21/07/2026
اسرائیل ہمیشہ سے جنگ چاہتا تھا، کیونکہ جنگ میں ہی اس کی بقا ہے۔
جبکہ انقلاب ایران کے بعد کی تاریخ دیکھیں تو ایران کی تاریخ بھی ہمیشہ سے عرب ممالک کے خلاف پراکسیز سے بھری پڑی ہے۔
دونوں کی سوچ و فکر تقریبا ایک ہی ہے، اسرائیل گریٹر اسرائیل بنانا چاہتا ہے، تو ایران اپنے انقلاب کو پوری اسلامی دنیا پر مسلط کرنا چاہتا ہے۔
ایران کی تاریخی طور پر پاکستان مخالف گروپ کو سپورٹ کرنے کے باوجود، پاکستان نے اسرائیل اور امریکہ جنگ میں ایران کو بچانے کی بہت کوشش کی، لیکن چند ایک کامیابی کے بعد ایران مغرور ہو گیا، افغان طالبان کی طرح ایران کو بھی زعم ہوا کہ وہ عالمی طاقت کو شکست دینے کے قابل ہے۔
لیکن میرے خیال سے یہ ایرانی قوم کی سوچ و فکر نہیں بلکہ ایرانی طاقت کے ایوانوں میں موجود موساااد کے ایجنٹس کی کارستانیاں ہیں، کیونکہ جیسے میں نے پہلے کہا کہ یہ جنگ اسرائیل کے سب سے زیادہ مفاد میں ہے اور اگر جنگ ختم ہوتی ہے تو اسرائیل کے مفادات کو نقصان پہنچتا ہے۔
پاکستان کی مسلسل کوششوں سے جنگ بندی ہوئی، لیکن کچھ ایسے واقعات رونما ہوئے جس کی وجہ سے یہ جنگ بندی زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی۔ اگر واقعات کا بغور جائزہ لیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایرانی سیاستدان و قوم اس واقعات کی سب سے بڑی مخالف رہی۔
ایران کے صدر نے تو یہاں تک دھمکی ڈے ڈالی تھی کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو وہ استعفا دے دے گا۔
60 روزہ جنگ بندی پر اتفاق ہوا اور ایرانی منجمد اثاثے بحال کرنے کا عمل شروع ہوا، ایران پر سے بین الاقوامی پابندیاں اٹھانی کی یقین دہانی کرائی گئی۔ یہ وہ تمام باتیں تھی جو ایران قوم کو اگلے چند سالوں میں ایک طاقتور ملک کے طور پر سامنے لا سکتی تھی۔
لیکن پھر ایران کو خیال آیا کہ اربوں ڈالر کا تیل اور گیس بیچنے کے بجائے، دنیا کے ساتھ تجارت کرنے کے بجائے اور اپنے اربوں ڈالر کے اثاثے بحال کرنے کے بجائے، کیوں نہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے چند لاکھ ڈالر وصول کیے جائے؟
یہ کتنی مضحقہ خیز بات ہے کہ ایک قوم کی لیڈرشپ اپنے مستقبل کو چھوڑ کر ایک چھوٹی سی راہداری پر ٹیکس لگائے اور ایسی راہداری جو گزشتہ چار ہزار سال سے بغیر کسی فیس کے ایکٹو ہو، ایرانی لیڈرشپ کو فیس لینے کا خیال آگیا اور کہا کہ کوئی بھی جہاز اس کی اجازت کے بغیر یہاں سے نہیں گزرے گا، اور گزرنے والے پر حملے شروع کر دیئے۔
ایران کی اسی چھوٹی غلطی کے بعد اب ایران پر مسلسل بمباری ہو رہی ہے، قیمتی جانیں، انفراسٹرکچر اور اربوں ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔ لیکن ایرانی قیادت میں چھپے موساااد کے ایجنٹس، نہ تو اسرائیل کو دھمکی دے رہے ہیں، نہ ہی امریکی بیڑے کو نقصان پہنچا رہے ہیں بلکہ وہ مسلسل عرب ممالک جیسے کہ قطر، بحرین، اور کویت کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
چلیے، یہ بات بھی سمجھ آتی ہیں کہ عرب ممالک امریکہ کے اتحادی ہیں، لیکن سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ امریکہ کے بحری بیڑے کو کیوں نشانہ نہیں بنایا جا رہا؟ اس کو سمندر میں غرق کیوں نہیں کیا جا رہا؟ جبکہ اُس کے مقابلے میں اسلامی ممالک کی سکیورٹی، اس کے سویلین انفراسٹرکچر، تیل اور گیس کے ذخائر، اور یہاں تک کہ پانی صاف کرنے والی مشینری کو بھی تباہ کیا جا رہا ہے۔
ان سب کو دیکھ کر یہ بات تو صاف ظاہر ہو جاتی ہے کہ اس وقت ایرانی فیصلہ سازوں میں بہت سارے موساااد کے ایجنٹ موجود ہیں۔ جو کہ اسرائیل اور امریکہ کے کام کو آسان کر رہے ہیں اور عرب ممالک کی سیکیورٹی اور عرب ممالک کے بقا کو خطرات سے دوچار کر رہے ہیں۔