Neutral News HD

Neutral News HD Like Follow and shear our page for news

ملک یار محمد کی جانب سے صحافیوں اور وانا پریس کلب کے صدر قسمت اللہ کو دی جانے والی دھمکی آمیز وائس کی بھرپور مذمت کرتا ہ...
13/09/2026

ملک یار محمد کی جانب سے صحافیوں اور وانا پریس کلب کے صدر قسمت اللہ کو دی جانے والی دھمکی آمیز وائس کی بھرپور مذمت کرتا ہوں

اختلاف رائے ہر شخص کا حق ہے، لیکن صحافیوں کو دھمکیاں دینا، ان کی تضحیک کرنا اور عوامی مسائل پر آواز اٹھانے والوں پر بے جا الزامات عائد کرنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں

ملک صاحب! آپ خود ایک عرصے سے وانا سے باہر دیگر شہروں میں مقیم ہیں۔ اگر آپ وانا کے لیے عملی طور پر کچھ نہیں کر سکتے تو کم از کم ان لوگوں کی حوصلہ شکنی نہ کریں جو مشکل حالات میں یہاں موجود رہ کر عوامی مسائل کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں۔ مشکل وقت میں قوم کے ساتھ کھڑا ہونا ہی اصل خدمت ہے

اسی طرح ضلعی زراعت آفیسر کا بے جا دفاع کرنے کے بجائے حقائق کو سامنے آنا چاہیے۔ اگر آپ زراعت کے سیکریٹری ہیں تو پھر یقیناً آپ کو اس معاملے میں دفاع کا حق حاصل ہے، بصورتِ دیگر کسی سرکاری افسر کا غیر ضروری دفاع مناسب نہیں۔

اسد اللہ بہیر
امیر جماعت اسلامی جنوبی وزیرستان لوئر

قسمت اللہ، صدر وانا پریس کلب، کو میں بہت قریب سے جانتا ہوں؛ وہ ایک سیدھے اور ایماندار انسان ہیں۔ بے بنیاد الزامات لگانے ...
13/09/2026

قسمت اللہ، صدر وانا پریس کلب، کو میں بہت قریب سے جانتا ہوں؛ وہ ایک سیدھے اور ایماندار انسان ہیں۔ بے بنیاد الزامات لگانے کے بجائے اصل کرپشن کرنے والوں سے سوال کیا جائے۔ وزیرستان کے وسائل لوٹنے والوں کا احتساب ہونا چاہیے، ایماندار لوگوں کا نہیں۔ قسمت اللہ کو نہ کوئی تنخواہ دیتا ہے اور نہ ہی کسی سے ایک پیسہ لیتے ہیں۔ قسمت اللہ پر بے جا الزامات کی ہم سختی سے مذمت کرتے ہیں۔

اضعر وزیر
سینئر رہنما نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ

وانا پریس کلب کے صدر قسمت اللہ وزیر ایک انتہائی مخلص، ایماندار اور بے باک صحافتی شخصیت ہیں۔ وہ صرف وانا نہیں بلکہ پورے و...
13/09/2026

وانا پریس کلب کے صدر قسمت اللہ وزیر ایک انتہائی مخلص، ایماندار اور بے باک صحافتی شخصیت ہیں۔ وہ صرف وانا نہیں بلکہ پورے وزیرستان کے عوام کی توَانا آواز بن کر حقائق کو سامنے لانے کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

ایسی آوازوں کو دبانے کے بجائے انہیں مزید مضبوط اور بااختیار بنانے کی ضرورت ہے، کیونکہ معاشرے میں آزاد، حق گو اور ذمہ دار آواز ہی عوام کے مسائل کو اقتدار کے ایوانوں تک پہنچاتی ہے۔

ہم قسمت اللہ وزیر کی حق گوئی، دیانت داری اور صحافتی کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔

احمد وزیر
پاکستان پیپلز پارٹی جنوبی وزیرستان لوئر ویلج غلجہ کے سابقہ چیئرمین

محکمہ جنگلات اور زراعت کے افسران کی عدم موجودگی پر سوال اٹھانے والے صدر ڈسٹرکٹ پریس کلب وانا کو ملک یار محمد کی جانب سے ...
13/09/2026

محکمہ جنگلات اور زراعت کے افسران کی عدم موجودگی پر سوال اٹھانے والے صدر ڈسٹرکٹ پریس کلب وانا کو ملک یار محمد کی جانب سے دھمکی آمیز وائس میسج، پریس کلب وانا کابینہ کی مذمت

صحافیوں پر بلیک میلنگ کے الزامات ناقابلِ قبول، متعلقہ ادارے معاملے کی شفاف اور غیر جانبدرانہ تحقیقات کرائیں، وانا پریس کلب کابینہ

ڈسٹرکٹ پریس کلب وانا کی کابینہ نے محکمۂ جنگلات اور محکمۂ زراعت کے متعلق سوالات اٹھانے پر ڈسٹرکٹ پریس کلب وانا کے صدر قسمت اللہ وزیر کو ملک یار محمد یارگل خیل کی جانب سے دھمکی آمیز اور نازیبا زبان میں وائس میسج بھیجنے کے معاملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے متعلقہ اداروں سے شفاف اور غیر جانبدرانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

وانا پریس کلب کابینہ کی جانب سے اتوار کے روز جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر قسمت اللہ وزیر نے گزشتہ روز جنوبی وزیرستان لوئر میں محکمۂ جنگلات اور محکمۂ زراعت کے متعلقہ افسران کی مبینہ عدم موجودگی اور عوامی نوعیت کے معاملات پر سوالات اٹھائے تھے۔ بیان کے مطابق اس معاملے پر ملک یار محمد یارگل خیل کی جانب سے صدر صاحب کے ذاتی نمبر پر ایک وائس میسج بھیجا گیا، جس میں صدر ڈسٹرکٹ پریس کلب وانا پر براہِ راست بلیک میلنگ کے الزامات عائد کیے گئے اور دھمکی آمیز لہجے کے ساتھ نازیبا الفاظ استعمال کیے گئے۔

کابینہ نے کہا کہ صحافیوں کی جانب سے سرکاری محکموں کی کارکردگی، افسران کی حاضری، عوامی مسائل اور انتظامی امور پر سوال اٹھانا صحافتی ذمہ داری کا حصہ ہے۔ کسی سرکاری یا عوامی معاملے پر سوال کرنے والے صحافی پر بغیر ثبوت بلیک میلنگ کا الزام عائد کرنا مناسب طرزِ عمل نہیں، جبکہ اختلافِ رائے کی صورت میں بھی مہذب اور شائستہ زبان کا استعمال ضروری ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ ملک یار محمد یارگل خیل اگر صدر قسمت اللہ وزیر کے مؤقف سے اختلاف رکھتے تھے تو وہ اپنا مؤقف دلیل، شائستگی اور مناسب فورم کے ذریعے پیش کر سکتے تھے، لیکن انہوں نے پیشہ ورانہ فورم کے بجائے براہِ راست صدر کو گندی زبان استعمال کرتے ہوئے واٹس ایپ پر وائس میسج بھیجا۔

کابینہ ممبران نے اعلان کیا کہ مذکورہ معاملے کے پیش نظر آئندہ کے لیے ملک یار محمد یارگل خیل کی میڈیا کوریج کا مکمل بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔ کابینہ نے کہا کہ یہ فیصلہ مبینہ طور پر صدر پریس کلب کے ساتھ نازیبا اور دھمکی آمیز زبان کے استعمال کے خلاف احتجاج کے طور پر کیا گیا ہے۔

ڈسٹرکٹ پریس کلب وانا کی کابینہ نے واضح کیا کہ جنوبی وزیرستان لوئر کے مختلف سرکاری محکموں کی کارکردگی کے حوالے سے صحافی آئندہ بھی عوامی مفاد کے مسائل اجاگر کرتے رہیں گے۔ کابینہ نے کہا کہ کسی بھی محکمے میں خامیوں، مبینہ بے ضابطگیوں، عوامی شکایات یا اچھی کارکردگی کی نشاندہی کرنا صحافت کا بنیادی فریضہ ہے، تاہم ہر خبر یا الزام کو مناسب تصدیق اور متعلقہ فریق کا مؤقف شامل کرکے پیش کیا جانا چاہیے۔

کابینہ نے مزید کہا کہ ملک یار محمد یارگل خیل کی جانب سے استعمال کیے گئے الفاظ کے معاملے کو ذاتی تنازع بنانے کے بجائے قانون اور متعلقہ ادارہ جاتی طریقۂ کار کے مطابق دیکھا جانا چاہیے۔ کابینہ نے مطالبہ کیا کہ ملک یار محمد یارگل خیل صدر قسمت اللہ وزیر سے مبینہ وائس میسج میں استعمال کیے گئے نازیبا اور دھمکی آمیز الفاظ پر وضاحت پیش کریں اور اس پر صدر سے معذرت کریں۔

پریس کلب کابینہ نے متعلقہ حساس اداروں سے مطالبہ کیا کہ مبینہ وائس میسج کا آزادانہ، شفاف اور غیر جانبدرانہ جائزہ لیا جائے، اس کی اصل اور مکمل ریکارڈنگ کی تصدیق کی جائے اور یہ بھی واضح کیا جائے کہ آیا اس معاملے میں کسی دوسرے شخص یا کسی سرکاری ادارے کا کوئی کردار ہے یا نہیں۔ کابینہ نے کہا کہ تحقیقات کا مقصد کسی فرد کو قبل از وقت قصوروار قرار دینا نہیں بلکہ اصل حقائق سامنے لانا ہونا چاہیے۔

پریس کلب وانا کی کابینہ نے تمام صحافیوں سے بھی اپیل کی کہ وہ صحافتی اخلاقیات، قانون اور ذمہ دارانہ رپورٹنگ کے اصولوں کو مقدم رکھیں اور کسی بھی معاملے میں غیر مصدقہ الزامات یا ذاتی نوعیت کی مہم سے گریز کریں۔

13/09/2026

ڈسٹرکٹ پریس کلب وانا کے صدر قسمت اللہ وزیر کی جانب سے گزشتہ روز محکمۂ زراعت اور محکمۂ جنگلات کے افسران کی عدم موجودگی سے متعلق سوال اٹھایا گیا تھا، جس پر ملک یار محمد یارگل خیل نے مبینہ طور پر وائس میسج کے ذریعے ڈسٹرکٹ پریس کلب وانا کے صدر قسمت اللہ وزیر پر براہ راست بلیک میلنگ کے الزامات لگائے اور دھمکی امیز لہجے میں نازیبا الفاظ استعمال کیے۔ اور فارسٹ افیسر کی کھلم کھلا حمایت کی جو اس بات کا ثبوت ہے کہ وانا میں افیسر کی غیر موجودگی کے پیچھے کون لوگ ملوث ہیں ۔ جو کہ ان کا وائس میسج اپ لوگوں کے ساتھ شیئر کررہا ہو۔

صدر قسمت اللہ وزیر کی جانب سے سوشل میڈیا پر کی گئی پوسٹ کا متن قارئین کے سامنے پیش کیا جا رہا ہے۔

" ذرائع کے مطابق جنوبی وزیرستان لوئر کے ڈی ایف او عمر خطاب اور ڈائریکٹر زراعت ناصر خان کافی عرصے سے منظرِ عام سے غائب ہیں، جبکہ اس وقت وزیرستان میں چلغوزے کا سیزن جاری ہے۔

مقامی لوگوں کی جانب سے الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ چلغوزے کے حوالے سے من مانے ٹیکس وصول کیے جاتے ہیں، تاہم متعلقہ ذمہ دار افسران پشاور اور دیگر شہروں میں موجود رہتے ہیں۔ عوام کا کہنا ہے کہ اگر افسران کو وزیرستان میں ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں تو انہیں اپنے فرائض کی انجام دہی کے لیے ضلع میں موجود ہونا چاہیے۔

دوسری جانب جنوبی وزیرستان لوئر کے بیشتر لوگوں کے روزگار اور معاش کا انحصار محکمۂ زراعت اور محکمۂ جنگلات سے وابستہ سرگرمیوں پر ہے، اس لیے متعلقہ افسران کی غیر موجودگی سے عوامی مسائل میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔"

وزیرستان میں روزانہ کرفیو امن نہیں، عوام کے لیے اجتماعی سزا ہے، فریال کاکڑہ وانا : فریال کاکڑہ نے سوشل میڈیا کے ذریعے جا...
12/09/2026

وزیرستان میں روزانہ کرفیو امن نہیں، عوام کے لیے اجتماعی سزا ہے، فریال کاکڑہ

وانا : فریال کاکڑہ نے سوشل میڈیا کے ذریعے جاری اپنے پیغام میں جنوبی وزیرستان لوئر و اپر سمیت پورے وزیرستان کے عوام کو روزانہ کرفیو اور پابندیوں کا سامنا ہونے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کو ہر روز کرفیو کے نام پر گھروں تک محدود کرنا امن کا قیام نہیں بلکہ کھلی ناانصافی اور اجتماعی سزا کے مترادف ہے۔

فریال کاکڑہ نے کہا کہ کبھی سڑکیں بند کر دی جاتی ہیں، کبھی بازار اور کاروباری مراکز بند ہوتے ہیں، جبکہ کبھی عوام کی نقل و حرکت پر پابندیاں عائد کر دی جاتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ وزیرستان کے عوام نے ایسا کون سا جرم کیا ہے کہ انہیں روزانہ کی بنیاد پر ان پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے؟

انہوں نے کہا کہ روزانہ کرفیو اور نقل و حرکت پر پابندیوں کے باعث سب سے زیادہ متاثر غریب اور دیہاڑی دار طبقہ ہوتا ہے، جو روزانہ کی مزدوری سے اپنے گھر کا چولہا جلاتا ہے۔ اسی طرح مریضوں کو بروقت اسپتال پہنچانے، طلبہ کو تعلیمی اداروں تک رسائی اور کاروباری افراد کو اپنے روزگار کے معمولات جاری رکھنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

فریال کاکڑہ نے سوال اٹھایا کہ اگر مسئلہ چند افراد یا مخصوص عناصر کا ہے تو اس کی سزا پورے وزیرستان کے عوام کو کیوں دی جا رہی ہے؟ اگر مقصد امن و امان کا قیام ہے تو عام شہریوں کی زندگی، روزگار اور نقل و حرکت کو مسلسل محدود کرنے سے امن کیسے قائم ہو سکتا ہے؟

انہوں نے کہا کہ عوام کی حفاظت کے نام پر اگر ایسے اقدامات کیے جا رہے ہیں تو اس امر کو بھی یقینی بنایا جانا چاہیے کہ عام شہری خوف، بھوک، بے روزگاری اور بے بسی کا شکار نہ ہوں۔ عوام کو مسلسل محصور رکھنا کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں بلکہ اس سے عوام اور ریاست کے درمیان فاصلے مزید بڑھ سکتے ہیں۔

فریال کاکڑہ نے کہا کہ وزیرستان محض ایک خطہ نہیں بلکہ یہاں لاکھوں لوگ آباد ہیں، جن کے گھر، بچے، کاروبار، تعلیم اور بنیادی حقوق ہیں۔ ریاستی طاقت کا مقصد شہریوں کی زندگی آسان اور محفوظ بنانا ہونا چاہیے، نہ کہ ایسی پابندیاں عائد کرنا جن سے عام آدمی کی روزمرہ زندگی مفلوج ہو جائے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ امن و امان سے متعلق اقدامات میں عوام کی مشکلات اور بنیادی حقوق کو بھی مدنظر رکھا جائے اور ایسے متبادل انتظامات کیے جائیں جن کے ذریعے سکیورٹی کے تقاضے بھی پورے ہوں اور عام شہریوں کی زندگی، روزگار، تعلیم اور علاج معالجے کا سلسلہ بھی متاثر نہ ہو۔

فریال کاکڑہ نے کہا کہ وزیرستان کے عوام کسی رعایت یا خیرات کے طلب گار نہیں بلکہ اپنے بنیادی حقوق، عزت، تحفظ اور پُرامن زندگی کا حق چاہتے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ روزانہ کرفیو اور غیر ضروری پابندیوں کا سلسلہ ختم کیا جائے اور عوام کو اجتماعی سزا دینے کے تاثر کا خاتمہ کیا جائے۔

جماعت اسلامی کے وفد کا ضلعی زراعت دفتر کا دورہ، متعلقہ حکام کی عدم حاضری پر سوالات اٹھ گئے،وانا : امیر جماعت اسلامی جنوب...
12/09/2026

جماعت اسلامی کے وفد کا ضلعی زراعت دفتر کا دورہ، متعلقہ حکام کی عدم حاضری پر سوالات اٹھ گئے،

وانا : امیر جماعت اسلامی جنوبی وزیرستان لوئر اسداللہ بھیر کی قیادت میں جماعت اسلامی کے وفد نے ضلعی زراعت دفتر جنوبی وزیرستان لوئر کا دورہ کیا، تاہم وفد کو دفتر میں محکمۂ زراعت جنوبی وزیرستان لوئر کا کوئی متعلقہ ذمہ دار افسر موجود نہیں ملا۔

وفد کی آمد پر دفتر میں موجود جنوبی وزیرستان اپر کے محکمۂ زراعت کے آفیسر مسعود صاحب نے وفد کا استقبال کیا۔ اس موقع پر وفد نے ان سے محکمۂ زراعت، زمینداروں کو درپیش مسائل، زرعی سہولیات، کسانوں کی معاونت اور علاقے میں زرعی سرگرمیوں سے متعلق مختلف امور پر تفصیلی گفتگو کی۔

اس موقع پر امیر جماعت اسلامی جنوبی وزیرستان لوئر اسداللہ بھیر نے متعلقہ افسران کی عدم موجودگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ افسوس ناک امر ہے کہ ضلع جنوبی وزیرستان لوئر کے محکمۂ زراعت کے ذمہ دار افسران میں سے کوئی بھی دفتر میں موجود نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ زراعت جنوبی وزیرستان لوئر کی معیشت اور مقامی آبادی کے روزگار کا ایک اہم ذریعہ ہے، اس لیے محکمۂ زراعت کے افسران اور اہلکاروں کی بروقت دستیابی ضروری ہے تاکہ زمینداروں اور کسانوں کو درپیش مسائل کا فوری ازالہ کیا جا سکے۔

اسداللہ بھیر نے مطالبہ کیا کہ محکمۂ زراعت کے متعلقہ ذمہ داران اپنی سرکاری ذمہ داریاں باقاعدگی سے انجام دیں اور دفتر میں عوام، خصوصاً زمینداروں اور کسانوں کی رہنمائی اور مسائل کے حل کے لیے دستیاب رہیں۔

انہوں نے کہا کہ جنوبی وزیرستان لوئر میں زرعی شعبے کی بہتری کے لیے عملی اقدامات، جدید زرعی سہولیات کی فراہمی اور کسانوں کو محکمۂ زراعت کی مؤثر معاونت وقت کی اہم ضرورت ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ عوامی خدمت سے متعلق سرکاری اداروں میں افسران اور اہلکاروں کی حاضری کو یقینی بنایا جانا چاہیے تاکہ عوام کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے کے بجائے اپنے مسائل کے حل کے لیے بروقت سہولت میسر آسکے۔

وفد میں جماعت اسلامی جنوبی وزیرستان لوئر کے سابق امیر ندیم خان، عمر وزیر اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔

روزانہ کرفیو سے بچوں کی تعلیم متاثر ہو رہی ہے، حکومت سکول جانے والے طلبہ کو آمدورفت کی اجازت دے، عثمان وزیروانا : لقمانی...
12/09/2026

روزانہ کرفیو سے بچوں کی تعلیم متاثر ہو رہی ہے، حکومت سکول جانے والے طلبہ کو آمدورفت کی اجازت دے، عثمان وزیر

وانا : لقمانی الفلاح پبلک ہائی اسکول وچہ خوڑہ کے پرنسپل عثمان وزیر نے کہا ہے کہ جنوبی وزیرستان لوئر میں روزانہ کی بنیاد پر عائد کرفیو کے خلاف سکول کے بچوں کے ہمراہ آواز اٹھانے کا مقصد حکومت اور متعلقہ حکام کو یہ واضح پیغام دینا ہے کہ مسلسل کرفیو کے باعث ضلع کے بچوں کی تعلیم شدید متاثر ہو رہی ہے۔

عثمان وزیر کا کہنا تھا کہ روزانہ کرفیو کے باعث طلبہ کو سکول پہنچنے اور تعلیمی سرگرمیوں میں حصہ لینے میں مشکلات کا سامنا ہے، جس کے نتیجے میں ان کا قیمتی تعلیمی وقت ضائع ہو رہا ہے۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سکول جانے والے بچوں کو ان کے یونیفارم اور سکول بیگز کی بنیاد پر شناخت کرتے ہوئے آمدورفت کی اجازت دی جائے تاکہ وہ بلا رکاوٹ اپنے تعلیمی اداروں تک پہنچ سکیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر سکول کے اساتذہ کی شناخت میں کوئی مسئلہ درپیش ہے تو تمام سرکاری و نجی سکولوں کے اساتذہ کے لیے باقاعدہ سکول کارڈز جاری کیے جا سکتے ہیں، جنہیں چیک پوسٹوں پر دکھا کر انہیں سکول جانے کی اجازت دی جائے۔

پرنسپل عثمان وزیر نے کہا کہ جنوبی وزیرستان لوئر میں امن و امان کی صورتحال کے باعث کاروبار، روزگار اور دیگر شعبہ ہائے زندگی پہلے ہی شدید متاثر ہیں، ایسے حالات میں تعلیم ہی وہ واحد شعبہ ہے جسے مزید متاثر ہونے سے بچانا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ خدارا جنوبی وزیرستان لوئر کے بچوں کے مستقبل پر رحم کیا جائے اور انہیں تعلیم سے محروم نہ کیا جائے۔ حکومت کو چاہیے کہ سکیورٹی اقدامات کے ساتھ ساتھ طلبہ، اساتذہ اور تعلیمی اداروں کے لیے ایسا مؤثر طریقہ کار وضع کرے جس سے سکیورٹی بھی یقینی ہو اور بچوں کا تعلیمی سلسلہ بھی بلا تعطل جاری رہ سکے۔

عثمان وزیر نے مزید کہا کہ بچوں کا مستقبل کسی بھی معاشرے کا سب سے قیمتی سرمایہ ہوتا ہے، اس لیے موجودہ حالات میں تعلیم کے راستے کھلے رکھنا حکومت، انتظامیہ اور معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

غلجہ کے سرکاری پرائمری سکول میں 60 طلبہ میں کتابیں، کاپیاں اور سکول بیگز تقسیموانا : ڈسٹرکٹ ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ جنوبی وزی...
11/09/2026

غلجہ کے سرکاری پرائمری سکول میں 60 طلبہ میں کتابیں، کاپیاں اور سکول بیگز تقسیم

وانا : ڈسٹرکٹ ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ جنوبی وزیرستان لوئر کے بھرپور تعاون اور اہلِ علاقہ غلجہ کی کاوشوں کے نتیجے میں گورنمنٹ پرائمری سکول ملک عبدالرحیم کوٹ غلجہ میں پہلی مرتبہ 60 طلبہ و طالبات میں سکول بیگز، کاپیاں اور درسی کتب تقسیم کی گئیں۔

اس موقع پر بچوں میں تعلیمی سامان کی تقسیم سے ان کے چہروں پر خوشی دیدنی تھی۔ اہلِ علاقہ کے مطابق یہ اقدام محض کتابیں، کاپیاں اور بیگز فراہم کرنے تک محدود نہیں بلکہ پسماندہ علاقے کے بچوں کو تعلیم کی جانب راغب کرنے اور ان کے روشن مستقبل کی بنیاد مضبوط بنانے کی ایک اہم کوشش ہے۔

اہلِ علاقہ غلجہ نے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ جنوبی وزیرستان لوئر کے افسران اور متعلقہ حکام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ علاقے میں تعلیم کے فروغ، سکولوں میں بچوں کے داخلوں میں اضافے اور تعلیمی سہولیات کی بہتری کے لیے محکمہ تعلیم کی جانب سے تعاون قابلِ تحسین ہے۔

انہوں نے کہا کہ غلجہ میں بچوں کو سکولوں تک لانے اور انہیں بنیادی تعلیمی سہولیات فراہم کرنے کی یہ مہم جاری رہے گی۔ انشاء اللہ، مزید بچوں کو بھی تعلیمی سہولیات فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے۔

سابق چیئرمین احمد وزیر نے کہا کہ ہمارا عزم ہے کہ کوئی بچہ سکول سے باہر نہیں رہے گا۔ کوئی بچی تعلیم سے محروم نہیں رہے گی۔ غلجہ سے جہالت کا خاتمہ اور تعلیم کی روشنی کا فروغ یقینی بنایا جائے گا۔

اہلِ علاقہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اجتماعی کوششوں کے ذریعے غلجہ میں تعلیم کو مزید فروغ دیا جائے گا تاکہ یہاں کا ہر بچہ اور بچی زیورِ تعلیم سے آراستہ ہو کر اپنے علاقے اور ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکے۔

کھیلوں کے میدان سے کامیابی تک ، ڈوگ کے نوجوان طفیل کی نمایاں پیش رفتوانا : جنوبی وزیرستان لوئر کے علاقے ڈوگ سے تعلق رکھن...
11/09/2026

کھیلوں کے میدان سے کامیابی تک ، ڈوگ کے نوجوان طفیل کی نمایاں پیش رفت

وانا : جنوبی وزیرستان لوئر کے علاقے ڈوگ سے تعلق رکھنے والے نوجوان طفیل میکس بھی ایسے ہی باصلاحیت کھلاڑیوں میں شامل ہیں، جنہوں نے محدود وسائل کے باوجود اپنی محنت، لگن اور مسلسل جدوجہد سے نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔ طفیل مارشل آرٹس کے ساتھ ساتھ فٹبال کے ایک باصلاحیت کھلاڑی ہیں اور کھیل کے میدان میں اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کر رہے ہیں۔

ہمارے معاشرے میں بدقسمتی سے آج بھی کھیلوں کو وہ اہمیت نہیں دی جاتی جس کے وہ مستحق ہیں۔ بعض علاقوں میں کھیلوں سے وابستہ نوجوانوں کو لوفر لوپنگا ، جیسے نامناسب القابات دے کر ان کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے، جس کے نتیجے میں نہ صرف نوجوان کھیلوں سے دور ہوتے جا رہے ہیں بلکہ کھیلوں کے میدان بھی ویرانی کا منظر پیش کر رہے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ کھیل نوجوانوں کی جسمانی صحت، ذہنی نشوونما اور شخصیت سازی میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ دنیا بھر میں نوجوان کھیلوں کے میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا کر نہ صرف اپنے ملک اور علاقے کا نام روشن کر رہے ہیں بلکہ عزت، مقام، شہرت اور روزگار کے نئے مواقع بھی حاصل کر رہے ہیں۔

طفیل نے اپنی کھیلوں کی صلاحیت کی بنیاد پر سپورٹس کوٹے کے تحت گورنمنٹ کالج لاہور میں داخلہ حاصل کیا، جو ملک کے معروف تعلیمی اداروں میں شمار ہوتا ہے۔ اپنی تعلیمی اور کھیلوں کی سرگرمیوں کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے اب یونیورسٹی آف لاہور میں بھی سپورٹس کوٹے کے تحت داخلہ حاصل کر لیا ہے، جو ان کی مسلسل محنت اور صلاحیتوں کا واضح ثبوت ہے۔

طفیل کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد کھیل اور تعلیم دونوں کو ساتھ لے کر آگے بڑھنا ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے انہوں نے دن رات محنت کی اور مشکلات کے باوجود اپنی جدوجہد جاری رکھی۔ ان کے مطابق کھیل صرف جسمانی سرگرمی نہیں بلکہ نظم و ضبط، محنت، خود اعتمادی اور کامیابی کی جانب بڑھنے کا ایک مؤثر ذریعہ بھی ہے۔

طفیل میکس کا عزم ہے کہ وہ مستقبل میں فٹبال کے میدان میں قومی اور بین الاقوامی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے جنوبی وزیرستان، وزیرستان اور اپنے علاقے ڈوگ کا نام روشن کریں گے۔

ایسے باصلاحیت اور محنتی نوجوان دراصل ہمارے معاشرے کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ والدین، تعلیمی ادارے، ضلعی انتظامیہ، محکمۂ کھیل اور معاشرے کے دیگر طبقات نوجوان کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ انہیں مناسب مواقع، تربیت اور سرپرستی بھی فراہم کریں تاکہ جنوبی وزیرستان کے مزید نوجوان کھیلوں کے میدان میں قومی اور عالمی سطح پر اپنی شناخت بنا سکیں۔

Address

Islamabad
Islamabad
051

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Neutral News HD posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Neutral News HD:

Shortcuts

Share