اس کے علاوہ 164 کے بیان بھی ھوں گے کیا اب تک کی اطلاع کے مطابق پولیس ابھی تک نہ تو نوجوان کو گرفتار کر سکی ہے اور نہ کتیا کو ڈھونڈنے میں کامیاب ھوئی یعنی کتا اور انسان دونوں مفرور.

18/07/2026

🚨 سرگودھا: نیو جنرل بس اسٹینڈ پر الیکٹرک بس کے عملے کا شہریوں سے مبینہ ناروا سلوک، مسافروں میں شدید غم و غصہ 🚨

سرگودھا کے نیو جنرل بس اسٹینڈ پر الیکٹرک بس کے عملے کی جانب سے شہریوں کے ساتھ مبینہ طور پر ناروا رویہ اختیار کیے جانے کی شکایات سامنے آئی ہیں۔

مسافروں کا کہنا ہے کہ عملے کے بعض افراد کا غیر مناسب رویہ شہریوں کے لیے پریشانی کا باعث بن رہا ہے۔ متاثرہ افراد نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کا نوٹس لے کر شکایات کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور اگر الزامات درست ثابت ہوں تو ذمہ داروں کے خلاف مناسب کارروائی کی جائے تاکہ عوام کو باعزت سفری سہولیات میسر آ سکیں۔

📢 اگر آپ بھی اس واقعے کے عینی شاہد ہیں یا آپ کے پاس ویڈیو یا دیگر شواہد موجود ہیں تو متعلقہ حکام تک ضرور پہنچائیں۔

#سرگودھا

18/07/2026

شیخوپورہ اسٹیج ڈانس کرتی خاتون کی تماشائی نے جوتوں سے پٹائی کر دی ۔۔۔۔

ڈی ایس پی لیگل کی زیرِ صدارت اور محترم ڈی پی او سیالکوٹ کی ہدایت پر منعقدہ حالیہ ہم آہنگی اجلاس دراصل اس پرفریب بیانیے ک...
18/07/2026

ڈی ایس پی لیگل کی زیرِ صدارت اور محترم ڈی پی او سیالکوٹ کی ہدایت پر منعقدہ حالیہ ہم آہنگی اجلاس دراصل اس پرفریب بیانیے کا تسلسل ہے جسے طویل عرصے سے سدھار کے نام پر پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ روایتی ملاقاتیں، دفتری رپورٹیں اور کھوکھلی ترغیبی تقاریر اس سنگین حقیقت کو چھپانے میں ناکام رہی ہیں کہ پاکستان کا محکمہ پولیس—اور خاص طور پر پنجاب پولیس—عوام کے لیے تحفظ کا ذریعہ بننے کے بجائے منظم استحصال، ہراسانی اور بدعنوانی کا ایک خودمختار ادارہ بن چکا ہے۔ جب تک اس تلخ حقیقت کا سامنا ایک بے لاگ، بے رحم اور سخت گیر سائنسی تجزیے کے ساتھ نہیں کیا جاتا، تب تک اس قسم کا کوئی بھی نام نہاد ہم آہنگی اجلاس فوجداری عدالتوں میں سزا کی شرح کو بڑھانے میں معاون ثابت نہیں ہو سکتا۔ یہ پورا عمل محض ایک بیوروکریٹک تھیٹر ہے، جہاں مظلوموں کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے نظام کے کھوکھلے پن پر پردہ ڈالا جاتا ہے۔

سزا کی شرح کا المناک بحران: انصاف کی معطلی کا دستاویزی ثبوت
فوجداری انصاف کے نظام کی ناکامی کا سب سے بڑا مظہر مجرموں کو سزا دلانے میں پولیس کی اداراتی نااہلی ہے۔ راولپنڈی ضلع کے جنوری 2025 کے اعداو و شمار اس المیے کی واضح تصویر پیش کرتے ہیں، جہاں محض ایک ماہ کے دوران پولیس نے 3,988 نئے مقدمات درج کیے—جن میں 19 قتل، 100 اغوا اور 14 عصمت دری کے سنگین مقدمات شامل تھے۔ تاہم، تفتیش کی زبوں حالی کا عالم یہ ہے کہ اس ریکارڈ میں سے صرف 2,160 مقدمات کے فیصلے ہو سکے، جن میں سے محض 334 مقدمات میں ملزمان کو سزائیں سنائی گئیں۔ اس سے بھی زیادہ ہولناک امر یہ ہے کہ عصمت دری کے زیرِ فیصلہ آنے والے تمام 53 مقدمات ملزمان کی بریت پر ختم ہوئے۔ یہ منطقی تضاد—جہاں اندراج کے وقت 14 مقدمات درج ہوئے مگر بریت کے فیصلوں کی تعداد 53 ریکارڈ کی گئی—اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ماضی کے التوا کا شکار مقدمات (Backlog) ناقص تفتیش اور ثبوتوں کی عدم موجودگی کے باعث عدالتوں میں یکے بعد دیگرے دم توڑ رہے ہیں اور یہ پورا نظام مجرموں کے لیے ایک گھومتا ہوا دروازہ (Revolving Door) بن چکا ہے۔

قومی سطح پر پاکستان میں مجرموں کو سزا ملنے کی شرح محض 5 سے 10 فیصد کے درمیان ہے، جو دنیا بھر میں پست ترین شرحوں میں شمار ہوتی ہے۔ پنجاب پولیس، جسے ملک کا سب سے بڑا بجٹ فراہم کیا جاتا ہے اور جو 720 تھانوں کے ساتھ ملک کی 53 فیصد آبادی کا انتظام چلاتی ہے، اپنی سزا کی شرح محض 38 فیصد ظاہر کرتی ہے۔ یہ شرح بھی صرف اس وقت متاثر کن معلوم ہوتی ہے جب اس حقیقت کو نظرانداز کر دیا جائے کہ اس کا مطلب 62 فیصد ملزمان کی بریت ہے۔ دیگر صوبوں کی صورتحال تو قانون کی مکمل معطلی کا پتا دیتی ہے، جہاں سندھ میں سزا کی شرح محض 2 فیصد، خیبر پختونخوا میں 3 فیصد اور بلوچستان میں 2 فیصد ہے۔ اس اداراتی ناکامی کا ایک بڑا محرک ضلعی عدلیہ پر مقدمات کا غیر معمولی بوجھ بھی ہے، جو ملک کے مجموعی طور پر زیرِ التوا 22.5 لاکھ مقدمات کا 82 فیصد (تقریباً 18.5 لاکھ مقدمات) تنہا سنبھالنے پر مجبور ہے، جس کی وجہ سے تھانہ سطح پر ہونے والی کرپشن اور تفتیشی تاخیر کو مزید طول ملتا ہے。

|
تفتیش کا صدیوں پرانا فرسودہ ڈھانچہ اور موروثی نقائص
تھانہ سطح پر تفتیش کا معیار انتہائی ناقص اور غیر پیشہ ورانہ ہے، جو سائنسی بنیادوں کے بجائے حراستی تشدد اور روایتی مخبری (Mukhbari) پر انحصار کرتا ہے。 تفتیشی افسران (IOs) عدالتوں میں عارضی یا نامکمل چالان پیش کر کے محض دفتری خانہ پوری کرتے ہیں، جس سے اعلیٰ افسران کو یہ جھوٹا تاثر ملتا ہے کہ مقدمات درست سمت میں بڑھ رہے ہیں。 قانونِ شہادت آرڈر (QSO) کا آرٹیکل 164 اور ضابطہ فوجداری (CrPC) کی دفعہ 164-B جدید سائنسی شواہد کی حوصلہ افزائی تو کرتے ہیں، مگر ضابطگی کے فرسودہ معیارات کی وجہ سے ڈیجیٹل شواہد کو جسمانی ثبوتوں کے بغیر عدالتوں میں تسلیم نہیں کیا جاتا، جس سے سزاؤں کی شرح مزید متاثر ہوتی ہے۔

اس نظام کا ایک بڑا المیہ تفتیش کاروں کی عدم تربیت اور سائنسی و ڈیجیٹل خواندگی کا فقدان ہے۔ ایک دستاویزی جائزے کے مطابق، کراچی میں 86 فیصد تفتیشی افسران گزشتہ تین سالوں میں کسی بھی قسم کی جدید فرانزک تربیت حاصل کرنے سے محروم رہے، جبکہ راولپنڈی کے ایک سینئر تفتیشی افسر نے اعتراف کیا کہ اسے پچھلے دس سالوں میں تفتیش کے جدید تقاضوں پر کوئی تربیت فراہم نہیں کی گئی۔ اس سنگین خامی کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جائے وقوعہ کو محفوظ بنانے کے بنیادی پروٹوکولز کی خلاف ورزی کی جاتی ہے، جس سے قیمتی شواہد ضائع یا آلودہ (Contaminate) ہو جاتے ہیں。

صرف پنجاب پولیس کے اپنے ہی کمپلینٹ سیل (8787) میں درج ہونے والی 58,000 سے زائد شکایات تفتیش کے اس ناکام نظام کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ ان شکایات میں درج ذیل زمرے شامل ہیں:

* مقدمات کے اندراج سے انکار (FIR Non-Registration): 26,200 شکایات۔
* ناقص اور جانبدارانہ تفتیش (Defective Investigation): 13,070 شکایات۔
* رشوت ستانی اور براہ راست بدعنوانی (Corruption & Bribery): 10,400 شکایات۔

سابق چیف جسٹس آف پاکستان کی صدارت میں قائم پولیس ریفارمز کمیٹی (PRC) کی دستاویزی سفارشات میں واضح کیا گیا تھا کہ ناقص تفتیشی چالان عدالتوں میں ملزمان کے لیے قانونی خلا فراہم کرتے ہیں، جس کا فائدہ اٹھا کر سنگین ترین جرائم کے مرتکب افراد بھی باآسانی بری ہو جاتے ہیں。

ڈیجیٹل بلیک میلنگ، جعلی شواہد اور بھتہ خوری کا نیا طریقہ کار
جدید دور کے جرائم میں ڈیجیٹل شواہد کی اہمیت مسلمہ ہے، لیکن پنجاب پولیس کا تفتیشی عملہ اس ٹیکنالوجی کو انصاف کی فراہمی کے بجائے بلیک میلنگ اور معصوم شہریوں کے استحصال کے ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے。 قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ڈیجیٹل ناخواندگی کی وجہ سے ڈیجیٹل شواہد کو غیر مجاز تحویل (Unauthorized Custodians) میں رکھا جاتا ہے، جس کی وجہ سے اعلیٰ عدالتیں تکنیکی بنیادوں پر ملزمان کو رہا کرنے پر مجبور ہو جاتی ہیں。

اس کا سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ فیس بک اور واٹس ایپ جیسے پلیٹ فارمز پر تیار کیے گئے جعلی اسکرین شاٹس اور من گھڑت مواد کے ذریعے بے گناہ نوجوانوں، خاص طور پر مذہبی اور سماجی اقلیتوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے。 پنجاب پولیس کی اسپیشل برانچ اور نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس (NCHR) کی رپورٹس نے انکشاف کیا ہے کہ اس نوعیت کے مقدمات اکثر ذاتی دشمنی یا مالی مفادات کے حصول کے لیے درج کروائے جاتے ہیں۔ پولیس اہلکار بااثر گروہوں کے ساتھ مل کر بے گناہ شہریوں کو پھنسانے کا جال بنتے ہیں اور جھوٹی ایف آئی آر کے اندراج سے باز رہنے کے لیے لاکھوں روپے کی رشوت وصول کرتے ہیں، جو تھانہ سطح پر قانون کی کھلی نیلامی کا مظہر ہے。

رشوت ستانی کی منظم معیشت: ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل اور آئی ایم ایف کے انکشافات
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کے نیشنل کرپشن پرسیپشن سروے (NCPS) 2025 نے ایک بار پھر پولیس کو ملک کا بدعنوان ترین ادارہ قرار دیا ہے。 سروے کے مطابق 24 فیصد شہریوں نے پولیس کو بدعنوان ترین محکمہ نامزد کیا، جبکہ پنجاب کے حوالے سے یہ شرح 34 فیصد تک جا پہنچی۔ یہ رپورٹ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (IMF) کے اس گورننس اور اینٹی کرپشن ڈائیگنوسٹک اسیسمنٹ کے نتائج سے مکمل ہم آہنگ ہے جس میں کہا گیا تھا کہ پاکستان کے بنیادی سرکاری محکمے کمزور نگرانی، وسیع صوابدیدی اختیارات اور سزا سے استثنیٰ کے باعث شدید کرپشن کا شکار ہیں。

اگرچہ سروے میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ 66 فیصد شہریوں کو روزمرہ زندگی میں رشوت کے براہ راست دباؤ کا سامنا نہیں کرنا پڑا، تاہم جب بات تھانے اور پولیس امور کی آتی ہے تو کرپشن کا گراف ہولناک حد تک بڑھ جاتا ہے。 صوبائی سطح پر خدمات کے حصول کے لیے رشوت دہی کی شرح درج ذیل ہے:

* سندھ: 46 فیصد شہریوں نے رشوت دینے کا اعتراف کیا。
* پنجاب: 39 فیصد شہری رشوت دینے پر مجبور ہوئے。
* بلوچستان: 31 فیصد شہریوں کو رشوت دینی پڑی。
* خیبر پختونخوا: 20 فیصد شہریوں نے اس عمل کا اعتراف کیا。

تھانے کے سب سے مطلوبہ عہدوں اور پوسٹنگز کے لیے بولی کا فریم ورک 5 لاکھ سے لے کر 1.5 کروڑ روپے تک پھیلا ہوا ہے۔ سال 2025 میں خاتون پولیس کانسٹیبل سکینہ بی بی کی گرفتاری—جس نے ایک شہری سے جعلی پولیس مقابلے (Encounter Killing) میں ہلاک نہ کرنے کے عوض 2.1 ملین روپے رشوت کا تقاضا کیا تھا—یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ نچلی سطح پر پولیس اہلکار اب کس حد تک سفاک ہو چکے ہیں。 جیسے کہ اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر زوہا وسیم نے ریمارکس دیے کہ عام شہری پولیس سے شدید خوفزدہ رہتے ہیں اور اثر و رسوخ کے بغیر تھانے جانے والے ہر شخص کو بلیک میلنگ اور رشوت دہی کے سنگین خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے。 خود سابق انسپکٹر جنرل آف پولیس طارق عباس قریشی نے عوامی سطح پر تسلیم کیا کہ پولیس بدعنوانی ایک سیاسی، ادارہ جاتی اور قانونی حیثیت حاصل کر چکی ہے، اور پولیس افسران کا ماننا ہے کہ وہ بھتے اور رشوت کے بغیر اپنے روزمرہ کے تھانے کا انتظام نہیں چلا سکتے。

تھانہ کلچر اور پبلک سیفٹی سینٹرز کا نمائشی دھوکہ
لفظ "تھانہ" خود خوف، تحقیر اور قانون کی پامالی کی علامت بن چکا ہے。 حکومت پنجاب کی جانب سے تھانوں کا نام تبدیل کر کے "پبلک سیفٹی سینٹر" رکھنے کی تجویز محض ایک سطحی اور کاسمیٹک اقدام ہے。 ضلع بار کے صدور اور قانونی ماہرین نے اس اقدام کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کاغذات اور نام کی تبدیلی سے پولیس کا سفاکانہ رویہ تبدیل نہیں ہو سکتا، بلکہ اس کے لیے بنیادی ڈھانچے اور نوآبادیاتی ذہنیت کو جڑ سے اکھاڑنا ہوگا。

اس تھانہ کلچر کے تحت درج ذیل ہتھکنڈے باقاعدگی سے استعمال کیے جاتے ہیں:
ایف آئی آر کا غلط استعمال: سیاسی اور سماجی طور پر فعال علاقوں میں تقریباً 60 فیصد ایف آئی آرز بااثر شخصیات اور جاگیرداروں کے دباؤ پر بے گناہ حریفوں کو ہراساں کرنے کے لیے درج کی جاتی ہیں。

* حراستی تشدد کے وحشیانہ طریقے: دورانِ حراست ملزمان کی ٹانگیں انتہائی چوڑائی پر پھیلا کر مفلوج کرنے (Cheera) جیسے تیسرے درجے کے وحشیانہ تشدد کے طریقے اب بھی رائج ہیں تاکہ جبری اعترافِ جرم کروایا جا سکے。

پولیس مقابلے بطور ادارہ جاتی پالیسی: ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (HRCP) کی 2026 کی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ نے انکشاف کیا ہے کہ پنجاب کے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (CCD) نے ماورائے عدالت قتل کی باقاعدہ منظم پالیسی بنا رکھی ہے。 2025 کے محض آٹھ مہینوں میں 670 پولیس مقابلوں کے دوران 924 مشتبہ ملزمان کو موت کے گھاٹ اتارا گیا، جبکہ اس کے برعکس صرف 2 پولیس اہلکار ہلاک ہوئے。 یہ ہولناک فرق ثابت کرتا ہے کہ یہ مقابلے دفاعی نہیں بلکہ منصوبہ بند ماورائے عدالت قتل تھے。

اگرچہ ٹارچر اینڈ کسٹوڈیل ڈیتھ (پریوینشن اینڈ پنشمنٹ) ایکٹ 2022 کے تحت حراستی اموات کی انکوائری وفاقی تحقیقاتی ادارے (FIA) اور نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس (NCHR) کے سپرد کی گئی ہے، لیکن پنجاب حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اس قانون کی مسلسل سنگین خلاف ورزی کر رہے ہیں اور تفتیشی مشن کے ساتھ تعاون سے یکسر گریزاں ہیں。

طبقاتی تقسیم: پی ایس پی کیڈرز اور فرنٹ لائن افسران کا تضاد
پنجاب پولیس کا تنظیمی ڈھانچہ اندرونی طور پر شدید خلیج اور طبقاتی تقسیم کا شکار ہے۔ ایک طرف پولیس سروس آف پاکستان (PSP) سے تعلق رکھنے والے وفاقی سطح کے گزٹڈ افسران ہیں جو ایلیٹ سول سروسز کا حصہ ہیں。 انہیں ہر ایک یا دو سال بعد ایسے صوبوں اور ثقافتی ماحول میں پوسٹ کر دیا جاتا ہے جن کی مقامی زبان اور سماجی باریکیوں سے وہ مکمل ناواقف ہوتے ہیں。 دوسری طرف صوبائی سطح پر بھرتی ہونے والے فرنٹ لائن افسران (کانسٹیبل، اے ایس آئی اور سب انسپکٹر) ہیں جو تھانے کے اصل نظام کو چلاتے ہیں。

ان فرنٹ لائن افسران کو انتہائی نامساعد حالات، کام کے طویل اوقات، پست تنخواہوں اور رہائش کی ناقص سہولیات کے درمیان کام کرنا پڑتا ہے، جس کی وجہ سے ان کا رویہ عوام کے ساتھ مزید جارحانہ اور توہین آمیز ہو جاتا ہے。 اعلیٰ افسران (PSP) ایلیٹ اکیڈمیوں سے حاصل کردہ اپنی تعلیمی ڈگریوں کے گھمنڈ میں نچلے عملے کے عملی مسائل اور تھانے کے زمینی حقائق سے لاتعلق رہتے ہیں، جس کی وجہ سے پولیس کے اندر پیشہ ورانہ ہم آہنگی کے بجائے ایک غیراعلانیہ نوآبادیاتی حاکمیت کا راج قائم ہے。

عالمی موازنہ اور پاکستان کا نوآبادیاتی ماڈل
جدید دنیا کے کامیاب ممالک نے اپنے پولیس نظام کو قانون کی حکمرانی اور انسانی حقوق کا ضامن بنایا ہے، جبکہ پاکستان اب بھی 1861 کے برطانوی راج کے اس قانون کے تحت چل رہا ہے جو شہریوں کے تحفظ کے لیے نہیں بلکہ برطانوی مقتدرہ کے خلاف اٹھنے والی عوامی آوازوں کو دبانے کے لیے بنایا گیا تھا。

ڈنمارک
ڈنمارک کا پولیس ماڈل زیرو ٹالرنس پالیسی پر مبنی ہے۔ وہاں پولیس کے خلاف شکایات درج کروانے اور ان کی تحقیقات کے لیے ایک خود مختار سویلین کونسل "ڈینش پولیس کمپلینس اتھارٹی" قائم ہے، جس کا تفتیشی عمل غیر جانبدارانہ ہوتا ہے اور پولیس اہلکار اپنے محکمے کو بچانے کے لیے اس میں اثر انداز نہیں ہو سکتے۔

برطانیہ
میٹروپولیٹن پولیس "سر رابرٹ پیل" کے اس بنیادی چارٹر پر کاربند ہے کہ پولیس کی اخلاقی طاقت کا اصل سرچشمہ عوام کا اعتماد ہے。 کانسٹیبل کی سطح سے شروع ہونے والے افسران پیشہ ورانہ ترقی کے عمل سے گزر کر سربراہ بنتے ہیں، جس سے ان میں فیلڈ کا وسیع تجربہ پیدا ہوتا ہے。

بھارت
بھارت میں انڈین پولیس سروس (IPS) کے افسران اپنا پورا کیریئر ایک ہی صوبائی کیڈر میں گزارتے ہیں، جس سے ان میں مقامی زبان، ثقافتی باریکیاں اور زمینی یادداشت راسخ ہو جاتی ہے。 اس کے برعکس پاکستان میں وفاقی کیڈر کی تیز رفتار روٹیشن اداراتی یادداشت کو یکسر ختم کر دیتی ہے。 تناسب کے اعتبار سے دہلی پولیس کے پاس فی تھانہ اوسطاً 90,000 شہری ہیں، جبکہ لاہور میں یہ بوجھ کہیں زیادہ ہے، جس کے نتیجے میں تفتیشی افسران شارٹ کٹس اور غیر قانونی ہتھکنڈے اپنانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

قانون کی حکمرانی کا زوال: عالمی اعشاریوں کا سچ
روولڈ جسٹس پروجیکٹ (WJP) کے قانون کی حکمرانی کے اشاریے (Rule of Law Index) سال 2025 میں پاکستان کو دنیا بھر کے 143 ممالک میں سے 130 ویں درجے پر رکھا گیا ہے。 یہ کارکردگی پاکستان کے ہمسایہ ممالک کے مقابلے میں بدترین گراوٹ کی عکاسی کرتی ہے:

* نیپال: 72 ویں نمبر پر۔
* سری لنکا اور بھارت: پاکستان سے کہیں بہتر پوزیشن پر۔
* افغانستان: 142 ویں نمبر پر (جنوبی ایشیا میں سب سے نیچے)۔
فوجداری انصاف کی کیٹیگری میں پاکستان کا 98 واں نمبر اور انسانی حقوق کی کیٹیگری میں 125 واں نمبر یہ واضح گواہی دیتا ہے کہ ریاست کا بنیادی ڈھانچہ شہریوں کو بنیادی ترین حقوق فراہم کرنے سے قاصر ہو چکا ہے。

سدھار کا راستہ یا مزید تباہی کی سمت؟
پاکستان کو اب کسی مزید نمائشی ملاقات، بیوروکریٹک بریفنگ یا کاغذوں پر مشتمل ہم آہنگی اجلاس کی ضرورت نہیں۔ اب تک بننے والے 20 سے زائد اصلاحاتی کمیشنز کی فائلیں الماریوں کی نذر ہو چکی ہیں، جن میں 2010 کی پولیس ریفارمز کمیٹی کی جامع ترین رپورٹ بھی شامل ہے، جس میں عدلیہ اور تجربہ کار آئی جیز نے مل کر پولیس کے زوال کی درست تشخیص کی تھی。 جب تک درج ذیل انقلابی اور سخت گیر اقدامات فوری بنیادوں پر نافذ نہیں کیے جاتے، تب تک ہر سدھار محض ایک دھوکہ رہے گا:

1. نوآبادیاتی پولیس ایکٹ 1861 کی منسوخی
صوبوں میں نافذ العمل برطانوی دور کے پولیس قوانین کو فوری طور پر تبدیل کر کے حقوق پر مبنی اور جدید پبلک سروس آرڈر کے مطابق نیا قانون نافذ کیا جائے جس میں پولیس کو براہِ راست آزاد سویلین باڈی کے سامنے جوابدہ بنایا جائے。

2. تفتیش اور امن عامہ کے بجٹ کی علیحدگی
تھانہ سطح پر تفتیش کے شعبے کو امن و امان (Watch and Ward) کے فرائض سے قانونی اور آپریشنل طور پر الگ کر کے اس کا بجٹ براہِ راست تفتیشی افسر کے بینک اکاؤنٹ میں منتقل کیا جائے。 اس سے شہریوں سے تفتیش کے نام پر فائل چارجز، سفری اخراجات اور رشوت کا تقاضا کرنے کا گندا بہانہ ختم ہو جائے گا。

3. سائنسی فرانزک شواہد کی قانونی لازمیات
قانون سازی کی جائے کہ کسی بھی ملزم کو سزا دلوانے کے لیے زبانی گواہی یا اقبالی بیان کے بجائے صرف اور صرف سائنسی و فرانزک شواہد ہی بنیادی ثبوت تصور ہوں گے。 جائے وقوعہ سے ثبوت اکٹھے کرنے کے ایس او پیز (SOPs) کو دستاویزی شکل دی جائے اور لاپرواہی کی صورت میں متعلقہ تفتیشی افسر کے خلاف مجرمانہ غفلت کا مقدمہ درج کیا جائے。

4. ماورائے عدالت قتل پر تادیبی کارروائی اور کڑا احتساب
ہر پولیس مقابلے اور حراستی ہلاکت کی صورت میں ملوث افسران کو فوری طور پر معطل کر کے ان کے خلاف ٹارچر ایکٹ 2022 کے تحت خودکار طریقے سے آزادانہ فوجداری انکوائری شروع کی جائے。 اس عمل کی نگرانی عدالتی نگرانی میں کام کرنے والے انسانی حقوق کے کمیشن کو سونپی جائے。

5. میرٹ بیسڈ کیڈر سسٹم اور پیشہ ورانہ ترقی
افسران کی سیاسی مداخلت سے پاک تقرری اور تبادلے کو یقینی بنانے کے لیے ایک طویل المعیاد اور محفوظ دورانیہ مقرر کیا جائے。 تقرریوں کی بولیاں لگانے والے سیاسی آقاؤں اور نچلے عملے کے گٹھ جوڑ کو توڑنے کے لیے آزاد پبلک سیفٹی کمیشنز کو فعال کیا جائے。

جب تک ان سفارشات پر عمل درآمد نہیں ہوتا، تب تک ڈی ایس پی لیگل اور ڈی پی او سیالکوٹ کی طرف سے منعقد کیا جانے والا ہر اجلاس ایک بے معنی تھیٹر اور عوام کے ساتھ سنگین مذاق رہے گا۔ پنجاب پولیس کے نچلے درجے کی فرسودگی کو چھپانے کے لیے لگائے جانے والے یہ نمائشی رنگ برنگے بورڈز زیادہ دیر تک اس سڑتے ہوئے نظام کا تعفن نہیں چھپا سکتے۔

بے باک نیوز

Address

G11 Markaz
Islamabad

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when بے باک posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to بے باک:

Shortcuts

Share