مولانا میاں شمس الدین شمسی

مولانا میاں شمس الدین شمسی 313

30/07/2025
*"دو چراغ، ایک داستان — جدائی، وفا اور دائمی ملاقات کی داستان* " *✒️ تحریر میاں صلاح الدین ڈبریاں بالاکوٹ* کچھ لوگ دنیا ...
25/06/2025

*"دو چراغ، ایک داستان — جدائی، وفا اور دائمی ملاقات کی داستان* "
*✒️ تحریر میاں صلاح الدین ڈبریاں بالاکوٹ*

کچھ لوگ دنیا میں آ کر فقط زندہ نہیں رہتے، بلکہ اپنے حسنِ اخلاق، محبت، خلوص اور کردار سے دلوں پر حکمرانی کرتے ہیں۔ وہ چلے بھی جائیں تو ان کی یادیں، باتیں، دعائیں اور مسکراہٹیں زمانے کو ان کی موجودگی کا احساس دلاتی رہتی ہیں۔
ایسے ہی ایک روشن کردار کا نام ضیاء الرحمٰن مرحوم تھا۔ ایک باوقار، بااخلاق، متین اور ملنسار نوجوان، جس کی جوانی حسنِ کردار سے مزین اور طبیعت سراپا خلوص تھی۔ وہ نہ صرف اپنے خاندان بلکہ پورے علاقے کی آنکھوں کا تارا تھے۔ ان کے لہجے میں مٹھاس، چہرے پر دائمی مسکراہٹ، اور باتوں میں ایسی دلکشی تھی کہ ہر ملنے والا ان کا گرویدہ ہو جاتا۔
چند روز قبل وہ طویل علالت کے بعد اپنی جوانی کی شمع جلاتے جلاتے خالقِ حقیقی کے حضور پیش ہو گئے۔ ان کی جدائی سے صرف ایک خاندان ہی نہیں، پورا علاقہ غم کی چادر اوڑھ کر رہ گیا۔ بچے، بوڑھے، مرد و زن سب کی آنکھیں اشکبار تھیں۔ دلوں میں درد، زبانوں پر دعائیں، اور لبوں پر یہی صدا تھی: کاش وہ کچھ اور وقت ہمارے ساتھ رہتے۔
اور ابھی ان کے غم کا دھواں دلوں سے چھٹا بھی نہ تھا کہ ان کے والد محترم، باوقار بزرگ، سراپا محبت، چچا جان حاجی ضیاء الحق صاحب بھی اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ شاید بیٹے کی جدائی کا دکھ ان کے دل کی گہرائیوں میں ایسا بیٹھا کہ جسم نے اس بوجھ کو سہہ نہ پایا، اور وہ بھی اسی سفر پر روانہ ہو گئے جہاں بھائ ضیاء الرحمٰن پہلے سے موجود تھے۔
حاجی صاحب ایک شفیق، بردبار اور تعلق نبھانے والے بزرگ تھے۔ مجھے ہمیشہ یاد رہے گا کہ وہ ہمارے والد محترم ڈاکٹر میاں عبدالرحمٰن مرحوم سے بے پناہ عقیدت رکھتے تھے۔ کلینک پر آ کر بیٹھنا، ملاقات کرنا، دعائیں دینا، اور گھر آ کر خیریت معلوم کرنا ان کی محبت اور خلوص کی جیتی جاگتی مثالیں تھیں۔ والد صاحب کی وفات کے بعد بھی وہ ہمیں اسی محبت سے گلے لگاتے، بازار، محفل یا جنازہ ہو، وہ جہاں بھی ملتے، شناسائی، اپنائیت اور محبت کی خوشبو بکھیرتے۔
ان کی ذات نہ صرف رشتوں کو جوڑنے والی تھی بلکہ وہ محبت، شفقت، ہمدردی اور رواداری کا پیکر تھے۔ وہ بزرگ تھے، مگر دل سے جوان، جن کے چلے جانے سے پورا خاندان یتیم سا محسوس کرتا ہے۔
ہم بطور مسلمان اس حقیقت کو جانتے ہیں کہ:
> "كلُّ نفسٍ ذائقةُ الموت"
ہر جان کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔
اور فرمایا گیا:

> "کلُّ من علیها فان، و یبقیٰ وجه ربِّک ذو الجلال والإکرام"
ہر چیز فنا ہونے والی ہے، صرف تیرے رب کی ذات باقی رہنے والی ہے۔
آنے کی دنیا میں ترتیب ہے — پہلے والد، پھر اولاد — مگر جانے کی کوئی ترتیب نہیں۔ یہاں بیٹا پہلے گیا، باپ بعد میں گیا۔ یہ سب اللہ کی حکمت ہے، اور ہم اس کے ہر فیصلے پر راضی ہیں۔
ہم ان کی وفات پر نہیں بلکہ جدائی پر بے حد رنجیدہ ہیں، مگر ہمارا ایمان ہے کہ وہ اپنے مقررہ وقت پر رخصت ہوئے اور اب ایک بہتر، لازوال زندگی کی طرف روانہ ہو چکے ہیں۔
دعا
اے اللہ!
بھائ ضیاء الرحمٰن مرحوم اور ان کے والد محترم چچا جان حاجی ضیاء الحق صاحب کی مغفرت فرما،
ان کی قبروں کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنا،
ان پر اپنی رحمت کے دروازے کھول دے،
انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرما،
اور ہمیں بھی ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے آخرت کی تیاری کی توفیق عطا فرما۔
آمین یا رب العالمین۔
*✒️۔تحریر میاں صلاح الدین ڈبریاں بالاکوٹ*

Address

Chak
Islamabad

Telephone

+923325281634

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when مولانا میاں شمس الدین شمسی posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category