02/07/2026
یہ کیسا ملک ہے پاکستان؟
بندہ اپنی محنت سے روزی کمائے، تو حکومت اس پر بھی ٹیکس کا ڈنڈا چلا دیتی ہے۔ نہ نوکری ملتی ہے، نہ کاروبار آسان ہے۔ تھک ہار کے بندہ یوٹیوب یا فیس بک پہ چینل بنائے، رات رات بھر جاگ کے ویڈیو ایڈٹ کرے، ویوز لانے کے لیے دماغ کھپائے... تو اپریل 2026 سے ایف بی آر کہتا ہے "195 روپے ہر 1,000 ویوز پہ ٹیکس دو"
مطلب 1 لاکھ ویوز آئیں اور اگر $5 کمائے بھی تو $19.50 ٹیکس دے دو۔ کمائی سے زیادہ ٹیکس۔ یہ کیسی محنت کا صلہ ہے؟
اور صرف ڈیجیٹل محنت ہی نہیں:
1. شادی کرنی ہے؟
ہال بک کرو تو 10% ودہولڈنگ ٹیکس الگ، 16% سیلز ٹیکس الگ۔ 5 لاکھ کا ہال 6 لاکھ کا پڑ جائے۔ دولہا-دلہن کی خوشی پہ بھی سرکار کا حصہ۔
2. گھر بنانا ہے؟
سیمنٹ، سریا، ٹائلز — ہر چیز پہ 18% جی ایس ٹی۔ اپنی چھت اپنے پیسے سے بنانی مشکل۔
3. بائیک لینی ہے؟
70cc بائیک پہ بھی 25,000 ٹیکس۔ محنت کی کمائی سے سواری لو، تو حکومت پہلے اپنا حصہ کاٹ لیتی ہے۔
4. موبائل چلانا ہے؟
100 کا لوڈ کرو تو 12.50 ٹیکس میں چلا جاتا ہے۔ بات کرنے پہ بھی ٹیکس، انٹرنیٹ پہ بھی ٹیکس۔
5. باہر سے پیسہ بھیجے؟
فری لانسر ڈالر کمائے، یوٹیوبر ایڈسینس سے ودڈرا کرے، تو بینک کا ٹیکس، ایف بی آر کا ٹیکس، فائلر/نان-فائلر کا چکر۔
6. پیٹرول ڈلوانا ہے؟
1 لیٹر پہ 60 روپے سے زیادہ ٹیکس۔ گاڑی تمہاری، پیٹرول تمہارا، پیسہ سرکار کا۔
سوال یہ ہے:
جب سرکار نہ نوکری دے سکتی ہے، نہ بجلی، نہ گیس، نہ پانی، نہ انصاف... تو پھر بندہ اپنی مدد آپ کرے، یوٹیوب چلائے، فیس بک پہ ریلز بنائے، فری لانسنگ کرے — تو اس کی محنت پہ بھی ٹیکس کس بات کا؟
یہ ملک غریب کا نہیں رہا۔ یہ صرف ٹیکس دینے والی مشین بن گیا ہے۔
نہ کمانے دیتے ہیں، نہ جینے دیتے ہیں۔
بندہ جائے تو کہاں جائے؟