19/09/2026
چین کے وزیر اعظم چو۔ این۔ لائی نے کہا “ ہم چینی گونگے نہیں ۔ ہماری اپنی زبان ہے جس میں ہم گفتگو کرنا پسند کرتے ہیں۔ “
اسلام آباد ابھی تعمیر کے ابتدائی مراحل میں تھا۔
نتیجہ یہ کہ بیشتر سرکاری تقریبات راولپنڈی کے پریس کلب میں منعقد ہوا کرتی تھیں۔ یہ پریس کلب لیاقت باغ کے ایک گوشے میں آباد تھا۔ میں اپنے جرنلسٹ دوستوں کے ساتھ اکثر شامیں وہیں بسر کرتا تھا۔
اس میں منعقدہ بیشتر تقریبوں میں سے دو تقریبات آج تک میرے حافظے میں زندہ ہیں ۔
صدر ایوب کے عہد میں جب چین کے وزیر اعظم چو۔ این۔ لائی نے اپنے دورہ پاکستان کے اختتام پر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کیا تو وہ چینی زبان بولتے چلے گئے اور وقفے وقفے سے اُن کا چینی مترجم اُن کی باتوں کا انگریزی میں ترجمہ سُنا تا رہا۔
ایسے میں ایک مقام پر چو این لائی نے اُسے روکا اور بتایا کہ اس نے چینی زبان سے انگریزی زبان میں ترجمہ کرتے وقت غلطی کی ہے۔ اس لیے اُن کی اس بات کا دوبارہ ترجمہ کیا جائے ۔ مترجم نے ایسا ہی کیا۔
جب چو این لائی کی گفتگو پر سوالات شروع ہوئے تو پاکستان ٹائمز کے چیف رپورٹر ایچ کے۔ برکی نے چو۔ این۔ لائی سے کہا:
سر! جب خود آپ کو انگریزی پر اتنی اچھی دسترس ہے تو خود آپ نے انگریزی میں خطاب کیوں نہیں کیا؟
چو۔ این۔ لائی نے بے ساختہ کہا: کہ ہم چینی گونگے نہیں ۔ ہماری اپنی زبان ہے جس میں ہم گفتگو کرنا پسند کرتے ہیں۔
فتح محمد ملک کی خودنوشت آشیانہ غربت سے اقتباس۔
کتاب سنگ میل پبلیکیشنز لاھور نے شائع کی ۔