Urdu Ghar

Urdu Ghar UrduGhar.com has been a premier platform offering Urdu content. literature, articles, and more birds and pets

فیلڈ مارشل ایوب خان ملکہ ترنم نورجہاں کو 1965 کی جنگ میں شاندار قومی وجنگی ترانے گانے پر ستارہ امیتاز سے نواز رہے ہیں۔۔۔
28/10/2025

فیلڈ مارشل ایوب خان ملکہ ترنم نورجہاں کو 1965 کی جنگ میں شاندار قومی وجنگی ترانے گانے پر ستارہ امیتاز سے نواز رہے ہیں۔۔۔

ہم اس معاشرے کے باسی ہیں جہاں الزام لگانا آسان، اور سوچنا مشکل ہے۔جہاں سچ پہنچنے سے پہلے شور پہنچ جاتا ہے،اور انصاف آنے ...
25/10/2025

ہم اس معاشرے کے باسی ہیں جہاں الزام لگانا آسان، اور سوچنا مشکل ہے۔
جہاں سچ پہنچنے سے پہلے شور پہنچ جاتا ہے،
اور انصاف آنے سے پہلے فیصلہ سنایا جا چکا ہوتا ہے۔
کسی ایک شخص کی لغزش ہو تو پوری قوم کو تختۂ دار پر کھڑا کر دیا جاتا ہے۔
ایک ڈاکٹر کی کوتاہی پوری طب کو مجرم بنا دیتی ہے۔
ایک پولیس اہلکار کا ظلم پوری فورس کو بدنام کر دیتا ہے۔
ایک سیاستدان کی بدعنوانی پوری سیاست کو گندا کر دیتی ہے۔
اور ایک مذہبی شخص کی غلطی پورے مذہب پر سوالیہ نشان لگا دیتی ہے۔
ہم اجتماعی الزام تراشی کے عادی ہو چکے ہیں۔
ہمیں سچ نہیں، تماشا چاہیے۔
ہمیں دلیل نہیں، نعرہ چاہیے۔
اور ہمیں انصاف نہیں، بس انتقام کی تسکین چاہیے۔
سچ جب تک جوتے پہنتا ہے، جھوٹ دنیا کا چکر لگا چکا ہوتا ہے۔
خبر ابھی پوری آتی بھی نہیں کہ ہجوم فیصلہ سنا دیتا ہے۔
پھر جب حقیقت سامنے آتی ہے تو کسی کے پاس وقت نہیں ہوتا کہ مان لے:
"ہم غلط تھے۔"
انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ ہر شخص کو الگ پرکھا جائے،
کیونکہ انصاف اجتماعی نہیں، انفرادی ہوتا ہے۔
جرم اگر ایک شخص نے کیا ہے تو سزا بھی اسی کو ملنی چاہیے،
اس کے نظریے، اس کے طبقے یا اس کے مذہب کو نہیں۔
سوچئے، اگر آپ کی ایک غلطی کی سزا آپ کے بچوں کو ملے،
آپ کے کسی قول کی پاداش میں آپ کے والدین کو ذلیل کیا جائے،
تو کیا آپ اسے انصاف کہیں گے؟
ہمیں سیکھنا ہوگا کہ انصاف ہجوم کے نعرے سے نہیں،
انسان کی نیت اور کردار سے پہچانا جاتا ہے۔
الزام آسان ہے، مگر انصاف ایک تربیت ہے —
اور بدقسمتی سے، ہم الزام میں ماہر اور انصاف میں ناتجربہ کار قوم ہیں۔
ہم نے انصاف کو قبر میں دفن کر دیا ہے،
اور اس کی قبر پر شور مچانے والے ہجوم کو ہیرو بنا رکھا ہے۔

جہاں خوف ہوتا ہے وہاں کامیابی منتظر ہوتی ہےکامیابی کبھی بھی ان لوگوں کے دروازے پر دستک نہیں دیتی جو محفوظ راستوں پر چلنے...
24/10/2025

جہاں خوف ہوتا ہے وہاں کامیابی منتظر ہوتی ہے
کامیابی کبھی بھی ان لوگوں کے دروازے پر دستک نہیں دیتی جو محفوظ راستوں پر چلنے کے عادی ہوں۔ دنیا کے ہر کامیاب انسان نے کبھی نہ کبھی اپنے خوف سے جنگ لڑی ہے۔ خوف دراصل ناکامی کا اشارہ نہیں، بلکہ یہ بتاتا ہے کہ آپ کچھ بڑا کرنے جا رہے ہیں۔ جو شخص خوف کی دیوار کے پار قدم رکھتا ہے، وہی آگے بڑھتا ہے، باقی سب دیکھتے رہ جاتے ہیں۔
کبھی ہمت نہ ہاریں، کیونکہ آخری کوشش ہی اکثر کامیابی کی شروعات ہوتی ہے
زندگی میں کبھی ایسا لمحہ آتا ہے جب سب کچھ بیکار لگتا ہے، راستہ بند محسوس ہوتا ہے، اور امید کی آخری کرن بھی بجھنے لگتی ہے۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب انسان ہار مان لیتا ہے، لیکن اگر وہ صرف ایک بار اور کوشش کر لے، تو قسمت کا دروازہ کھل جاتا ہے۔ اکثر کامیابی بس ایک قدم کے فاصلے پر ہوتی ہے، مگر ہم تھک کر رک جاتے ہیں۔
اگر آپ اپنے آپ پر یقین رکھتے ہیں، تو دنیا آپ پر یقین کرے گی
دنیا کو ہمیشہ وہی لوگ متاثر کرتے ہیں جو خود پر یقین رکھتے ہیں۔ جب آپ اپنی قابلیت پر اعتماد کرتے ہیں تو دنیا آپ کے راستے میں آنے کے بجائے آپ کے ساتھ چلنے لگتی ہے۔ یاد رکھیں، یقین وہ کرن ہے جو انسان کو عام سے غیر معمولی بنا دیتی ہے۔
اندھیرا کتنا ہی گہرا کیوں نہ ہو، سورج ایک دن طلوع ہوتا ہے
زندگی میں مایوسیوں کے طوفان ضرور آتے ہیں، لیکن ان کے بعد ہمیشہ ایک نیا دن، ایک نئی روشنی، ایک نیا موقع ملتا ہے۔ جو لوگ صبر کرتے ہیں، وہ سورج کے طلوع ہونے کا منظر دیکھتے ہیں، اور جو ہار مان لیتے ہیں، وہ ہمیشہ اندھیرے میں رہ جاتے ہیں۔
بڑھنے کے لیے چھوٹی شروعات ضروری ہے
کامیابی کا کوئی شارٹ کٹ نہیں۔ ہر بڑی عمارت کی بنیاد ایک اینٹ سے رکھی جاتی ہے، ہر دریا ایک قطرے سے شروع ہوتا ہے۔ جو شخص آج چھوٹا قدم نہیں اٹھاتا، وہ کل بڑا سفر نہیں کر سکتا۔ چھوٹی شروعات کو کبھی حقیر نہ سمجھیں، یہ ہی آگے بڑھنے کی پہلی شرط ہے۔
ناکامی کامیابی کی پہلی سیڑھی ہے، انتہا نہیں
ناکامی دراصل راستہ نہیں روکتی، صرف سمت درست کرتی ہے۔ ہر ناکامی ہمیں کچھ سکھاتی ہے، ہمیں مضبوط بناتی ہے۔ جو شخص اپنی ناکامیوں سے سیکھتا ہے، وہ کبھی گرتا نہیں، بلکہ ہر بار پہلے سے زیادہ بلند ہوتا ہے۔
جو اپنے خوابوں کا پیچھا کرتا ہے، وہ ایک دن تاریخ لکھتا ہے
خواب صرف وہی پورے کر سکتا ہے جو ان کے لیے جاگتا ہے۔ خواب دیکھنا آسان ہے، مگر ان کے لیے قربانیاں دینا حوصلے کا کام ہے۔ تاریخ نے ہمیشہ انہی کا نام یاد رکھا جنہوں نے اپنی نیند، آرام، اور سکون قربان کر کے اپنے خوابوں کو حقیقت بنایا۔
انسان کی اصل طاقت اس کی قوتِ ارادی میں پوشیدہ ہے
دنیا کی سب سے بڑی طاقت نہ ہتھیار ہیں، نہ دولت، بلکہ ارادہ ہے۔ جس نے یہ طے کر لیا کہ وہ ہار نہیں مانے گا، اسے کوئی نہیں روک سکتا۔ کامیاب وہی ہوتا ہے جو اپنی منزل کے سامنے ہر مشکل کو چھوٹا سمجھتا ہے۔
آپ جہاں ہیں، وہیں سے آغاز کریں
زندگی میں بہترین وقت کا انتظار نہ کریں، وہ کبھی نہیں آتا۔ جو شخص جہاں کھڑا ہے، اگر وہیں سے چلنا شروع کر دے تو راستے خود بنتے جاتے ہیں۔ ہر بڑا سفر ایک چھوٹے قدم سے شروع ہوتا ہے، بس پہلا قدم اٹھانے کی ہمت چاہیے۔
کامیابی ان کو ملتی ہے جو عمل کرتے ہیں
خواہش ہر دل میں ہوتی ہے، مگر کامیابی صرف ان کے حصے میں آتی ہے جو خواب دیکھنے کے ساتھ ساتھ ان کے لیے کچھ کرتے بھی ہیں۔ عمل ہی وہ جادو ہے جو خوابوں کو حقیقت میں بدل دیتا ہے۔ جو لوگ انتظار کرتے رہتے ہیں، وہ وقت کے ساتھ پیچھے رہ جاتے ہیں، اور جو عمل کرتے ہیں، وہ خود وقت بن جاتے ہیں۔
یہ زندگی کا قانون ہے — جو رک گیا، وہ مٹ گیا۔ جو چلا، وہ جیت گیا۔
کامیابی کسی کے دروازے پر نہیں آتی، اسے اپنے عمل، اپنے یقین، اور اپنی ہمت سے حاصل کرنا پڑتا ہے۔

باڈی بلڈنگ، سٹیرائیڈز اور اچانک اموات — ایک ماہر ڈاکٹر کی نظر میںاکثر جب کسی فٹنس ماڈل، باڈی بلڈر، یا جم فریک کی اچانک م...
23/10/2025

باڈی بلڈنگ، سٹیرائیڈز اور اچانک اموات — ایک ماہر ڈاکٹر کی نظر میں
اکثر جب کسی فٹنس ماڈل، باڈی بلڈر، یا جم فریک کی اچانک موت کی خبر آتی ہے، تو سوشل میڈیا پر ایک ہی جملہ گونجتا ہے:
"ورزش موت کی وجہ بنی!"
حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔
سب سے پہلے یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ رزسٹنس ٹریننگ (Resistance Training) اور باڈی بلڈنگ (Bodybuilding) میں زمین آسمان کا فرق ہے۔
رزسٹنس ٹریننگ کا مقصد جسم کو مضبوط بنانا، دل اور ہڈیوں کو صحت مند رکھنا، اور فِٹنس کو برقرار رکھنا ہے۔
جبکہ پروفیشنل باڈی بلڈنگ میں انتہائی کم فیٹ اور زیادہ مسلز ماس حاصل کرنے کے لیے غیر فطری طریقے اختیار کیے جاتے ہیں — جیسے سٹیرائیڈز، فیٹ برنرز، اور دیگر مصنوعی ہارمونز کا استعمال۔
میں خود ایک فٹنس ٹرینر اور میڈیکل پروفیشنل ہوں، میرا مسلز ماس عام آدمی سے بہتر ہے، لیکن میں کسی “چمکدار” یا “خشک” جسم کا مالک نہیں۔
اگر میں اپنا فیٹ 10٪ سے نیچے لے آؤں تو میرا وزن کم ہو جائے گا، چہرے کی تازگی ختم ہو جائے گی، اور جسم کمزور لگنے لگے گا۔
یہی بات ہر اس شخص پر لاگو ہوتی ہے جو فطری طریقے سے ورزش کر رہا ہو۔
یاد رکھیں:
ورزش کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ ہمیشہ جوان رہیں گے یا بیمار نہیں ہوں گے۔
ہر انسان کے جسم میں روزانہ سیکڑوں وائرس اور بیکٹیریا داخل ہوتے ہیں — ہمارا مدافعتی نظام ان سے لڑتا ہے۔
کبھی کبھار کوئی انفیکشن زیادہ طاقتور نکل آتا ہے، اور وہی بیماری یا موت کا سبب بن جاتا ہے۔
لہٰذا ہر موت کا الزام “جم” پر ڈال دینا ایک خطرناک غلط فہمی ہے۔
باڈی بلڈرز کی اچانک موت کی اصل وجوہات
اب آتے ہیں اصل نکتے پر:
اکثر اموات سٹیرائیڈز یا فیٹ برنرز کے غلط استعمال سے ہوتی ہیں، ورزش سے نہیں۔
سٹیرائیڈز:
سٹیرائیڈز خود بخود جان لیوا نہیں ہوتے۔
دنیا کے مشہور باڈی بلڈرز — جیسے مسٹر اولمپیا کے کئی چیمپئن — برسوں سے ان کا استعمال کرتے آئے ہیں۔
پاکستان میں معصوم بٹ اور عاطف انور جیسے کھلاڑی بھی سٹیرائیڈز کے ساتھ مسٹر اولمپیا تک پہنچے، مگر طبی نگرانی میں۔
مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب کوئی بغیر ٹریننگ، بغیر میڈیکل ٹیسٹ، اور بغیر ڈاکٹر کی رہنمائی کے خود سے دوائیاں لینا شروع کر دے۔
"Clenbuterol" — سب سے خطرناک “فیٹ برنر”
کئی باڈی بلڈرز اور ایکٹرز Clenbuterol (کلین بیوٹیرول) کو "Clen" کے نام سے استعمال کرتے ہیں۔
یہ دوائی فیٹ کو تیزی سے جلانے میں مدد دیتی ہے — خاص طور پر بیلی فیٹ، تھائی، لو ہینڈلز اور چہرے کی چربی کو۔
اسی لیے یہ اکثر فوٹو شوٹس یا کمپٹیشن سے چند دن پہلے استعمال کی جاتی ہے تاکہ جسم ایک دم “ڈرائی” اور “ڈیفائنڈ” نظر آئے۔
لیکن اصل حقیقت یہ ہے:
یہ سٹیرائیڈ نہیں، بلکہ ایک برانکھیل ڈائیلیٹر ہے، جو سانس پھولنے والے گھوڑوں کے علاج کے لیے بنائی گئی تھی۔
FDA نے اسے انسانوں کے لیے منظور نہیں کیا۔
اس کے استعمال سے میٹابولزم غیر معمولی طور پر تیز ہو جاتا ہے، جس سے فیٹ کے ساتھ مسلز بھی جلنے لگتے ہیں۔
انڈیا اور پاکستان میں بدقسمتی سے یہ دوائی “فیٹ برنر” کے نام پر عام جم ٹرینرز بیچتے ہیں،
خاص طور پر خواتین کو۔
Clenbuterol کے خطرناک سائیڈ ایفیکٹس:
بلڈ پریشر مستقل بلند رہتا ہے۔
دل کی دھڑکن بے ترتیب ہو جاتی ہے۔
سینے میں درد، بے چینی اور کانپنا عام بات ہے۔
دل کا سائز بڑھ جاتا ہے (Cardiac Hypertrophy) — جو جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔
نیند نہ آنا، انزائٹی اور جسمانی تھکن بڑھ جاتی ہے۔
کئی اموات میں یہ بات سامنے آئی کہ متاثرہ افراد Trenbolone (ٹرین) اور Clenbuterol دونوں ایک ساتھ استعمال کر رہے تھے،
تاکہ جلد از جلد “مردانہ لک” حاصل کی جا سکے — مگر یہی ان کی زندگی کی آخری غلطی بنی۔
فٹنس کے شوقین افراد کے لیے چند اہم نصیحتیں
صرف نیچرل رزسٹنس ٹریننگ کریں۔
ورزش کو اپنی صحت کے لیے کریں، نہ کہ کسی مقابلے یا تصویری شو کے لیے۔
کسی بھی دوائی یا فیٹ برنر کا استعمال ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر نہ کریں۔
چاہے وہ سپلیمنٹ ہو یا وٹامن۔
کسی نام نہاد ٹرینر کے مشورے پر کسی “پاؤڈر” یا “پِل” پر یقین نہ کریں۔
اگر ہاتھ کانپتے ہیں، نیند نہیں آتی، یا دل تیز دھڑکتا ہے تو فوراً اسے بند کریں اور ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
ہمیشہ برانڈڈ اور تھرڈ پارٹی ٹیسٹڈ سپلیمنٹس ہی استعمال کریں۔
مقامی یا جعلی سپلیمنٹس اکثر مضر صحت اجزاء سے بھرے ہوتے ہیں۔
اختتامی پیغام
یاد رکھیں — آپ کے جسم کی خوبصورتی آپ کی صحت سے زیادہ اہم نہیں۔
خوبصورتی چند لمحوں کی ہے، لیکن دل کی دھڑکن اور سانس کی روانی ہی اصل زندگی ہے۔
اس لیے ہمیشہ قدرتی، محفوظ، اور متوازن فٹنس اپروچ اپنائیں۔
نوٹ:
یہ ایک معلوماتی مضمون ہے جو صرف عوامی آگاہی کے لیے لکھا گیا ہے۔
کسی بھی دوا، انجیکشن یا سپلیمنٹ کا استعمال ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر ہرگز نہ کریں۔

وہ وقت بہت خوفناک ہوتا ہے جب کوئی انسان آپ سے نہیں، اللہ سے آپ کی شکایت کرنے لگتا ہے۔یہ وہ لمحہ ہے جب زمین خاموش ہو جاتی...
23/10/2025

وہ وقت بہت خوفناک ہوتا ہے جب کوئی انسان آپ سے نہیں، اللہ سے آپ کی شکایت کرنے لگتا ہے۔
یہ وہ لمحہ ہے جب زمین خاموش ہو جاتی ہے، آسمان کان لگا لیتا ہے،
دنیا میں ہر ظلم، ہر زیادتی، ہر بے حسی کا ایک وقت ہوتا ہے۔
پہلے انسان صبر کرتا ہے، برداشت کرتا ہے، نظرانداز کرتا ہے۔
پھر وہ دل ہی دل میں روتا ہے، سسکتا ہے، کسی دوست کے سامنے اپنا دکھ کہتا ہے۔
اور جب کوئی نہیں سنتا، جب ہر در بند ہو جاتا ہے،
تو وہ آسمان کی طرف دیکھ کر کہتا ہے:
"یا اللہ! اب میں تیری عدالت میں آیا ہوں۔"
بس وہی لمحہ فیصلہ کن ہوتا ہے۔
کیونکہ اللہ کے ہاں دیر ہے، اندھیرا نہیں۔
وہ سنتا ہے، مگر اپنی گھڑی میں سنتا ہے۔
وہ جواب دیتا ہے، مگر اپنے وقت پر دیتا ہے۔
اور جب وہ جواب دیتا ہے، تو تخت ہل جاتے ہیں۔
میں نے دیکھا ہے، جنہیں لوگ کمتر سمجھتے تھے،
جن کی آواز کوئی نہیں سنتا تھا،
جن کے کپڑوں سے مٹی کی خوشبو آتی تھی،
جن کے پیروں میں چپل نہیں ہوتی تھی
اللہ نے اُنہی کے حق میں زمین کے بڑے بڑے دربار الٹ دیے۔
کبھی کسی ماں کی آہ لگتی ہے،
کبھی کسی مزدور کا آنسو دعاؤں میں بدل جاتا ہے،
کبھی کسی یتیم کی چپ، اللہ کے غضب کی چیخ بن جاتی ہے۔
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ ہم طاقتور ہیں
ہماری کرسی، ہمارا عہدہ، ہمارا پیسہ ہمیں بچا لے گا۔
لیکن نہیں…
جس دن کسی ٹوٹے دل نے اللہ سے تمہاری شکایت کر دی،
اُس دن تمہارے نام کا سورج غروب ہو چکا ہوتا ہے۔
ایک چھوٹی سی بات بھی کبھی ظلم بن جاتی ہے۔
ایک طنز، ایک بے رحمانہ جملہ، ایک بے نیازی،
کسی کے دل کی دنیا اجاڑ دیتی ہے۔
اور اللہ دل کے درد کو بہت عزیز رکھتا ہے۔
اس لیے وہ ہر ٹوٹے ہوئے دل کا وکیل بن جاتا ہے۔
یاد رکھو،
انسان کی بددعا کبھی آسمان نہیں چیرتی
اللہ خود آسمان کو جھکا دیتا ہے۔
اور جب وہ فیصلہ کرتا ہے تو
نہ جج بولتا ہے، نہ وکیل، نہ دلیل کی گنجائش رہتی ہے۔
اس لیے…
اس وقت سے ڈرو،
جب کوئی شخص تم سے نہیں،
تمہارے بارے میں براہِ راست اللہ سے کہہ دے
"اب یہ تیرا معاملہ ہے۔"
کیونکہ اُس لمحے سے تقدیر لکھنا فرشتوں کا کام نہیں رہتا،
وہ خود اللہ کے ہاتھ میں آ جاتی ہے۔

پاسپورٹ صرف ایک چھوٹی سی کتاب نہیں ہوتا — یہ قوم کا چہرہ ہوتا ہے۔ دنیا آپ کو نہیں، آپ کے ملک کو اس کتاب کے رنگ، معیار، ا...
22/10/2025

پاسپورٹ صرف ایک چھوٹی سی کتاب نہیں ہوتا — یہ قوم کا چہرہ ہوتا ہے۔ دنیا آپ کو نہیں، آپ کے ملک کو اس کتاب کے رنگ، معیار، اور وزن سے پہچانتی ہے۔
جب کسی ائیرپورٹ پر امیگریشن آفیسر کسی پاکستانی کا پاسپورٹ کھولتا ہے، تو وہ دراصل پاکستان کے وقار کو تولتا ہے۔
اور افسوس کہ آج یہ وقار زمین پر گر چکا ہے۔

2025 کے “ہینلے پاسپورٹ انڈیکس” کے مطابق پاکستان کا پاسپورٹ دنیا کا چوتھا بدترین پاسپورٹ ہے۔
جی ہاں، چوتھا — ہم سے نیچے صرف عراق، شام، اور افغانستان ہیں۔
یعنی اگر دنیا کے 199 ممالک کی قطار لگائی جائے تو ہم آخر سے چوتھے نمبر پر کھڑے ہیں۔
یہ درجہ بندی محض ایک رپورٹ نہیں، یہ پوری قوم کا آئینہ ہے۔
کیونکہ یہ ان ممالک کی فہرست ہے جہاں کے شہری سب سے کم عزت پاتے ہیں۔

پاکستانی شہری آج صرف 31 ممالک تک بغیر ویزا یا ویزا آن ارائیول کے جا سکتے ہیں۔
جبکہ ملائیشیا — وہی ملک جو کبھی ہم سے پیچھے ہوا کرتا تھا — آج 180 ممالک میں ویزا فری یا ویزا آن ارائیول کی سہولت رکھتا ہے۔
ان کا پاسپورٹ دنیا کا 12واں طاقتور ترین پاسپورٹ ہے، بالکل امریکہ کے برابر۔
اور ہم؟ ہم یمن کے برابر!

اب ذرا سوچئے — جس ملک کے شہریوں کو دنیا دروازے پر روک دے، وہاں عزت کیسے رہے گی؟
یہ صرف پاسپورٹ کی درجہ بندی نہیں، بلکہ ہماری تعلیم، صحت، انصاف اور نظامِ حکومت کی درجہ بندی ہے۔

“ہیومن ڈیولپمنٹ انڈیکس” کے مطابق پاکستان آج بھی ان چند ممالک میں شامل ہے جو دنیا کے نچلے درجے پر ہیں۔
اس فہرست میں صرف افغانستان ہم سے پیچھے ہے۔
اس انڈیکس میں تعلیم، صحت، روزگار، اوسط عمر، اور پینے کے صاف پانی جیسے پیمانے شامل ہیں۔
یعنی جہاں زندگی کی بنیادی سہولتیں ناپی جاتی ہیں — وہاں ہم تقریباً آخری صف میں ہیں۔

ہم روز میڈیا پر ترقی کے نعروں سے مطمئن ہو جاتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ قومیں سڑکوں سے نہیں، نظام سے بنتی ہیں۔
قومیں تب عزت پاتی ہیں جب ان کے بچے اسکولوں میں پڑھتے ہیں، جب اسپتالوں میں دوائیں ملتی ہیں، جب نوجوان روزگار کے لیے باہر نہیں بھاگتے بلکہ وطن میں مواقع پاتے ہیں۔

کبھی سوچئے — دو سال پہلے دبئی کا ویزا پاکستانیوں کے لیے سب سے آسان سمجھا جاتا تھا۔
آج وہی لوگ ویزا مراکز کے باہر قطاروں میں کھڑے ہیں۔
ایجنٹوں کے دفتر در دفتر دھکے کھا رہے ہیں۔
دنیا ہم سے خوفزدہ نہیں، مگر بدظن ضرور ہو چکی ہے۔
کیونکہ دنیا کسی ملک کے الفاظ نہیں، اس کے رویے، اس کے ادارے، اور اس کے اعمال دیکھتی ہے۔

ملائیشیا نے بھی کبھی ہماری طرح آغاز کیا تھا۔
وہ بھی کرپشن، غربت اور غیر یقینی حالات میں ڈوبا ہوا تھا۔
مگر انہوں نے اپنی ترجیحات طے کر لیں — تعلیم، صحت، ٹیکنالوجی، اور شفافیت۔
نتیجہ یہ کہ آج ان کے شہری دنیا کے کسی کونے میں جائیں، دروازے کھلے ملتے ہیں۔
اور ہم… اپنے ہی دروازوں کے باہر قطار میں کھڑے ہیں۔

پاسپورٹ کسی حکومت کی کامیابی کا سب سے خاموش مگر سب سے سچا ثبوت ہوتا ہے۔
یہ بتاتا ہے کہ دنیا آپ پر کتنا اعتماد کرتی ہے۔
اور افسوس کہ اس وقت دنیا کا اعتماد ہم پر ٹوٹ چکا ہے۔

اب وقت آ گیا ہے کہ ہم پاسپورٹ نہیں، اپنا چہرہ درست کریں۔
ہم اپنی تعلیم، اپنے ادارے، اپنی سچائی اور اپنے نظام کو ٹھیک کریں۔
کیونکہ جب تک چہرہ مسخ رہے گا،
کوئی پاسپورٹ حسین نہیں لگے گا۔

کہانی چیونٹیوں کی ہے،لیکن انجام انسانوں جیسا۔سو لال چیونٹیاں،سو کالی چیونٹیاں۔ایک مرتبان میں بند۔سب سکون میں۔کوئی فساد ن...
21/10/2025

کہانی چیونٹیوں کی ہے،
لیکن انجام انسانوں جیسا۔

سو لال چیونٹیاں،
سو کالی چیونٹیاں۔
ایک مرتبان میں بند۔
سب سکون میں۔
کوئی فساد نہیں، کوئی نظریہ نہیں۔
سب اپنی روزی روٹی میں مصروف۔

پھر کوئی ہاتھ آتا ہے،
مرتبان ہلتا ہے۔
اور بس...
امن مر جاتا ہے۔
لال سمجھتی ہے کالی دشمن،
کالی سمجھتی ہے لال قاتل۔
حالانکہ دشمن نہ لال ہے نہ کالی —
دشمن وہ ہاتھ ہے جو مرتبان ہلا رہا ہے۔

یہی کہانی انسانوں کی ہے۔
فرق صرف اتنا ہے کہ ہم مرتبان کو “دنیا” کہتے ہیں۔
اور ہلانے والے ہاتھ ہر دور میں موجود ہیں۔
کبھی سیاست کے،
کبھی مذہب کے،
کبھی میڈیا کے،
کبھی صرف ایک پوسٹ کے۔

ہم ہر بار وہی کرتے ہیں —
ایک دوسرے کو کاٹنے لگتے ہیں۔
اور وہ ہاتھ؟
چپ چاپ بیٹھا تماشا دیکھتا ہے۔

کبھی اس نے ہمیں زبان کے نام پر لڑایا،
کبھی علاقے کے نام پر۔
کبھی فرقے میں بانٹا،
کبھی قوم میں۔
ہم نے ہر بار اعتبار کیا،
اور ہر بار مرتبان ہل گیا۔

آج بھی ہم چیونٹیوں کی طرح دوڑ رہے ہیں —
لال، کالی، نیلی، سب رنگ الگ، درد ایک۔
ہم شور میں گم ہیں،
اور وہ ہاتھ ابھی بھی وہیں ہے،
مسکراتا ہوا۔

کوئی نہیں پوچھتا:
“صاحب، مرتبان ہلایا کس نے؟”
ہم بس چیونٹیوں کی طرح ایک دوسرے کے پاؤں نوچ رہے ہیں۔
نہ دشمن کا چہرہ دیکھا،
نہ ہاتھ پہچانا۔

شاید ہمیں امن راس نہیں آتا۔
ہمیں ہر وقت ایک ہلچل چاہیے۔
کوئی شور، کوئی اشتعال، کوئی دشمن۔
ورنہ زندگی خالی لگتی ہے۔

اگر کبھی ہم سب رک کر سوچ لیں —
“ہاتھ کہاں ہے؟”
تو شاید پہلی بار چیونٹیاں لڑنا چھوڑ دیں،
اور مرتبان ہلانے والے کو دیکھنا شروع کریں۔

سوال: پاکستان میں شوگر (ذیابطیس) کے مریض سب سے زیادہ کیوں ہیں؟جواب ایک ماہر معالج کی نظر میں:اس کی سب سے بڑی وجہ ہماری خ...
20/10/2025

سوال: پاکستان میں شوگر (ذیابطیس) کے مریض سب سے زیادہ کیوں ہیں؟
جواب ایک ماہر معالج کی نظر میں:
اس کی سب سے بڑی وجہ ہماری خوراک ہے۔
پاکستانیوں کی روزمرہ غذا میں چینی اور نشاستے (Carbohydrates) کی مقدار خطرناک حد تک زیادہ ہے — اور یہی شوگر کا بنیادی سبب ہے۔
ہماری روزمرہ غذاؤں میں چھپی ہوئی شوگر:
1 عدد روٹی = تقریباً 8 چمچ شوگر کے برابر
1 پلیٹ چاول = 17 چمچ شوگر
1 سلائس بریڈ = 12 چمچ شوگر
1 عدد رسک = 12 چمچ شوگر
1 بوتل کولڈ ڈرنک = 20 چمچ شوگر
1 آلو = 8 چمچ شوگر
یاد رکھیں: یہ “شوگر” وہی نہیں جو چائے میں ڈالی جاتی ہے، بلکہ یہ وہ Carbohydrates ہیں جو جسم میں جا کر گلوکوز میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔
جب صبح سے شام تک انسان فائبر سے خالی، چکنائی زدہ، اور شوگر بھرپور خوراک لیتا ہے، تو بلڈ شوگر بڑھنا قدرتی عمل ہے۔ لیکن یہ کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی۔
شوگر صرف ایک بیماری نہیں — یہ چار مزید بیماریوں کو جنم دیتی ہے:
بلند شوگر → اعصابی کمزوری → زخموں کا دیر سے بھرنا → معذوری
بلند شوگر → بلند ٹرائی گلیسرائیڈز → بلڈ پریشر → دل کا دورہ (ہارٹ اٹیک)
بلند شوگر → بڑھا ہوا کریٹینائن → گردوں کی ناکامی
بلند شوگر → شریانوں کی بندش → فالج (Stroke)
اور اس کے بعد زندگی بھر کی دوائیاں، انسولین، اور ان کے سائیڈ ایفیکٹس الگ سے جھیلنے پڑتے ہیں۔
🍽 حقیقت یہ ہے:
اللّٰہ نے جتنی “روٹیاں اور چاول” آپ کے نصیب میں لکھی تھیں، وہ آپ کھا چکے ہیں۔
اب اگر شوگر کھانے کے باوجود کنٹرول نہیں ہو رہی تو روٹی اور چاول آپ کے لیے زہر ہیں —
یہ خوراک نہیں بلکہ خودکشی کے مترادف ہے۔
کیا کرنا چاہیے:
قدرتی غذاؤں کی طرف واپس آئیں (سبزیاں، دالیں، گوشت، انڈے، بادام، بیج وغیرہ)
روزانہ کم از کم 30 منٹ واک یا ورزش کریں
ذہنی دباؤ سے بچیں
بلڈ شوگر کو باقاعدگی سے چیک کریں
شوگر کے مریضوں کو اب غفلت کی نیند سے بیدار ہونے کی ضرورت ہے۔
یہ بیماری خاموشی سے جسم کے ہر حصے کو کھا جاتی ہے۔
ابھی سنبھل جائیں — تاکہ دوا نہیں، زندگی آپ کے ہاتھ میں ہو۔








جنازے میں پچاس، شاید ساٹھ لوگ ہوں گے۔ سورج تیز تھا، فضا میں ایک عجیب سا سناٹا تھا۔ سلام پھیرا گیا، مولوی صاحب نے مختصر س...
18/10/2025

جنازے میں پچاس، شاید ساٹھ لوگ ہوں گے۔ سورج تیز تھا، فضا میں ایک عجیب سا سناٹا تھا۔ سلام پھیرا گیا، مولوی صاحب نے مختصر سی دعا کرائی، اور لوگ دائیں بائیں دیکھنے لگے کہ لواحقین کہاں ہیں؟ کسی کو تعزیت کرنی تھی مگر سامنے کوئی موجود نہ تھا۔

مرحوم کا ایک ہی بیٹا تھا — وہ لندن میں تھا۔ وہ وقت پر نہیں پہنچ سکا۔ اس کی غیرموجودگی نے منظر کو اور بھی خالی کر دیا۔ لوگ چند لمحے کھڑے رہے، چہروں پر پسینہ، نظروں میں تھکن، اور پھر ایک ایک کر کے چھٹنے لگے۔ کچھ نے موبائل پر کال کی، کچھ گاڑیوں کی طرف بڑھ گئے۔ گرمی اور خاموشی کا یہ امتزاج عجیب تھا۔

جب تدفین کا وقت آیا تو قبرستان میں صرف چھ لوگ بچے تھے۔ ان میں ایک نامور چہرہ مستنصر حسین تارڑ کا بھی تھا — وہ دوست جو دوستی کے آخری لمحے تک ساتھ رہا۔ دوسرا شخص ان کا پبلشر تھا، جو پچھلے بیس برس سے ان کی کتابیں چھاپ رہا تھا۔ باقی چار لوگ گھریلو ملازم تھے — وہ وفادار ہاتھ جو زندگی بھر خدمت کرتے رہے، اور اب آخری سفر میں بھی میت کے ساتھ کھڑے تھے۔

قبر تیار تھی۔ میت آہستہ آہستہ نیچے اتاری گئی۔ مٹی ڈالی گئی۔ درخت کی ایک سبز شاخ قبر پر گاڑ دی گئی — شاید زندگی کی علامت کے طور پر۔ گورکن نے قبر پر پانی چھڑکا، ہاتھ اٹھائے، دعا مانگی۔ باقی چند لوگوں نے بھی ہاتھ جھاڑے، آنکھیں بند کیں، اور سر جھکا لیے۔

یوں ملک کے سب سے بڑے ادیب، ایک عہد کے سب سے بڑے ناول نگار کا سفر تمام ہوا۔
چار جولائی 2015ء — یہ وہ دن تھا جب "اداس نسلیں" کے خالق، عبداللہ حسین، ہمیشہ کے لیے مٹی اوڑھ کر سو گئے۔

یہ وہ شخص تھا جس نے پورے عہد کو لفظوں میں قید کر دیا، مگر اپنے آخری دنوں میں تنہائی نے اسے اپنی گرفت میں لے لیا۔ جس نے نسلوں کو احساس دیا، وہ خود احساس سے خالی لمحوں میں رخصت ہوا۔
۔

"یہ نہ پوچھو کہ ملک نے تمہیں کیا دیا"یہ جملہ آپ نے کئی بار سنا ہوگا "یہ نہ پوچھو کہ ملک نے تمہیں کیا دیا، بلکہ یہ سوچو ک...
17/10/2025

"یہ نہ پوچھو کہ ملک نے تمہیں کیا دیا"
یہ جملہ آپ نے کئی بار سنا ہوگا
"یہ نہ پوچھو کہ ملک نے تمہیں کیا دیا، بلکہ یہ سوچو کہ تم نے ملک کے لیے کیا کیا۔"
کینیڈی نے یہ جملہ عوامی شعور جگانے کے لیے کہا تھا،
لیکن ہمارے حکمران اسے عوامی شعور سلانے کے لیے دہراتے ہیں۔
سننے میں یہ جملہ بڑا خوبصورت، بڑا حب الوطنی سے بھرپور لگتا ہے، مگر دراصل یہ حکمران طبقے کی سب سے کامیاب مکاری ہے۔ یہ وہ پردہ ہے جس کے پیچھے وہ اپنی نااہلی، اپنی کرپشن اور اپنی وعدہ خلافی چھپاتے ہیں۔ یہ وہ جملہ ہے جو اصل میں عوام کی زبان بند کرنے کے لیے بنایا گیا — تاکہ کوئی ان سے یہ نہ پوچھے کہ “تمہیں ایوانوں میں بھیجا تھا، تم نے ہمیں کیا دیا؟”
یہ نعرہ صرف عوام کو جذباتی بنانے کے لیے ہے، ورنہ حقیقت یہ ہے کہ ملک تو زمین کا ایک ٹکڑا ہے، اصل ملک تو ہم ہیں — عوام۔
اور جب ہم کہتے ہیں "ملک نے کیا دیا"، تو سوال دراصل اس نظام، اس حکومت، اور ان چہروں سے ہوتا ہے جنہیں ہم نے اپنے ووٹ، اپنے اعتماد، اور اپنی امیدوں کے سہارے اوپر پہنچایا۔
یہ جملہ وہ دہراتے ہیں جو ایوانوں میں بیٹھ کر عیش کرتے ہیں، تاکہ کوئی ان سے یہ نہ پوچھے کہ جنہیں تم نے بھوک، ننگ، اور بدحالی میں چھوڑ دیا، وہ بھی اسی ملک کے شہری تھے۔
ہم نے اپنا سب کچھ ملک کے لیے قربان کر دیا۔
ہم نے اپنا وقت دیا — وہ وقت جو خوشی، آسائش، اور اطمینان سے گزر سکتا تھا، مگر ہم نے سسک سسک کر گزارا۔
ہم نے اپنی تعلیم قربان کی — وہ تعلیم جو کسی اچھے ماحول، اچھے اسکول، یا یونیورسٹی سے حاصل ہو سکتی تھی، مگر ہم فیسوں، سفارشوں اور ناانصافیوں میں گم ہو گئے۔
ہم نے اپنی صحت قربان کی — بھوک، آلودگی، اور مایوسی نے ہمیں بیمار کر دیا۔
ہم نے اپنی زندگیاں قربان کیں — وہ زندگیاں جو سکون، روزگار اور عزت سے گزر سکتی تھیں، مگر ہم نے انہیں حکمرانوں کے جھوٹے وعدوں کے سہارے جلایا۔
اور ہم نے اپنے بچوں کا مستقبل قربان کر دیا — وہ مستقبل جو بن سکتا تھا، مگر تمہاری نااہلی اور بےحسی نے اسے اندھیروں میں دھکیل دیا۔
تو اب سوال یہ نہیں کہ ہم نے ملک کے لیے کیا کیا،
سوال یہ ہے کہ تم نے ہمارے لیے کیا کیا؟
ہم نے تو اپنا سب کچھ دے دیا،
اب تم بتاؤ — تم نے قوم کو کیا دیا؟
ملک تو مٹی ہے، اس مٹی کو زندگی عوام دیتی ہے۔
اور جب عوام رو رہی ہو، تو اس مٹی کی خوشبو بھی مر جاتی ہے۔
لہٰذا اگلی بار جب کوئی حکمران تمہیں یہ جملہ سنائے —
"یہ نہ پوچھو کہ ملک نے تمہیں کیا دیا..."
تو بس ایک لمحے کو رک کر سوچنا،
یہ جملہ محبت نہیں، یہ جملہ دھوکہ ہے۔
یہ ان کا طریقہ ہے تمہیں چپ کرانے کا،
تاکہ تم سوال نہ کرو، تم حساب نہ مانگو، تم حق نہ مانگو۔
لیکن اب وقت بدل چکا ہے —
اب عوام خاموش نہیں، اب سوال اٹھے گا،
اور اس بار جواب انہیں دینا ہوگا جو دہائیوں سے صرف لیتے آئے ہیں،
دیتے کبھی نہیں۔

کبھی آپ نے چیونگم چبانے والے کو غور سے دیکھا ہے؟منہ چل رہا ہوتا ہے، آواز بھی آ رہی ہوتی ہے، خوشبو بھی پھیلتی ہے، لیکن ان...
15/10/2025

کبھی آپ نے چیونگم چبانے والے کو غور سے دیکھا ہے؟
منہ چل رہا ہوتا ہے، آواز بھی آ رہی ہوتی ہے، خوشبو بھی پھیلتی ہے، لیکن اندر کچھ نہیں جا رہا۔
معدہ بیچارہ حیران رہ جاتا ہے سمجھتا ہے کہ شاید کھانا آ رہا ہے، مگر نیچے کچھ بھی نہیں پہنچتا۔
بس، یہی حال آج کے پاکستان کا ہے۔
قوم چیونگم چبا رہی ہے ترقی کے وعدوں، بیانات اور منصوبوں کی چیونگم۔
ہر روز حکومت اعلان کرتی ہے کہ معیشت اوپر جا رہی ہے، ڈالر نیچے آ رہا ہے، اسٹاک مارکیٹ میں رونق ہے، سرمایہ کار آ رہے ہیں۔
مگر عوام کا معدہ ابھی بھی خالی ہے، خالی اور بے چین۔
اور یہ صرف معاشی کہانی نہیں، ایک انسانی درد ہے۔
مجھے ایک پرانا واقعہ یاد آتا ہے شاید آپ نے بھی سنا ہو۔
ایک غریب ماں کے بچے بھوکے تھے۔
وہ بار بار ماں سے کہتے، “امّی، کھانا کب ملے گا؟”
ماں نے چولہے پر پانی کا ایک برتن رکھ دیا، نیچے آگ جلائی، اور بچوں سے کہا:
“بیٹا، کھانا پک رہا ہے، تھوڑا صبر کرو۔”
بچے تھک کر، بھوک سے نڈھال ہو کر آخرکار وہیں سو گئے۔
ماں کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے کیونکہ برتن میں صرف پانی ابل رہا تھا، کھانا نہیں۔
آج یہی ماں دراصل پاکستان ہے،
اور وہ بچے ہم سب ہیں۔
حکمران چولہے پر برتن رکھ کر ہمیں تسلی دے رہے ہیں
“سب ٹھیک ہو جائے گا، ترقی ہو رہی ہے، حالات بہتر ہو رہے ہیں۔”
مگر حقیقت یہ ہے کہ برتن خالی ہے،
اس میں صرف گرم پانی ابل رہا ہے اور ہم بھوک، مہنگائی، اور وعدوں کے شور میں سو جانے پر مجبور ہیں۔
یہ ملک چیونگم کی طرح منہ میں چبایا جا رہا ہے آواز بھی ہے، حرکت بھی ہے،
مگر نہ ذائقہ ہے، نہ غذا۔
اور ایک دن یہ برتن بھی ٹھنڈا ہو جائے گا،
اور صرف دھواں باقی رہ جائے گا —
دھوکا، خواب، اور بھوک کا دھواں۔

شادی کی ایک تقریب میں ایک شخص نے اپنے پرائمری اسکول کے استاد کو دیکھا، جنہوں نے اسے تقریباً 35 سال پہلے پڑھایا تھا۔وہ مح...
15/10/2025

شادی کی ایک تقریب میں ایک شخص نے اپنے پرائمری اسکول کے استاد کو دیکھا، جنہوں نے اسے تقریباً 35 سال پہلے پڑھایا تھا۔
وہ محبت و عقیدت سے لپک کر استاد کے پاس گیا، کچھ جھجکتے ہوئے پوچھا:
"استاد جی، کیا آپ کو یاد ہے، میں کون ہوں؟"
استاد نے نرمی سے کہا:
"معاف کرنا بیٹے، پہچان نہ پایا۔"
شاگرد نے آہستہ لہجے میں کہا:
"میں وہی لڑکا ہوں جس نے ایک بار کلاس میں ساتھی بچے کی گھڑی چرا لی تھی۔
جب وہ بچہ رونے لگا تو آپ نے ہم سب کو کھڑا کر کے جیبیں چیک کرنے کا فیصلہ کیا۔
مجھے لگا اب سب کے سامنے رسوائی ہو گی، سب ہنسیں گے، میری عزت خاک ہو جائے گی۔
لیکن، آپ نے سب سے پہلے ہم سب کو دیوار کی طرف منہ کر کے آنکھیں بند کرنے کا کہا، پھر سب کی جیبیں چیک کیں، اور جب میری باری آئی تو آپ نے میری جیب سے وہ گھڑی نکال لی، لیکن کسی کا نام نہ لیا، کچھ نہ کہا۔
گھڑی واپس اس بچے کو دے دی، اور بات وہیں ختم کر دی۔
نہ کوئی سزا، نہ تضحیک، نہ شرمندگی۔
اسی دن سے میں نے تہیہ کر لیا کہ زندگی میں کبھی کچھ چوری نہیں کروں گا۔
تو استاد جی، آپ کو یہ واقعہ ضرور یاد ہو گا۔"
استاد مسکرائے، کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا:
"ہاں بیٹے، مجھے وہ واقعہ یاد ہے
لیکن جو بات تم نہیں جانتے وہ یہ ہے کہ میں نے بھی تم سب کی جیبیں آنکھیں بند کر کے چیک کی تھیں۔
تاکہ نہ مجھے معلوم ہو چور کون تھا، اور نہ میرے دل میں اس کے لیے کوئی گِرہ رہ جائے۔"
یہی ہوتا ہے ایک سچا استاد
جو صرف علم نہیں دیتا، کردار بھی بناتا ہے۔
منقول

Address

Islamabad
Islamabad
44000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Urdu Ghar posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share