24/09/2026
French Philosopher, Michel Foucault writes on Iranian Revolution. 🇮🇷🇫🇷
انقلاب ایران کے وقت تہران میں موجود معروف فرنچ فلسفی اور دانشور مشل فوکو کا براہ راست مشاہدہ پہ مبنی گہرا سماجی و فکری تجزیہ۔
اردو کے قارئین کے لئے پہلی بار۔۔۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
فوکو کے لیے ایران کا انقلاب، سیاسی اور مابعد الطبیعیاتی حیرت کا حامل تھا۔ فوکو کی حیرت، ایک ایسے فلسفی کی حیرت ہے، جو تاریخ فلسفہ کی بڑی کتابوں کے عظیم تصورات کو تہران کی سڑکوں پر مجسم صورت میں دیکھ رہا ہو۔
فوکو کی ایران سے متعلق تحریروں کا یہ اردو مجموعہ اس وقت منظر عام پر آرہا ہے، جب ایران مئی ۲۰۲۶ء سے ایک بار پھر عالمی خبروں میں ہے۔ ایرانی قوم نے ایک بار پھر اجتماعی وحدت، بے خوفی اور اپنے اصولوں پر قائم رہنے کا بے مثل مظاہر ہ کیا ہے۔ ایک بارپھر ایران، اسی سرچشمے کی طرف لوٹا ہے، یعنی سیاسی روحانیت کی طرف، حسینیت کی طرف۔
-ناصر عباس نیر-
مشل فوکونے انقلاب ایران کا مشاہدہ تہران جاکر کیا۔ ظاہر ہے انہوں نے اسلامی انقلاب کی تائیدتو نہیں کی مگر انہوں نے کہا کہ تھیوری کوپریکٹس میں لاسکنے والی جدید صلاحیت اس زمانے میں ممکن ہے۔ وہ اس انتظار میں تھے اور یہ انقلاب اُن کے لیے جیسے اُن کے آرکائیلوجیکل نقطہ نظرکا ایک ثبوت فراہم ہوگیا۔ اُس کو انہوں نے بڑے بلند آہنگ انداز سے بیان کیا۔
فوکو کا تھیسزہے کہ اس انقلاب نے نان ایگزسٹنٹ کو ایگزسٹنس یعنی خیال کو عمل میں لانے میں کامیابی حاصل کی۔ مذہب کو موجودہ سیاق وسباق میں جیسے ایرانی جماعت انقلاب نے تجسیم کرد کھایا، اس کا اعادہ کردکھایا۔ ہمارے ہاں لوگوں کو تاریخ اس زاویے سے بھی پڑھنی چاہیے تاکہ سیکھ سکیں کہ تحقیق کے اعلٰی معیار پرتاریخ کیسے لکھی جاتی ہے۔
-احمد جاوید صاحب-